تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ طبری نے ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمایا ہے کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے باہمی مشورہ کیا کہ بنی اسرائیل کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ پیدا فرمائے گا (سو ان کا بندوبست ہونا چاہیے)، تو انھوں نے مشورہ سے متفقہ فیصلہ یہ کیا کہ ایسے آدمی مقرر کیے جائیں جن کے پاس چھریاں ہوں، وہ بنی اسرائیل میں چکر لگاتے رہیں، جہاں کوئی نو مولود لڑکا ملے اسے ذبح کر دیں، انھوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب دیکھا کہ بنی اسرائیل کے بڑی عمر کے لوگ تو طبعی موت سے مر رہے ہیں اور بچے ذبح ہو رہے ہیں، تو انھوں نے کہا اس طرح تو تم بنی اسرائیل کو فنا کر دو گے، پھر جو خدمت اور مشقت تمھاری جگہ وہ کرتے ہیں وہ تمھیں خود کرنا پڑے گی۔ اس لیے ایک سال ان کے بچے ذبح کرو اور ایک سال انھیں رہنے دو۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہارون علیہ السلام کے ساتھ اس سال حاملہ ہوئیں جس میں لڑکے ذبح نہیں کیے جاتے تھے، اس لیے انھوں نے انھیں بلا خوف جنم دیا اور آئندہ سال ہوا تو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ امید سے ہوئیں۔ (طبری)
غالب گمان یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھا کا یہ قول اسرائیلی روایات سے ہو، مگر ابن عباس رضی اللہ عنھما تک اس کی سند ٹھیک ہے اور ہم اسے سچا کہتے ہیں نہ جھوٹا۔ عام طور پر یہاں فرعون کے خواب کا ذکر کیا جاتا ہے کہ اس نے دیکھا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص اس کی سلطنت ختم کرنے کا باعث ہو گا، اس لیے اس نے لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، مگر اس کی کچھ حقیقت نہیں۔ قرین قیاس یہی ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کی کثرت تعداد کی صورت میں ان کے غلبے سے خائف ہو کر یہ ظلم اختیار کیا تھا۔ آج کل بھی دنیا بھر کے کفار مسلمانوں کی آبادی بڑھنے سے سخت خائف ہیں اور لالچ اور دھمکی، ہر طریقے سے ان کی آبادی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
➌ یہ واقعہ عاشورا (دس محرم) کے دن پیش آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں، آپ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انھوں نے کہا، یہ ایک عظیم دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تو موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا۔ آپ نے فرمایا: ”میں تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام پر حق رکھتا ہوں۔“ چنانچہ آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم دیا۔ [بخاری، الصوم، باب صوم یوم عاشوراء: ۲۰۰۴] پھر رمضان کے روزے فرض ہونے پر عاشورا کا روزہ نفل قرار دے دیا گیا۔ وفات سے پہلے آپ نے فرمایا: ”آئندہ سال میں زندہ رہا تو نو(محرم) کا روزہ رکھوں گا۔“ مگر آپ اس سے پہلے فوت ہو گئے۔ [مسلم، الصیام، باب أی یوم یصام فی عاشوراء: ۱۱۳۴]
➍ { ”يُذَبِّحُوْنَ“ } باب تفعیل کی وجہ سے ”بری طرح ذبح کرتے تھے“ ترجمہ کیا گیا ہے۔
➎ { ”بَلَآءٌ“ } امتحان اور آزمائش، خواہ مصیبت کے ساتھ ہو یا انعام کے ساتھ۔{ ”وَ فِيْ ذٰلِكُمْ“} میں یہ اشارہ ذبح کی طرف بھی ہو سکتا ہے اور نجات کی طرف بھی۔ ذبح کیا جانا مصیبت تھی اور نجات انعام۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کے ملتے ہی تمام کے تمام ڈوب مرے بنی اسرائیل نے قدرت الٰہی کا یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے کنارے پر کھڑے ہو کر دیکھا جس سے وہ بہت ہی خوش ہوئے اپنی آزادی اور فرعون کی بربادی ان کے لیے خوشی کا سبب بنی۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ دن عاشورہ کا تھا یعنی محرم کی دسویں تاریخ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا: شروع في تعداد نعمه على بني إسرائيل على وجه التفصيل فقال: {وإذ نجيناكم من آل فرعون}؛ أي: من فرعون وملئه وجنوده وكانوا قبل ذلك، {يسومونكم}؛ أي: يولونهم ويستعملونهم {سوء العذاب}؛ أي: أشده بأن كانوا، {يذبحون أبناءكم}؛ خشية نموكم، {ويستحيون نساءكم}؛ أي: فلا يقتلونهن فأنتم بين قتيل ومُذلَّل بالأعمال الشاقة مستحيَى على وجه المنة عليه والاستعلاء عليه فهذا غاية الإهانة، فَمَنَّ الله عليهم بالنجاة التامة، وإغراق عدوهم، وهم ينظرون لتَقَرَّ أعينهم {وفي ذلكم}؛ أي: الإنجاء {بلاء}؛ أي: إحسان {من ربكم عظيم}؛ فهذا مما يوجب عليكم الشكر والقيام بأوامره.
ثم ذكر منته عليهم بوعده لموسى أربعين ليلة؛ لينزل عليهم التوراة المتضمنة للنعم العظيمة والمصالح العميمة، ثم إنهم لم يصبروا قبل استكمال الميعاد حتى عبدوا العجل من بعده؛ أي ذهابه {وأنتم ظالمون}؛ عالمون بظلمكم، قد قامت عليكم الحجة، فهو أعظم جرماً، وأكبر إثماً.
ثم إنه أمركم بالتوبة على لسان نبيه موسى بأن يقتل بعضكم بعضاً؛ فعفا الله عنكم بسبب ذلك {لعلكم تشكرون}؛ الله.