ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 269

یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ؕ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۲۶۹﴾
دانائی عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے دانائی عطا کی جائے تو بلاشبہ اسے بہت زیادہ بھلائی دے دی گئی اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ En
وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے۔ اور جس کو دانائی ملی بےشک اس کو بڑی نعمت ملی۔ اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں
En
وه جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وه بہت ساری بھلائی دیا گیا اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 269) ➊ { يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ:} یہاں { الْحِكْمَةَ } سے مراد دین کا صحیح فہم اور علم وفقہ میں صحیح بصیرت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک دو خوبیوں کے سوا کسی پر جائز نہیں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا، پھر اسے (راہ) حق میں خرچ کرنے کی مکمل قدرت (توفیق) دی اور ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا فرمائی، تو وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔ [بخاری، العلم، باب الاغتباط فی …: ۷۳، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ]
➋ { اُولُوا الْاَلْبَابِ: اَلْبَابٌ} جمع ہے { لُبٌّ } کی، جس کے معنی صاف ستھری اور پاکیزہ عقل کے ہیں، ہر عقل کو { لُبٌّ } نہیں کہتے۔ (راغب) { اُولُوا الْاَلْبَابِ } کا ترجمہ جمع ہونے کی وجہ سے جو عقلوں والے ہیں کیا گیا ہے، جبکہ عام تراجم میں عقل والے ترجمہ کیا گیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

269۔ 1 حکمۃ سے بعض کے نزدیک عقل وفہم، علم اور بعض کے نزدیک اصابت رائے، قرآن کے ناسخ و منسوخ کا علم وفہم، قوت فیصلہ اور بعض کے نزدیک صرف سنت یا کتاب وسنت کا علم وفہم ہے یا سارے ہی مفہوم اس کے مصداق میں شامل ہوسکتے ہیں صحیحین وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ دو شخصوں پر رشک کرنا جائز ہے ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا ہے دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی جس سے وہ فیصلہ کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے " (صحیح بخاری، کتاب العلم، باب الاغتباط فی العلم والحکمۃ۔ مسلم کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ۔۔)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

269۔ وہ جسے چاہتا ہے حکمت عطا [385] کرتا ہے اور جسے حکمت سے نواز دیا گیا تو اسے بہت بڑی خیر سے نواز دیا گیا۔ اور ان باتوں سے صرف عقلمند لوگ ہی سبق حاصل کرتے ہیں
[385] حکمت کیا چیز ہے؟
حکمت کی کئی تعریفیں کی جا سکتی ہیں اور وہ اپنے اپنے مقام پر سب ہی درست ہیں۔ مثلاً ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے «رَاسُ الْحِكْمَة مَخَافَةُ اللّٰهِ» یعنی سب سے بڑی حکمت تو اللہ کا خوف (تقویٰ) ہے کیونکہ تقویٰ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو بچتے بچاتے سیدھی راہ پر گامزن رکھنے والی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف الرسالہ میں بے شمار دلائل سے ثابت کیا ہے کہ جہاں بھی قرآن کریم میں کتاب و حکمت کے الفاظ اکٹھے آئے ہیں تو وہاں حکمت سے مراد سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور حکمت کا لغوی مفہوم کسی کام کو ٹھیک طور پر سر انجام دینے کا طریق کار ہے۔ یعنی کسی حکم کی تعمیل میں صحیح بصیرت اور درست قوت فیصلہ ہے۔ اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جس کے پاس حکمت کی دولت ہو گی وہ کبھی شیطانی راہ اختیار نہیں کرے گا اور شیطانی راہ یہ ہے کہ انسان اپنی دولت سنبھال سنبھال کر رکھے۔ اس میں سے کچھ خرچ نہ کرے بلکہ مزید دولت بڑھانے کی فکر میں لگا رہے۔ اس طرح شاید وہ دنیا میں تو خوشحال رہ سکے مگر آخرت بالکل برباد ہو گی۔ لہٰذا اصل دانشمندی یہ ہے کہ انسان جہاں تک ممکن ہو خرچ کرے۔ اس دنیا میں اللہ اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا اور آخرت میں بھی بہت بڑا اجر و ثواب عطا فرمائے گا اور یہی سب سے بڑی دولت اور حکمت ہے۔ ایک دن حضرت معاویہؓ نے خطبہ کے دوران فرمایا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتے ہیں۔ [بخاري، كتاب العلم، باب مَنْ يُرِدِ اللّٰهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِيْ الدِّيْنِ] ”اور میں بانٹنے والا ہوں اور دینے والا اللہ ہے اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی مخالف اسے نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ تا آنکہ اللہ کا حکم (قیامت) آئے۔“ [مسلم، كتاب الاماره، باب قوله صلی اللہ علیہ وسلم لايزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق لايضرهم من خالفهم] اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین کی سمجھ آ جانا ہی حکمت اور سب سے بڑی دولت ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ اللہ تعالیٰ نے بہت عظیم احکامات نازل فرمائے ہیں جن میں بہت سے اسرار اور بہت سی حکمتیں ہیں۔ اور ان پر عمل کی توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی بلکہ صرف اسی کو ملتی ہے جس پر اللہ کا خاص احسان ہو اور اسے اللہ حکمت عطا فرما دے۔ حکمت سے مراد علم نافع، عمل صالح، اور شریعت کے اسرار اور حکمتوں سے واقفیت ہے۔ جسے اللہ ایسی حکمت دے دے اسے اللہ نے بہت بھلائی عطا فرمادی۔ اس بھلائی سے عظیم تر بھلائی کون سی ہوسکتی ہے جس میں دنیا اور آخرت کی خوش نصیبی پنہاں ہو، اور جس کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی بدنصیبی سے نجات مل جائے؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نعمت خاص خاص لوگوں کو ملتی ہے اور یہ انبیاء کا ترکہ ہے۔ پس بندے کو کمال صرف حکمت سے حاصل ہوسکتاہے۔ کیونکہ کمال نام ہے علمی اور عملی قوت کے کامل ہونے کا۔ علمی قوت تو حق کی معرفت سے اور اس کے مقصود کی معرفت سے کامل ہوتی ہے۔ اور عملی قوت نیکی کرنے اور برائی سے اجتناب کرنے سے مکمل ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بندہ صحیح قول اور صحیح عمل کا حامل ہوسکتا ہے۔ اور اپنی ذات کے بارے میں، نیز دوسروں کے بارے میں ہر حکم کو اس کے صحیح مقام پر رکھ سکتا ہے۔ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی فطرت میں یہ رکھ دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں، بھلائی سے محبت رکھیں، حق کے طالب ہوں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے کہ لوگوں کو ان کی عقل و فطرت میں جڑیں رکھنے والی ان اشیاء کی یاد دہانی کرائیں اور جو تفصیلات لوگوں کو معلوم نہیں، وہ بیان فرمائیں۔ پھر لوگ دو قسموں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جنھوں نے انبیاء کی دعوت کو قبول کیا، تو انھیں اپنے فائدے کی باتیں یاد ہوگئیں، انھوں نے اس پر عمل کیا۔ اور انھیں اپنے نقصان کی باتیں معلوم ہوگئیں، لہٰذا وہ ان سے بچ گئے۔ یہ لوگ کامل عقل و فہم کے حامل ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنھوں نے انبیاء کی دعوت قبول نہیں کی، بلکہ ان کی فطرت میں جو خرابی پیدا ہوگئی تھی اسی کے مطابق عمل کیا، رب کا حکم نہیں مانا۔ یہ لوگ عقل والے نہیں۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا: ﴿ وَمَا یَذَّكَّـرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ نصیحت صرف عقل مند ہی حاصل کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر أحوال المنفقين للأموال، وأن الله أعطاهم، ومنَّ عليهم بالأموال التي يدركون بها النفقات في الطرق الخيرية، وينالون بها المقامات السنية، ذكر ما هو أفضل من ذلك وهو أنه يعطي الحكمة من يشاء من عباده، ومن أراد بهم خيراً من خلقه، والحكمة هي العلوم النافعة والمعارف الصائبة والعقول المسددة والألباب الرزينة وإصابة الصواب في الأقوال والأفعال، وهذا أفضل العطايا وأجل الهبات، ولهذا قال: {ومن يؤت الحكمة فقد أوتي خيراً كثيراً}؛ لأنه خرج من ظلمة الجهالات إلى نور الهدى، ومن حمق الانحراف في الأقوال والأفعال إلى إصابة الصواب فيها وحصول السداد، ولأنه كمل نفسه بهذا الخير العظيم واستعد لنفع الخلق أعظم نفع في دينهم ودنياهم، وجميع الأمور لا تصلح إلا بالحكمة التي هي وضع الأشياء مواضعها وتنزيل الأمور منازلها، والإقدام في محل الإقدام، والإحجام في موضع الإحجام.

ولكن ما يتذكر هذا الأمر العظيم وما يعرف قدر هذا العطاء الجسيم، {إلا أولو الألباب}؛ وهم أهل العقول الوافية والأحلام الكاملة، فهم الذين يعرفون النافع فيعملونه والضار فيتركونه، وهذان الأمران وهما بذل النفقات المالية وبذل الحكمة العلمية أفضل ما تقرب به المتقربون إلى الله وأعلى ما وصلوا به إلى أجل الكرامات، وهما اللذان ذكرهما النبي - صلى الله عليه وسلم - بقوله: «لا حسد إلا في اثنتين: رجل آتاه الله مالاً فسلطه على هلكته في الحق، ورجل آتاه الله الحكمة فهو يعلمها الناس».