اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَیۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ فَمَنۡ جَآءَہٗ مَوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ فَانۡتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ؕ وَ اَمۡرُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷۵﴾
وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں، کھڑے نہیں ہوں گے مگر جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر خبطی بنا دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے کہا بیع تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا، پھر جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت آئے پس وہ باز آجائے تو جو پہلے ہو چکا وہ اسی کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جو دوبارہ ایسا کرے تو وہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
En
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے
En
سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 275) ➊ { اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا …:} یعنی سود خور قیامت کے دن مخبوط الحواس اور پاگل ہو کر اٹھیں گے۔ دنیا میں بھی بے پناہ حرص کی وجہ سے ان کی یہی حالت ہوتی ہے۔ { ”الرِّبٰوا“ } کا لفظی معنی بڑھنا، زیادہ ہونا ہے، جیسے فرمایا: «فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ» [الحج: ۵] ”پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے۔“ شریعت کی اصطلاح میں قرض دے کر اصل مال سے جو زیادہ لیاجاتا ہے اسے ربا کہتے ہیں۔ (راغب) یعنی کسی قرض پر بغیر کسی مالی معاوضہ کے محض مہلت بڑھا دینے کی بنا پر زیادہ حاصل کیا جائے۔ (ابن العربی: ۱؍۲۹۰)
موجودہ بینکنگ کا نظام بھی واضح سود پر مبنی ہے۔ سیونگ اکاؤنٹ اور پی ایل ایس تو واضح سود ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ میں اگرچہ سود نہیں دیا جاتا مگر بنک وہ رقم آگے سود پر چلاتا ہے، آج کل اسلامی بینکنگ کا بہت شور ہے مگر علماء نے، جن میں حنفی علماء بھی شامل ہیں، اسے سودی حیلہ پر مبنی قرار دیا ہے۔ بیمہ (انشورنس) بھی سود اور جوئے کا مرکب ہے۔ اسی طرح انعامی بانڈ بھی سود اور جوئے کا مرکب ہے۔ سود کی ایک صورت نقد اور ادھار کی قیمتوں کا فرق ہے، قسطوں کا کاروبار اسی طرح چل رہا ہے، حالانکہ یہ رقم سود ہے، مثلاً ایک شخص کہے کہ میں تمھیں ایک ہزار روپے ادھار قرض دیتا ہوں مگر میں تم سے گیارہ سو روپے لوں گا، اس کے سود ہونے میں کیا شبہ ہے۔ اسی طرح ایک چیز جس کی قیمت سب جانتے ہیں کہ ایک ہزار ہے، بیچنے والے اور لینے والے کو بھی علم ہے، پھر وہ اسے قسطوں پر گیارہ سو میں دیتا ہے، تو یہ کیوں سود نہیں؟ سود خواہ کوئی ذاتی ضرورت کے لیے لے یا تجارت کے لیے جب اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا تو ہر طرح کا سود حرام ہے۔ اگر کوئی بچنا چاہے تو اسے واضح سود کے ساتھ سود کے حیلے اور سود کے شک والے معاملات سے بھی بچنا ہو گا۔ مزید دیکھیے آل عمران (۱۳۰)۔
➋ { ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا:} یعنی ان کی یہ حالت اس لیے ہو گی کہ انھوں نے بیع، یعنی فروخت کو بھی سود جیسا قرار دیا اور سود کو اتنا حلال قرار دیا کہ بیع کی حلت کا سبب بھی سود کے ساتھ مشابہت کو قرار دیا، بقول زمخشری: ”انھوں نے بیع کو سود کے مشابہ سود کی حلت میں مبالغہ کے لیے قرار دیا۔“ ان ظالموں کے نزدیک بیع اور سودمیں کوئی فرق نہیں، کیونکہ دونوں میں نفع آتا ہے۔ آج کل کفار کی تہذیب سے متاثر نیا روشن خیال تاریک دل طبقہ بھی سود کو ایک کاروبار سمجھتا ہے، حالانکہ دونوں میں واضح کئی فرق ہیں جن میں سے بڑا اور بنیادی فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے، دونوں برابر کیسے ہو گئے؟ علاوہ ازیں ایک فرق یہ ہے کہ تجارت میں نفع بھی ہوتا ہے نقصان بھی جب کہ سودی قرض لینے والے کو نفع ہو یا نقصان سود خور نے (خواہ ایک شخص ہو یا بنک) ہر حال میں پوری رقم مع سود وصول کرنی ہے جو آئندہ بڑھتی ہی جائے گی۔ اس لیے سود ظلم اور مفت خوری کی بدترین شکل ہے۔
➌ {يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ:} شیطان کا آدمی کو نقصان پہنچانا، خصوصاً اس کے دماغ پر حملہ آور ہونا کئی آیات و احادیث سے ثابت ہے، مثلاً چوکے مارنا اور غصہ دلانا، فرمایا: «مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ» [المؤمنون: ۹۷] ”شیطانوں کی اکساہٹوں سے۔“ بہکا کر حیران چھوڑ دینا، فرمایا: «كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيٰطِيْنُ فِي الْاَرْضِ حَيْرَانَ» [الأنعام: ۷۱] ”اس شخص کی طرح جسے شیطانوں نے زمین میں بہکا دیا، اس حال میں کہ حیران ہے۔“ تکلیف یا بیماری میں مبتلا کر دینا، فرمایا: «اَنِّيْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍ» [صٓ: ۴۱] ”بے شک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔“ بھلا دینا، فرمایا: «وَ مَاۤ اَنْسٰىنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ» [الکہف: ۶۳] ”اور مجھے وہ (بات) نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان میں خون کی گردش کی طرح گردش کرتا ہے۔“ [بخاری، الاعتکاف، باب زیارۃ المرأۃ …: ۲۰۳۸] الغرض! شیطان کے انسان کو چھو کر خبطی بنا دینے سے انکار قرآن و حدیث سے انکار ہے۔ البتہ مجھے آج تک کوئی ایسی حدیث یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا کوئی واقعہ نہیں ملا جس میں ذکر ہو کہ شیطان یا جن نے کسی آدمی کے جسم میں داخل ہو کر اس کی زبان پر گفتگو کی ہو، صرف مشاہدہ اس کی ناکافی دلیل ہے، کیونکہ {” اَلْجَنُوْنُ فُنُوْنٌ “} یعنی جنون کی بہت سی شکلیں ہوتی ہیں۔ واللہ اعلم!
