تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو یہودی کہا کرتے تھے کہ دنیا کی مدت صرف سات ہزار سال ہے اور لوگوں کو دنیا کے ایک ہزار سال کے بدلے میں آخرت کے صرف ایک دن کا عذاب ہو گا، تو یہ صرف سات دن ہیں، پھر عذاب ختم ہو جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً }» [ابن أبی حاتم بسند حسن: ۱؍۲۱۰] کچھ یہ کہتے تھے کہ جتنے دن ہم نے بچھڑے کی عبادت کی بس اتنے دن جہنم میں رہیں گے۔ [مصنف عبد الرزاق عن قتادۃ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا کہ چالیس دن تک تو ہم جہنم میں رہیں گے پھر دوسرے لوگ ہماری جگہ آ جائیں گے یعنی آپ کی امت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا نہیں بلکہ تم ہی تم ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں پڑے رہو گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:1409:ضعیف و مرسل]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں فتح خیبر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں بطور ہدیہ بکری کا پکا ہوا زہر آلود گوشت آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں کے یہودیوں کو جمع کر لو پھر ان سے پوچھا تمہارا باپ کون ہے انہوں نے کہا فلاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹے ہو بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے انہوں نے کہا بجا ارشاد ہوا وہی ہمارا باپ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اب میں کچھ اور پوچھتا ہوں سچ سچ بتانا انہوں نے کہا اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم اگر جھوٹ کہیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہ چل سکے گا ہم تو آزما چکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتاؤ جہنمی کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کچھ دن تو ہم ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلو ہرگز نہیں پھر فرمایا اچھا بتلاؤ اس گوشت میں تم نے زہر ملایا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو یہ زہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز ضرر نہ دے گا اور اگر جھوٹے ہیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نجات حاصل کر لیں گے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3169]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ذكر أفعالهم القبيحة، ثم ذكر ـ مع هذا ـ أنهم يزكون أنفسهم، ويشهدون لها بالنجاة من عذاب الله والفوز بثوابه، وأنهم لن تمسهم النار إلا أياماً معدودة؛ أي قليلة تعد بالأصابع، فجمعوا بين الإساءة والأمن، ولما كان هذا مجرد دعوى رد تعالى عليهم؛ فقال: {قل}؛ لهم يا أيها الرسول، {أتخذتم عند الله عهداً}؛ أي: بالإيمان به وبرسله وبطاعته، فهذا الوعد الموجب لنجاة صاحبه الذي لا يتغير ولا يتبدل {أم تقولون على الله مالا تعلمون}؛ فأخبر تعالى أن صدق دعواهم متوقفة على أحد هذين الأمرين اللذين لا ثالث لهما.
إما أن يكونوا قد اتخذوا عند الله عهداً؛ فتكون دعواهم صحيحة.
وإما أن يكونوا متقولين عليه؛ فتكون كاذبة فيكون أبلغ لخزيهم وعذابهم، وقد عُلِم من حالهم أنهم لم يتخذوا عند الله عهداً لتكذيبهم كثيراً من الأنبياء حتى وصلت بهم الحال إلى أن قتلوا طائفة منهم، ولنكولهم عن طاعة الله ونقضهم المواثيق، فتعين بذلك أنهم متقولون مختلقون قائلون عليه ما لا يعلمون، والقول عليه بلا علم من أعظم المحرمات وأشنع القبيحات.