تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ کسی گرفتار شخص کو چھڑانے کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں، کسی کی سفارش کام آ جائے، یا فدیہ دے کر چھڑا لیا جائے، یا زبردستی حملہ کر کے چھڑا لیا جائے، قیامت کے دن ان میں سے کوئی بھی ممکن نہیں۔
➌ اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کوئی سفارش قبول نہیں ہو گی، مگر دوسرے مقامات پر وضاحت فرمائی ہے کہ جس شفاعت کی نفی کی گئی ہے وہ کفار کے لیے شفاعت ہے: «{ فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ }» [المدثر: ۴۸] ”پس انھیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہیں دے گی۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر بھی شفاعت ممکن نہیں ہو گی، فرمایا: «{ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ }» [البقرۃ: ۲۵۵] ”کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔“ ہاں! جس کے لیے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اس کے لیے سفارش ہو گی اور اسے نفع بھی دے گی۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ(۱۰۹) اور قیامت کے دن اہلِ ایمان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی احادیث متواتر ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا نَــصَرَهُمُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ قُرْبَانًا آلِهَةً ۖ بَلْ ضَلُّوا عَنْهُمْ ۚ وَذَٰلِكَ إِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [46۔ الاحقاف: 28] اللہ کے نزدیکی کے لیے وہ اللہ کے سوا جن کی پوجا پاٹ کرتے تھے آج وہ معبود اپنے عابدوں کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ بلکہ وہ تو غائب ہو گئے مطلب یہ ہے کہ محبتیں فنا ہو گئیں رشوتیں کٹ گئیں، شفاعتیں مٹ گئیں، آپس کی امداد و نصرت نابود ہو گئی معاملہ اس عادل حاکم جبار و قہار اللہ تعالیٰ مالک الملک سے پڑا ہے جس کے ہاں سفارشیوں اور مددگاروں کی مدد کچھ کام نہ آئے بلکہ اپنی تمام برائیوں کا بدلہ بھگتنا پڑے گا، ہاں یہ اس کی کمال بندہ پروری اور رحم و کرم انعام و اکرام ہے کہ گناہ کا بدلہ برابر دے اور نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا بڑھا کر دے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ہے کہ «وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُم مَّسْئُولُونَ مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ» [37-الصافات: 24 - 26] وقفہ لینے دو تاکہ ان سے ایک سوال کر لیا جائے گا کہ آج یہ ایک دوسرے کی مدد چھوڑ کر نفسا نفسی میں کیوں مشغول ہیں؟ بلکہ ہمارے سامنے سر جھکائے اور تابع فرمان ہیں۔[تفسیر ابن جریر الطبری:35/1]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وخوفهم بيوم القيامة الذي: {لا تجزي}؛ فيه أي لا تغني {نفس}؛ ولو كانت من الأنفس الكريمة كالأنبياء والصالحين، {عن نفس}؛ ولو كانت من العشيرة الأقربين، {شيئاً}؛ لا كبيراً ولا صغيراً وإنما ينفع الإنسانَ عملُه الذي قدمه {ولا يقبل منها}؛ أي: النفس، {شفاعة}؛ لأحد بدون إذن الله ورضاه عن المشفوع له، ولا يرضى من العمل إلا ما أُريد به وجهه وكان على السبيل والسنة، {ولا يؤخذ منها عدل}؛ أي فداء ولو أن لكل نفس ظلمت ما في الأرض جميعاً ومثله معه لافتدوا به من عذاب الله ولا يقبل منهم ذلك، {ولا هم ينصرون}؛ أي: يدفع عنهم المكروه، فنفى الانتفاعَ من الخلق بوجه من الوجوه، فقوله: {لا تَجْزِي نفس عن نفس شيئاً} هذا في تحصيل المنافع، {ولا هم ينصرون} هذا في دفع المضار، فهذا النفي للأمر المستقبل به النافع، {ولا يقبل منها شفاعة ولا يؤخذ منها عدل} هذا نفي للنفع الذي يطلب ممن يملكه بعوض، كالعدل أو بغيره كالشفاعة؛ فهذا يوجب للعبد أن ينقطع قلبه من التعلق بالمخلوقين لعلمه أنهم لا يملكون له مثقال ذرة من النفع، وأن يعلقه بالله الذي يجلب المنافع ويدفع المضار فيعبده وحده لا شريك له، ويستعينه على عبادته.