➍ {فَلَهٗ مَا سَلَفَ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ:} یعنی سود کی حرمت کا حکم آنے کے بعد جو سود سے باز آ جائے وہ پہلے جو سود لے چکا ہے اس کا مطالبہ اس سے نہیں کیا جائے گا، البتہ معاملہ اس کا اللہ کے سپرد ہے وہ اس کے آئندہ طرزِ عمل، ندامت، توبہ کو دیکھ کر فیصلہ فرمائے گا۔ یاد رہے یہ اس وقت کی بات ہے جب سود کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، اب سود کی حرمت کو جانتے ہوئے کوئی شخص ساری عمر سود کھا کر آخر میں چھوڑ دے تو وہ مال اس کا نہیں ہو جائے گا بلکہ اسے حتی الامکان اس کے مالکوں کو لوٹانا ہو گا اور جو نہ لوٹا سکے اس پر توبہ اور استغفار کرنا ہو گا۔
➎ { وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ:} یہ سود خوروں کے لیے سخت وعید ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے پر، سود دینے والے پر، سود لکھنے والے پر اور سودی لین دین کے گواہوں پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔“ [مسلم، المساقاۃ، باب لعن أکل الربا و موکلہ: ۱۵۹۸] بعض نے {”وَ مَنْ عَادَ“} کے یہ معنی کیے ہیں کہ حرام قرار دیے جانے کے بعد بھی اگر کوئی بیع اور سود کو برابر قرار دے گا اور سود کو حلال سمجھ کر کھائے گا تو ایسا شخص چونکہ کافر ہے، اس لیے اسے ہمیشہ کے لیے دوزخی قرار دیا ہے۔ (شوکانی)
موجودہ بینکنگ کا نظام بھی واضح سود پر مبنی ہے۔ سیونگ اکاؤنٹ اور پی ایل ایس تو واضح سود ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ میں اگرچہ سود نہیں دیا جاتا مگر بنک وہ رقم آگے سود پر چلاتا ہے، آج کل اسلامی بینکنگ کا بہت شور ہے مگر علماء نے، جن میں حنفی علماء بھی شامل ہیں، اسے سودی حیلہ پر مبنی قرار دیا ہے۔ بیمہ (انشورنس) بھی سود اور جوئے کا مرکب ہے۔ اسی طرح انعامی بانڈ بھی سود اور جوئے کا مرکب ہے۔ سود کی ایک صورت نقد اور ادھار کی قیمتوں کا فرق ہے، قسطوں کا کاروبار اسی طرح چل رہا ہے، حالانکہ یہ رقم سود ہے، مثلاً ایک شخص کہے کہ میں تمھیں ایک ہزار روپے ادھار قرض دیتا ہوں مگر میں تم سے گیارہ سو روپے لوں گا، اس کے سود ہونے میں کیا شبہ ہے۔ اسی طرح ایک چیز جس کی قیمت سب جانتے ہیں کہ ایک ہزار ہے، بیچنے والے اور لینے والے کو بھی علم ہے، پھر وہ اسے قسطوں پر گیارہ سو میں دیتا ہے، تو یہ کیوں سود نہیں؟ سود خواہ کوئی ذاتی ضرورت کے لیے لے یا تجارت کے لیے جب اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا تو ہر طرح کا سود حرام ہے۔ اگر کوئی بچنا چاہے تو اسے واضح سود کے ساتھ سود کے حیلے اور سود کے شک والے معاملات سے بھی بچنا ہو گا۔ مزید دیکھیے آل عمران (۱۳۰)۔
➋ { ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا:} یعنی ان کی یہ حالت اس لیے ہو گی کہ انھوں نے بیع، یعنی فروخت کو بھی سود جیسا قرار دیا اور سود کو اتنا حلال قرار دیا کہ بیع کی حلت کا سبب بھی سود کے ساتھ مشابہت کو قرار دیا، بقول زمخشری: ”انھوں نے بیع کو سود کے مشابہ سود کی حلت میں مبالغہ کے لیے قرار دیا۔“ ان ظالموں کے نزدیک بیع اور سودمیں کوئی فرق نہیں، کیونکہ دونوں میں نفع آتا ہے۔ آج کل کفار کی تہذیب سے متاثر نیا روشن خیال تاریک دل طبقہ بھی سود کو ایک کاروبار سمجھتا ہے، حالانکہ دونوں میں واضح کئی فرق ہیں جن میں سے بڑا اور بنیادی فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے، دونوں برابر کیسے ہو گئے؟ علاوہ ازیں ایک فرق یہ ہے کہ تجارت میں نفع بھی ہوتا ہے نقصان بھی جب کہ سودی قرض لینے والے کو نفع ہو یا نقصان سود خور نے (خواہ ایک شخص ہو یا بنک) ہر حال میں پوری رقم مع سود وصول کرنی ہے جو آئندہ بڑھتی ہی جائے گی۔ اس لیے سود ظلم اور مفت خوری کی بدترین شکل ہے۔
➌ {يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ:} شیطان کا آدمی کو نقصان پہنچانا، خصوصاً اس کے دماغ پر حملہ آور ہونا کئی آیات و احادیث سے ثابت ہے، مثلاً چوکے مارنا اور غصہ دلانا، فرمایا: «مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ» [المؤمنون: ۹۷] ”شیطانوں کی اکساہٹوں سے۔“ بہکا کر حیران چھوڑ دینا، فرمایا: «كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيٰطِيْنُ فِي الْاَرْضِ حَيْرَانَ» [الأنعام: ۷۱] ”اس شخص کی طرح جسے شیطانوں نے زمین میں بہکا دیا، اس حال میں کہ حیران ہے۔“ تکلیف یا بیماری میں مبتلا کر دینا، فرمایا: «اَنِّيْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍ» [صٓ: ۴۱] ”بے شک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔“ بھلا دینا، فرمایا: «وَ مَاۤ اَنْسٰىنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ» [الکہف: ۶۳] ”اور مجھے وہ (بات) نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان میں خون کی گردش کی طرح گردش کرتا ہے۔“ [بخاری، الاعتکاف، باب زیارۃ المرأۃ …: ۲۰۳۸] الغرض! شیطان کے انسان کو چھو کر خبطی بنا دینے سے انکار قرآن و حدیث سے انکار ہے۔ البتہ مجھے آج تک کوئی ایسی حدیث یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا کوئی واقعہ نہیں ملا جس میں ذکر ہو کہ شیطان یا جن نے کسی آدمی کے جسم میں داخل ہو کر اس کی زبان پر گفتگو کی ہو، صرف مشاہدہ اس کی ناکافی دلیل ہے، کیونکہ {” اَلْجَنُوْنُ فُنُوْنٌ “} یعنی جنون کی بہت سی شکلیں ہوتی ہیں۔ واللہ اعلم!
