اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤگے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
En
(آیت 281)اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا کے زوال پذیر ہونے اور اس کے اموال وغیرہ کے فانی ہونے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور ہر عمل کے محاسبے اور اس کی جزا و سزا ہونے کے ساتھ نصیحت فرمائی ہے۔ (ابن کثیر) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”قرآن میں سب سے آخر میں جو آیت اتری وہ یہ ہے۔“[السنن الکبریٰ للنسائی: 40،39/10، ح: ۱۰۹۹۱، ۱۰۹۹۲، صحیح۔ ہدایۃ المستنیر: ۸۷۰]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
181۔ 1 بعض آثار میں ہے کہ یہ قرآن کریم کی آخری آیت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی، اس کے چند دن بعد ہی آپ دنیا سے رحلت فرما گئے۔ (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
281۔ اور اس دن سے ڈر جاؤ۔ جب تم اللہ کے حضور لوٹائے جاؤ گے۔ پھر وہاں ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہو گا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