تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ جو چیز رہن رکھی جائے اگر دودھ والا جانور ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چارا ڈالنے کے بدلے اس کا دودھ پینے کی اجازت دی، اسی طرح گھوڑے، اونٹ، گدھے یا خچر وغیرہ پر اس کے چارے کے بدلے سواری کی اجازت دی۔ [بخاری، فی الرھن فی الحضر، باب الرھن مرکوب: ۲۵۱۱ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ان کے علاوہ گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا منع ہے، یہ سود کے زمرے میں آتا ہے، مثلاً قرض پر رقم لے کر زمین رہن رکھ دی جائے تو گروی لینے والا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا بلکہ اگر کاشت کرے تو اس کا ٹھیکہ وغیرہ قرض میں وضع کرنا ہو گا۔
➌ {فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ:} مطلب یہ کہ اگر کوئی شخص قرض لینے والے کا اعتبار کرے اور اس کی کوئی چیز رہن رکھے بغیر اسے قرض دے دے تو اسے بھی چاہیے کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کا قرض ادا کر دے۔
➍ {فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ:} اس میں {” اٰثِمٌ “ } (گناہ) کی نسبت دل کی طرف کی ہے، اس لیے کہ چھپانا دل کا فعل ہے اور سب سے پہلے اس کا خیال دل ہی میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ وعید ہے کہ شہادت چھپانا اتنا سنگین گناہ ہے کہ اس سے دل گناہ گار ہو جاتاہے۔ [نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَكْبَرُ الْكَبَائِرِ، اَلْاِشْرَاكُ بِاللّٰهِ وَ قَتْلُ النَّفْسِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَيْنِ وَ قَوْلُ الزُّوْرِ أَوْ قَالَ وَ شَهَادَةُ الزُّوْرِ] ”کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک بنانا، کسی شخص کو قتل کرنا، والدین کی نافرمانی اور جھوٹی بات، یا فرمایا، جھوٹی گواہی ہیں۔“ [بخاری، الدیات، باب: «و من أحیاھا» : ۶۸۷۱، عن أنس رضی اللہ عنہ] ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”گواہی چھپانا بھی اکبر الکبائر میں سے ہے۔“(طبری)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور یہ رہن حضر میں تھا اور بلا تحریر تھا۔ چنانچہ ان چاروں صورتوں میں رہن جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو ان میں سے صرف ایک صورت کا ذکر فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اپنے پیروؤں کو فیاضی کی تعلیم دینا چاہتا ہے اور یہ بات بلند اخلاق سے فروتر ہے کہ ایک آدمی مال رکھتا ہو اور وہ دوسرے ضرورت مند کی کوئی چیز رہن رکھے بغیر اسے قرض نہ دے۔
2۔ چونکہ مرہونہ چیز مرتہن کے پاس بطور امانت ہوتی ہے۔ اس لئے وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ مثلاً مکان ہے تو اس میں رہ نہیں سکتا نہ کرایہ پر دے سکتا ہے، زمین ہے تو اس میں کاشت نہیں کر سکتا وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ یہ سود ہو گا۔ الا یہ کہ وہ ایسا فائدہ راہن کے حوالہ کر دے یا اصل قرضہ کی رقم سے وضع کرتا جائے۔ 3۔ مگر جن چیزوں پر مرتہن کو کچھ خرچ بھی کرنا پڑے تو ان سے فائدہ اٹھانے کا بھی حقدار ہو گا۔ مثلاً مرہونہ چیز گائے ہے تو اسے چارہ وغیرہ ڈالنے کے عوض اس کا دودھ بھی استعمال کر سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرہونہ جانور کی پیٹھ سواری کے لئے شیر دار مرہونہ جانور کا دودھ پینے کے لئے اس کے اخراجات کے عوض جائز ہے۔ اور جو شخص سواری کرتا یا دودھ پیتا ہے تو اسی کے ذمہ اس کا خرچہ ہے۔“ [بخاري: كتاب الرهن۔ باب الرهن مركوب و محلوب]
[411] یعنی قرض خواہ کا قرضہ یا جو چیز اس نے لی ہو۔
اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب انسان کوئی گناہ کا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے پھر اگر انسان توبہ کر لے تو وہ نقطہ دھل جاتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے بلکہ مزید گناہ کئے جائے تو وہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے سارے دل کو گھیر لیتا ہے اور اسے سیاہ کر دیتا ہے۔ [مسلم۔ كتاب الايمان۔ باب رفع الامانة والايمان من بعض الذنوب۔۔۔] گویا پہلے گناہ دل پر اثر انداز ہوتے ہیں اور نیت میں فتور آتا ہے پھر وہ گناہ کا کام صادر ہوتا ہے۔ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب انسان کا دل پوری طرح سیاہ ہو جاتا ہے اس وقت انسان کا دل اس کی سوچ اور فکر پر اثرانداز ہوتا ہے پھر وہ جو بات بھی سوچے گا غلط اور معصیت کی بات ہی سوچے گا۔ دل کی ایسی حالت کو اللہ تعالیٰ نے آثم قلبہ سے تعبیر کیا ہے اور شہادت کو چھپانے والے ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب نہ دینے کا خوف نہ ہو تو نہ لکھنے اور نہ گواہ رکھنے کی کوئی حرج نہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1203/3] جسے امانت دی جائے اسے خوف الٰہی رکھنا چاہیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ادا کرنے کی ذمہ داری اس ہاتھ پر ہے جس نے کچھ لیا۔ ارشاد ہے شہادت کو نہ چھپاؤ نہ اس میں خیانت کرو نہ اس کے اظہار کرنے سے رکو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فرهان مقبوضة}؛ أنه إذا اختلف الراهن والمرتهن في مقدار الدين الذي به الرهن أن القول قول المرتهن صاحب الحق لأن الله جعل الرهن وثيقة به فلولا أنه يقبل قوله في ذلك لم تحصل به الوثيقة لعدم الكتابة والشهود.
ومنها: أنه يجوز التعامل بغير وثيقة ولا شهود لقوله: {فإن أمن بعضكم بعضاً فليؤد الذي ائتمن أمانته}؛ ولكن في هذه الحال يحتاج إلى التقوى والخوف من الله وإلا فصاحب الحق مخاطر في حقه ولهذا أمر الله في هذه الحال من عليه الحق أن يتقي الله ويؤدي أمانته.
ومنها: أن من ائتمنه معاملة فقد عمل معه معروفاً عظيماً ورضي بدينه وأمانته فيتأكد على من عليه الحق أداء الأمانة من الجهتين: أداء لحق الله وامتثالاً لأمره، ووفاء بحق صاحبه الذي رضي بأمانته ووثق به.
ومنها: تحريم كتم الشهادة وأن كاتمها قد أثم قلبه الذي هو ملك الأعضاء، وذلك لأن كتمها كالشهادة بالباطل والزور فيها ضياع الحقوق وفساد المعاملات والإثم المتكرر في حقه وحق من عليه الحق. وأما تقييد الرهن بالسفر مع أنه يجوز حضراً وسفراً فللحاجة إليه لعدم الكاتب والشهيد. وختم الآية بأنه عليم بكل ما يعمله العباد كالترغيب لهم في المعاملات الحسنة والترهيب من المعاملات السيئة.