➍ {فَلَهٗ مَا سَلَفَ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ:} یعنی سود کی حرمت کا حکم آنے کے بعد جو سود سے باز آ جائے وہ پہلے جو سود لے چکا ہے اس کا مطالبہ اس سے نہیں کیا جائے گا، البتہ معاملہ اس کا اللہ کے سپرد ہے وہ اس کے آئندہ طرزِ عمل، ندامت، توبہ کو دیکھ کر فیصلہ فرمائے گا۔ یاد رہے یہ اس وقت کی بات ہے جب سود کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، اب سود کی حرمت کو جانتے ہوئے کوئی شخص ساری عمر سود کھا کر آخر میں چھوڑ دے تو وہ مال اس کا نہیں ہو جائے گا بلکہ اسے حتی الامکان اس کے مالکوں کو لوٹانا ہو گا اور جو نہ لوٹا سکے اس پر توبہ اور استغفار کرنا ہو گا۔
➎ { وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ:} یہ سود خوروں کے لیے سخت وعید ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے پر، سود دینے والے پر، سود لکھنے والے پر اور سودی لین دین کے گواہوں پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔“ [مسلم، المساقاۃ، باب لعن أکل الربا و موکلہ: ۱۵۹۸] بعض نے {”وَ مَنْ عَادَ“} کے یہ معنی کیے ہیں کہ حرام قرار دیے جانے کے بعد بھی اگر کوئی بیع اور سود کو برابر قرار دے گا اور سود کو حلال سمجھ کر کھائے گا تو ایسا شخص چونکہ کافر ہے، اس لیے اسے ہمیشہ کے لیے دوزخی قرار دیا ہے۔ (شوکانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
275۔ 1 رِبَوا کے لغوی معنی زیادتی اور اضافے کے ہیں اور شریعت میں اس کا اطلاق رِبَا الفَضْلِ اور ربا النسیئۃ پر ہوتا ہے۔ ربا الفضل اس سود کو کہتے ہیں جو چھ اشیا میں کمی بیشی یا نقد و ادھار کی وجہ سے ہوتا ہے (جس کی تفصیل حدیث میں ہے) مثلا گندم کا تبادلہ گندم سے کرنا ہے تو فرمایا گیا ہے کہ ایک تو برابر برابر ہو۔ دوسرے ہاتھوں ہاتھ ہو۔ اس میں کمی بیشی ہوگی تب بھی اور ہاتھوں ہاتھ ہونے کے بجائے ایک نقد اور دوسرا ادھار یا دونوں ہی ادھار ہوں تب بھی سود ہے) ربا النسیئۃ کا مطلب ہے کسی کو (مثلا) چھ مہینے کے لیے اس شرط پر سو روپے دینا کہ واپسی 125 روپے ہوگی۔ 25 روپے چھ مہینے کی مہلت کے لیے دیے جائیں۔ حضرت علی ؓ کی طرف منسوب قول میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے " کل قرض جر منفعۃ فھو ربا " (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ج 5، ص 28) (قرض پر لیا گیا نفع سود ہے)۔ یہ قرضہ ذاتی ضرورت کے لیے لیا گیا ہو یا کاروبار کے لئے دونوں قسم کے قرضوں پر سود حرام ہے۔ اور زمانہ جاہلیت میں بھی دونوں قسم کے قرضوں کا رواج تھا شریعت نے بغیر کسی قسم کی تفریق کے دونوں کو مطلقا حرام قرار دیا ہے اس لیے بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ تجارتی قرضہ جو عام طور پر بنک سے لیا جاتا ہے اس پر اضافہ سود نہیں ہے اس لیے کہ قرض لینے والا اس سے فائدہ اٹھاتا ہے جس کا کچھ حصہ وہ بنک کو یا قرض دہندہ کو لوٹا دیتا ہے تو اس میں قباحت کیا ہے؟ اس کی قباحت ان متجددین کو نظر نہیں آتی جو اس کو جائز قرار دیتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تو اس میں بڑی قباحتیں ہیں۔ مثلا قرض لے کر کاروبار کرنے والے کا منافع تو یقینی نہیں ہے بلکہ منافع تو کجا اصل رقم کی حفاظت کی بھی ضمانت نہیں ہے بعض دفعہ کاروبار میں ساری رقم ہی ڈوب جاتی ہے جب کہ اس کے برعکس قرض دہندہ (چا ہے وہ بنک ہو یا کوئی ساہوکار ہو) کا منافع متعین ہے جس کی ادائیگی ہر صورت میں لازمی ہے یہ ظلم کی ایک واضح صورت ہے جسے شریعت اسلامیہ کس طرح جائز قرار دے سکتی ہے؟ علاوہ ازیں شریعت تو اہل ایمان کو معاشرے کے ضرورت مندوں پر بغیر کسی دنیاوی غرض و منفعت کے خرچ کرنے کی ترغیب دیتی ہے جس سے معاشرے میں اخوت بھائی چارے، ہمدردی، تعاون اور شفقت و محبت کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔ اس کے برعکس سودی نظام سے سنگ دلی اور خود غرضی کو فروغ ملتا ہے۔ ایک سرمائے دار کو اپنے سرمائے کے نفع سے غرض ہوتی ہے چاہے معاشرے میں ضرورت مند، بیماری، بھوک، افلاس سے کراہ رہے ہوں یا بےروزگار اپنی زندگی سے بیزار ہوں۔ شریعت اس شقاوت و سنگدلی کو کس طرح پسند کرسکتی ہے؟ اس کے اور بہت سے نقصانات ہیں تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ بہرحال سود مطلقاً حرام ہے چاہے ذاتی ضرورت کے لیے لیے گئے قرضے کا سود ہو یا تجارتی قرضے پر۔ 275۔ 2 سود خور کی یہ کیفیت قبر سے اٹھتے وقت یا میدان محشر میں ہوگی۔ 275۔ 3 حالانکہ تجارت میں تو نقد رقم اور کسی چیز کا آپس میں تبادلہ ہوتا ہے دوسرے اس میں نفع نقصان کا امکان رہتا ہے جب کہ سود میں دونوں چیزیں نہیں ہیں علاوہ ازیں بیع کو اللہ نے حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے پھر یہ دونوں ایک کس طرح ہوسکتے ہیں۔ 275۔ 4 قبول ایمان یا توبہ کے بعد پچھلے سود پر گرفت نہیں ہوگی۔ 275۔ 5 کہ وہ توبہ پر ثابت قدم رہتا ہے یا سوء عمل اور فسادات کی وجہ سے اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ اس لئے اس کے بعد دوبارہ سود لینے والے کے لئے سزا کی دھمکی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
275۔ (ان لوگوں کے برعکس) جو لوگ سود کھاتے ہیں۔ وہ یوں کھڑے ہوں گے۔ جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر اسے مخبوط الحواس بنا دیا ہو۔ اس کی وجہ ان کا یہ قول (نظریہ) ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود ہی کی طرح ہے۔ [392] حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ [393] اب جس شخص کو اس کے پروردگار سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک گیا تو پہلے جو سود وہ کھا چکا سو کھا چکا، [394] اس کا معاملہ اللہ کے سپرد۔ مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
[392] تجارتی سود بھی حرام ہے:۔
یہ در اصل سود خور یہودیوں کا قول ہے اور آج کل بہت سے مسلمان بھی اسی نظریہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ سودی قرضے در اصل دو طرح کے ہوتے ہیں:
