ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 61

وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ مِنۡۢ بَقۡلِہَا وَ قِثَّآئِہَا وَ فُوۡمِہَا وَ عَدَسِہَا وَ بَصَلِہَا ؕ قَالَ اَتَسۡتَبۡدِلُوۡنَ الَّذِیۡ ہُوَ اَدۡنٰی بِالَّذِیۡ ہُوَ خَیۡرٌ ؕ اِہۡبِطُوۡا مِصۡرًا فَاِنَّ لَکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ ؕ وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ ٭ وَ بَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿٪۶۱﴾
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ! ہم ایک کھانے پر ہرگز صبر نہ کریں گے، سو ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، وہ ہمارے لیے کچھ ایسی چیزیں نکالے جو زمین اپنی ترکاری اور اپنی ککڑی اور اپنی گندم اور اپنے مسور اور اپنے پیاز میں سے اگاتی ہے۔ فرمایا کیا تم وہ چیز جو کمتر ہے، اس چیز کے بدلے مانگ رہے ہو جو بہترہے، کسی شہر میں جا اترو تو یقینا تمھارے لیے وہ کچھ ہو گا جو تم نے مانگا، اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کی طرف سے بھاری غضب کے ساتھ لوٹے۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے اور نبیوں کو حق کے بغیر قتل کرتے تھے، یہ اس لیے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے گزرتے تھے۔ En
اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
En
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ! ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہ ہوسکے گا، اس لئے اپنے رب سے دعا کیجیئے کہ وه ہمیں زمین کی پیداوار ساگ، ککڑی، گیہوں، مسور اور پیاز دے، آپ نے فرمایا، بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز کیوں طلب کرتے ہو! اچھا شہر میں جاؤ وہاں تمہاری چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی۔ ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی اور اللہ تعالی کا غضب لے کر وه لوٹے یہ اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے، یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 61) ➊ من اور سلویٰ کو ایک کھانا اس لیے قرار دیا کہ روزانہ یہی کھانے کو ملتا تھا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی تھی۔ پرندوں کا گوشت اور صحرا کی فطری خود رو چیزیں اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور صحت کے لیے بہترین غذا تھیں، پھر انھیں آزادی اور فراغت حاصل تھی، جس میں وہ علم حاصل کر سکتے تھے اور جہاد کی تیاری کر کے عزت و اقتدار حاصل کر سکتے تھے، مگر انھوں نے ان نعمتوں کی قدر نہ کی اور ان چیزوں کا تقاضا کرنے لگے جن کے وہ زمانۂ غلامی میں عادی تھے اور جو آزاد فضا میں ملنے والے من و سلویٰ کے مقابلے میں بالکل ہیچ تھیں۔ پھر اس کے لیے کھیتی باڑی میں مشغول ہونا پڑتا تھا، جو ہمیشہ فاتح قومیں مفتوح قوموں سے کرواتی ہیں اور جس میں مکمل مشغولیت کا نتیجہ ذلت و مسکنت ہے، جیسا کہ اللہ نے فرمایا: «{ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۹۵] اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو۔ اس آیت کی تفسیر صحیح بخاری میں ہے کہ ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے ہل اور کھیتی باڑی کا کوئی اوزار دیکھا تو فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [لاَ يَدْخُلُ هٰذَا بَيْتَ قَوْمٍ إِلاَّ أَدْخَلَهُ اللّٰهُ الذُّلَّ] یہ چیزیں کسی گھر میں داخل نہیں ہوتیں مگر اللہ تعالیٰ اس میں ذلت داخل کر دیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کھیتی باڑی حرام ہے، بلکہ مراد اس کام میں کھو جانا اور جہاد ترک کرنا ہے، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب باندھا ہے: { بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ عَوَاقِبِ الْاِشْتِغَالِ بِآلَةِ الزَّرْعِ أَوْ مُجَاوَزَةِ الْحَدِّ الَّذِيْ أُمِرَ بِهِ} یعنی کھیتی باڑی کے اوزاروں میں زیادہ مشغول ہونے کے نتیجے میں یا اس حد سے تجاوز میں جس کا حکم دیا گیا ہے، جو خطرات ہیں ان کا باب۔ [بخاری، المزارعۃ، قبل ح: ۲۳۲۱]
بنی اسرائیل پر بھی ان کے اس مطالبے کے نتیجے میں ذلت و مسکنت مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنے۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۱۲)۔
➋ یہاں { مِصْرًا } نکرہ اور منصرف ہے، کیونکہ مصاحف عثمانیہ کے رسم الخط میں الف موجود ہے، اس لیے اس سے مراد کوئی ایک شہر ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی یہی تفسیر کی ہے، بعض نے فرعون والا مصر مراد لیا ہے۔ (ابن کثیر)
➌ { بِغَضَبٍ } اس میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ بھاری غضب کیا گیا ہے۔
➍ {فُوْمِهَا} اکثر مفسرین نے اس سے مراد گندم لی ہے، بعض نے لہسن مراد لیا ہے۔
➎ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کوئی نبی قتل نہیں ہوا، کیونکہ یہ اس وعدے کے خلاف ہے جو سورۂ ابراہیم (۱۳، ۱۴) میں مذکور ہے۔ یہ لوگ قتل کا معنی ارادۂ قتل یا سخت تکلیف دینا لیتے ہیں، مگر قرآن مجید میں کئی جگہ صریحاً لفظ قتل آیا ہے، مثلاً: «{ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ [البقرۃ: ۹۲] کہہ دے پھر اس سے پہلے تم اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا کرتے تھے۔ رہا وعدۂ الٰہی تو وہ عام مومنوں سے بھی ہے، دیکھیے سورۂ نور (۵۵)۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی مومن قتل نہیں ہوا، یقینًا کئی مومن قتل ہوئے اور کئی انبیاء بھی، خود ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہود کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں جس میں فوت ہوئے فرماتے تھے: [يَا عَائِشَةُ! مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِيْ أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ فَهٰذَا أَوَانُ وَجَدْتُّ انْقِطَاعَ أَبْهَرِيْ مِنْ ذٰلِكَ السُّمِّ] میں ہمیشہ اس کھانے کی تکلیف محسوس کرتا رہا جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اور یہ وقت ہے کہ میں نے اس زہر سے اپنی دل کی رگ کا کٹ جانا محسوس کیا ہے۔ [بخاری، المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ: ۴۴۲۸] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ قَتَلَهٗ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا وَ إِمَامُ ضَلاَلَةٍ وَ مُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِيْنَ] قیامت کے دن سب سے سخت عذاب والا وہ آدمی ہے جسے کسی نبی نے قتل کیا یا اس نے کسی نبی کو قتل کیا اور گمراہی کا امام اور مصوروں میں سے کوئی مصور۔ [مسند أحمد: ۱؍۴۰۷، ح: ۳۸۶۸۔ عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، صححہ أحمد شاکر و حسنہ الشیخ مقبل الوادعی] اگر کوئی نبی قتل ہو ہی نہیں سکتا تو اس حدیث کا کیا مطلب ہو گا؟ خود بائبل میں زکریا علیہ السلام کا قتل(تواریخ، باب: ۲۴، فقرہ: ۲۱) اور یحییٰ علیہ السلام کا قتل (مرقس، باب: ۶، آیت: ۱۷۔۲۹) مذکور ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

