تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} اس سے ادھار کی ادائیگی کی مدت مقرر کرنا ضروری ثابت ہوا۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اس آیت سے بیع سلم کا جواز ثابت ہوتا ہے اور اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔“(شوکانی) بیع سلم یا سلف یہ ہے کہ کسی چیز کی قیمت پیشگی ادا کر دی جائے اور وہ چیز مقرر کر دہ وقت پر بعد میں وصول کر لی جائے۔ اس بیع کی شرائط بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دیں، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو دیکھا کہ اہل مدینہ دو سال یا تین سال کے لیے کھجور میں بیع سلف کرتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی چیز میں بیع سلف کرے وہ مقررہ ماپ تول میں اور مقررہ مدت تک کرے۔“ [بخاری، السلم، باب السلم فی وزن معلوم: 2240۔ مسلم: ۱۶۰۴] نیز ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مقررہ قیمت کا بھی ذکر ہے۔
➌ اس آیت کریمہ سے بظاہر قرض کا لکھنا واجب معلوم ہوتا ہے، مگر اس سے اگلی آیت میں «فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا» سے معلوم ہوا کہ یہ حکم واجب نہیں مستحب ہے۔
➍ {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ: } یعنی جو دیانت، امانت اور اخلاق کے اعتبار سے تم میں قابل اعتماد سمجھے جاتے ہوں، نیز وہ مسلمان ہوں، عاقل، بالغ، فرائض کے پابند اور کبیرہ گناہوں سے بچنے والے بھی ہوں، کیونکہ اہل اسلام کے ہاں یہی لوگ پسندیدہ ہیں۔ غیر مسلم کی شہادت قبول نہیں ہو گی۔
➎ { اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً:} یعنی اگر تجارت میں لین دین نقد ہو، ادھار نہ ہو تو گواہ بنا لینے ہی کافی ہیں، لکھنا ضروری نہیں، کیونکہ اس میں تکلیف ہے اور گواہ بنا لینا بھی واجب نہیں مستحب ہے۔ (شوکانی)
➏ { وَ لَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِيْدٌ:} ”اور نہ کسی لکھنے والے کو تکلیف دی جائے اور نہ کسی گواہ کو“ یہ ترجمہ {” وَ لَا يُضَآرَّ “} فعل مجہول کی صورت میں ہے۔ یہ فعل معروف بھی ہو سکتا ہے اور اس صورت میں ترجمہ ہو گا ”نہ لکھنے والا نقصان پہنچائے اور نہ گواہ“ مثلاً لکھنے والا غلط بات لکھ دے، جس سے صاحب حق یا مقروض کو نقصان پہنچے، یا گواہ شہادت میں ہیر پھیر کرکے غلط گواہی دے کاتب اور گواہ کو نقصان پہنچایا جانا یہ ہے کہ انھیں ان کی مشغولیت کے وقت تنگ کرکے بلایا جائے یا غلط شہادت پر مجبور کرنے کے لیے خوف زدہ کیا جائے وغیرہ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[402] ہمارے ہاں آج کل ایسی تحریروں کے سند یافتہ ماہرین موجود ہیں جنہیں وثیقہ نویس کہا جاتا ہے۔ وثیقہ نویس تقریباً انہی اصولوں کے تحت سرکاری کاغذات پر ایسے معاہدات لکھ دیتے ہیں اور چونکہ یہ ایک مستقل فن اور پیشہ بن چکا ہے۔ لہٰذا ان کے انکار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ الا یہ کہ معاملہ میں کوئی قانونی سقم ہو۔
[405] اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر رکھی گئی ہے اور حدیث کی رو سے یہ عورتوں کے نقصان عقل کی بنا پر ہے۔ اور دوسرے یہ کہ زبانی گواہی کی ضرورت اس وقت پیش آئے گی جب اس معاملہ کی ایسی جزئیات میں نزاع پیدا ہو جائے جنہیں تحریر میں نہ لایا جا سکا ہو اور معاملہ عدالت میں چلا جائے۔ ورنہ تحریر تو کی ہی اس لئے جاتی ہے کہ بعد میں نزاع پیدا نہ ہو۔ اور شہادتیں پہلے سے ہی اس تحریر پر ثبت کی جاتی ہے۔ جب سے اہل مغرب نے مساوات مرد و زن کا نعرہ لگایا ہے اور جمہوری نظام نے عورت کو ہر معاملہ میں مرد کے برابر حقوق عطا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت سے اس آیت کے اس جملہ کو بھی مسلمانوں ہی کی طرف سے تاویل و تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ دو عورتوں کی شہادت کو ایک مرد کے برابر کر کے اسلام نے عورتوں کے حقوق کی حق تلفی کی ہے۔ پاکستان میں اپوا کی مغرب زدہ مہذب خواتین نے بڑی دریدہ دہنی سے کام لیا اور اس کے خلاف ان عورتوں نے جلوس نکالے اور بینر لکھوائے گئے کہ اگر عورت کا حق مرد سے نصف ہے تو فرائض بھی نصف ہونے چاہئیں عورتوں پر اڑھائی نمازیں، پندرہ روزے اور نصف حج فرض ہونا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ طبقہ اڑھائی نمازیں تو درکنار ایک نماز بھی پڑھنے کا روادار نہیں۔ وہ خود اسلام سے بیزار ہیں ہی، ایسے پراپیگنڈے سے ایک تو وہ حکومت کو مرعوب کرنا چاہتی ہیں کہ وہ ایسا کوئی قانون نہ بنائے جس سے عورت کی حق تلفی ہوتی ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ دوسری سادہ لوح مسلمان عورتوں کو اسلام سے برگشتہ کر سکیں۔
[406] یعنی جب نزاع کی صورت پیدا ہو کر معاملہ عدالت میں چلا جائے اور انہیں زبانی گواہی دینے کے لئے بلایا جائے تو انہیں انکار نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہ بات کتمان شہادت کے ذیل میں آتی ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔
[407] اس جملہ میں انسان کی ایک فطری کمزوری کو واضح کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ فریقین خواہ کس قدر قابل اعتماد ہوں اور ان میں نزاع کی توقع بھی نہ ہو اور معاملہ بھی خواہ کوئی چھوٹا سا ہو تاہم بھول چوک اور نسیان کی بنا پر فریقین میں نزاع یا بد ظنی پیدا ہو سکتی ہے۔ لہٰذا باقاعدہ دستاویز نہ سہی فریقین کو یا فریقین میں سے کسی اذیک کو یادداشت کے طور پر ضرور لکھ لینا چاہئے۔
[408] یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جبکہ لین دین کا کوئی اہم معاملہ ہو اور لین دین کرنے کے بعد بھی اس میں نزاع کا احتمال موجود ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو ادھار دے وہ لکھ لے اور جو بیچے وہ گواہ کر لے، ابوسلیمان مرعشی رحمہ اللہ جنہوں نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہما کی صحبت بہت اٹھائی تھی انہوں نے ایک دن اپنے پاس والوں سے کہا اس مظلوم کو بھی جانتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے اور اس کی دعا قبول نہیں ہوتی لوگوں نے کہا یہ کس طرح؟ فرمایا یہ وہ شخص ہے جو ایک مدت کیلئے ادھار دیتا ہے اور نہ گواہ رکھتا ہے نہ لکھت پڑھت کرتا ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ اور عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کاتب پر لکھ دینا اس آیت کی رو سے واجب ہے۔ جس کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اللہ سے ڈرے، نہ کمی بیشی کرے نہ خیانت کرے۔ اگر یہ شخص بےسمجھ ہے اسراف وغیرہ کی وجہ سے روک دیا گیا ہے یا کمزور ہے یعنی بچہ ہے یا حواس درست نہیں یا جہالت اور کندذہنی کی وجہ سے لکھوانا بھی نہیں جانتا تو جو اس کا والی اور بڑا ہو، وہ لکھوائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں آیت دونوں حالتوں پر شامل ہے، یعنی گواہی دینے کیلئے بھی اور گواہ رہنے کیلئے بھی انکار نہ کرنا چاہیئے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
احتوت هذه الآيات على إرشاد الباري عباده في معاملاتهم إلى حفظ حقوقهم بالطرق النافعة والإصلاحات التي لا يقترح العقلاء أعلى ولا أكمل منها فإن فيها فوائد كثيرة:
منها: جواز المعاملات في الديون سواء كانت ديون سلم أو شراء مؤجلاً ثمنه فكله جائز، لأن الله أخبر به عن المؤمنين، وما أخبر به عن المؤمنين فإنه من مقتضيات الإيمان وقد أقرهم عليه الملك الديان.