(1) ذاتی قرضے یا مہاجنی قرضے یعنی وہ قرضے جو کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لئے کسی مہاجن یا بنک سے لیتا ہے اور دوسرے تجارتی قرضے جو تاجر یا صنعت کار اپنی کاروباری اغراض کے لئے بنکوں سے سود پر لیتے ہیں۔ اب جو مسلمان سود کے جواز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ جس سود کو قرآن نے حرام کیا ہے وہ ذاتی یا مہاجنی قرضے ہیں جن کی شرح سود بڑی ظالمانہ ہوتی ہے اور جو تجارتی سود ہے وہ حرام نہیں۔ کیونکہ اس دور میں ایسے تجارتی سودی قرضوں کا رواج ہی نہ تھا۔ نیز ایسے قرضے چونکہ رضا مندی سے لئے دیئے جاتے ہیں اور ان کی شرح سود بھی گوارا اور مناسب ہوتی ہے اور فریقین میں سے کسی پر ظلم بھی نہیں ہوتا، لہٰذا یہ تجارتی سود اس سود سے مستثنیٰ ہے جنہیں قرآن نے حرام قرار دیا ہے۔ یہاں ہم مجوزین تجارتی سود کے تمام دلائل بیان کرنے اور ان کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ (جس کو تفصیلات درکار ہوں وہ میری تصنیف: ”تجارت اور لین دین کے مسائل و احکام“ میں سود سے متعلق دو ابواب ملاحظہ کر سکتا ہے) لہٰذا چند مختصر دلائل پر ہی اکتفا کریں گے:
1۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تجارتی سود موجود تھے اور سود کی حرمت سے پیشتر صحابہؓ میں سے حضرت عباس اور خالد بن ولیدؓ ایسے ہی تجارتی سود کا کاروبار کرتے تھے۔ اس دور میں عرب اور بالخصوص مکہ اور مدینہ میں لاکھوں کی تجارت ہوا کرتی تھی۔ علاوہ ازیں ہمسایہ ممالک میں تجارتی سود کا رواج عام تھا۔
2۔ قرآن میں ربٰو کا لفظ علی الاطلاق استعمال ہوا ہے جو ذاتی اور تجارتی دونوں قسم کے قرضوں کو حاوی ہے۔ لہٰذا تجارتی سود کو اس علی الاطلاق حرمت سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔
3۔ قرآن نے تجارتی قرضوں کے مقابل یہ آیت پیش کی ہے:
﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ [2: 275]
اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام جبکہ ذاتی قرضوں کے مقابل یوں فرمایا:
﴿ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ﴾ [2: 276]
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے سود کے خاتمہ کے لئے ذاتی قرضوں کا حل ’صدقات‘ تجویز فرمایا ہے اور تجارتی قرضوں کے لئے شراکت اور مضاربت کی راہ دکھلائی ہے جو حلال اور جائز ہے۔
4۔ جہاں تک کم یا مناسب شرح سود کا تعلق ہے تو یہ بات آج تک طے نہیں ہو سکی کہ مناسب شرح سود کیا ہے؟ کبھی تو 2 فیصد بھی نامناسب شرح سمجھی جاتی ہے۔ جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے لگ بھگ زمانے میں ریزرو بنک آف انڈیا ڈسکاؤنٹ ریٹ مقرر ہوا اور کبھی 29 فیصد شرح سود بھی مناسب اور معقول سمجھی جاتی ہے [ديكهئے: اشتهار انوسٹمنٹ بنك مشتهره نوائے وقت مورخه 1977-8-11] شرح سود کی مناسب تعیین نہ ہو سکنے کی غالباً وجہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد ہی متزلزل اور کمزور ہے۔ مناسب اور معقول شرح سود کی تعیین تو صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے جب یہ معلوم ہو سکے کہ قرض لینے والا اس سے کتنا یقینی فائدہ حاصل کرے گا اور اس میں سے قرض دینے والے کا معقول حصہ کتنا ہونا چاہئے۔ مگر ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ قرض لینے والے کو اس مقرر مدت میں کتنا فائدہ ہو گا، یا کچھ فائدہ ہو گا بھی یا نہیں۔ بلکہ الٹا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ ثانیاً ایک ہی ملک اور ایک ہی وقت میں مختلف بنکوں کی شرح سود میں انتہائی تفاوت پایا جاتا ہے اور اگر سب کچھ مناسب ہے تو پھر نامناسب کیا بات ہے؟ ثالثاً اگر شرح سود انتہائی کم بھی ہو تو بھی یہ سود کو حلال نہیں بنا سکتی۔ کیونکہ شریعت کا یہ اصول ہے کہ حرام چیز کی قلیل مقدار بھی حرام ہی ہوتی ہے۔ شراب تھوڑی بھی ایسے ہی حرام ہے جیسے زیادہ مقدار میں [ترمذي، ابواب الأشربة، باب ما سكر كثيرة فقليله حرام]
5۔
(1) ذاتی قرضے یا مہاجنی قرضے یعنی وہ قرضے جو کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لئے کسی مہاجن یا بنک سے لیتا ہے اور دوسرے تجارتی قرضے جو تاجر یا صنعت کار اپنی کاروباری اغراض کے لئے بنکوں سے سود پر لیتے ہیں۔ اب جو مسلمان سود کے جواز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ جس سود کو قرآن نے حرام کیا ہے وہ ذاتی یا مہاجنی قرضے ہیں جن کی شرح سود بڑی ظالمانہ ہوتی ہے اور جو تجارتی سود ہے وہ حرام نہیں۔ کیونکہ اس دور میں ایسے تجارتی سودی قرضوں کا رواج ہی نہ تھا۔ نیز ایسے قرضے چونکہ رضا مندی سے لئے دیئے جاتے ہیں اور ان کی شرح سود بھی گوارا اور مناسب ہوتی ہے اور فریقین میں سے کسی پر ظلم بھی نہیں ہوتا، لہٰذا یہ تجارتی سود اس سود سے مستثنیٰ ہے جنہیں قرآن نے حرام قرار دیا ہے۔ یہاں ہم مجوزین تجارتی سود کے تمام دلائل بیان کرنے اور ان کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ (جس کو تفصیلات درکار ہوں وہ میری تصنیف: ”تجارت اور لین دین کے مسائل و احکام“ میں سود سے متعلق دو ابواب ملاحظہ کر سکتا ہے) لہٰذا چند مختصر دلائل پر ہی اکتفا کریں گے:
1۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تجارتی سود موجود تھے اور سود کی حرمت سے پیشتر صحابہؓ میں سے حضرت عباس اور خالد بن ولیدؓ ایسے ہی تجارتی سود کا کاروبار کرتے تھے۔ اس دور میں عرب اور بالخصوص مکہ اور مدینہ میں لاکھوں کی تجارت ہوا کرتی تھی۔ علاوہ ازیں ہمسایہ ممالک میں تجارتی سود کا رواج عام تھا۔
2۔ قرآن میں ربٰو کا لفظ علی الاطلاق استعمال ہوا ہے جو ذاتی اور تجارتی دونوں قسم کے قرضوں کو حاوی ہے۔ لہٰذا تجارتی سود کو اس علی الاطلاق حرمت سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔
3۔ قرآن نے تجارتی قرضوں کے مقابل یہ آیت پیش کی ہے:
﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ [2: 275]
اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام جبکہ ذاتی قرضوں کے مقابل یوں فرمایا:
﴿ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ﴾ [2: 276]
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے سود کے خاتمہ کے لئے ذاتی قرضوں کا حل ’صدقات‘ تجویز فرمایا ہے اور تجارتی قرضوں کے لئے شراکت اور مضاربت کی راہ دکھلائی ہے جو حلال اور جائز ہے۔
4۔ جہاں تک کم یا مناسب شرح سود کا تعلق ہے تو یہ بات آج تک طے نہیں ہو سکی کہ مناسب شرح سود کیا ہے؟ کبھی تو 2 فیصد بھی نامناسب شرح سمجھی جاتی ہے۔ جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے لگ بھگ زمانے میں ریزرو بنک آف انڈیا ڈسکاؤنٹ ریٹ مقرر ہوا اور کبھی 29 فیصد شرح سود بھی مناسب اور معقول سمجھی جاتی ہے [ديكهئے: اشتهار انوسٹمنٹ بنك مشتهره نوائے وقت مورخه 1977-8-11] شرح سود کی مناسب تعیین نہ ہو سکنے کی غالباً وجہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد ہی متزلزل اور کمزور ہے۔ مناسب اور معقول شرح سود کی تعیین تو صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے جب یہ معلوم ہو سکے کہ قرض لینے والا اس سے کتنا یقینی فائدہ حاصل کرے گا اور اس میں سے قرض دینے والے کا معقول حصہ کتنا ہونا چاہئے۔ مگر ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ قرض لینے والے کو اس مقرر مدت میں کتنا فائدہ ہو گا، یا کچھ فائدہ ہو گا بھی یا نہیں۔ بلکہ الٹا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ ثانیاً ایک ہی ملک اور ایک ہی وقت میں مختلف بنکوں کی شرح سود میں انتہائی تفاوت پایا جاتا ہے اور اگر سب کچھ مناسب ہے تو پھر نامناسب کیا بات ہے؟ ثالثاً اگر شرح سود انتہائی کم بھی ہو تو بھی یہ سود کو حلال نہیں بنا سکتی۔ کیونکہ شریعت کا یہ اصول ہے کہ حرام چیز کی قلیل مقدار بھی حرام ہی ہوتی ہے۔ شراب تھوڑی بھی ایسے ہی حرام ہے جیسے زیادہ مقدار میں [ترمذي، ابواب الأشربة، باب ما سكر كثيرة فقليله حرام]
5۔
باہمی رضا مندی کی شرط صرف جائز معاملات میں ہے:۔
جہاں تک باہمی رضا مندی کا تعلق ہے تو یہ شرط صرف حلال معاملات میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حلال اور جائز معاملات میں بھی اگر فریقین میں سے کوئی ایک راضی نہ ہو تو وہ معاملہ حرام اور نا جائز ہو گا۔ جیسے تجارت میں مال بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کی رضا مندی ضروری ہے ورنہ بیع فاسد اور نا جائز ہو گی۔ اسی طرح نکاح میں بھی فریقین کی رضا مندی ضروری ہے۔ لیکن یہ رضا مندی حرام کاموں کو حلال نہیں بنا سکتی۔ اگر ایک مرد اور ایک عورت باہمی رضا مندی سے زنا کریں تو وہ جائز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی باہمی رضا مندی سے جوا جائز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سود بھی باہمی رضا مندی سے حلال اور جائز نہیں بن سکتا۔ علاوہ ازیں سود لینے والا کبھی سود دینے پر رضا مند نہیں ہوتا۔ خواہ شرح سود کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔ بلکہ یہ اس کی مجبوری ہوتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اسے کہیں سے قرض حسنہ مل جائے تو وہ کبھی سود پر رقم لینے کو تیار نہ تھا۔
6۔ رہی یہ بات کہ تجارتی سود میں کسی فریق پر ظلم نہیں ہوتا۔ گویا یہ حضرات سود کی حرمت کی علت یا بنیادی سبب ظلم قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ تصور ہی غلط ہے۔ آیت کے سیاق و سباق سے واضح ہے کہ یہ الفاظ سودی معاملات اور معاہدات کو ختم کرنے کی ایک احسن صورت پیش کرتے ہیں یعنی نہ تو مقروض قرض خواہ کی اصل رقم بھی دبا کر اس پر ظلم کرے اور نہ قرض خواہ مقروض پر اصل کے علاوہ سود کا بوجھ بھی لاد دے۔ ان الفاظ کا اطلاق ہمارے ہاں اس وقت ہو گا جب ہم اپنے معاشرہ کو سود سے کلیتاً پاک کرنا چاہیں گے، یا نجی طور پر قرضہ کے فریقین سود کی لعنت سے اپنے آپ کو بچانے پر آمادہ ہوں گے۔ سود کی حرمت کا بنیادی سبب ظلم نہیں بلکہ بیٹھے بٹھائے اپنے مال میں اضافہ کی وہ ہوس ہے جس سے ایک سرمایہ دار اپنی فاضل دولت میں طے شدہ منافع کی ضمانت سے یقینی اضافہ چاہتا ہے اور جس سے زر پرستی، سنگ دلی اور بخل جیسے اخلاق رذیلہ جنم لیتے ہیں۔
[393] اب ایک مسلمان کا کام تو یہی ہونا چاہئے کہ جب اللہ نے سود کو حرام کر دیا تو اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ خواہ اسے سود اور تجارت کا فرق اور ان کی حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے تاہم جو لوگ یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے۔ اللہ نے انہیں انتہائی بدھو اور مخبوط الحواس قرار دیا ہے۔ جنہیں کسی جن نے آسیب زدہ بنا دیا ہو اور وہ اپنی خود غرضی اور زر پرستی کی ہوس میں خبطی ہو گئے ہوں کہ انہیں تجارت اور سود کا فرق نظر ہی نہیں آ رہا، چونکہ وہ اس زندگی میں باؤلے ہو رہے ہیں۔ لہٰذا وہ قیامت کے دن بھی اسی حالت میں اپنی قبروں سے اٹھیں گے۔ اب ہم ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لئے سود اور تجارت کا فرق بتلاتے ہیں:
1۔
6۔ رہی یہ بات کہ تجارتی سود میں کسی فریق پر ظلم نہیں ہوتا۔ گویا یہ حضرات سود کی حرمت کی علت یا بنیادی سبب ظلم قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ تصور ہی غلط ہے۔ آیت کے سیاق و سباق سے واضح ہے کہ یہ الفاظ سودی معاملات اور معاہدات کو ختم کرنے کی ایک احسن صورت پیش کرتے ہیں یعنی نہ تو مقروض قرض خواہ کی اصل رقم بھی دبا کر اس پر ظلم کرے اور نہ قرض خواہ مقروض پر اصل کے علاوہ سود کا بوجھ بھی لاد دے۔ ان الفاظ کا اطلاق ہمارے ہاں اس وقت ہو گا جب ہم اپنے معاشرہ کو سود سے کلیتاً پاک کرنا چاہیں گے، یا نجی طور پر قرضہ کے فریقین سود کی لعنت سے اپنے آپ کو بچانے پر آمادہ ہوں گے۔ سود کی حرمت کا بنیادی سبب ظلم نہیں بلکہ بیٹھے بٹھائے اپنے مال میں اضافہ کی وہ ہوس ہے جس سے ایک سرمایہ دار اپنی فاضل دولت میں طے شدہ منافع کی ضمانت سے یقینی اضافہ چاہتا ہے اور جس سے زر پرستی، سنگ دلی اور بخل جیسے اخلاق رذیلہ جنم لیتے ہیں۔
[393] اب ایک مسلمان کا کام تو یہی ہونا چاہئے کہ جب اللہ نے سود کو حرام کر دیا تو اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ خواہ اسے سود اور تجارت کا فرق اور ان کی حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے تاہم جو لوگ یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے۔ اللہ نے انہیں انتہائی بدھو اور مخبوط الحواس قرار دیا ہے۔ جنہیں کسی جن نے آسیب زدہ بنا دیا ہو اور وہ اپنی خود غرضی اور زر پرستی کی ہوس میں خبطی ہو گئے ہوں کہ انہیں تجارت اور سود کا فرق نظر ہی نہیں آ رہا، چونکہ وہ اس زندگی میں باؤلے ہو رہے ہیں۔ لہٰذا وہ قیامت کے دن بھی اسی حالت میں اپنی قبروں سے اٹھیں گے۔ اب ہم ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لئے سود اور تجارت کا فرق بتلاتے ہیں:
1۔
سود اور تجارت کافرق:۔
سود ایک طے شدہ شرح کے مطابق یقینی منافع ہوتا ہے۔ جبکہ تجارت میں منافع کے ساتھ نقصان کا احتمال بھی موجود ہوتا ہے۔ خواہ کوئی شخص اپنے ذاتی سرمایہ سے تجارت کرے یا یہ مضاربت یا شراکت کی شکل ہو۔