61۔ 1 یہ قصہ اسی میدان تیہ کا ہے۔ مصر سے مراد یہاں مصر نہیں بلکہ کوئی ایک شہر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں سے کسی بھی شہر میں چلے جاؤ اور وہاں کھیتی باڑی کرو اپنی پسند کی سبزیاں، دالیں اگاؤ اور کھاؤ انکا یہ مطالبہ چونکہ کفران نعمت تھا۔ ان سے کہا گیا تمہارے لئے وہاں پر مطلوبہ چیزیں ہیں۔ 61۔ 2 کہاں وہ انعامات و احسانات، جس کی تفصیل گزری؟ اور کہاں وہ ذلت و مسکنت جو بعد میں ان پر مسلط کردی گئی اور وہ غضب الٰہی کے مصداق بن گئے، غضب بھی رحمت کی طرح اللہ کی صفت ہے جس کی تاویل ارادہ عقوبیت یا نفس عقوبیت سے کرنا صحیح نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر غضب ناک ہوا۔ 61۔ 3 یہ ذلت اور غضب الٰہی کی وجہ بیان کی جا رہی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار اور اللہ کی طرف بلانے والے انبیاء ؑ اور ان کی تذلیل واہانت، یہ غضب الٰہی کا باعث ہے۔ کل یہودی اس کا ارتکاب کرکے مغضوب اور ذلیل و رسوا ہوئے تو آج اس کا ارتکاب کرنے والے کس طرح معزز اور سرخرو ہوسکتے ہیں۔ وہ کوئی بھی ہوں کہیں بھی ہوں؟ 61۔ 4 یہ ذلت و مسکنت کی دوسری وجہ ہے۔ عَصَوْ (نافرمانی کی) کا مطلب جن کاموں سے انہیں روکا گیا تھا ان کا ارتکاب کیا۔ اطاعت اور فرمانبرداری یہ ہے جسطرح حکم دیا گیا ہو۔ اپنی طرف سے کمی بیشی یہ زیادتی (اعتداء) ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ اور (وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب تم نے موسیٰ سے کہا تھا: ”موسیٰ! ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے لہذا ہمارے لیے اپنے رب سے ان چیزوں کے لیے دعا کرو جو زمین سے پیدا ہوتی ہیں جیسے ساگ، ترکاری، گیہوں، مسور اور پیاز (وغیرہ)۔ موسیٰؑ نے انہیں کہا: ”کیا تم بہتر چیز کے بدلے گھٹیا چیز تبدیل کرنا چاہتے ہو؟ (یہی بات ہے تو) کسی شہر کی طرف نکل چلو، جو تم چاہتے ہو وہاں تمہیں [78] مل جائے گا۔“ اور (انجام کار) ان پر ذلت [79] اور بدحالی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں آ گئے جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کرنے لگے تھے۔ اور ان باتوں کا سبب یہ تھا کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرتے اور (حدود شریعت سے) آگے نکل نکل جاتے تھے۔“
[78] بنی اسرائیل کا من و سلویٰ پر قناعت نہ کرنا:۔
یہ بھی اسی جنگل کا واقعہ ہے جہاں ایک طویل مدت کے لئے بنی اسرائیل کو محصور کیا گیا تھا۔ انہیں من و سلویٰ جیسی نعمتیں بلا مشقت مل رہی تھیں۔ مگر وہ ان چیزوں کو کھاتے کھاتے اکتا گئے تھے تو زمینی پیداوار کا مطالبہ کر دیا۔ موسیٰؑ نے انہیں سمجھایا کہ ”جو چیز تمہیں یہاں سے بلا مشقت مل رہی ہے وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جو تم مانگ رہے ہو اور وہ مشقت کے بعد ہی تمہیں حاصل ہو گی۔“ لیکن جب ان لوگوں نے اپنے مطالبہ پر اصرار کیا تو موسیٰؑ نے بالآخر ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر یہی چاہتے ہو تو فلاں شہر میں چلے جاؤ، وہاں تمہیں یہ چیزیں میسر آ جائیں گی۔“ موسیٰؑ کا صرف یہی مطلب نہ تھا کہ من و سلویٰ جو تمہیں بلا مشقت مل رہا ہے وہ با مشقت گندم اور ساگ وغیرہ سے بہتر ہے، بلکہ یہ بھی تھا کہ جنگل کی آزادانہ فضا تم سے بزدلی دور کرنے، شجاعت پیدا کرنے اور جہاد کے لیے مستعد ہونے اور فارغ رہ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لحاظ سے شہر کی مصروف اور آرام پرستانہ زندگی سے بہرحال بہتر ہے اور تم اپنے لیے ایک بہتر چیز کے بجائے ایک گھٹیا بات کا مطالبہ کر رہے ہو۔
[79] ذلت اور مسکنت کا مفہوم:۔
ذلت اور بدحالی کے علاوہ اللہ کا غضب یہ ہوا کہ ان کی ٹریننگ اور تربیت کی مدت کو پھیلا کر چالیس سال تک بڑھا دیا گیا۔ ورنہ اگر اللہ اور اس کے پیغمبر موسیٰؑ کی مرضی پر چلتے تو ممکن تھا کہ چالیس سال گزرنے سے پہلے ہی شام کا ملک فتح کرنے کے قابل ہو جاتے۔ مگر ان لوگوں کی عادت ہی یہ بن گئی تھی کہ جو بات اپنی مرضی کے خلاف دیکھتے تو فوراً نافرمانیوں پر اتر آتے تھے حتیٰ کہ بعض انبیاء تک کو قتل کرتے رہے اور اللہ کے غضب، ذلت اور مسکنت کی دوسری صورت یہ ہے کہ یہودی قوم کئی بار دوسری قوموں سے پٹ چکی ہے۔ مالدار ہونے کے باوجود آج بھی سخت افرادی قلت سے دو چار ہے اور ایک چھوٹے سے خطہ میں ان کی حکومت قائم ہوئی بھی ہے تو وہ دوسری قوموں کے سہارے پر اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اخلاقی انحطاط اس قدر ہے کہ آج بھی بے حیائی، فحاشی، سود خوری اور حرام خوری اس قوم کا طرہ امتیاز ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

احسان فراموش یہود ٭٭
یہاں بنی اسرائیل کی بے صبری اور نعمت اللہ کی ناقدری بیان کی جا رہی ہے کہ من و سلویٰ جیسے پاکیزہ کھانے پر ان سے صبر نہ ہو سکا اور ردی چیزیں مانگنے لگے ایک طعام سے مراد ایک قسم کا کھانا یعنی من و سلویٰ ہے۔ «فوم» کے معنی میں اختلاف ہے سیدنا ابن مسعود کی قرأت میں «ثوم» ہے، مجاہدرحمہ اللہ نے «فوم» کی تفسیر «ثوم» کے ساتھ کی ہے۔ یعنی لہسن، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ تفسیر مروی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:193/1]‏‏‏‏ اگلی لغت کی کتابوں میں «فوموالنا» کے معنی «اختبروا» یعنی ہماری روٹی پکاؤ کے ہیں امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ صحیح ہو تو یہ حروف مبدلہ میں سے ہیں جیسے «عاثور شر» ، «عافور شر» ، «اثافی» ، «اثاثی» ، «مفافیر» ، «مغاثیر» وغیرہ جن میں ف سے ث اور ث سے ف بدلا گیا کیونکہ یہ دونوں مخرج کے اعتبار سے بہت قریب ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» [تفسیر ابن جریر الطبری:130/2]‏‏‏‏ اور لوگ کہتے ہیں فوم کے معنی گیہوں کے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی تفسیر منقول ہے اور احیحہ بن جلاح
کے شعر میں بھی فوم گیہوں کے معنی میں آیا ہے بنی ہاشم کی زبان میں فوم گیہوں کے معنی میں مستعمل تھا۔ فوم کے معنی روٹی کے بھی ہیں بعض نے سنبلہ کے معنی کئے ہیں۔
