ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 276

یَمۡحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرۡبِی الصَّدَقٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیۡمٍ ﴿۲۷۶﴾
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ایسے شخص سے محبت نہیں رکھتا جو سخت نا شکرا، سخت گناہ گار ہو۔ En
خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا
En
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 276) ➊ {يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا:} یعنی سود کا مال بظاہر جتنا بھی بڑھ جائے حقیقت میں نہیں بڑھتا، فرمایا: «وَ مَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَاْ فِيْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ» [الروم: ۳۹] اور جو کوئی سودی قرض تم اس لیے دیتے ہو کہ لوگوں کے اموال میں بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود خواہ کتنا ہی بڑھ جائے انجام اس کا قلت ہی ہو گا۔ [أحمد: 424/1، ح: ۴۰۲۵، عن ابن مسعود و صححہ محققہ و وافقہ الألبانی فی صحیح ابن ماجہ]
وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سودی مال میں خیر و برکت عطا نہیں فرماتا، چنانچہ سود خور پر دنیا بھی لعنت بھیجتی ہے اور آخرت میں بھی اسے وہ سزا ملے گی جو کسی دوسرے مجرم کو نہیں ملے گی۔ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ صدقات کو بڑھاتا ہے اور ان میں خیر و برکت ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پاک کمائی میں سے ایک کھجور بھی صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ پاک مال ہی کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے، پھر اسے صدقہ کرنے والے کے لیے اس طرح پالتا پوستا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑی کے بچے کی پرورش کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ صدقہ (بڑھ کر) پہاڑ کی طرح ہو جاتا ہے۔ [بخاری، الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب: ۱۴۱۰۔ مسلم: ۱۰۱۴، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
➋ { كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ:} یعنی مال دار ہو کر محتاج کو قرض بھی نہ دے جب تک سود نہ رکھ لے، یہ نعمت کی سخت ناشکری ہے۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

276۔ 1 یہ سود کے معنوی اور روحانی نقصان اور صدقے کی برکتوں کا بیان ہے۔ سود میں بظاہر بڑھوتری نظر آتی ہے لیکن معنوی حساب سے یا مال (انجام) کے اعتبار سے سودی رقم ہلاکت و بربادی ہی کا باعث بنتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

276۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کی پرورش [395] کرتا ہے۔ اور اللہ کسی ناشکرے [396] بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔
[395] اگرچہ بنظر ظاہر سود لینے سے مال بڑھتا اور صدقہ دینے سے گھٹتا نظر آتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ سود کے مال میں برکت نہیں ہوتی اور مال حرام بود بجائے حرام رفت، والی بات بن جاتی ہے اور صدقات دینے سے اللہ تعالیٰ ایسی جگہ سے اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے جس کا اسے خود بھی وہم و گمان نہیں ہوتا اور یہ ایسی حقیقت ہے جو بارہا کئی لوگوں کے تجربہ میں آ چکی ہے تاہم اسے عقلی دلائل سے ثابت کیا جا سکتا ہے اور دوسری صورت کو علم معیشت کی رو سے ثابت بھی کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے جس معاشرہ میں صدقات کا نظام رائج ہوتا ہے۔ اس میں غریب طبقہ (جو عموماً ہر معاشرہ میں زیادہ ہوتا ہے) کی قوت خرید بڑھتی ہے اور دولت کی گردش کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے جس سے خوشحالی پیدا ہوتی ہے اور قومی معیشت ترقی کرتی ہے اور جس معاشرہ میں سود رائج ہوتا ہے وہاں غریب طبقہ کی قوت خرید کم ہوتی ہے اور جس امیر طبقہ کی طرف دولت کو سود کھینچ کھینچ کر لے جا رہا ہوتا ہے۔ اس کی تعداد قلیل ہونے کی وجہ سے دولت کی گردش کی رفتار نہایت سست ہو جاتی ہے جس سے معاشی بحران پیدا ہوتے رہتے ہیں، امیر اور غریب میں طبقاتی تقسیم بڑھ جاتی ہے اور بعض دفعہ غریب طبقہ تنگ آ کر امیروں کو لوٹنا اور مارنا شروع کر دیتا ہے آقا و مزدور میں، امیر اور غریب میں ہر وقت کشیدگی کی فضا قائم رہتی ہے جس سے کئی قسم کے مہلک نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔
[396] یہاں ناشکرے سے مراد وہ سود خور ہے جس کی پاس اپنی ضروریات سے زائد رقم موجود ہے۔ جیسے وہ اپنے کسی محتاج بھائی کی مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، نہ اسے صدقہ دینا چاہتا ہے نہ قرض حسنہ دیتا ہے بلکہ الٹا اس سے اس کے گاڑھے پسینے کی کمائی سود کے ذریعہ کھینچنا چاہتا ہے۔ حالانکہ یہ زائد روپیہ اس پر محض اللہ کا فضل تھا اور صدقہ یا قرض دے کر اسے اللہ کے اس فضل کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا۔ مگر اس نے زائد رقم کو سود پر چڑھا کر اللہ کے فضل کی انتہائی ناشکری کی۔ لہٰذا اس سے بڑھ کر بد عملی اور گناہ کی بات اور کیا ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سود کا کاروبار برکت سے محروم ہوتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سود کو برباد کرتا ہے یعنی یا تو اسے بالکل غارت کر دیتا ہے یا سودی کاروبار سے خیر و برکت ہٹا دیتا ہے علاوہ ازیں دنیا میں بھی وہ تباہی کا باعث بنتا ہے اور آخرت میں عذاب کا سبب، جیسے ہے «قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ» [5-المائدة: 100]‏‏‏‏، یعنی ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوتا گو تمہیں ناپاک کی زیادتی تعجب میں ڈالے۔ ارشاد فرمایا آیت «وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ» [8-الأنفال: 37]‏‏‏‏۔ الا یہ خباثت والی چیزوں کو تہ و بالا کر کے وہ جہنم میں جھونک دے گا اور جگہ ہے «وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ» [30۔ الروم: 39]‏‏‏‏، یعنی سود دے کر جو مال تم بڑھانا چاہتے ہو وہ دراصل بڑھتا نہیں، اسی واسطے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ سود سے اگر مال میں اضافہ ہو بھی جائے لیکن انجام کار کمی ہوتی ہے۔ [مسند احمد:395/1:صحیح]‏‏‏‏
مسند کی ایک اور روایت میں ہے کہ امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد سے نکلے اور اناج پھیلا ہوا دیکھ کر پوچھا یہ غلہ کہاں سے آیا؟ لوگوں نے کہا بکنے کیلئے آیا ہے، آپ رضی اللہ عنہما نے دعا کی کہ اللہ اس میں برکت دے، لوگوں نے کہا یہ غلہ گراں بھاؤ بیچنے کیلئے پہلے ہی جمع کر لیا تھا، پوچھا کس نے جمع کیا تھا، لوگوں نے کہا ایک تو فروخ نے جو عثمان کے مولی ہیں اور دوسرے آپ کے آزاد کردہ غلام نے، آپ رضی اللہ عنہما نے دونوں کو بلوایا اور فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا؟ جواب دیا کہ ہم اپنے مالوں سے خریدتے ہیں اور جب چاہیں بیچیں، ہمیں اختیار ہے، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص مسلمانوں میں مہنگا بیچنے کے خیال سے غلہ روک رکھے اسے اللہ مفلس کر دے گا، یہ سن کر فروخ تو فرمانے لگے کہ میری توبہ ہے میں اللہ سے اور پھر آپ سے عہد کرتا ہوں کہ پھر یہ کام نہ کروں گا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نے پھر بھی یہی کہا کہ ہم اپنے مال سے خریدتے ہیں اور نفع اٹھا کر بیچتے ہیں، اس میں کیا حرج ہے؟ راوی حدیث ابویحییٰ فرماتے ہیں میں نے پھر دیکھا کہ اسے جذام ہو گیا اور جذامی [کوڑھ]‏‏‏‏ بنا پھرتا تھا، [مسند احمد:21/1:ضعیف]‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے جو شخص مسلمانوں کا غلہ گراں بھاؤ بیچنے کیلئے روک رکھے اللہ تعالیٰ اسے مفلس کر دے گا یا جذامی۔ [سنن ابن ماجه:2155، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے وہ صدقہ کو بڑھاتا ہے۔ «یُرۡبِی» کی دوسری قرأت «یُرَبّیَ» بھی ہے، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے جو شخص اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور بھی خیرات کرے اسے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی داہنے ہاتھ لیتا ہے پھر اسے پال کر بڑا کرتا ہے [جس طرح تم لوگ اپنے بچھڑوں کو پالتے ہو]‏‏‏‏ اور اس کا ثواب پہاڑ کے برابر بنا دیتا ہے، [صحیح بخاری:1410:صحیح]‏‏‏‏ اور پاک چیز کے سوا وہ ناپاک چیز کو قبول نہیں فرماتا، ایک اور روایت میں ہے کہ ایک کھجور کا ثواب احد پہاڑ کے برابر ملتا ہے، [سنن ترمذي:661، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ ایک لقمہ مثل احد کے ہو کر ملتا ہے، پس تم صدقہ خیرات کیا کرو، پھر فرمایا ناپسندیدہ کافروں، نافرمان زبان زور اور نافرمان فعل والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صدقہ خیرات نہ کریں اور اللہ کی طرف سے صدقہ خیرات کے سبب مال میں اضافہ کے وعدہ کی پرواہ کئے بغیر دنیا کا مال دینار جمع کرتے پھریں اور بدترین اور خلاف شرع طریقوں سے کمائیاں کریں لوگوں کے مال باطل اور ناحق طریقوں سے کھا جائیں، یہ اللہ کے دشمن ہیں ان ناشکروں اور گنہگاروں سے اللہ کا پیار ممکن نہیں-
پھر ان بندوں کی تعریف ہو رہی ہے جو اپنے رب کے احکام کی بجا آوری کریں، مخلوق کے ساتھ سلوک و احسان قائم کریں، نمازیں قائم کریں، زکوٰۃ دیتے رہیں، یہ قیامت کے دن تمام دکھ درد سے امن میں رہیں گے کوئی کھٹکا بھی ان کے دل پر نہ گزرے گا بلکہ رب العالمین اپنے انعام و اکرام سے انہیں سرفراز فرمائے گا۔