2۔
2۔
سود سے قومی معیشت کی تباہی:۔
مضاربت کی شکل میں فریقین کو ایک دوسرے سے ہمدردی، مروت اور مل جل کر کاروبار چلانے کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کا مفاد مشترک ہوتا ہے اور اس کا قومی پیداوار پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ جبکہ تجارتی سود کی صورت میں سود خوار کو محض اپنے مفاد سے غرض ہوتی ہے۔ بعض دفعہ وہ ایسے نازک وقت میں سرمایہ کی واپسی کا تقاضا کرتا اور مزید فراہمی سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے جبکہ کاروبار کو سرمایہ کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح سود خوار تو اپنا سرمایہ بمعہ سود نکال دیتا ہے مگر مقروض کو سخت نقصان پہنچتا ہے اور قومی معیشت بھی سخت متاثر ہوتی ہے۔
3۔ مضاربت اور سود میں تیسرا فرق یہ ہے کہ مضاربت سے اخلاق حسنہ پرورش پاتے ہیں۔ جس سے معاشرہ میں اخوت اور خیر و برکت پیدا ہوتی ہے اور طبقاتی تقسیم مٹتی ہے۔ جبکہ سود سے اخلاق رذیلہ مثلاً خود غرضی، مفاد پرستی، بخل اور سنگدلی پیدا ہوتے ہیں۔ سود کی حرمت کی علت یہی اخلاق رذیلہ اور ہوس زر پرستی ہے۔ سودی نظام معیشت نے صرف ایک ہی شائی لاک (ایک سنگ دل یہودی کا مثالی کردار جس نے بروقت ادائیگی نہ ہونے کی بنا پر اپنے مقروض کی ران سے بے دریغ گوشت کا ٹکڑا کاٹ لیا تھا) پیدا نہیں کیا بلکہ ہر دور میں ہزاروں شائی لاک پیدا ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔
[394] اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو سود کھا چکا وہ معاف ہے بلکہ یوں فرمایا کہ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو بخش دے، چاہے تو سزا دے۔ لہٰذا محتاط صورت یہی ہے کہ وہ سود کی حرام کمائی خود استعمال نہ کرے بلکہ جس سے سود لیا تھا اسے ہی واپس کر دے تو یہ سب سے بہتر بات ہے ورنہ محتاجوں کو دے دے یا رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کر دے۔ اس طرح وہ سود کے گناہ سے تو شاید بچ جائے مگر ثواب نہیں ہو گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام مال کا صدقہ قبول نہیں کرتا۔
3۔ مضاربت اور سود میں تیسرا فرق یہ ہے کہ مضاربت سے اخلاق حسنہ پرورش پاتے ہیں۔ جس سے معاشرہ میں اخوت اور خیر و برکت پیدا ہوتی ہے اور طبقاتی تقسیم مٹتی ہے۔ جبکہ سود سے اخلاق رذیلہ مثلاً خود غرضی، مفاد پرستی، بخل اور سنگدلی پیدا ہوتے ہیں۔ سود کی حرمت کی علت یہی اخلاق رذیلہ اور ہوس زر پرستی ہے۔ سودی نظام معیشت نے صرف ایک ہی شائی لاک (ایک سنگ دل یہودی کا مثالی کردار جس نے بروقت ادائیگی نہ ہونے کی بنا پر اپنے مقروض کی ران سے بے دریغ گوشت کا ٹکڑا کاٹ لیا تھا) پیدا نہیں کیا بلکہ ہر دور میں ہزاروں شائی لاک پیدا ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔
[394] اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو سود کھا چکا وہ معاف ہے بلکہ یوں فرمایا کہ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو بخش دے، چاہے تو سزا دے۔ لہٰذا محتاط صورت یہی ہے کہ وہ سود کی حرام کمائی خود استعمال نہ کرے بلکہ جس سے سود لیا تھا اسے ہی واپس کر دے تو یہ سب سے بہتر بات ہے ورنہ محتاجوں کو دے دے یا رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کر دے۔ اس طرح وہ سود کے گناہ سے تو شاید بچ جائے مگر ثواب نہیں ہو گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام مال کا صدقہ قبول نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تجارت اور سود کو ہم معنی کہنے والے کج بحث لوگ ٭٭
چونکہ پہلے ان لوگوں کا ذِکر ہوا ہے جو نیک کام صدقہ خیرات کرنے والے زکوٰتیں دینے والے حاجت مندوں اور رشتہ داروں کی مدد کرنے والے غرض ہر حال میں اور ہر وقت دوسروں کے کام آنے والے تھے تو ان کا بیان ہو رہا ہے جو کسی کو دینا تو ایک طرف رہا دوسروں سے چھیننے ظلم کرنے اور ناحق اپنے پرایوں کا مال ہضم کرنے والے ہیں، تو فرمایا کہ یہ سودخور لوگ اپنی قبروں سے دیوانوں اور پاگلوں خبطیوں اور بیہوشوں کی طرح اُٹھیں گے، پاگل ہوں گے، کھڑے بھی نہ ہو سکتے ہوں گے، ایک قرأت میں «مِنَ الۡمَسِّ» کے بعد «یَوْمَا الْقِیاَمَةَ» کا لفظ بھی ہے، ان سے کہا جائے گا کہ لو اب ہتھیار تھام لو اور اپنے رب سے لڑنے کیلئے آمادہ ہو جاؤ
شب معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے پیٹ بڑے بڑے گھروں کی مانند تھے، پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ بتایا گیا سود اور بیاج لینے والے ہیں، اور روایت میں ہے کہ ان کے پیٹوں میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو ڈستے رہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه:2273، قال الشيخ الألباني:ضعیف جداً] اور ایک مطول حدیث میں ہے کہ ہم جب ایک سرخ رنگ نہر پر پہنچے جس کا پانی مثل خون کے سرخ تھا تو میں نے دیکھا اسں میں کچھ لوگ بمشکل تمام کنارے پر آتے ہیں تو ایک فرشتہ بہت سے پتھر لیے بیٹھا ہے، وہ ان کا منہ پھاڑ کر ایک پتھر ان کے منہ میں اتار دیتا ہے، وہ پھر بھاگتے ہیں پھر یہی ہوتا ہے، پوچھا تو معلوم ہوا یہ سو خوروں کا گروہ ہے، [صحیح بخاری:7047:صحیح]
ان پر یہ وبال اس باعث ہے کہ یہ کہتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی ہے ان کا یہ اعتراض شریعت اور احکام الٰہی پر تھا وہ سود کو تجارت کی طرح حلال جانتے تھے، جبکہ بیع پر سود کا قیاس کرنا ہی غلط ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مشرکین تو تجارت کا شرعاً جائز ہونے کے قائل نہیں ورنہ یوں کہتے کہ سود مثل بیع ہے، ان کا کہنا یہ تھا کہ تجارت اور سود دونوں ایک جیسی چیزیں ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک کو حلال کہا جائے اور دوسری کو حرام؟
ان پر یہ وبال اس باعث ہے کہ یہ کہتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی ہے ان کا یہ اعتراض شریعت اور احکام الٰہی پر تھا وہ سود کو تجارت کی طرح حلال جانتے تھے، جبکہ بیع پر سود کا قیاس کرنا ہی غلط ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مشرکین تو تجارت کا شرعاً جائز ہونے کے قائل نہیں ورنہ یوں کہتے کہ سود مثل بیع ہے، ان کا کہنا یہ تھا کہ تجارت اور سود دونوں ایک جیسی چیزیں ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک کو حلال کہا جائے اور دوسری کو حرام؟
