وہ لوگ جو اپنے اموال رات اور دن، چھپے اور کھلے خرچ کرتے ہیں، سو ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
En
جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم
(آیت 274)یہاں تک چودہ آیات میں صدقے کا بیان تھا، اس کے بعد سود کو حرام قرار دیا۔ جب صدقے کی تاکید فرمائی تو قرض دینا تو بالاولیٰ ضروری ٹھہرا اور قرض پر سود کیوں لیا جائے۔ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
274۔ جو لوگ دن رات، کھلے اور چھپے اپنے مال [391] خرچ کرتے ہیں۔ انہیں اپنے پروردگار سے اس کا اجر ضرور مل جائے گا۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
[391] یہ آیت دراصل صدقات و خیرات کے احکام کا تتمہ ہے۔ یعنی آخر میں ایک دفعہ پھر صدقہ کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اب اس کی عین ضد سود کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ صدقات و خیرات سے جہاں آپس میں ہمدردی، مروت، اخوت، فیاضی پیدا ہوتی ہے وہاں طبقاتی تقسیم بھی کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سود سے شقاوت قلبی، خود غرضی، منافرت، بے مروتی اور بخل جیسے اخلاق رذیلہ پرورش پاتے ہیں اور طبقاتی تقسیم بڑھتی چلی جاتی ہے جو بالآخر کسی نہ کسی عظیم فتنہ کا باعث بن جاتی ہے۔ اشتراکیت در اصل ایسے ہی فتنہ کی پیداوار ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَّذِیْنَیُنْفِقُوْنَاَمْوَالَهُمْ ﴾”جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں۔“ یعنی اس کی اطاعت میں، اور اس کی خوشنودی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، حرام اور مکروہ کاموں میں یا اپنے دل کی خواہش پوری کرنے کے لیے خرچ نہیں کرتے ﴿ بِالَّیْلِوَالنَّهَارِسِرًّاوَّعَلَانِیَةًفَلَهُمْاَجْرُهُمْعِنْدَرَبِّهِمْ ﴾”رات دن، چھپے کھلے (خرچ کرتے ہیں) ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔“ یعنی رحمتوں والے مالک کے پاس عظیم اجر ہے۔ ﴿ وَلَاخَوْفٌعَلَیْهِمْ﴾”انھیں نہ خوف ہوگا“ جب کوتاہی کرنے والے خوف میں مبتلا ہوں گے ﴿ وَلَاهُمْیَحْزَنُوْنَؔ ﴾”اور نہ وہ غمگین ہوں گے“ جب جائز حد سے آگے بڑھنے والے غم میں مبتلا ہوں گے۔ تو یہ اپنااصل مقصود اور مطلوب حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اور ہر قسم کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بندوں پر مختلف انداز سے خرچ کرکے احسان کرنے والوں کا ذکر مکمل کرلیا تو اس کے بعد ان ظالموں کا ذکر فرمایا جو اللہ کے بندوں پر انتہائی برا ظلم کرتے ہیں۔ ارشاد ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الذين ينفقون أموالهم بالليل والنهار سراً وعلانية فلهم أجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون}؛ فإن الله يظلهم بظله يوم لا ظل إلا ظله، وإن الله ينيلهم الخيرات ويدفع عنهم الأحزان والمخاوف والكريهات. وقوله: {فلهم أجرهم عند ربهم}؛ أي: كل أحد منهم بحسب حاله، وتخصيص ذلك بأنه عند ربهم يدل على شرف هذه الحال ووقوعها في الموقع الأكبر كما في الحديث الصحيح «إن العبد ليتصدق بالتمرة من كسب طيب فيتقبلها الجبار بيده فيربيها لأحدكم كما يربي أحدكم فَلُوَّه حتى تكون مثل الجبل العظيم».
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