ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 258

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡ حَآجَّ اِبۡرٰہٖمَ فِیۡ رَبِّہٖۤ اَنۡ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ ۘ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحۡیٖ وَ اُمِیۡتُ ؕ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاۡتِیۡ بِالشَّمۡسِ مِنَ الۡمَشۡرِقِ فَاۡتِ بِہَا مِنَ الۡمَغۡرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۵۸﴾ۚ
کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، اس لیے کہ اللہ نے اسے حکومت دی تھی، جب ابراہیم نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، اس نے کہا میں زندگی بخشتا اور موت دیتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا پھر اللہ تو سورج کو مشرق سے لاتا ہے، پس تو اسے مغرب سے لے آ، تو وہ جس نے کفر کیا تھا حیرت زدہ رہ گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ En
بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
En
کیا تونے اسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب تو وه ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے، وه کہنے لگا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔ اب تو وه کافر بھونچکا ره گیا، اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو ہدایت نہیں دیتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 258) ➊ { اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ:} یعنی اس بادشاہ کے رب تعالیٰ کے متعلق ابراہیم علیہ السلام سے جھگڑے کی وجہ یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکومت عطا فرمائی، اس کا شکر اس نے یہ ادا کیا کہ خود رب بن بیٹھا اور جس نے اسے حکومت عطا فرمائی تھی اس کا انکار کر دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے فقیر بنا دیتا تو کبھی یہ جسارت نہ کرتا۔
➋ ابراہیم علیہ السلام عراق کے رہنے والے تھے، ان کے زمانے میں عراق کے اندر شرک تقریباً اپنی ساری صورتوں کے ساتھ موجود تھا، بتوں کو وہ پوجتے تھے، سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش وہ کرتے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ بادشاہ وقت کو بھی رب مانتے تھے۔ ابراہیم علیہ السلام کے ذمے ان سب صورتوں کی تردید کرکے لوگوں کو اکیلے رب کی عبادت کی دعوت دینا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے والد اور قوم کو بت پرستی چھوڑ کر ایک رب کی عبادت کی دعوت دی، نتیجے میں گھر سے نکلنا پڑا، پھر نہایت حکیمانہ طریقے سے سورج، چاند اور ستاروں کا رب نہ ہونا ایسا واضح کیا کہ قوم لاجواب ہو گئی۔ (دیکھیے انعام: ۷۶ تا ۸۲) نتیجے میں قوم کے جھگڑے اور سورج، چاند اور ستاروں کے غضب کا نشانہ بننے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے سمجھا کہ محض نصیحت سے بتوں کی بے بسی ماننے پر یہ لوگ تیار نہیں تو میلے والے دن ان کے بڑے بت کو چھوڑ کر باقی سارے بت توڑ دیے۔ تفتیش ہوئی، ابراہیم علیہ السلام مجرم قرار پائے، اس موقع پر ساری قوم کے سامنے بتوں کی بے بسی ایسی واضح فرمائی کہ وہ اپنے دلوں میں مان گئے کہ ظالم وہ خود ہی ہیں، ابراہیم(علیہ السلام) کا کچھ قصور نہیں۔ اب حق کو قبول کرنے کے بجائے الٹاکہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو۔ (دیکھیے انبیاء: ۵۱ تا ۷۰) اب ظاہر ہے کہ عوام جتنے بھی ہوں کسی کو سزا دینا تو حکومت کا کام ہے، اس لیے انھیں وقت کے بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا، وہ اپنی سلطنت میں بت پرستی، ستارہ پرستی کو برداشت کرتا تھا، بلکہ اس کی پشت پناہی کرتا تھا، کیونکہ وہ خود بھی مشرک تھا اور اپنے رب ہونے کا بھی دعویدار تھا۔ اس موقع پر بادشاہ کے ساتھ یہ مناظرہ ہوا، جس میں لاجواب ہو کر اس نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھنکوا دیا۔
➌ یہ واقعہ اور بعد والے دونوں واقعات اس بات کی مثال اور دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو کس طرح اندھیرے سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور طاغوت اپنے دوستوں کو کس طرح روشنی سے اندھیرے کی طرف لے جاتے ہیں۔
➍ ابراہیم علیہ السلام نے جب اس بادشاہ کے رب ہونے سے انکار کیا تو اس نے پوچھا: تمھارا رب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ اس نے کہا: میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ بعض تابعین سے منقول ہے کہ اس نے دو قیدی منگوائے، ایک کو قتل کر دیا، ایک کو چھوڑ دیا اورکہا: دیکھو! انھیں زندہ رکھنا یا مارنا میرے ہاتھ میں ہے۔ تابعین کی بات اسرائیلی روایت ہی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ خود تو اس وقت موجود نہیں تھے اور اس کی ضرورت اس وقت ہے جب وہ بادشاہ متقی اور ہمیشہ سچ بولنے والا ہو۔ ایک جھوٹا شخص کوئی غلط بات کہے تو اسے تاویل کے ساتھ صحیح ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جو شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں رب ہوں، اسے یہ دعویٰ کرنے میں کیا چیز مانع ہے کہ میں ہی سب کو زندہ کرتا ہوں اور میں ہی مارتا ہوں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ یہ کج بحثی پر اترا ہوا ہے تو پہلی دلیل چھوڑ کر دوسری دلیل سورج والی دی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے پہلی دلیل چھوڑی نہیں، بلکہ اس کے ذریعے سے اس کے منہ سے اس دعویٰ کا اقرار کروا لیا کہ میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ اب اس دعویٰ پر دوسری دلیل کی بنیاد رکھی کہ جب تم میں اتنی قوت ہے کہ تمھی سب کو پیدا کرتے ہو اور تمھی مارتے ہو تو اس کے مقابلے میں ایک معمولی سا کام کرکے دکھاؤ، یہ کہ اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے، جب سارا اختیار تمھارے پاس ہے تو سورج کو مغرب سے طلوع کرکے دکھا دو، اس پر وہ بے ایمان حیرت زدہ ہو کر بالکل لاجواب ہو گیا اور ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ بھی راہِ راست پر آنے کی توفیق نہیں دیتا۔
➎ نمرود کی ناک میں مچھر کے گھسنے اور چار سو سال تک ہتھوڑوں سے اپنے آپ کو پٹوانے کے واقعات نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں نہ کسی صحابی سے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

258۔ کیا آپ نے اس شخص [368] (کے معاملہ) پر غور نہیں کیا جس نے حضرت ابراہیم سے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا اور اس جھگڑے کی وجہ یہ بنی کہ اللہ نے اسے حکومت دے رکھی تھی جب ابراہیم نے اس شخص (نمرود) سے کہا کہ ”میرا پروردگار وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے“ تو وہ کہنے لگا کہ میں بھی زندہ کر سکتا ہوں اور مار بھی سکتا ہوں۔“ [369] پھر ابراہیم نے کہا کہ ”اللہ تعالیٰ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تم ذرا مغرب سے نکال کے دکھاؤ۔“ اب وہ کافر مبہوت رہ گیا۔ اور اللہ ظالموں کو [370] راہ نہیں سجھاتا
[368] نمرود کی خدائی کس قسم کی تھی؟
یہ شخص نمرود بادشاہ عراق تھا اور اس کا دارالخلافہ بابل تھا جہاں آج کل کوفہ آباد ہے خدائی کا دعویدار تھا یہ خود اور اس کی رعایا سب مشرک تھے۔ نمرود کی خدائی کس قسم کی تھی؟ یہ جاننے کے لیے تھوڑی سی تفصیل ضروری معلوم ہوتی ہے۔ شرک کی تین اقسام ہیں:۔
شرک کی قسمیں: شرک فی الربوبیت:۔
ایسا شرک عموماً کوئی بھی نہیں کرتا۔ مشرکین مکہ ہوں یا نمرود ہو یا فرعون ہو کسی سے بھی پوچھا جائے کہ یہ آسمان و زمین کس نے بنائے۔ زمین سے پیداوار کون اگاتا ہے۔ کائنات کو کس نے پیدا کیا اور شمس و قمر کا نظام چلانے والا کون ہے تو سب یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہے۔ البتہ ربوبیت کے منکر ضرور موجود رہے ہیں یعنی دہریہ قسم کے لوگ یا فلکیات کے ماہرین جو ساری کائنات کو مادہ کی بدلی ہوئی شکلیں اور ارتقائی پیداوار کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ دوسری قسم شرک فی الصفات ہے۔ آگے اس کی پھر دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس کا تعلق مافوق الفطری اسباب سے ہوتا ہے۔ مثلاً دعائیں سننا اور انہیں قبول کرنا، حاجت روائی اور مشکل کشائی کسی کے رزق میں تنگی اور فراخی پیدا کرنا، بارش برسانا، کسی کو اولاد دینا وغیرہ وغیرہ، ایسا شرک عام پایا جاتا ہے۔ مشرکین مکہ کے ہوں یا عراق کے ہوں، مصر کے ہوں یا ہندوستان کے، انہوں نے ایسے کاموں کے لیے لاتعداد دیوی یا دیوتا بنا رکھے تھے اور مندرجہ بالا کام انہیں کے سپرد تھے اور ان کے بتوں اور مجسموں کی پوجا کی جاتی تھی۔ اس قسم کا شرک ہم مسلمانوں میں بھی عام پایا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے ہم نے امور اپنے پیروں فقیروں اور بزعم خود اولیاء اللہ کے سپرد کر رکھے ہیں خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ ہو چکے ہوں۔ جمہوریت میں شرک کی کون سی قسم پائی جاتی ہے؟ شرک کی تیسری قسم وہ ہے جس کا تعلق شرک فی الصفات کی دوسری قسم سے ہے اور وہ فطری اسباب سے ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر طاغوت یا طواغیت سے ہوتا ہے جس کا ذکر پچھلی آیت میں آیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اپنی حکمرانی تسلیم کرواتے ہیں۔ آج کی زبان میں اسے اقتدار اعلیٰ کہتے ہیں۔ نمرود بھی اس قسم کا خدا تھا اور فرعون بھی اور ان جیسے اور بھی کئی خدائی کے وعدے کر چکے اور کر رہے ہیں۔ پھر اقتدار اعلیٰ کی بھی دو قسمیں ہیں، قانونی اقتدار اعلیٰ اور سیاسی اقتدار اعلیٰ دونوں قسم کا یہ اقتدار اعلیٰ ایسے حکمرانوں کے پاس ہی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا ہر لفظ قانون ہوتا ہے اور ان کے حکم کے آگے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ہوتی اور ایسے ممالک جہاں آج کل جمہوریت رائج ہے وہاں بھی اکثر شرک کی یہ قسم پائی جاتی ہے۔ کیونکہ ان ملکوں میں سیاسی اقتدار اعلیٰ تو عوام کے پاس ہوتا ہے یعنی طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔ وہی جسے چاہیں اپنی رائے سے نمائندہ یا حکمران بنا دیں اور قانونی اقتدار اعلیٰ اسمبلی یا پارلیمنٹ کے پاس ہوتا ہے (یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ جمہوریت میں اقتدار اعلیٰ اسمبلی یا پارلیمنٹ کے پاس ہوتا ہے۔ جمہوریت میں اقتدار اعلیٰ کوئی انسان یا کوئی ادارہ ہی ہو سکتا ہے) جبکہ اسلامی نقطہ نظر سے قانونی اور سیاسی مقتدر اعلیٰ کوئی فرد یا ادارہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ایسا مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جمہوری ممالک میں کوئی بڑی سے بڑی عدالت بھی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کے سامنے دم نہیں مار سکتی۔ اس لحاظ سے نمرود کی خدائی اور جمہوریت کی خدائی میں کوئی فرق نہیں ہے۔
آزر کا تعارف:۔
نمرود ہی کے دربار میں حضرت ابراہیمؑ کا باپ شاہی مہنت تھا جو بت گر بھی تھا اور بت فروش بھی اور نمرود کے مقربین میں سے تھا۔ اسی بنا پر باپ نے حضرت ابراہیمؑ کو گھر سے نکالا تھا اور جب حضرت ابراہیمؑ نے ان لوگوں کے بت توڑے تھے تو اسی باپ نے اپنے بیٹے کا مقدمہ نمرود کے دربار میں پیش کیا تھا۔
[369] سیدنا ابراہیم اور نمرود کا مکالمہ:۔
دربار میں پیشی ہوئی تو زیر بحث مسئلہ ’خدائی‘ ہی کا تھا۔ دوران بحث حضرت ابراہیمؑ نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے تو نمرود کہنے لگا کہ یہ دونوں کام تو میں بھی کر سکتا ہوں۔ چنانچہ اس نے ایک بے قصور آدمی کو بلا وجہ قتل کروا دیا اور ایک ایسے قیدی کو جسے سزائے موت ہو چکی تھی آزاد کر دیا۔
[370] حضرت ابراہیمؑ نمرود کے اس کام کا یہ جواب دے سکتے تھے کہ جس شخص کو تو نے مروا ڈالا ہے اسے زندہ کر کے دکھا تو جانیں۔ مگر حضرت ابراہیمؑ نے اس میدان کو چھوڑ دیا اور ربوبیت کے میدان میں آ گئے اور کہا کہ میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال کے دکھا۔ اب چونکہ نمرود یہ سمجھتا تھا کہ کائنات کے نظام میں میرا کوئی دخل اور اختیار نہیں۔ لہٰذا وہ فوراً لاجواب ہو گیا۔ حالانکہ اگر وہ سوچتا تو کہہ سکتا تھا کہ اگر میں سورج کو مغرب سے نہیں نکال سکتا تو تم اپنے رب سے کہو کہ مغرب سے نکال کے دکھائے، اور اس صورت میں عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھلا بھی دیتے۔ مگر چونکہ نمرود کا پختہ عقیدہ تھا کہ کائنات کا نظام اللہ ہی چلاتا ہے اور وہ چاہے تو ایسا بھی کر سکتا ہے۔ لہٰذا سوائے خاموشی اور حیرانگی کے اس سے کچھ بھی بن نہ پڑا اس طرح ابراہیمؑ نے بھرے دربار میں نمرود پر یہ بات واضح کر دی کہ میرا خدا یا معبود تو نہیں، بلکہ وہ معبود حقیقی ہے جس کا پوری کائنات میں تصرف و اختیار چلتا ہے اس مباحثہ میں لاجواب ہونے کے باوجود نمرود کو کسی قیمت پر بھی اپنے خدائی کے دعوے سے دستبردار ہونا اور حضرت ابراہیمؑ کی ہدایت پر توجہ کرنا گوارا نہ ہوا اور جو لوگ گمراہی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہوں انہیں ہدایت کی راہ نصیب بھی نہیں ہوتی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا آمنا سامنا ٭٭
اس بادشاہ کا نام نمرود بن کنعان بن سام بن نوح علیہ السلام تھا اس کا پایہ تخت بابل تھا اس کے نسب میں کچھ اختلاف بھی ہے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا کی مشرق مغرب کی سلطنت رکھنے والے چار ہوئے جن میں سے دو مومن اور دو کافر، سلیمان بن داؤد علیہ السلام اور ذوالقرنین علیہ السلام، اور کافروں میں نمرود اور بخت نصر،
فرمان ہوتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم نے اسے نہیں دیکھا، جو ابراہیم علیہ السلام سے وجود باری تعالیٰ میں مباحثہ کرنے لگا، یہ شخص خود اللہ ہونے کا مدعی تھا، جیسا اس کے بعد فرعون نے بھی اپنے والوں میں دعویٰ کیا تھا کہ «مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرِي» [28-القصص: 38]‏‏‏‏ میں اپنے سوا کسی کو تمہارا رب نہیں جانتا، چونکہ ایک مدت مدید اور عرصہ بعید سے یہ بادشاہ چلا آتا تھا اس لیے دماغ میں رعونت اور انانیت آ گئی تھی، سرکشی اور تکبر، نخوت اور غرور طبیعت میں سما گیا تھا، بعض لوگ کہتے ہیں چار سو سال تک حکومت کرتا رہا تھا، ابراہیم علیہ السلام سے جب اس نے وجود باری تعالیٰ پر دلیل مانگی تو آپ نے نیست سے ہست اور ہست سے نیست کرنے کی دلیل دی جو ایک بدیہی اور مثل آفتاب روشن دلیل تھی کہ موجودات کا پہلے کچھ نہ ہونا پھر ہونا پھر مٹ جانا کھلی دلیل ہے۔ موجد اور پیدا کرنے والے کے موجود ہونے کی اور وہی اللہ ہے، نمرود نے جواباً کہا کہ یہ تو میں بھی کرتا ہوں، یہ کہہ کر دو شخصوں کو اس نے بلوایا جو واجب القتل تھے، ایک کو قتل کر دیا اور دوسرے کو رہا کر دیا، دراصل یہ جواب اور دعویٰ کس قدر لچر اور بے معنی ہے اس کے بیان کی بھی ضرورت نہیں۔
ابراہیم علیہ السلام نے تو صفات باری میں سے ایک صفت پیدا کرنا اور پھر نیست کر دینا بیان کی تھی اور اس نے نہ تو انہیں پیدا کیا اور نہ ان کی یا اپنی موت حیات پر اسے قدرت، لیکن جہلاء کو بھڑکانے کیلئے اور اپنی علمیت جتانے کیلئے باوجود اپنی غلطی اور مباحثہ کے اصول سے طریقہ فرار کو جانتے ہوئے صرف ایک بات بنا لی۔
ابراہیم علیہ السلام بھی اس کو سمجھ گئے اور آپ نے کند ذہن کے سامنے ایسی دلیل پیش کر دی کہ صورتاً بھی اس کی مشابہت نہ کر سکے، چنانچہ فرمایا کہ جب تو پیدائش اور موت تک کا اختیار رکھتا ہے تو مخلوق پر تصرف تیرا پورا ہونا چاہیئے، میرے اللہ نے تو یہ تصرف کیا کہ سورج کو حکم دے دیا ہے کہ وہ مشرق کی طرف سے نکلا کرے چنانچہ وہ نکل رہا ہے، اب تو اسے حکم دے کہ وہ مغرب کی طرف سے نکلے اس کا کوئی ظاہری ٹوٹا پھوٹا جواب بھی نہ اس سے بن پڑا اور بے زبان ہو کر اپنی عاجزی کا معترف ہو گیا اور اللہ کی حجت اس پر پوری ہو گئی لیکن چونکہ ہدایت نصیب نہ تھی راہ یافتہ نہ ہو سکا، ایسے بدوضع لوگوں کو اللہ کوئی دلیل نہیں سمجھاتا اور وہ حق کے مقابلے میں بغلیں جھانکتے ہی نظر آتے ہیں، ان پر اللہ کا غضب و غصہ اور ناراضگی ہوتی ہے اور اس کیلئے اس جہاں میں بھی سخت عذات ہوتے ہیں،
بعض منطقیوں نے کہا ہے کہ خلیل اللہ نے یہاں ایک واضح دلیل کے بعد دوسری اس سے بھی زیادہ واضح دلیل پیش کر دی، لیکن درحقیت یوں نہیں بلکہ پہلی دلیل دوسری کا مقدمہ تھی اور ان دونوں میں سے نمرود کے دعویٰ کا بطلان بالکل واضح ہو گیا، اصل دلیل پیدائش و موت ہی ہے چونکہ اس کا دعویٰ اس ناسمجھ مشت خاک نے بھی کیا تو لازم تھا کہ جو بنانے بگاڑنے پر نہ صرف قادر ہو بلکہ بناؤ بگاڑ کا بھی خالق ہو اس کی ملکیت پوری طرح اسی کے قبضہ میں ہونی چاہیئے اور جس طرح موت و حیات کے احکام اس کے جاری ہو جاتے ہیں اسی طرح دوسرے احکام بھی جاری ہو جائیں، پھر کیا وجہ ہے کہ سورج جو کہ ایک مخلوق ہے اس کی فرمانبرداری اور اطاعت گزاری نہ کرے اور اس کے کہنے سے مشرق کی بجائے مغرب سے نہ نکلے؟ پس ابراہیم علیہ السلام نے اس پر اس مباحثہ میں کھلا غلبہ پایا اور اسے بالکل لاجواب کر دیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مناظرہ ابراہیم علیہ السلام کے آگ سے نکل آنے کے بعد ہوا تھا اس سے پہلے آپ علیہ السلام کی اس ظالم بادشاہ سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی، زید بن اسلم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ قحط سالی تھی، لوگ نمرود کے پاس جاتے تھے اور غلہ لے آتے تھے، خلیل اللہ بھی گئے، وہاں یہ مناظرہ ہو گیا بدبخت نے آپ علیہ السلام کو غلہ نہ دیا، آپ علیہ السلام خالی ہاتھ واپس آئے، گھر کے قریب پہنچ کر آپ علیہ السلام نے دونوں بوریوں میں ریت بھر لی کہ گھر والے سمجھیں کچھ لے آئے، گھر آتے ہی بوریاں رکھ کر سو گئے، آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ اٹھیں بوریوں کو کھولا تو دیکھا کہ عمدہ اناج سے دونوں پر ہیں، کھانا پکا کر تیار کیا، آپ علیہ السلام کی بھی آنکھ کھلی دیکھا کہ کھانا تیار ہے، پوچھا اناج کہاں سے آیا، کہا دو بوریاں جو آپ بھر کر لائے ہیں، انہیں میں سے یہ اناج نکالا تھا، آپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ اللہ جل شانہ کی طرف سے برکت اور اس کی رحمت ہے، اس ناہنجار بادشاہ کے پاس اللہ نے ایک فرشتہ بھیجا اس نے آ کر اسے توحید کی دعوت دی لیکن اس نے قبول نہ کی، دوبارہ دعوت دی لیکن انکار کیا تیسری مرتبہ اللہ کی طرف بلایا لیکن پھر بھی یہ منکر ہی رہا۔ اس بار بار کے انکار کے بعد فرشتے نے اس سے کہا اچھا تو اپنا لشکر تیار کر میں بھی اپنا لشکر لے آتا ہوں، نمرود نے بڑا بھاری لشکر تیار کیا اور زبردست فوج کو لے کر سورج نکلنے کے میدان میں آ ڈٹا، ادھر اللہ تعالیٰ نے مچھروں کا ایک دروازہ کھول دیا، بڑے بڑے مچھر اس کثرت سے آئے کہ لوگوں کو سورج بھی نظر نہ آتا تھا، اللہ کی یہ فوج نمرودیوں پر گری اور تھوڑی دیر میں ان کا خون تو کیا ان کا گوشت پوست سب کھا گئی اور سارے کے سارے یہیں ہلاک ہو گئے، ہڈیوں کا ڈھانچہ باقی رہ گیا، انہی مچھروں میں سے ایک نمرود کے نتھنے میں گھس گیا اور چار سو سال تک اس کا دماغ چاٹتا رہا ایسے عذاب میں وہ رہا کہ اس سے موت ہزاروں درجے بہتر تھی اپنا سر دیواروں اور پتھروں پر مارتا پھرتا تھا، ہتھوڑوں سے کچلواتا تھا، یونہی رینگ رینگ کر بدنصیب نے ہلاکت پائی۔ اعاذنا اللہ۔