پھر انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ حلت و حرمت اللہ کے حکم کی بنا پر ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ بھی کافروں کا قول ہی ہو، تو بھی انتہائی اچھے انداز سے جواباً کہا گیا اس میں مصلحت الٰہیہ کہ ایک کو اللہ نے حرام ٹھہرایا اور دوسرے کو حلال پھر اعتراض کیسا؟ علیم و حکیم اللہ کے حکموں پر اعتراض کرنے والے تم کون؟ کس کی ہستی ہے؟ اس سے بازپرس کرنے کی، تمام کاموں کی حقیقت کو ماننے والا تو وہی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ میرے بندوں کا حقیقی نفع کس چیز میں اور فی الواقع نقصان کس چیز میں ہے، تو نفع والی چیزیں حلال کرتا ہے اور نقصان پہنچانے والی چیزیں حرام کرتا ہے، کوئی ماں اپنے دودھ پیتے بچے پر اتنی مہربان نہ ہو گی جتنا اللہ اپنے بندوں پر ہے، وہ روکتا ہے تو بھی مصلحت سے اور حکم دیتا ہے تو بھی مصلحت سے، اپنے رب کی نصیحت سن کر جو باز آ جائے اس کے پہلے کئے ہوئے تمام گناہ معاف ہیں،
جیسا فرمایا «عفا اللہ عما سلف» اور جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا تھا جاہلیت کے تمام سُود آج میرے ان قدموں تلے دفن کر دئیے گئے ہیں، چنانچہ سب سے پہلا سود جس سے میں دست بردار ہوتا ہوں وہ عباس رضی اللہ عنہما کا سود ہے، [سنن ابوداود:3334، قال الشيخ الألباني:صحیح] پس جاہلیت میں جو سود لے چکے تھے ان کو لوٹانے کا حکم نہیں ہوا۔
جیسا فرمایا «عفا اللہ عما سلف» اور جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا تھا جاہلیت کے تمام سُود آج میرے ان قدموں تلے دفن کر دئیے گئے ہیں، چنانچہ سب سے پہلا سود جس سے میں دست بردار ہوتا ہوں وہ عباس رضی اللہ عنہما کا سود ہے، [سنن ابوداود:3334، قال الشيخ الألباني:صحیح] پس جاہلیت میں جو سود لے چکے تھے ان کو لوٹانے کا حکم نہیں ہوا۔
، ایک روایت میں ہے کہ ام محبہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہا کہ میں نے ایک غلام زید رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں آٹھ سو کا اس شرط پر بیچا کہ جب ان کے پاس رقم آئے تو وہ ادا کر دیں، اس کے بعد انہیں نقدی کی ضرورت پڑی تو وقت سے پہلے ہی وہ اسے فروخت کرنے کو تیار ہو گئے، میں نے چھ سو کا خرید لیا، ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تو نے بھی اور اس نے بھی بالکل خلاف شرع کیا، بہت برا کیا، جاؤ زید رضی اللہ عنہ سے کہہ دو اگر وہ توبہ نہ کرے گا تو اس کا جہاد بھی غارت جائے گا جو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہے، میں نے کہا اگر وہ دو سو جو مجھے اس سے لینے ہیں چھوڑ دوں اور صرف چھ سو وصول کر لوں تاکہ مجھے میری پوری رقم آٹھ سو کی مل جائے، آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں، پھر آپ نے «فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ» [البقرہ: 275] والی آیت پڑھ کر سنائی [دار قطنی:52/3] یہ اثر بھی مشہور ہے اور ان لوگوں کی دلیل ہے جو عینہ کے مسئلے کو حرام بتاتے ہیں اس کی تفصیل کتاب الاحکام میں ہے اور احادیث بھی ہیں، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
پھر فرمایا کہ حرمت کا مسئلہ کانوں میں پڑنے کے بعد بھی سود لے تو وہ سزا کا مستحق ہے ہمیشہ کیلئے جہنمی ہے، جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا جو مخابرہ کو اب بھی نہ چھوڑے وہ اللہ کے رسول سے لڑنے کیلئے تیار ہو جائے۔ [سنن ابوداود:3406، قال الشيخ الألباني:ضعیف] «مخابرہ» اسے کہتے ہیں کہ ایک شخص دوسروں کی زمین میں کھیتی بوئے اور اس سے یہ طے ہو کہ زمین کے اس محدود ٹکڑے سے جتنا اناج نکلے وہ میرا باقی تیرا اور“ مزابنہ“ اسے کہتے ہیں کہ درخت میں جو کھجوریں ہیں وہ میری ہیں اور میں اس کے بدلے اپنے پاس سے تجھے اتنی اتنی کھجوریں تیار دیتا ہوں، اور «محاقلہ» اسے کہتے ہیں کہ کھیت میں جو اناج خوشوں میں ہے اسے اپنے پاس سے کچھ اناج دے کر خریدنا، ان تمام صورتوں کو شریعت نے حرام قرار دیا تاکہ سود کی جڑیں کٹ جائیں، اس لیے کہ ان صورتوں میں صحیح طور پر کیفیت تبادلہ کا اندازہ نہیں ہوسکتا، پس بعض علماء نے اس کی کچھ علت نکالی، بعض نے کچھ، ایک جماعت نے اسی قیاس پر ایسے تمام کاروبار کو منع کیا، دوسری جماعت نے برعکس کیا، لیکن دوسری علت کی بنا پر۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ ذرا مشکل ہے۔ یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں افسوس کہ تین مسئلے پوری طرح میری سمجھ میں نہیں آئے دادا کی میراث کا کلالہ اور سود کی صورتوں کا۔ [صحیح بخاری:5588:صحیح] یعنی بعض کاروبار کی ایسی صورتیں جن پر سود کا شبہ ہوتا ہے، اور وہ ذرائع جو سود کی مماثلت تک لے جاتے ہوں جب یہ حرام ہیں تو وہ بھی حرام ہی ٹھہریں گے، جیسا کہ وہ چیز واجب ہو جاتی ہے جس کے بغیر کوئی واجب پورا نہ ہوتا ہو،
بخاوی و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جس طرح حلال ظاہر ہے، اسی طرح حرام بھی ظاہر ہے لیکن کچھ کام درمیانی شبہ والے بھی ہیں، ان شبہات والے کاموں سے بچنے والے نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا اور جو ان مشتبہ چیزوں میں پڑا وہ حرام میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ اس چرواہے کی طرح جو کسی کی چراگاہ کے آس پاس اپنے جانور چراتا ہو، تو ممکن ہے کوئی جانور اس چراگاہ میں بھی منہ مار لے، [صحیح بخاری:52:صحیح] سنن میں حدیث ہے کہ جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اسے لے لو جو شک شبہ سے پاک ہے، [سنن ترمذي:2518، قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری حدیث میں ہے گناہ وہ ہے جو دِل میں کھٹکے طبیعت میں تردد ہو اور اس کے بارے میں لوگوں کا واقف ہونا اسے برا لگتا ہو، [صحیح مسلم:2553:صحیح] ایک اور روایت میں ہے اپنے دِل سے فتویٰ پوچھ لو لوگ چاہے کچھ بھی فتویٰ دیتے ہوں، [مسند احمد:227/4:حسن] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سود کی حرمت سب سے آخر میں نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4544] سیدنا عمر رضی اللہ عنہما یہ فرما کر کہتے ہیں افسوس کہ اس کی پوری تفسیر بھی مجھ تک نہ پہنچ سکی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ لوگو سود کو بھی چھوڑو اور ہر اس چیز کو بھی جس میں سود کا بھی شائبہ ہو۔ [مسند احمد:36/1:صحیح]