ومنها: وجوب تسمية الأجل في جميع المداينات وحلول الإجارات.
ومنها: أنه إذا كان الأجل مجهولاً فإنه لا يحل لأنه غرر وخطر فيدخل في الميسر.
ومنها: أمره تعالى بكتابة الديون، وهذا الأمر قد يجب إذا وجب حفظ الحق كالذي للعبد عليه ولاية، كأموال اليتامى والأوقاف والوكلاء والأمناء، وقد يقارب الوجوب كما إذا كان الحق متمحضاً للعبد فقد يقوى الوجوب وقد يقوى الاستحباب، بحسب الأحوال المقتضية لذلك، وعلى كل حال فالكتابة من أعظم ما تحفظ به هذه المعاملات المؤجلة لكثرة النسيان ولوقوع المغالطات، وللاحتراز من الخونة الذين لا يخشون الله تعالى.
ومنها: أمره تعالى للكاتب أن يكتب بين المتعاملين بالعدل فلا يميل مع أحدهما لقرابة ولا غيرها ولا على أحدهما لعداوة ونحوها.
ومنها: أن الكتابة بين المتعاملين من أفضل الأعمال ومن الإحسان إليهما، وفيها حفظ حقوقهما وبراءة ذممهما كما أمره الله بذلك فليحتسب الكاتب بين الناس هذه الأمور ليحظى بثوابها.
ومنها: أن الكاتب لا بد أن يكون عارفاً بالعدل معروفاً بالعدل، لأنه إذا لم يكن عارفاً بالعدل لم يتمكن منه، وإذا لم يكن معتبراً، عدلاً عند الناس، رضياً، لم تكن كتابته معتبرة، ولا حاصلاً بها المقصود الذي هو حفظ الحقوق.
ومنها: أن من تمام الكتابة والعدل فيها أن يحسن الكاتب الإنشاء والألفاظ المعتبرة في كل معاملة بحسبها، وللعرف في هذا المقام اعتبار عظيم.
ومنها: أن الكتابة من نعم الله على العباد التي لا تستقيم أمورهم الدينية ولا الدنيوية إلا بها، وأن من علَّمه الله الكتابة فقد تفضل عليه بفضل عظيم، فمن تمام شكره لنعمة الله تعالى أن يقضي بكتابته حاجات العباد ولا يمتنع من الكتابة ولهذا قال: {ولا يأب كاتب أن يكتب كما علمه الله}.
ومنها: أن الذي يكتبه الكاتب هو اعتراف من عليه الحق إذا كان يحسن التعبير عن الحق الذي عليه، فإن كان لا يحسن ذلك لصغره أو سفهه أو جنونه أو خرسه أو عدم استطاعته، أملى عنه وليه، وقام وليه في ذلك مقامه.
ومنها: أن الاعتراف من أعظم الطرق التي تُثبَت بها الحقوق حيث أمر الله تعالى أن يكتب الكاتب ما أملى عليه من عليه الحق.
