تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
بنی اسرائیل پر بھی ان کے اس مطالبے کے نتیجے میں ذلت و مسکنت مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنے۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۱۲)۔
➋ یہاں { ”مِصْرًا“ } نکرہ اور منصرف ہے، کیونکہ مصاحف عثمانیہ کے رسم الخط میں الف موجود ہے، اس لیے اس سے مراد کوئی ایک شہر ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی یہی تفسیر کی ہے، بعض نے فرعون والا مصر مراد لیا ہے۔ (ابن کثیر)
➌ { ”بِغَضَبٍ“ } اس میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” بھاری غضب“ کیا گیا ہے۔
➍ {”فُوْمِهَا“} اکثر مفسرین نے اس سے مراد گندم لی ہے، بعض نے لہسن مراد لیا ہے۔
➎ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کوئی نبی قتل نہیں ہوا، کیونکہ یہ اس وعدے کے خلاف ہے جو سورۂ ابراہیم (۱۳، ۱۴) میں مذکور ہے۔ یہ لوگ قتل کا معنی ارادۂ قتل یا سخت تکلیف دینا لیتے ہیں، مگر قرآن مجید میں کئی جگہ صریحاً لفظ ”قتل“ آیا ہے، مثلاً: «{ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ }» [البقرۃ: ۹۲] ”کہہ دے پھر اس سے پہلے تم اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا کرتے تھے۔“ رہا وعدۂ الٰہی تو وہ عام مومنوں سے بھی ہے، دیکھیے سورۂ نور (۵۵)۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی مومن قتل نہیں ہوا، یقینًا کئی مومن قتل ہوئے اور کئی انبیاء بھی، خود ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہود کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں جس میں فوت ہوئے فرماتے تھے: [يَا عَائِشَةُ! مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِيْ أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ فَهٰذَا أَوَانُ وَجَدْتُّ انْقِطَاعَ أَبْهَرِيْ مِنْ ذٰلِكَ السُّمِّ] ”میں ہمیشہ اس کھانے کی تکلیف محسوس کرتا رہا جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اور یہ وقت ہے کہ میں نے اس زہر سے اپنی دل کی رگ کا کٹ جانا محسوس کیا ہے۔ “ [بخاری، المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ: ۴۴۲۸] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ قَتَلَهٗ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا وَ إِمَامُ ضَلاَلَةٍ وَ مُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِيْنَ] ”قیامت کے دن سب سے سخت عذاب والا وہ آدمی ہے جسے کسی نبی نے قتل کیا یا اس نے کسی نبی کو قتل کیا اور گمراہی کا امام اور مصوروں میں سے کوئی مصور۔“ [مسند أحمد: ۱؍۴۰۷، ح: ۳۸۶۸۔ عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، صححہ أحمد شاکر و حسنہ الشیخ مقبل الوادعی] اگر کوئی نبی قتل ہو ہی نہیں سکتا تو اس حدیث کا کیا مطلب ہو گا؟ خود بائبل میں زکریا علیہ السلام کا قتل(تواریخ، باب: ۲۴، فقرہ: ۲۱) اور یحییٰ علیہ السلام کا قتل (مرقس، باب: ۶، آیت: ۱۷۔۲۹) مذکور ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کے شعر میں بھی فوم گیہوں کے معنی میں آیا ہے بنی ہاشم کی زبان میں فوم گیہوں کے معنی میں مستعمل تھا۔ فوم کے معنی روٹی کے بھی ہیں بعض نے سنبلہ کے معنی کئے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تکبر کے معنی حق کو چھپانے اور لوگوں کو ذلیل سمجھنے کے ہیں۔ [صحیح مسلم:91]۔ مالک بن مرارہ رہاوی رضی اللہ عنہ ایک روز خدمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں خوبصورت آدمی ہوں میرا دل نہیں چاہتا کہ کسی کی جوتی کا تسمہ بھی مجھ سے اچھا ہو تو کیا یہ تکبر اور سرکشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ تکبر اور سرکشی حق کو رد کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔ [مسند احمد:385/1:صحیح] چونکہ بنی اسرائیل کا تکبر کفرو قتل انبیاء تک پہنچ گیا تھا اس لیے اللہ کا غضب ان پر لازم ہو گیا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سیدنا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ایک بنی اسرائیل ان میں موجود تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے پھر بازاروں میں جا کر اپنے لین دین میں مشغول ہو جاتا۔ [ابوداؤد طیالسی]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: واذكروا {إذ قلتم} لموسى على وجه التملل لنعم الله، والاحتقار لها {لن نصبر على طعام واحد}؛ أي: جنس من الطعام وإن كان كما تقدم أنواعاً لكنها لا تتغير {فادع لنا ربك يخرج لنا مما تنبت الأرض من بقلها}؛ أي: نباتها الذي ليس بشجر يقوم على ساقه {وقثائها}؛ وهو الخيار {وفومها}؛ أي: ثومها والعدس والبصل معروف، قال لهم موسى: {أتستبدلون الذي هو أدنى}؛ وهو الأطعمة المذكورة {بالذي هو خير}؛ وهو المن والسلوى، فهذا غير لائق بكم، فإن هذه الأطعمة التي طلبتم، أي مِصْرٍ هبطتموه وجدتموها، وأما طعامكم الذي منَّ الله به عليكم فهو خير الأطعمة وأشرفها فكيف تطلبون به بدلاً؟
ولما كان الذي جرى منهم فيه أكبر دليل على قلة صبرهم، واحتقارهم لأوامر الله ونعمه جازاهم من جنس عملهم فقال: {وضربت عليهم الذلة}؛ التي تُشاهدَ على ظاهر أبدانهم {والمسكنة}؛ بقلوبهم فلم تكن أنفسهم عزيزة، ولا لهم همم عالية بل أنفسهم أنفس مهينة، وهممهم أردأ الهمم {وباؤوا بغضب من الله}؛ أي: لم تكن غنيمتهم التي رجعوا بها، وفازوا إلا أن رجعوا بسخطه عليهم؛ فبئس الغنيمة غنيمتهم، وبئس الحالة حالتهم {ذلك}؛ الذي استحقوا به غضبه {بأنهم كانوا يكفرون بآيات الله}؛ الدالات على الحق الموضحة لهم، فلما كفروا بها عاقبهم بغضبه عليهم وبما كانوا {يقتلون النبيين بغير الحق}؛ وقوله: {بغير الحق} زيادة شناعة، وإلا فمن المعلوم أن قتل النبيين لا يكون بحق، لكن لئلا يظن جهلهم وعدم علمهم {ذلك بما عصوا}؛ بأن ارتكبوا معاصي الله {وكانوا يعتدون}؛ على عباد الله؛ فإن المعاصي يجر بعضها بعضاً، فالغفلة ينشأ عنها الذنب الصغير، ثم ينشأ عنه الذنب الكبير، ثم ينشأ عنها أنواع البدع والكفر وغير ذلك، فنسأل الله العافية من كل بلاء.
واعلم أن الخطاب في هذه الآيات لأمة بني إسرائيل الذين كانوا موجودين وقت نزول القرآن، وهذه الأفعال المذكورة خوطبوا بها وهي فعل أسلافهم، ونسبت لهم لفوائد عديدة.
منها: أنهم كانوا يتمدحون، ويزكون أنفسهم، ويزعمون فضلهم على محمد ومن آمن به؛ فبين الله من أحوال سلفهم التي قد تقررت عندهم ما يبين به لكل واحد منهم أنهم ليسوا من أهل الصبر، ومكارم الأخلاق، ومعالي الأعمال، فإذا كانت هذه حالة سلفهم ـ مع أن المظنة أنهم أولى وأرفع حالة ممن بعدهم ـ فكيف الظن بالمخاطبين!
ومنها: أن نعمة الله على المتقدمين منهم نعمة واصلة إلى المتأخرين، والنعمة على الآباء نعمة على الأبناء، فخوطبوا بها، لأنها نعم تشملهم وتعمهم.
ومنها: أن الخطاب لهم بأفعال غيرهم مما يدل على أن الأمة المجتمعة على دين تتكافل وتتساعد على مصالحها، حتى كأنَّ متقدمهم ومتأخرهم في وقت واحد، وكأن الحادثَ من بعضهم حادثٌ من الجميع؛ لأن ما يعمله بعضهم من الخير يعود بمصلحة الجميع، وما يعمله من الشر يعود بضرر الجميع.
ومنها: أن أفعالهم أكثرها لم ينكروها، والراضي بالمعصية شريك للعاصي، إلى غير ذلك من الحكم التي لا يعلمها إلا الله.