تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اب بھی اگر عیسائی، یہودی اور صابی اپنے اپنے مذہب پر رہ کر عمل صالح کریں، تو مسلمانوں کی طرح ان کی بھی نجات ہو جائے گی، یہ بات سراسر غلط ہے، کیونکہ تورات و انجیل میں بنی اسرائیل کو صاف الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم موجود ہے۔ حوالہ جات کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۷) اور سورۂ صف(۶) کے حواشی۔ اب اگر ان میں سے کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتا تو اس کا تورات و انجیل پر بھی ایمان نہیں، وہ کیسے نجات پا سکتا ہے؟ «{ وَ مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ }» [آل عمران: ۸۵] ”اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔“ اس آیت میں یہی بات بیان ہوئی ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ لاَ يَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ يَهُوْدِيٌّ وَلاَ نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوْتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهٖ إِلاَّ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ] [مسلم، الإیمان، باب وجوب الإیمان برسالۃ …: ۱۵۳] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اس امت کا کوئی بھی یہودی یا عیسائی جو میرے بارے میں سن لے، پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے مگر وہ آگ میں داخل ہوگا۔“
➌ { الصّٰبِئِيْنَ:} یہ { ”صَابِیءٌ“ } کی جمع ہے، اس کا مادہ (ص، ب، ء) ہے، جو شخص ایک دین سے دوسرے دین کی طرف نکل جائے، گویا یہ {”صَبَأَ نَابُ الْبَعِيْرِ“} سے ہے، جس کا معنی ہے اونٹ کی کچلی نکل آئی۔ ایک قراء ت میں {”اَلصَّابِيْنَ“} ہے، وہ اسی {”الصّٰبِئِيْنَ“} میں سے ہمزہ کی تخفیف سے ہے اور بعض نے کہا بلکہ وہ {”صَبَا يَصْبُوْ “} سے ہے، جس کے معنی مائل ہونا ہیں، یعنی وہ ایک دین سے دوسرے دین کی طرف مائل ہو گیا۔ (راغب)
اسی لیے جو شخص مسلمان ہوتا کفارِ قریش اسے صابی کہتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے یہود و نصاریٰ کی طرح یہ لوگ بھی آسمانی دین پر تھے، اس لیے اس آیت میں ان کے ساتھ ان کا ذکر ہوا، بعد میں ان کے اندر بگاڑ پیدا ہو گیا اور وہ ستاروں کی پرستش کرنے لگے۔ یہ لوگ اپنے مذہب کو حد درجہ چھپاتے تھے، شیعہ اسماعیلیہ نے مذہب کو چھپانا انہی سے لیا ہے۔ ان کے اہل کتاب ہونے کے بارے میں صحابہ و تابعین سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ [تفصیل کے لیے دیکھیے: جصاص، الفہرست لابن ندیم، الملل والنحل]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بھی یہی فرماتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ ہر نبی کا تابعدار اس کا ماننے والا ایماندار اور صالح ہے اور اللہ کے ہاں نجات پانے والا لیکن جب دوسرا نبی آئے اور وہ اس سے انکار کرے تو کافر ہو جائے گا۔
نصاریٰ «نصران» کی جمع ہے جیسے «نشوان» کی جمع نشاوی اور سکران کی جمع سکاری اس کا مونث نصراتہ آتا ہے اب جبکہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کی طرف رسول و نبی بنا کر بھیجے گئے تو ان پر بھی اور دوسرے سب پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق و اتباع واجب قرار دی گئی اور ایمان و یقین کی پختگی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا نام مومن رکھا گیا اور اس لیے بھی کہ ان کا ایمان تمام اگلے انبیاء پر بھی ہے اور تمام آنے والی باتوں پر بھی۔ صابی کے معنی ایک تو بےدین اور لامذہب کئے گئے ہیں اور اہل کتاب کے ایک فرقہ کا نام بھی یہ تھا جو زبور پڑھا کرتے تھے۔
اسی بنا پر ابوحنیفہ اور اسحٰق رحمہ اللہ علیہما کا مذہب ہے کہ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ ہمارے لیے حلال ہے اور ان کی عورتوں سے نکاح کرنا بھی۔ حسن اور حکم فرماتے ہیں یہ گروہ مجوسیوں کے مانند ہے یہ بھی مروی ہے کہ یہ لوگ فرشتوں کے پجاری تھے۔ زیاد نے جب یہ سنا تھا کہ یہ لوگ پانچ وقت نماز قبلہ کی جانب رخ کر کے پڑھا کرتے ہیں تو ارادہ کیا کہ انہیں جزیہ معاف کر دے لیکن ساتھ ہی معلوم ہوا کہ وہ مشرک ہیں تو اپنے ارادہ سے باز رہے۔
کا قول ہے کہ یہ بھی ایک مذہب ہے جزیرہ موصل میں یہ لوگ تھے [لا الہٰ الا اللہ] پڑھتے تھے اور کسی کتاب یا نبی کو نہیں مانتے تھے اور نہ کوئی خاص شرع کے عامل تھے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الحكم على أهل الكتاب خاصة، لأن الصابئين الصحيح: أنهم من جملة فرق النصارى، فأخبر الله أن المؤمنين من هذه الأمة واليهود والنصارى والصابئين من آمن بالله [منهم] واليوم الآخر وصدقوا رسلهم، فإن لهم الأجر العظيم، والأمن، ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون، وأما من كفر منهم بالله ورسله واليوم الآخر، فهو بضد هذه الحال؛ فعليه الخوف والحزن.
والصحيح: أن هذا الحكم بين هذه الطوائف من حيث هم لا بالنسبة إلى الإيمان بمحمد، فإن هذا إخبار عنهم قبل بعثة محمد، وإن هذا مضمون أحوالهم، وهذه طريقة القرآن إذا وقع في بعض النفوس ـ عند سياق الآيات ـ بعض الأوهام، فلا بد أن تجد ما يزيل ذلك الوهم؛ لأنه تنزيل من يعلم الأشياء قبل وجودها، ومن رحمته وسعت كل شيء، وذلك ـ والله أعلم ـ أنه لما ذكر بني إسرائيل وذمهم وذكر معاصيَهم وقبائحهم ربما وقع في بعض النفوس أنهم كلهم يشملهم الذم، فأراد الباري تعالى أن يبين من لا يلحقه الذم منهم بوصفه، ولما كان أيضاً ذكر بني إسرائيل خاصة يوهم الاختصاص بهم، ذكر تعالى حكماً عامًّا يشمل الطوائف كلها؛ ليتضح الحق ويزول التوهم والإشكال، فسبحان من أودع في كتابه ما يبهر عقول العالمين.