ومنها: ثبوت الولاية على القاصرين من الصغار والمجانين والسفهاء ونحوهم.
ومنها: أن الولي يقوم مقام موليه في جميع اعترافاته المتعلقة بحقوقه.
ومنها: أن من أمنته في معاملة وفوضته فيها فقوله في ذلك مقبول وهو نائب منابك، لأنه إذا كان الولي على القاصرين ينوب منابهم، فالذي وليته باختيارك وفوضت إليه الأمر أولى بالقبول واعتبار قوله وتقديمه على قولك عند الاختلاف.
ومنها: أنه يجب على الذي عليه الحق إذا أملى على الكاتب أن يتقي الله ولا يبخس الحق الذي عليه فلا ينقصه في قدره ولا في وصفه ولا في شرط من شروطه أو قيد من قيوده، بل عليه أن يعترف بكل ما عليه من متعلقات الحق كما يجب ذلك إذا كان الحق على غيره له، فمن لم يفعل ذلك فهو من المطففين الباخسين.
ومنها: وجوب الاعتراف بالحقوق الجلية والحقوق الخفية وأن ذلك من أعظم خصال التقوى، كما أن ترك الاعتراف بها من نواقض التقوى ونواقصها.
ومنها: الإرشاد إلى الإشهاد في البيع فإن كانت في المداينات فحكمها حكم الكتابة كما تقدم، لأن الكتابة هي كتابة الشهادة، وإن كان البيع بيعاً حاضراً فينبغي الإشهاد فيه ولا حرج فيه بترك الكتابة لكثرته وحصول المشقة فيه.
ومنها: الإرشاد إلى إشهاد رجلين عدلين فإن لم يمكن أو تعذر أو تعسر فرجل وامرأتان، وذلك شامل لجميع المعاملات، بيوع الإدارة وبيوع الديون وتوابعها من الشروط والوثائق وغيرها. وإذا قيل قد ثبت أنه - صلى الله عليه وسلم - قضى بالشاهد الواحد مع اليمين ، والآية الكريمة ليس فيها إلا شهادة رجلين أو رجل وامرأتين، قيل: الآية الكريمة فيها إرشاد الباري عباده إلى حفظ حقوقهم ولهذا أتى فيها بأكمل الطرق وأقواها، وليس فيها ما ينافي ما ذكره النبي - صلى الله عليه وسلم - من الحكم بالشاهد واليمين، فباب حفظ الحقوق في ابتداء الأمر يرشد فيه العبد إلى الاحتراز والتحفظ التام، وباب الحكم بين المتنازعين ينظر فيه إلى المرجحات والبينات بحسب حالها.
ومنها: أن شهادة المرأتين قائمة مقام الرجل الواحد في الحقوق الدنيوية وأما في الأمور الدينية كالرواية والفتوى فإن المرأة فيه تقوم مقام الرجل، والفرق ظاهر بين البابين.
ومنها: الإرشاد إلى الحكمة في كون شهادة المرأتين عن شهادة الرجل وأنه لضعف ذاكرة المرأة غالباً وقوة حافظة الرجل.
ومنها: أن الشاهد لو نسي شهادته فذكره الشاهد الآخر فذكر، أنه لا يضر ذلك النسيان إذا زال بالتذكير لقوله: {أن تضل إحداهما فتذكر إحداهما الأخرى}؛ ومن باب أولى إذا نسي الشاهد ثم ذكر من دون تذكير، فإن الشهادة مدارها على العلم واليقين.
ومنها: أن الشهادة لا بد أن تكون عن علم ويقين لا عن شكِّ، فمتى صار عند الشاهد ريب في شهادته ولو غلب على ظنه لم يحل له أن يشهد إلا بما يعلم.
ومنها: أن الشاهد ليس له أن يمتنع إذا دعي للشهادة سواء دعي للتحمل أو للأداء وأن القيام بالشهادة من أفضل الأعمال الصالحة كما أمر الله بها وأخبر عن نفعها ومصالحها.
