تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ …:} یعنی اللہ تعالیٰ ہر حال میں تمھاری نیت اور عمل سے واقف ہے۔ اس میں ایک طرف مخلصین کے لیے وعدہ ہے اور دوسری طرف ریا کار اور غیر اللہ کی نذریں ماننے والوں کے لیے وعید بھی ہے کہ ایسے لوگ ظالم ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کسی صورت رہائی نہیں ہو سکے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلنے لگی، اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا کر کے انہیں گاڑ دیا جس سے زمین کا ہلنا موقوف ہو گیا، فرشتوں کو پہاڑوں کی ایسی سنگین پیدائش پر تعجب ہوا انہوں نے دریافت کیا کہ باری تعالیٰ کیا تیری مخلوق میں پہاڑ سے زیادہ سخت چیز بھی کوئی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں لوہا، پوچھا اس سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ فرمایا ہاں آگ، پوچھا اس سے زیادہ سخت چیز کوئی اور بھی ہے؟ فرمایا ہاں پانی، پوچھا کیا اس سے بھی زیادہ سختی والی کوئی چیز ہے؟ فرمایا ہاں ہوا، دریافت کیا اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا ابن آدم جو صدقہ کرتا ہے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر نہیں ہوتی، [سنن ترمذي:3369، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
آیت الکرسی کی تفسیر میں وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو پوشیدگی سے کسی حاجت مند کو دے دیا جائے۔ باوجود مال کی قلت کے، پھر بھی اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [مسند احمد:178/5:ضعیف]
پھر فرمایا صدقے کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں اور برائیوں کو دور کر دے گا بالخصوص اس وقت جبکہ وہ چھپا کر دیا جائے، تمہیں بہت سی بھلائی ملے گی، درجات بڑھیں گے، گناہوں کا کفارہ ہو گا «یُکَفِّرُ» کو «یُکَفَّرْ» بھی پڑھا گیا ہے اس میں صورتاً یہ جواب شرط کے محل پر عطف ہو گا جو «فَنِعِمَّا هِيَ» ہے، جیسے «فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ» [63-المنافقون: 10] میں «وَأَكُن» اللہ تعالیٰ پر تمہاری کوئی نیکی بدی سخاوت بخیلی پوشیدگی اور اظہار نیک نیتی اور دنیا طلبی پوشیدہ نہیں وہ پورا پورا بدلہ دے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنه مهما أنفق المنفقون أو تصدق المتصدقون أو نذر الناذرون فإن الله يعلم ذلك. ومضمون الإخبار بعلمه يدل على الجزاء وأن الله لا يضيع عنده مثقالُ ذرة، ويعلم ما صدرت عنه من نيات صالحة أو سيئة، وأن الظالمين الذين يمنعون ما أوجب الله عليهم، أو يقتحمون ما حرم عليهم، ليس لهم من دونه أنصار ينصرونهم ويمنعونهم. وأنه لا بد أن تقع بهم العقوبات، وأخبر أن الصدقة إن أبداها المتصدق فهي خير، وإن أخفاها وسلمها للفقير كان أفضل، لأن الإخفاء على الفقير إحسان آخر، وأيضاً فإنه يدل على قوة الإخلاص. وأحد السبعة الذين يظلهم الله في ظله من تصدق بصدقة فأخفاها حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه، وفي قوله: {وإن تخفوها وتؤتوها الفقراء فهو خير لكم}؛ فائدة لطيفة، وهو أن إخفاءها خير من إظهارها إذا أعطيت الفقير.
فأما إذا صرفت في مشروع خيري لم يكن في الآية ما يدل على فضيلة إخفائها، بل هنا قواعد الشرع تدل على مراعاة المصلحة، فربما كان الإظهار خيراً لحصول الأسوة والاقتداء وتنشيط النفوس على أعمال الخير.
وقوله: {ويكفر عنكم من سيئاتكم}؛ في هذا أن الصدقات يجتمع فيها الأمران: حصول الخير وهو كثرة الحسنات والثواب والأجر، ودفع الشرِّ والبلاء الدنيوي والأخروي بتكفير السيئات {والله بما تعملون خبير}؛ فيجازي كلا بعمله بحسب حكمته.