تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
موجودہ بینکنگ کا نظام بھی واضح سود پر مبنی ہے۔ سیونگ اکاؤنٹ اور پی ایل ایس تو واضح سود ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ میں اگرچہ سود نہیں دیا جاتا مگر بنک وہ رقم آگے سود پر چلاتا ہے، آج کل اسلامی بینکنگ کا بہت شور ہے مگر علماء نے، جن میں حنفی علماء بھی شامل ہیں، اسے سودی حیلہ پر مبنی قرار دیا ہے۔ بیمہ (انشورنس) بھی سود اور جوئے کا مرکب ہے۔ اسی طرح انعامی بانڈ بھی سود اور جوئے کا مرکب ہے۔ سود کی ایک صورت نقد اور ادھار کی قیمتوں کا فرق ہے، قسطوں کا کاروبار اسی طرح چل رہا ہے، حالانکہ یہ رقم سود ہے، مثلاً ایک شخص کہے کہ میں تمھیں ایک ہزار روپے ادھار قرض دیتا ہوں مگر میں تم سے گیارہ سو روپے لوں گا، اس کے سود ہونے میں کیا شبہ ہے۔ اسی طرح ایک چیز جس کی قیمت سب جانتے ہیں کہ ایک ہزار ہے، بیچنے والے اور لینے والے کو بھی علم ہے، پھر وہ اسے قسطوں پر گیارہ سو میں دیتا ہے، تو یہ کیوں سود نہیں؟ سود خواہ کوئی ذاتی ضرورت کے لیے لے یا تجارت کے لیے جب اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا تو ہر طرح کا سود حرام ہے۔ اگر کوئی بچنا چاہے تو اسے واضح سود کے ساتھ سود کے حیلے اور سود کے شک والے معاملات سے بھی بچنا ہو گا۔ مزید دیکھیے آل عمران (۱۳۰)۔
➋ { ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا:} یعنی ان کی یہ حالت اس لیے ہو گی کہ انھوں نے بیع، یعنی فروخت کو بھی سود جیسا قرار دیا اور سود کو اتنا حلال قرار دیا کہ بیع کی حلت کا سبب بھی سود کے ساتھ مشابہت کو قرار دیا، بقول زمخشری: ”انھوں نے بیع کو سود کے مشابہ سود کی حلت میں مبالغہ کے لیے قرار دیا۔“ ان ظالموں کے نزدیک بیع اور سودمیں کوئی فرق نہیں، کیونکہ دونوں میں نفع آتا ہے۔ آج کل کفار کی تہذیب سے متاثر نیا روشن خیال تاریک دل طبقہ بھی سود کو ایک کاروبار سمجھتا ہے، حالانکہ دونوں میں واضح کئی فرق ہیں جن میں سے بڑا اور بنیادی فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے، دونوں برابر کیسے ہو گئے؟ علاوہ ازیں ایک فرق یہ ہے کہ تجارت میں نفع بھی ہوتا ہے نقصان بھی جب کہ سودی قرض لینے والے کو نفع ہو یا نقصان سود خور نے (خواہ ایک شخص ہو یا بنک) ہر حال میں پوری رقم مع سود وصول کرنی ہے جو آئندہ بڑھتی ہی جائے گی۔ اس لیے سود ظلم اور مفت خوری کی بدترین شکل ہے۔
➌ {يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ:} شیطان کا آدمی کو نقصان پہنچانا، خصوصاً اس کے دماغ پر حملہ آور ہونا کئی آیات و احادیث سے ثابت ہے، مثلاً چوکے مارنا اور غصہ دلانا، فرمایا: «مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ» [المؤمنون: ۹۷] ”شیطانوں کی اکساہٹوں سے۔“ بہکا کر حیران چھوڑ دینا، فرمایا: «كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيٰطِيْنُ فِي الْاَرْضِ حَيْرَانَ» [الأنعام: ۷۱] ”اس شخص کی طرح جسے شیطانوں نے زمین میں بہکا دیا، اس حال میں کہ حیران ہے۔“ تکلیف یا بیماری میں مبتلا کر دینا، فرمایا: «اَنِّيْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍ» [صٓ: ۴۱] ”بے شک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔“ بھلا دینا، فرمایا: «وَ مَاۤ اَنْسٰىنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ» [الکہف: ۶۳] ”اور مجھے وہ (بات) نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان میں خون کی گردش کی طرح گردش کرتا ہے۔“ [بخاری، الاعتکاف، باب زیارۃ المرأۃ …: ۲۰۳۸] الغرض! شیطان کے انسان کو چھو کر خبطی بنا دینے سے انکار قرآن و حدیث سے انکار ہے۔ البتہ مجھے آج تک کوئی ایسی حدیث یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا کوئی واقعہ نہیں ملا جس میں ذکر ہو کہ شیطان یا جن نے کسی آدمی کے جسم میں داخل ہو کر اس کی زبان پر گفتگو کی ہو، صرف مشاہدہ اس کی ناکافی دلیل ہے، کیونکہ {” اَلْجَنُوْنُ فُنُوْنٌ “} یعنی جنون کی بہت سی شکلیں ہوتی ہیں۔ واللہ اعلم!
➍ {فَلَهٗ مَا سَلَفَ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ:} یعنی سود کی حرمت کا حکم آنے کے بعد جو سود سے باز آ جائے وہ پہلے جو سود لے چکا ہے اس کا مطالبہ اس سے نہیں کیا جائے گا، البتہ معاملہ اس کا اللہ کے سپرد ہے وہ اس کے آئندہ طرزِ عمل، ندامت، توبہ کو دیکھ کر فیصلہ فرمائے گا۔ یاد رہے یہ اس وقت کی بات ہے جب سود کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، اب سود کی حرمت کو جانتے ہوئے کوئی شخص ساری عمر سود کھا کر آخر میں چھوڑ دے تو وہ مال اس کا نہیں ہو جائے گا بلکہ اسے حتی الامکان اس کے مالکوں کو لوٹانا ہو گا اور جو نہ لوٹا سکے اس پر توبہ اور استغفار کرنا ہو گا۔
➎ { وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ:} یہ سود خوروں کے لیے سخت وعید ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے پر، سود دینے والے پر، سود لکھنے والے پر اور سودی لین دین کے گواہوں پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔“ [مسلم، المساقاۃ، باب لعن أکل الربا و موکلہ: ۱۵۹۸] بعض نے {”وَ مَنْ عَادَ“} کے یہ معنی کیے ہیں کہ حرام قرار دیے جانے کے بعد بھی اگر کوئی بیع اور سود کو برابر قرار دے گا اور سود کو حلال سمجھ کر کھائے گا تو ایسا شخص چونکہ کافر ہے، اس لیے اسے ہمیشہ کے لیے دوزخی قرار دیا ہے۔ (شوکانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) ذاتی قرضے یا مہاجنی قرضے یعنی وہ قرضے جو کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لئے کسی مہاجن یا بنک سے لیتا ہے اور دوسرے تجارتی قرضے جو تاجر یا صنعت کار اپنی کاروباری اغراض کے لئے بنکوں سے سود پر لیتے ہیں۔ اب جو مسلمان سود کے جواز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ جس سود کو قرآن نے حرام کیا ہے وہ ذاتی یا مہاجنی قرضے ہیں جن کی شرح سود بڑی ظالمانہ ہوتی ہے اور جو تجارتی سود ہے وہ حرام نہیں۔ کیونکہ اس دور میں ایسے تجارتی سودی قرضوں کا رواج ہی نہ تھا۔ نیز ایسے قرضے چونکہ رضا مندی سے لئے دیئے جاتے ہیں اور ان کی شرح سود بھی گوارا اور مناسب ہوتی ہے اور فریقین میں سے کسی پر ظلم بھی نہیں ہوتا، لہٰذا یہ تجارتی سود اس سود سے مستثنیٰ ہے جنہیں قرآن نے حرام قرار دیا ہے۔ یہاں ہم مجوزین تجارتی سود کے تمام دلائل بیان کرنے اور ان کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ (جس کو تفصیلات درکار ہوں وہ میری تصنیف: ”تجارت اور لین دین کے مسائل و احکام“ میں سود سے متعلق دو ابواب ملاحظہ کر سکتا ہے) لہٰذا چند مختصر دلائل پر ہی اکتفا کریں گے:
1۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تجارتی سود موجود تھے اور سود کی حرمت سے پیشتر صحابہؓ میں سے حضرت عباس اور خالد بن ولیدؓ ایسے ہی تجارتی سود کا کاروبار کرتے تھے۔ اس دور میں عرب اور بالخصوص مکہ اور مدینہ میں لاکھوں کی تجارت ہوا کرتی تھی۔ علاوہ ازیں ہمسایہ ممالک میں تجارتی سود کا رواج عام تھا۔
2۔ قرآن میں ربٰو کا لفظ علی الاطلاق استعمال ہوا ہے جو ذاتی اور تجارتی دونوں قسم کے قرضوں کو حاوی ہے۔ لہٰذا تجارتی سود کو اس علی الاطلاق حرمت سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔
3۔ قرآن نے تجارتی قرضوں کے مقابل یہ آیت پیش کی ہے:
﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ [2: 275]
اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام جبکہ ذاتی قرضوں کے مقابل یوں فرمایا:
﴿ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ﴾ [2: 276]
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے سود کے خاتمہ کے لئے ذاتی قرضوں کا حل ’صدقات‘ تجویز فرمایا ہے اور تجارتی قرضوں کے لئے شراکت اور مضاربت کی راہ دکھلائی ہے جو حلال اور جائز ہے۔
4۔ جہاں تک کم یا مناسب شرح سود کا تعلق ہے تو یہ بات آج تک طے نہیں ہو سکی کہ مناسب شرح سود کیا ہے؟ کبھی تو 2 فیصد بھی نامناسب شرح سمجھی جاتی ہے۔ جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے لگ بھگ زمانے میں ریزرو بنک آف انڈیا ڈسکاؤنٹ ریٹ مقرر ہوا اور کبھی 29 فیصد شرح سود بھی مناسب اور معقول سمجھی جاتی ہے [ديكهئے: اشتهار انوسٹمنٹ بنك مشتهره نوائے وقت مورخه 1977-8-11] شرح سود کی مناسب تعیین نہ ہو سکنے کی غالباً وجہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد ہی متزلزل اور کمزور ہے۔ مناسب اور معقول شرح سود کی تعیین تو صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے جب یہ معلوم ہو سکے کہ قرض لینے والا اس سے کتنا یقینی فائدہ حاصل کرے گا اور اس میں سے قرض دینے والے کا معقول حصہ کتنا ہونا چاہئے۔ مگر ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ قرض لینے والے کو اس مقرر مدت میں کتنا فائدہ ہو گا، یا کچھ فائدہ ہو گا بھی یا نہیں۔ بلکہ الٹا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ ثانیاً ایک ہی ملک اور ایک ہی وقت میں مختلف بنکوں کی شرح سود میں انتہائی تفاوت پایا جاتا ہے اور اگر سب کچھ مناسب ہے تو پھر نامناسب کیا بات ہے؟ ثالثاً اگر شرح سود انتہائی کم بھی ہو تو بھی یہ سود کو حلال نہیں بنا سکتی۔ کیونکہ شریعت کا یہ اصول ہے کہ حرام چیز کی قلیل مقدار بھی حرام ہی ہوتی ہے۔ شراب تھوڑی بھی ایسے ہی حرام ہے جیسے زیادہ مقدار میں [ترمذي، ابواب الأشربة، باب ما سكر كثيرة فقليله حرام]
5۔
6۔ رہی یہ بات کہ تجارتی سود میں کسی فریق پر ظلم نہیں ہوتا۔ گویا یہ حضرات سود کی حرمت کی علت یا بنیادی سبب ظلم قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ تصور ہی غلط ہے۔ آیت کے سیاق و سباق سے واضح ہے کہ یہ الفاظ سودی معاملات اور معاہدات کو ختم کرنے کی ایک احسن صورت پیش کرتے ہیں یعنی نہ تو مقروض قرض خواہ کی اصل رقم بھی دبا کر اس پر ظلم کرے اور نہ قرض خواہ مقروض پر اصل کے علاوہ سود کا بوجھ بھی لاد دے۔ ان الفاظ کا اطلاق ہمارے ہاں اس وقت ہو گا جب ہم اپنے معاشرہ کو سود سے کلیتاً پاک کرنا چاہیں گے، یا نجی طور پر قرضہ کے فریقین سود کی لعنت سے اپنے آپ کو بچانے پر آمادہ ہوں گے۔ سود کی حرمت کا بنیادی سبب ظلم نہیں بلکہ بیٹھے بٹھائے اپنے مال میں اضافہ کی وہ ہوس ہے جس سے ایک سرمایہ دار اپنی فاضل دولت میں طے شدہ منافع کی ضمانت سے یقینی اضافہ چاہتا ہے اور جس سے زر پرستی، سنگ دلی اور بخل جیسے اخلاق رذیلہ جنم لیتے ہیں۔
[393] اب ایک مسلمان کا کام تو یہی ہونا چاہئے کہ جب اللہ نے سود کو حرام کر دیا تو اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ خواہ اسے سود اور تجارت کا فرق اور ان کی حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے تاہم جو لوگ یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے۔ اللہ نے انہیں انتہائی بدھو اور مخبوط الحواس قرار دیا ہے۔ جنہیں کسی جن نے آسیب زدہ بنا دیا ہو اور وہ اپنی خود غرضی اور زر پرستی کی ہوس میں خبطی ہو گئے ہوں کہ انہیں تجارت اور سود کا فرق نظر ہی نہیں آ رہا، چونکہ وہ اس زندگی میں باؤلے ہو رہے ہیں۔ لہٰذا وہ قیامت کے دن بھی اسی حالت میں اپنی قبروں سے اٹھیں گے۔ اب ہم ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لئے سود اور تجارت کا فرق بتلاتے ہیں:
1۔
2۔
3۔ مضاربت اور سود میں تیسرا فرق یہ ہے کہ مضاربت سے اخلاق حسنہ پرورش پاتے ہیں۔ جس سے معاشرہ میں اخوت اور خیر و برکت پیدا ہوتی ہے اور طبقاتی تقسیم مٹتی ہے۔ جبکہ سود سے اخلاق رذیلہ مثلاً خود غرضی، مفاد پرستی، بخل اور سنگدلی پیدا ہوتے ہیں۔ سود کی حرمت کی علت یہی اخلاق رذیلہ اور ہوس زر پرستی ہے۔ سودی نظام معیشت نے صرف ایک ہی شائی لاک (ایک سنگ دل یہودی کا مثالی کردار جس نے بروقت ادائیگی نہ ہونے کی بنا پر اپنے مقروض کی ران سے بے دریغ گوشت کا ٹکڑا کاٹ لیا تھا) پیدا نہیں کیا بلکہ ہر دور میں ہزاروں شائی لاک پیدا ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔
[394] اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو سود کھا چکا وہ معاف ہے بلکہ یوں فرمایا کہ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو بخش دے، چاہے تو سزا دے۔ لہٰذا محتاط صورت یہی ہے کہ وہ سود کی حرام کمائی خود استعمال نہ کرے بلکہ جس سے سود لیا تھا اسے ہی واپس کر دے تو یہ سب سے بہتر بات ہے ورنہ محتاجوں کو دے دے یا رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کر دے۔ اس طرح وہ سود کے گناہ سے تو شاید بچ جائے مگر ثواب نہیں ہو گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام مال کا صدقہ قبول نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ان پر یہ وبال اس باعث ہے کہ یہ کہتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی ہے ان کا یہ اعتراض شریعت اور احکام الٰہی پر تھا وہ سود کو تجارت کی طرح حلال جانتے تھے، جبکہ بیع پر سود کا قیاس کرنا ہی غلط ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مشرکین تو تجارت کا شرعاً جائز ہونے کے قائل نہیں ورنہ یوں کہتے کہ سود مثل بیع ہے، ان کا کہنا یہ تھا کہ تجارت اور سود دونوں ایک جیسی چیزیں ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک کو حلال کہا جائے اور دوسری کو حرام؟
جیسا فرمایا «عفا اللہ عما سلف» اور جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا تھا جاہلیت کے تمام سُود آج میرے ان قدموں تلے دفن کر دئیے گئے ہیں، چنانچہ سب سے پہلا سود جس سے میں دست بردار ہوتا ہوں وہ عباس رضی اللہ عنہما کا سود ہے، [سنن ابوداود:3334، قال الشيخ الألباني:صحیح] پس جاہلیت میں جو سود لے چکے تھے ان کو لوٹانے کا حکم نہیں ہوا۔
بخاوی و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جس طرح حلال ظاہر ہے، اسی طرح حرام بھی ظاہر ہے لیکن کچھ کام درمیانی شبہ والے بھی ہیں، ان شبہات والے کاموں سے بچنے والے نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا اور جو ان مشتبہ چیزوں میں پڑا وہ حرام میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ اس چرواہے کی طرح جو کسی کی چراگاہ کے آس پاس اپنے جانور چراتا ہو، تو ممکن ہے کوئی جانور اس چراگاہ میں بھی منہ مار لے، [صحیح بخاری:52:صحیح] سنن میں حدیث ہے کہ جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اسے لے لو جو شک شبہ سے پاک ہے، [سنن ترمذي:2518، قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری حدیث میں ہے گناہ وہ ہے جو دِل میں کھٹکے طبیعت میں تردد ہو اور اس کے بارے میں لوگوں کا واقف ہونا اسے برا لگتا ہو، [صحیح مسلم:2553:صحیح] ایک اور روایت میں ہے اپنے دِل سے فتویٰ پوچھ لو لوگ چاہے کچھ بھی فتویٰ دیتے ہوں، [مسند احمد:227/4:حسن] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سود کی حرمت سب سے آخر میں نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4544] سیدنا عمر رضی اللہ عنہما یہ فرما کر کہتے ہیں افسوس کہ اس کی پوری تفسیر بھی مجھ تک نہ پہنچ سکی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ لوگو سود کو بھی چھوڑو اور ہر اس چیز کو بھی جس میں سود کا بھی شائبہ ہو۔ [مسند احمد:36/1:صحیح]
اسی طرح پہلے وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو شخص دوسرے کی تین طلاق والی عورت سے اس لیے نکاح کرے کہ پہلے خاوند کیلئے حلال ہو جائے اس پر اور اس خاوند پر اللہ کی پھٹکار اور اس کی لعنت ہے، آیت «حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» [البقرہ: 230] کی تفسیر میں دیکھ لیجئے، حدیث شریف میں ہے سود کھانے والے پر کھلانے والے پر شہادت دینے والوں پر گواہ بننے والوں پر لکھنے والے پر سب پر اللہ کی لعنت ہے، [صحیح مسلم:1598:صحیح] ظاہر ہے کاتب و شاہد کو کیا ضرورت پڑی ہے جو وہ خواہ مخواہ اللہ کی لعنت اپنے اوپر لے، اسی طرح بظاہر عقد شرعی کی صورت کا اظہار اور نیت میں فساد رکھنے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہے۔ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں بلکہ تمہارے دِلوں اور نیتوں کو دیکھتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2564:صحیح] علامہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان حیلوں حوالوں کے رَد میں ایک مستقل کتاب [”ابطال التحلیل“] لکھی ہے جو اس موضوع میں بہترین کتاب ہے اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ان سے خوش ہو۔ [آمین]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر الله حالة المنفقين وما لهم من الله من الخيرات وما يكفر عنهم من الذنوب والخطيئات ذكر الظالمين أهل الربا والمعاملات الخبيثة، وأخبر أنهم يجازون بحسب أعمالهم، فكما كانوا في الدنيا في طلب المكاسب الخبيثة كالمجانين عوقبوا في البرزخ والقيامة أنهم لا يقومون من قبورهم إلى يوم بعثهم ونشورهم {إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس}؛ أي: من الجنون والصرع وذلك عقوبة وخزي وفضيحة لهم وجزاء لهم على مراباتهم ومجاهرتهم بقولهم: {إنما البيع مثل الربا}؛ فجمعوا ـ بجراءتهم ـ بين ما أحل الله وبين ما حرم الله واستباحوا بذلك الربا. ثم عرض تعالى التوبة على المرابين وغيرهم فقال: {فمن جاءه موعظة من ربه}؛ بيان مقرون به الوعد والوعيد {فانتهى}؛ عما كان يتعاطاه من الربا {فله ما سلف}؛ مما تجرأ عليه وتاب منه {وأمره إلى الله}؛ فيما يستقبل من زمانه فإن استمر على توبته، فالله لا يضيع أجر المحسنين.
{ومن عاد}؛ بعد بيان الله وتذكيره وتوعده لأكل الربا {فأولئك أصحاب النار هم فيها خالدون}؛ في هذا أن الربا موجب لدخول النار والخلود فيها، وذلك لشناعته ما لم يمنع من الخلود مانع الإيمان، وهذا من جملة الأحكام التي تتوقف على وجود شروطها وانتفاء موانعها؛ وليس فيها حجة للخوارج كغيرها من آيات الوعيد، فالواجب أن تصدق جميع نصوص الكتاب والسنة فيؤمن العبد بما تواترت به النصوص من خروج من في قلبه أدنى مثقالِ حبة خردل من الإيمان من النار، ومن استحقاق هذه الموبقات لدخول النار إن لم يتب منها.