ومنها: أنه لا يحل الإضرار بالكاتب ولا بالشهيد بأن يدعيا في وقت أو حالة تضرهما. وكما أنه نهي لأهل الحقوق والمتعاملين أن يضاروا الشهود والكتاب فإنه أيضاً نهي للكاتب والشهيد أن يضار المتعامليْن أو أحدهما. وفي هذا أيضاً أن الشاهد والكاتب إذا حصل عليهما ضرر في الكتابة والشهادة أنه يسقط عنهما الوجوب.
وفيها: التنبيه على أن جميع المحسنين الفاعلين للمعروف لا يحل إضرارهم وتحميلهم ما لا يطيقون، فهل جزاء الإحسان إلا الإحسان؟ وكذلك على من أحسن وفعل معروفاً أن يتمم إحسانه بترك الإضرار القولي والفعلي بمن أوقع به المعروف، فإن الإحسان لا يتم إلا بذلك.
ومنها: أنه لا يجوز أخذ الأجرة على الكتابة والشهادة حيث وجبت لأنه حق أوجبه الله على الكاتب والشهيد، ولأنه من مضارة المتعاملين.
ومنها: التنبيه على المصالح والفوائد المترتبة على العمل بهذه الإرشادات الجليلة وأن فيها حفظ الحقوق والعدل وقطع التنازع والسلامة من النسيان والذهول ولهذا قال: {ذلكم أقسط عند الله وأقوم للشهادة وأدنى ألا ترتابوا}؛ وهذه مصالح ضرورية للعباد.
ومنها: أن تعلم الكتابة من الأمور الدينية، لأنها وسيلة إلى حفظ الدين والدنيا وسبب للإحسان.
ومنها: أن من خصه الله بنعمة من النعم يحتاج الناس إليها فمن تمام شكر هذه النعمة أن يعود بها على عباد الله وأن يقضي بها حاجاتهم لتعليل الله النهي عن الامتناع عن الكتابة بتذكير الكاتب بقوله: {كما علمه الله}؛ ومع هذا فمن كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته.
ومنها: أن الإضرار بالشهود والكتاب فسوق بالإنسان، فإن الفسوق هو الخروج عن طاعة الله إلى معصيته، وهو يزيد وينقص ويتبعض، ولهذا لم يقل فأنتم فساق أو فاسقون بل قال: {فإنه فسوق بكم}؛ فبقدر خروج العبد عن طاعة ربه فإنه يحصل به من الفسوق بحسب ذلك، واستدل بقوله تعالى: {واتقوا الله ويعلمكم الله}؛ أن تقوى الله وسيلة إلى حصول العلم، وأوضح من هذا قوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا إن تتقوا الله يجعل لكم فرقاناً}؛ أي: علماً تفرقون به بين الحقائق والحق والباطل.
ومنها: أنه كما أنه من العلم النافع تعليم الأمور الدينية المتعلقة بالعبادات فمنه أيضاً تعليم الأمور الدنيوية المتعلقة بالمعاملات، فإن الله تعالى حفظ على العباد أمور دينهم ودنياهم، وكتابه العظيم فيه تبيان كل شيء.
ومنها: مشروعية الوثيقة بالحقوق وهي الرهون والضمانات التي تكفل للعبد حصول حقه سواء عامل برًّا أو فاجراً أميناً أو خائناً، فكم في الوثائق من حفظ حقوق وانقطاع منازعات.
ومنها: أن تمام الوثيقة في الرهن أن يكون مقبوضاً، ولا يدل ذلك على أنه لا يصح الرهن إلا بالقبض بل التقييد بكون الرهن مقبوضاً يدل على أنه قد يكون مقبوضاً تحصل به الثقة التامة وقد لا يكون مقبوضاً فيكون ناقصاً.
ومنها: أنه يستدل بقوله: