تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {”وَيْلٌ“} کا معنی ہلاکت اور تباہی ہے، اس پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ بڑی ہلاکت کیا گیا ہے۔ سنن ترمذی کی جس مرفوع روایت میں ہے: ”ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، کافر ستر سال تک اس کی گہرائی میں گرتا جائے گا مگر اس کی گہرائی تک نہ پہنچے گا “ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف ترمذی(۳۱۶۴) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
➌ اس آیت پر ان حضرات کو خاص طور پر غور کرنا چاہیے جو قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے صحیح احادیث کو چھوڑ کر تورات، انجیل اور تلمود کے ساتھ شوق فرماتے ہیں، جن میں تحریف کی اللہ تعالیٰ نے شہادت دی ہے اور جن میں انبیاء علیھم السلام پر تہمتیں، بے سرو پا باتیں اور آیات کا باہمی تضاد لفظی تحریف کا واضح ثبوت ہیں۔ ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”تم اہل کتاب سے کسی بھی خبر کے متعلق کیوں پوچھتے ہو، جب کہ تمھاری کتاب جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی، سب سے نئی ہے؟ تم اسے خالص اور ہر طرح کی ملاوٹ سے پاک پڑھتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں بتایا ہے کہ اہل کتاب نے اپنی کتاب کو بدل دیا اور انھوں نے اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ذریعے سے دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں۔ کیا تمھارے پاس جو علم آیا ہے وہ تمھیں ان سے دریافت کرنے سے روکتا نہیں؟ قسم ہے اللہ کی! ہم نے ان میں سے کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ وہ تم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کرتا ہو جو تم پر نازل کی گئی۔“ [بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تسألوا…: ۷۳۶۳]
➍ بعض لوگوں نے قرآن مجید کی فروخت کو ناجائز قرار دیا ہے، مگر اس آیت کا یہ مطلب نہیں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دنیوی مفاد کے لیے اپنے پاس سے غلط باتیں لکھ کر اسے اللہ کا کلام باور کرواتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ(۴۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قرآن کریم نے ایک اور جگہ فرمایا «هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ» ۱؎ [62-الجمعة: 2] یعنی ’ اللہ تعالٰی نے ان پڑھوں میں ایک رسول انہی میں سے بھیجا ‘۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس لفظ میں بےپڑھے آدمی کو ماں کی طرف منسوب کیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت ہے کہ یہاں پر“ امی“ نہیں کہا گیا ہے جنہوں نے نہ تو کسی رسول علیہ السلام کی تصدیق کی تھی نہ کسی کتاب کو مانا تھا اور اپنی لکھی ہوئی کتابوں کو اوروں سے کتاب اللہ کی طرح منوانا چاہتے تھے لیکن اول تو یہ قول محاورات عرب کے خلاف ہے دوسرے اس قول کی سند ٹھیک نہیں۔
امانی کے معنی باتیں اور اقوال ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ”کذب“ ”آرزو“ ”جھوٹ کے“ معنی بھی کئے گئے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:261/2] تلاوت اور ظاہری الفاظ کے معنی بھی مروی ہیں جیسے قرآن مجید میں اور جگہ سے
«إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ» ۱؎ [22-الحج: 52] یہاں تلاوت کے معنی صاف ہیں شعراء کے شعروں میں بھی یہ لفظ تلاوت کے معنی میں ہے اور وہ صرف گمان ہی پر ہیں یعنی حقیقت کو نہیں جانتے اور اس پر ناحق کا گمان کرتے ہیں اور اوٹ پٹانگ باتیں بناتے ہیں۔
پھر یہودیوں کی ایک دوسری قسم کا بیان ہو رہا ہے جو پڑھے لکھے لوگ تھے اور گمراہی کی طرف دوسروں کو بلاتے تھے اور اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے اور مریدوں کا مال ہڑپ کرتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم اہل کتاب سے کچھ بھی کیوں پوچھو؟ اللہ تعالیٰ کی تازہ کتاب تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ اہل کتاب نے تو کتاب اللہ میں تحریف کی اپنی ہاتھ کی لکھی ہوئی باتوں کو اللہ عزوجل کی طرف منسوب کر دیا اس کی تشہیر کی پھر تمہیں اپنی محفوظ کتاب کو چھوڑ کر ان کی تبدیل کردہ کتاب کی کیا ضرورت؟ افسوس کہ وہ تم سے نہ پوچھیں اور تم ان سے دریافت کرتے پھرو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2685]
تھوڑے مول سے مراد ساری دنیا مل جائے تو بھی آخرت کے مقابلہ میں کمتر ہے اور جنت کے مقابلہ میں بے حد حقیر چیز ہے۔پھر فرمایا کہ ان کے اس فعل کی وجہ سے کہ وہ اپنی باتوں کو اللہ رب العزت کی باتوں کی طرح لوگوں سے منواتے ہیں اور اس پر دنیا کماتے ہیں ہلاکت اور بربادی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
توعد تعالى المحرفين للكتاب الذين يقولون لتحريفهم وما يكتبون {هذا من عند الله}، وهذا فيه إظهار الباطل وكتم الحق، وإنما فعلوا ذلك مع علمهم، {ليشتروا به ثمناً قليلاً}، والدنيا كلها من أولها إلى آخرها ثمن قليل، فجعلوا باطلهم شَرَكاً يصطادون به ما في أيدي الناس.
فظلموهم من وجهين: من جهة تلبيس دينهم عليهم، ومن جهة أخذ أموالهم بغير حق بل بأبطل الباطل، [وذلك] أعظم ممن يأخذها غصباً وسرقة ونحوهما، ولهذا توعدهم بهذين الأمرين، فقال: {فويل لهم مما كتبت أيديهم}؛ أي من التحريف والباطل {وويل لهم مما يكسبون}؛ من الأموال، والويل شدة العذاب والحسرة، وفي ضمنها الوعيد الشديد.
قال شيخ الإسلام لما ذكر هذه الآيات من قوله: أفتطمعون إلى يكسبون: «فإن الله ذم الذين يحرفون الكلم عن مواضعه، وهو متناول لمن حمل الكتاب والسنة على ما أصَّلَه من البدع الباطلة، وذم الذين لا يعلمون الكتاب إلا أماني وهو متناول لمن ترك تدبر القرآن ولم يعلم إلا مجرد تلاوة حروفه، ومتناول لمن كتب كتاباً بيده مخالفاً لكتاب الله لينال به دنيا وقال: إنه من عند الله، مثل أن يقول: هذا هو الشرع والدين، وهذا معنى الكتاب والسنة، وهذا [معقول] السلف والأئمة، وهذا هو أصول الدين الذي يجب اعتقاده على الأعيان أو الكفاية، ومتناول لمن كتم ما عنده من الكتاب والسنة، لئلا يَحْتَجَّ به مخالفه في الحق الذي يقوله، وهذه الأمور كثيرة جداً في أهل الأهواء جملة، كالرافضة [والجهمية ونحوهم من أهل الأهواء والكلام، وفي أهل الأهواء] وتفصيلاً مثل كثير من المنتسبين إلى الفقهاء ... » انتهى.