بخاوی و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جس طرح حلال ظاہر ہے، اسی طرح حرام بھی ظاہر ہے لیکن کچھ کام درمیانی شبہ والے بھی ہیں، ان شبہات والے کاموں سے بچنے والے نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا اور جو ان مشتبہ چیزوں میں پڑا وہ حرام میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ اس چرواہے کی طرح جو کسی کی چراگاہ کے آس پاس اپنے جانور چراتا ہو، تو ممکن ہے کوئی جانور اس چراگاہ میں بھی منہ مار لے، [صحیح بخاری:52:صحیح] سنن میں حدیث ہے کہ جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اسے لے لو جو شک شبہ سے پاک ہے، [سنن ترمذي:2518، قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری حدیث میں ہے گناہ وہ ہے جو دِل میں کھٹکے طبیعت میں تردد ہو اور اس کے بارے میں لوگوں کا واقف ہونا اسے برا لگتا ہو، [صحیح مسلم:2553:صحیح] ایک اور روایت میں ہے اپنے دِل سے فتویٰ پوچھ لو لوگ چاہے کچھ بھی فتویٰ دیتے ہوں، [مسند احمد:227/4:حسن] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سود کی حرمت سب سے آخر میں نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4544] سیدنا عمر رضی اللہ عنہما یہ فرما کر کہتے ہیں افسوس کہ اس کی پوری تفسیر بھی مجھ تک نہ پہنچ سکی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ لوگو سود کو بھی چھوڑو اور ہر اس چیز کو بھی جس میں سود کا بھی شائبہ ہو۔ [مسند احمد:36/1:صحیح]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے ایک خطبہ میں فرمایا شاید میں تمہیں بعض ان چیزوں سے روک دوں جو تمہارے لیے نفع والی ہوں اور ممکن ہے میں تمہیں کچھ ایسے احکام بھی دوں جو تمہاری مصلحت کیخلاف ہوں، سنو! قرآن میں سب سے آخر سود کی حرمت کی آیت اتری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا اور افسوس کہ اسے کھول کر ہمارے سامنے بیان نہ فرمایا پس تم ہر اس چیز کو چھوڑو جو تمہیں شک میں ڈالتی ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6306] ایک حدیث میں ہے کہ سود کے تہتر گناہ ہیں جن میں سب سے ہلکا گناہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے بدکاری کرے، [سنن ابن ماجه:2274، قال الشيخ الألباني:صحیح] سب سے بڑا سود مسلمان کی ہتک عزت کرنا ہے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5519] فرماتے ہیں ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ لوگ سود کھائیں گے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کیا سب کے سب؟ فرمایا جو نہ کھائے گا اسے بھی غبار تو پہنچے گا ہی، [سنن ابوداود:3331، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پس غبار سے بچنے کیلئے ان اسباب کے پاس بھی نہ پھٹکنا چاہیئے جو ان حرام کاموں کی طرف پہنچانے والے ہوں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیت حرمت سود میں نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں آ کر اس کی تلاوت کی اور سودی کاروبار اور سودی تجارت کو حرام قرار دیا، [صحیح بخاری:2084:صحیح] بعض ائمہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح شراب اور اس طرح کی تمام خرید و فروخت وغیرہ وہ وسائل [ذرائع] ہیں جو اس تک پہنچانے والے ہیں سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کئے ہیں، صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت اس لیے کی کہ جب ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے حیلہ سازی کر کے چربی کو پگھلا کر بیچا،[صحیح بخاری:2223:صحیح] اور اس کی قیمت کھائی غرض دھوکہ بازی اور حیلہ سازی کرکے حرام کو حلال بنانے کی کوشش کی چنانچہ یہ کوشش کرنا بھی حرام ہے اور موجب لعنت ہے،
اسی طرح پہلے وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو شخص دوسرے کی تین طلاق والی عورت سے اس لیے نکاح کرے کہ پہلے خاوند کیلئے حلال ہو جائے اس پر اور اس خاوند پر اللہ کی پھٹکار اور اس کی لعنت ہے، آیت «حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» [البقرہ: 230] کی تفسیر میں دیکھ لیجئے، حدیث شریف میں ہے سود کھانے والے پر کھلانے والے پر شہادت دینے والوں پر گواہ بننے والوں پر لکھنے والے پر سب پر اللہ کی لعنت ہے، [صحیح مسلم:1598:صحیح] ظاہر ہے کاتب و شاہد کو کیا ضرورت پڑی ہے جو وہ خواہ مخواہ اللہ کی لعنت اپنے اوپر لے، اسی طرح بظاہر عقد شرعی کی صورت کا اظہار اور نیت میں فساد رکھنے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہے۔ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں بلکہ تمہارے دِلوں اور نیتوں کو دیکھتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2564:صحیح] علامہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان حیلوں حوالوں کے رَد میں ایک مستقل کتاب [”ابطال التحلیل“] لکھی ہے جو اس موضوع میں بہترین کتاب ہے اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ان سے خوش ہو۔ [آمین]
اسی طرح پہلے وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو شخص دوسرے کی تین طلاق والی عورت سے اس لیے نکاح کرے کہ پہلے خاوند کیلئے حلال ہو جائے اس پر اور اس خاوند پر اللہ کی پھٹکار اور اس کی لعنت ہے، آیت «حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» [البقرہ: 230] کی تفسیر میں دیکھ لیجئے، حدیث شریف میں ہے سود کھانے والے پر کھلانے والے پر شہادت دینے والوں پر گواہ بننے والوں پر لکھنے والے پر سب پر اللہ کی لعنت ہے، [صحیح مسلم:1598:صحیح] ظاہر ہے کاتب و شاہد کو کیا ضرورت پڑی ہے جو وہ خواہ مخواہ اللہ کی لعنت اپنے اوپر لے، اسی طرح بظاہر عقد شرعی کی صورت کا اظہار اور نیت میں فساد رکھنے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہے۔ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں بلکہ تمہارے دِلوں اور نیتوں کو دیکھتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2564:صحیح] علامہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان حیلوں حوالوں کے رَد میں ایک مستقل کتاب [”ابطال التحلیل“] لکھی ہے جو اس موضوع میں بہترین کتاب ہے اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ان سے خوش ہو۔ [آمین]