حضرت قتادہ اور عطا رحمہ اللہ علیہما فرماتے ہیں جس اناج کی روٹی پکتی ہے اسے فوم کہتے ہیں بعض کہتے ہیں فوم ہر قسم کے اناج کو کہتے ہیں موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈانٹا کہ تم ردی چیز کو بہتر کے بدلے کیوں طلب کرتے ہو؟ پھر فرمایا شہر میں جاؤ وہاں یہ سب چیزیں پاؤ گے جمہور کی قرأت «مصرا» ہی ہے اور تمام قرأتوں میں یہی لکھا ہوا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ شہروں میں سے کسی شہر میں چلے جاؤ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:194/1]‏‏‏‏ سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا ابن مسعود سے مصر کی قراء ت بھی ہے اور اس کی تفسیر مصر شہر سے کی گئی ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مصراً سے بھی مراد مخصوص شہر مصر لیا گیا ہو اور یہ الف مصرا کا ایسا ہو جیسا «قواریرا قواریرا» [76-الإنسان:15-16]‏‏‏‏میں ہے مصر سے مراد عام شہر لینا ہی بہتر معلوم ہوتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ جو چیز تم طلب کرتے ہو یہ تو آسان چیز ہے جس شہر میں جاؤ گے یہ تمام چیزیں وہاں پا لو گے میری دعا کی بھی کیا ضرورت ہے؟ کیونکہ ان کا یہ قول محض تکبر سرکشی اور بڑائی کے طور پر تھا اس لیے انہیں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پاداش عمل ٭٭
مطلب یہ ہے کہ ذلت اور مسکینی ان پر کا مقدر بنا دی گئی۔ اہانت و پستی ان پر مسلط کر دی گئی جزیہ ان سے وصول کیا گیا مسلمانوں کے قدموں تلے انہیں ڈال دیا گیا فاقہ کشی اور بھیک کی نوبت پہنچی اللہ کا غضب و غصہ ان پر اترا بَآءَ کے معنی لوٹنے اور رجوع کیا کے ہیں بَآءَ کبھی بھلائی کے صلہ کے ساتھ اور کبھی برائی کے صلہ کے ساتھ آتا ہے یہاں برائی کے صلہ کے ساتھ ہے یہ تمام عذاب ان کے تکبر عناد حق کی قبولیت سے انکار، اللہ کی آیتوں سے کفر انبیاء اور ان کے تابعداروں کی اہانت اور ان کے قتل کی بنا پر تھا اس سے زیادہ بڑا کفر کون سا ہو گا؟ کہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور اس کے نبیوں علیہ السلام کو بلاوجہ قتل کرتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تکبر کے معنی حق کو چھپانے اور لوگوں کو ذلیل سمجھنے کے ہیں۔ [صحیح مسلم:91]‏‏‏‏۔ مالک بن مرارہ رہاوی رضی اللہ عنہ ایک روز خدمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں خوبصورت آدمی ہوں میرا دل نہیں چاہتا کہ کسی کی جوتی کا تسمہ بھی مجھ سے اچھا ہو تو کیا یہ تکبر اور سرکشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ تکبر اور سرکشی حق کو رد کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔ [مسند احمد:385/1:صحیح]‏‏‏‏ چونکہ بنی اسرائیل کا تکبر کفرو قتل انبیاء تک پہنچ گیا تھا اس لیے اللہ کا غضب ان پر لازم ہو گیا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سیدنا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ایک بنی اسرائیل ان میں موجود تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے پھر بازاروں میں جا کر اپنے لین دین میں مشغول ہو جاتا۔ [ابوداؤد طیالسی]‏‏‏‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت کے دن اس شخص کو ہو گا جسے کسی نبی نے قتل کیا ہو یا اس نے کسی نبی کو مار ڈالا ہو اور گمراہی کا وہ امام جو تصویریں بنانے والا یعنی مصور ہو گا۔[مسند احمد:47/1:صحیح]‏‏‏‏ یہ ان کی نافرمانیوں اور ظلم و زیادتی کا بدلہ تھا یہ دوسرا سبب ہے کہ وہ منع کئے ہوئے کام ہی کرتے تھے اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»