بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
En
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ ﴿سنت کے مطابق﴾ نیک کام کرتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب تعالیٰ کے پاس ہے، ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم
En
(آیت 277){اِنَّالَّذِيْنَاٰمَنُوْا …:} اللہ تعالیٰ کفر و ایمان دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر فرماتا ہے، تاکہ دونوں پہلو سامنے رہیں۔ ربا کی آیتوں کے درمیان ایمان والوں کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایمان، عملِ صالح، نماز اور زکوٰۃ سودی کاروبار سے بچنے کا اہم ذریعہ ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
277۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے، [397] نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے ان کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے۔ انہیں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
[397] یہ آیت درمیان میں اس لئے آئی ہے کہ سود خور کے مقابلہ میں متقی لوگوں کا حال بیان کر دیا جائے جیسا کہ قرآن کریم میں جا بجا یہی دستور آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ جہاں اہل دوزخ کا ذکر آیا تو ساتھ اہل جنت کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ اس کے بعد سود کے مضمون کا تسلسل جاری رکھا گیا ہے۔ اس مقام پر بھی مومنوں کی دو انتہائی اہم صفات کا ذکر فرمایا۔ ایک اقامت صلٰوۃ کا جو بدنی عبادات میں سے سب سے اہم ہے۔ دوسرے ایتائے زکوٰۃ کا جو مالی عبادات میں سے سب سے اہم بھی ہے اور سود کی عین ضد بھی۔ اسلام کے معاشی نظام کو اگر انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو اس کے دو ہی اجزاء ہیں۔ ایک سلبی دوسرا ایجابی۔ سلبی پہلو نظام سود کا استیصال ہے اور ایجابی پہلو نظام زکوٰۃ کی ترویج۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سود کا کاروبار برکت سے محروم ہوتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سود کو برباد کرتا ہے یعنی یا تو اسے بالکل غارت کر دیتا ہے یا سودی کاروبار سے خیر و برکت ہٹا دیتا ہے علاوہ ازیں دنیا میں بھی وہ تباہی کا باعث بنتا ہے اور آخرت میں عذاب کا سبب، جیسے ہے «قُللَّايَسْتَوِيالْخَبِيثُوَالطَّيِّبُوَلَوْأَعْجَبَكَكَثْرَةُالْخَبِيثِ»[5-المائدة: 100]، یعنی ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوتا گو تمہیں ناپاک کی زیادتی تعجب میں ڈالے۔ ارشاد فرمایا آیت «وَيَجْعَلَالْخَبِيثَبَعْضَهُعَلَىٰبَعْضٍفَيَرْكُمَهُجَمِيعًافَيَجْعَلَهُفِيجَهَنَّمَ»[8-الأنفال: 37]۔ الا یہ خباثت والی چیزوں کو تہ و بالا کر کے وہ جہنم میں جھونک دے گا اور جگہ ہے «وَمَآاٰتَيْتُمْمِّنْرِّبًالِّيَرْبُوَا۟فِيْٓاَمْوَالِالنَّاسِفَلَايَرْبُوْاعِنْدَاللّٰهِ»[30۔ الروم: 39]، یعنی سود دے کر جو مال تم بڑھانا چاہتے ہو وہ دراصل بڑھتا نہیں، اسی واسطے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ سود سے اگر مال میں اضافہ ہو بھی جائے لیکن انجام کار کمی ہوتی ہے۔ [مسند احمد:395/1:صحیح]
مسند کی ایک اور روایت میں ہے کہ امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد سے نکلے اور اناج پھیلا ہوا دیکھ کر پوچھا یہ غلہ کہاں سے آیا؟ لوگوں نے کہا بکنے کیلئے آیا ہے، آپ رضی اللہ عنہما نے دعا کی کہ اللہ اس میں برکت دے، لوگوں نے کہا یہ غلہ گراں بھاؤ بیچنے کیلئے پہلے ہی جمع کر لیا تھا، پوچھا کس نے جمع کیا تھا، لوگوں نے کہا ایک تو فروخ نے جو عثمان کے مولی ہیں اور دوسرے آپ کے آزاد کردہ غلام نے، آپ رضی اللہ عنہما نے دونوں کو بلوایا اور فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا؟ جواب دیا کہ ہم اپنے مالوں سے خریدتے ہیں اور جب چاہیں بیچیں، ہمیں اختیار ہے، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص مسلمانوں میں مہنگا بیچنے کے خیال سے غلہ روک رکھے اسے اللہ مفلس کر دے گا، یہ سن کر فروخ تو فرمانے لگے کہ میری توبہ ہے میں اللہ سے اور پھر آپ سے عہد کرتا ہوں کہ پھر یہ کام نہ کروں گا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نے پھر بھی یہی کہا کہ ہم اپنے مال سے خریدتے ہیں اور نفع اٹھا کر بیچتے ہیں، اس میں کیا حرج ہے؟ راوی حدیث ابویحییٰ فرماتے ہیں میں نے پھر دیکھا کہ اسے جذام ہو گیا اور جذامی [کوڑھ] بنا پھرتا تھا، [مسند احمد:21/1:ضعیف] ابن ماجہ میں ہے جو شخص مسلمانوں کا غلہ گراں بھاؤ بیچنے کیلئے روک رکھے اللہ تعالیٰ اسے مفلس کر دے گا یا جذامی۔ [سنن ابن ماجه:2155، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرماتا ہے وہ صدقہ کو بڑھاتا ہے۔ «یُرۡبِی» کی دوسری قرأت «یُرَبّیَ» بھی ہے، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے جو شخص اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور بھی خیرات کرے اسے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی داہنے ہاتھ لیتا ہے پھر اسے پال کر بڑا کرتا ہے [جس طرح تم لوگ اپنے بچھڑوں کو پالتے ہو] اور اس کا ثواب پہاڑ کے برابر بنا دیتا ہے، [صحیح بخاری:1410:صحیح] اور پاک چیز کے سوا وہ ناپاک چیز کو قبول نہیں فرماتا، ایک اور روایت میں ہے کہ ایک کھجور کا ثواب احد پہاڑ کے برابر ملتا ہے، [سنن ترمذي:661، قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ ایک لقمہ مثل احد کے ہو کر ملتا ہے، پس تم صدقہ خیرات کیا کرو، پھر فرمایا ناپسندیدہ کافروں، نافرمان زبان زور اور نافرمان فعل والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صدقہ خیرات نہ کریں اور اللہ کی طرف سے صدقہ خیرات کے سبب مال میں اضافہ کے وعدہ کی پرواہ کئے بغیر دنیا کا مال دینار جمع کرتے پھریں اور بدترین اور خلاف شرع طریقوں سے کمائیاں کریں لوگوں کے مال باطل اور ناحق طریقوں سے کھا جائیں، یہ اللہ کے دشمن ہیں ان ناشکروں اور گنہگاروں سے اللہ کا پیار ممکن نہیں-
پھر ان بندوں کی تعریف ہو رہی ہے جو اپنے رب کے احکام کی بجا آوری کریں، مخلوق کے ساتھ سلوک و احسان قائم کریں، نمازیں قائم کریں، زکوٰۃ دیتے رہیں، یہ قیامت کے دن تمام دکھ درد سے امن میں رہیں گے کوئی کھٹکا بھی ان کے دل پر نہ گزرے گا بلکہ رب العالمین اپنے انعام و اکرام سے انہیں سرفراز فرمائے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے جب سود خوروں کا ذکر فرمایا۔ اور واضح ہے کہ اگر انھیں ایمان نافع حاصل ہوتا تو ان سے یہ جرم سرزد نہ ہوتا۔ تو اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا: ان کو ملنے والا ثواب بیان فرمایا: اور انھیں ایمان والے کہہ کر مخاطب فرمایا اور انھیں حکم دیا کہ سود لینا چھوڑ دیں اگر وہ مومن ہیں۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی نصیحتیں قبول کرتے اور اس کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ موجودہ لین دین کے سلسلے میں جو سود کسی کے ذمہ ہے اسے چھوڑ دیں، وصول نہ کریں۔ باقی رہا وہ سود جو پہلے لیا جاچکا ہے تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص نصیحت قبول کرکے آئندہ سود لینے سے اجتناب کرے گا، اس کا سابقہ گناہ معاف ہوجائے گا۔ اور جس نے اللہ کی نصیحت قبول نہ کی اور باز نہ آیا وہ اللہ کا مخالف اور اللہ سے جنگ کرنے والا ہے۔ بھلا ایک عاجز ضعیف بندہ اس رب کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں۔ ﴿ وَاِنْتُبْتُمْ ﴾”ہاں اگر تم (سود سے) توبہ کرلو“﴿ فَلَكُمْرُءُ٘وْسُاَمْوَالِكُمْ ﴾”تو تمھارے لیے تمھارا اصل مال ہے۔“ یعنی وہ وصول کرلو ﴿ لَاتَظْلِمُوْنَ﴾”نہ تم ظلم کرو۔“ کہ اصل قرض سے زیادہ وصول کرو، جو سود ہے۔ ﴿ وَلَاتُظْلَمُوْنَ ﴾”اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔“ کہ تمھاری اصل رقم میں کمی کی جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة}؛ الآية لبيان أن أكبر الأسباب لاجتناب ما حرم الله من المكاسب الربوية تكميل الإيمان وحقوقه، خصوصاً إقامة الصلاة وإيتاء الزكاة، فإن الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر، والزكاة إحسان إلى الخلق ينافي تعاطي الربا الذي هو ظلم لهم وإساءة عليهم، ثم وجه الخطاب للمؤمنين وأمرهم أن يتقوه ويذروا ما بقي من معاملات الربا التي كانوا يتعاطونها قبل ذلك وأنهم إن لم يفعلوا ذلك فإنهم محارِبون لله ورسوله، وهذا من أعظم ما يدل على شناعة الربا حيث جعل المصرَّ عليه محارباً لله ورسوله، ثم قال: {وإن تبتم}؛ يعني من المعاملات الربوية {فلكم رؤوس أموالكم لا تظلمون}؛ الناس بأخذ الربا {ولا تظلمون}؛ ببخسكم رؤوس أموالكم، فكل من تاب من الربا فإن كانت معاملات سالفة فله ما سلف وأمره منظور فيه، وإن كانت معاملات موجودة وجب عليه أن يقتصر على رأس ماله، فإن أخذ زيادة فقد تجرأ على الربا. وفي هذه الآية بيان لحكمة الربا وأنه يتضمن الظلم للمحتاجين بأخذ الزيادة وتضاعف الربا عليهم وهو واجب إنظارهم، ولهذا قال:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