وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ارۡکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
En
اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو
En
اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 43) اپنے عہد کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر یہ تینوں کام اہتمام سے کرو۔ اس آیت سے باجماعت نماز کی تاکید ظاہر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ ایندھن کا حکم دوں، وہ اکٹھا کیا جائے، پھر نماز کا حکم دوں، اس کے لیے اذان کہی جائے، پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو امامت کروائے، پھر ان آدمیوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔“ [بخاری، الأذان، باب وجوب صلٰوۃ الجماعۃ: ۶۴۴۔ مسلم: ۶۵۱۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اذان سنے اور سن کر (نماز کے لیے مسجد میں) نہ آئے تو اس کی نماز نہیں مگر کسی عذر سے۔“ [ابن ماجہ، المساجد والجماعات، باب التغلیظ فی التخلف: ۷۹۳، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما۔ صحیح ابن حبان: ۲۰۶۴۔ مستدرک: 373/1، ح: ۸۹۴، ۸۹۵۔ و صححہ الألبانی]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اذان سنے اور سن کر (نماز کے لیے مسجد میں) نہ آئے تو اس کی نماز نہیں مگر کسی عذر سے۔“ [ابن ماجہ، المساجد والجماعات، باب التغلیظ فی التخلف: ۷۹۳، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما۔ صحیح ابن حبان: ۲۰۶۴۔ مستدرک: 373/1، ح: ۸۹۴، ۸۹۵۔ و صححہ الألبانی]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
43۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ[62] ادا کرو۔ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ تم بھی رکوع کیا کرو
[62] نماز اور زکوٰۃ، ہر زمانہ میں دین اسلام کے اہم ارکان رہے ہیں۔ لیکن یہود میں نماز با جماعت کا اہتمام نہیں تھا اور ان کی نماز میں رکوع بھی نہیں تھا۔ یہود نے نماز ادا کرنا بالکل چھوڑ ہی دیا تھا اور زکوٰۃ ادا کرنے کے بجائے سود کھانا شروع کر دیا تھا۔ اس آیت میں انہیں تنبیہ کی جا رہی ہے۔ کہ اب تمام امور میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔ اس آیت اور اس سے اگلی تین آیات میں خطاب یہود اور مسلمانوں میں مشترک ہے۔ ہماری شریعت میں بھی نماز با جماعت ادا کرنا بہت فضیلت رکھتا ہے اور بلا عذر ترک جماعت کبیرہ گناہ ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ نماز با جماعت کی فضیلت اور فوائد:۔
1۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جماعت کی نماز اکیلے شخص کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔“ [بخاري، كتاب الاذان، باب فضل صلٰوة الجماعة]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کا حکم دوں، اس کے لیے اذان کہی جائے پھر کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو امامت کرائے پھر میں (جماعت سے) پیچھے رہنے والوں کے ہاں جا کر ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر ان لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ انہیں (جماعت میں شامل ہونے پر) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو عشاء کی نماز میں ضرور آتے۔“ [بخاري، كتاب الاذان، باب وجوب صلٰوة الجماعة]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کا حکم دوں، اس کے لیے اذان کہی جائے پھر کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو امامت کرائے پھر میں (جماعت سے) پیچھے رہنے والوں کے ہاں جا کر ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر ان لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ انہیں (جماعت میں شامل ہونے پر) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو عشاء کی نماز میں ضرور آتے۔“ [بخاري، كتاب الاذان، باب وجوب صلٰوة الجماعة]
نماز کے فضائل اور اہمیت:۔
3۔ سیدنا ابو ہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا دیکھو اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ نہائے تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل کچیل رہ جائے گا؟ صحابہؓ نے عرض کیا نہیں کچھ میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا: بس یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ ان نمازوں کی وجہ سے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ [متفق عليه]
4۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ہر نماز اپنے سے پہلی نماز تک کے، جمعہ اپنے سے پہلے جمعہ تک کے اور رمضان اپنے سے پہلے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔ بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے۔ [مسلم، كتاب الطهارة، باب فضل الوضوء والصلٰوة عقبه]
5۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ''جس نے نماز کی حفاظت کی اس کے لیے نماز قیامت کے دن نور، برہان اور نجات کا باعث ہو گی اور جس نے نماز کی حفاظت نہ کی اس کے لیے اس دن نہ نور ہو گا، نہ برہان اور نہ نجات اور قیامت کے دن وہ قارون، فرعون، ہامان، اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔ [احمد، دارمي، بيهقي، بحواله مشكوٰة مطبوعه نور محمد ص 58]
6۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے حد کا ایک گناہ کیا ہے۔ مجھے حد لگائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ اتنے میں نماز کا وقت آ گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ وہ شخص پھر کھڑا ہو کر کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک حدی گناہ کیا ہے۔ آپ کتاب اللہ کے مطابق مجھے سزا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ وہ کہنے لگا: ہاں پڑھی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو بس اللہ نے تیرا گناہ اور تیری سزا کو معاف کر دیا۔“ [بخاري، كتاب المحاربين باب إذا أقربالحد]
4۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ہر نماز اپنے سے پہلی نماز تک کے، جمعہ اپنے سے پہلے جمعہ تک کے اور رمضان اپنے سے پہلے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔ بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے۔ [مسلم، كتاب الطهارة، باب فضل الوضوء والصلٰوة عقبه]
5۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ''جس نے نماز کی حفاظت کی اس کے لیے نماز قیامت کے دن نور، برہان اور نجات کا باعث ہو گی اور جس نے نماز کی حفاظت نہ کی اس کے لیے اس دن نہ نور ہو گا، نہ برہان اور نہ نجات اور قیامت کے دن وہ قارون، فرعون، ہامان، اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔ [احمد، دارمي، بيهقي، بحواله مشكوٰة مطبوعه نور محمد ص 58]
6۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے حد کا ایک گناہ کیا ہے۔ مجھے حد لگائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ اتنے میں نماز کا وقت آ گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ وہ شخص پھر کھڑا ہو کر کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک حدی گناہ کیا ہے۔ آپ کتاب اللہ کے مطابق مجھے سزا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ وہ کہنے لگا: ہاں پڑھی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو بس اللہ نے تیرا گناہ اور تیری سزا کو معاف کر دیا۔“ [بخاري، كتاب المحاربين باب إذا أقربالحد]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بدخو یہودی ٭٭
یہودیوں کی اس بدخصلت پر ان کو تنبہیہ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ جاننے کے باوجود کبھی تو حق و باطل کو خلط ملط کر دیا کرتے تھے کبھی حق کو چھپا لیا کرتے تھے۔ کبھی باطل کو ظاہر کرتے تھے۔ لہٰذا انہیں ان ناپاک عادتوں کے چھوڑنے کو کہا گیا ہے اور حق کو ظاہر کرنے اور اسے کھول کھول کر بیان کرنے کی ہدایت کی حق و باطل سچ جھوٹ کو آپس میں نہ ملاؤ اللہ کے بندوں کی خیر خواہی کرو۔ یہودیت و نصرانیت کی بدعات کو اسلام کی تعلیم کے ساتھ نہ ملاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پیشنگوئیاں جو تم کتابوں میں پاتے ہو انہیں عوام الناس سے نہ چھپاؤ۔ «تَکْتُمُوْا» مجزوم بھی ہو سکتا ہے اور منصوب بھی یعنی اسے اور اسے جمع نہ کرو۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «تَکْتُمُونْ» بھی ہے۔ یہ حال ہو گا اور اس کے بعد کا جملہ بھی حال ہے معین یہ ہوئے کہ حق کو حق جانتے ہوئے ایسی بے حیائی نہ کرو۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ علم کے باوجود اسے چھپانے اور ملاوٹ کرنے کا کیسا عذاب ہو گا۔ اس کا علم ہو کر بھی افسوس کہ تم بدکرداری پر آمادہ نظر آتے ہو۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «تَکْتُمُونْ» بھی ہے۔ یہ حال ہو گا اور اس کے بعد کا جملہ بھی حال ہے معین یہ ہوئے کہ حق کو حق جانتے ہوئے ایسی بے حیائی نہ کرو۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ علم کے باوجود اسے چھپانے اور ملاوٹ کرنے کا کیسا عذاب ہو گا۔ اس کا علم ہو کر بھی افسوس کہ تم بدکرداری پر آمادہ نظر آتے ہو۔
پھر انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھو زکوٰۃ دو اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع و سجود میں شامل رہا کرو، انہیں میں مل جاؤ اور خود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی امت بن جاؤ، [تفسیر الکشاف:133/1] اطاعت و اخلاص کو بھی زکوٰۃ کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں زکوٰۃ دو سو درہم پر۔ پھر اس سے زیادہ رقم پر واجب ہوتی ہے نماز و زکوٰۃ و فرض و واجب ہے۔ اس کے بغیر سبھی اعمال غارت ہیں۔ زکوٰۃ سے بعض لوگوں نے فطرہ بھی مراد لیا ہے۔ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو سے مراد یہ ہے کہ اچھے اعمال میں ایمانداروں کا ساتھ دو اور ان میں بہترین چیز نماز ہے اس آیت سے اکثر علماء نے نماز باجماعت کے فرض ہونے پر بھی استدلال کیا ہے اور یہاں پر امام قرطبی رحمہ اللہ نے مسائل جماعت کو سبط سے بیان فرمایا ہے۔