ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 232

وَ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحۡنَ اَزۡوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوۡا بَیۡنَہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ ذٰلِکَ یُوۡعَظُ بِہٖ مَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکُمۡ اَزۡکٰی لَکُمۡ وَ اَطۡہَرُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۲﴾
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کرلیں، جب وہ آ پس میں اچھے طریقے سے راضی ہو جائیں۔ یہ بات ہے جس کی نصیحت تم میں سے اس کو کی جاتی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ تمھارے لیے زیادہ ستھرا اور زیادہ پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ En
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
En
اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وه اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وه آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں۔ یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر یقین وایمان ہو، اس میں تمہاری بہترین صفائی اور پاکیزگی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت232) ➊ { اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ:} معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک شخص سے کیا، اس نے اسے طلاق دے دی، جب عدت گزر گئی تو وہ (دوبارہ) نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا، میں نے تمھارا نکاح کیا، اسے تمھاری بیوی بنایا اور تمھاری عزت افزائی کی، مگر تم نے اسے طلاق دے دی، اب تم پھر اس سے نکاح کا پیغام لے کر آ گئے ہو، اللہ کی قسم! وہ تمھارے پاس کبھی نہیں آ سکتی۔ اس شخص میں کوئی برائی نہیں تھی اور میری بہن بھی اس کے پاس جانا چاہتی تھی(لیکن میں مانع تھا) تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل فرمائی: «فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ» ‏‏‏‏ تو انھیں اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کر لیں۔ تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! اب میں نکاح کر دوں گا۔ الغرض! انھوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دیا۔ [بخاری، النکاح، باب من قال لا نکاح إلا بولی …: ۵۱۳۰]
➋ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت خود بخود اپنا نکاح نہیں کر سکتی، بلکہ ولی کی اجازت ضروری ہے۔ امام بخاری نے بھی اس آیت سے یہ استدلال فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: کوئی عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرے اور نہ کوئی عورت اپنا نکاح خود کرے، کیونکہ وہ عورت زانیہ ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے۔ [ابن ماجہ، النکاح، باب لا نکاح إلا بولی: ۱۸۸۲، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا، و صححہ الألبانی] اگر عورت خود اپنا نکاح کر سکتی ہوتی تو عورت کے اولیاء کو قرآن مخاطب نہ کرتا کہ تم ان کو مت روکو۔
➌ { اَزْوَاجَهُنَّ:} اس لفظ سے جس طرح وہ خاوند مراد ہیں جن سے پہلے نکاح ہوا تھا، اسی طرح عدت گزرنے کے بعد اگر وہ کسی اور شخص سے نکاح کرنا چاہیں تو اس ہونے والے خاوند سے نکاح کرنے سے روکنا بھی منع ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یہ حکم ہے عورتوں کے ولیوں کو کہ اس کے نکاح میں اس کی خوشی (کا خیال) رکھیں، جہاں وہ راضی ہوں وہاں کر دیں، اگرچہ اپنی نظر میں اور جگہ بہتر معلوم ہو۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

232۔ 1 اس میں مطلقہ عورت کی بابت ایک تیسرا حکم دیا جا رہا ہے وہ یہ کہ عدت گزرنے کے بعد (پہلی یا دوسری طلاق کے بعد) اگر سابقہ خاوند بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو ان کو مت روکو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ایسا واقعہ ہوا تو عورت کے بھائی نے انکار کردیا جس پر یہ آیت اتری، اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ عورت اپنا نکاح نہیں کرسکتی، بلکہ اس کے نکاح کے لئے ولی کی اجازت اور رضامندی ضروری ہے۔ تب ہی تو اللہ تعالیٰ نے ولیوں کو اپنا حق ولایت غلط طریقے سے استعمال کرنے سے روکا ہے۔ اس کی مزید تائید حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوتی ہے، جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا، پس اس کا نکاح باطل ہے، اسکا نکاح باطل ہے، اسکا نکاح باطل ہے۔ (حوالہ مذکور) ان احادیث کو علامہ انور شاہ کشمیری نے بھی دیگر محدثین کی طرح صحیح اور احسن تسلیم کیا ہے۔ فیض الباری ج 4 کتاب النکاح) دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ عورت کے ولیوں کو بھی عورت پر جبر کرنے کی اجازت نہیں بلکہ ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ عورت کی رضامندی کو بھی ملحوظ رکھیں اگر ولی عورت کی رضامندی کو نظر انداز کر کے زبردستی نکاح کر دے تو شریعت نے عورت کو بذریعہ عدالت نکاح فسخ کرانے کا اختیار دیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ نکاح میں دونوں کی رضامندی حاصل کی جائے کوئی ایک فریق بھی من مانی نہ کرے گا اور لڑکی کے مفادات کے مقابلے میں اپنے مفادات کو ترجیح دے گا تو عدالت ایسے ولی کو حق ولایت سے محروم کر کے ولی ابعد کے ذریعے سے یا خود ولی بن کر اس عورت کے نکاح کا فریضہ انجام دے گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

232۔ نیز جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں اپنے (پہلے) خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ وہ معروف طریقے سے آپس میں نکاح کرنے [315] پر راضی ہوں۔ جو کوئی تم میں سے اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے اسی بات کی نصیحت کی جاتی ہے۔ یہی تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ [316] طریقہ ہے۔ (اپنے احکام کی حکمت) اللہ ہی جانتا ہے تم نہیں جانتے
[315] حضرت معقل بن یسارؓ کہتے ہیں کہ میری بہن (جمیلہ) کو اس کے خاوند (عاصم بن عدی) نے طلاق (رجعی) دی مگر رجوع نہ کیا تا آنکہ پوری عدت گزر گئی۔ پھر عدت گزر جانے کے بعد دوبارہ نکاح کے لیے مجھے پیغام بھیجا (جب کہ مجھے اور بھی پیغام آ چکے تھے) میں نے غیرت اور غصہ کی وجہ سے اسے برا بھلا کہا اور انکار کر دیا اور قسم کھالی کہ اب اس سے نکاح نہ ہونے دوں گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور میں نے اس حکم کے آگے سر تسلیم خم کر دیا اور قسم کا کفارہ ادا کر دیا۔ [بخاري، كتاب التفسير، زير آيت مذكوره]
ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ عورت کی رضا مقدم ہے:
اس حدیث سے ضمناً یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگرچہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جیسا کہ کئی احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے عورت کی رضا کو ولی کی رضا پر مقدم رکھا ہے۔ یہاں صورت حال یہ تھی کہ جمیلہ کو نکاح کے کئی پیغام آئے اور اس کے سابق خاوند عاصم بن عدی کا پیغام بھی آیا۔ اب معقل وقتی غصہ اور غیرت کی بنا پر عاصم سے نکاح نہیں چاہتا تھا جبکہ جمیلہ عاصم ہی سے نکاح کرنے پر رضا مند تھی جیسا کہ آیت کے الفاظ سے واضح ہے تو اللہ تعالیٰ نے معقل کے بجائے جمیلہ کی رضا کو مقدم رکھ کر اس کے مطابق حکم نازل فرمایا۔ نکاح کے سلسلہ میں اسلام نے عورت کی رضا کو ہی مقدم رکھا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
1۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیوہ یا مطلقہ عورت کا اس وقت تک نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے صاف صاف زبان سے اجازت نہ لی جائے، اسی طرح کنواری کا بھی نکاح نہ کیا جائے جب تک وہ اذن نہ دے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنواری اذن کیونکر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا چپ رہنا ہی اس کا اذن ہے۔ [بخاري، كتاب النكاح۔ باب لاينكح الاب وغيره۔ البكروالثيب الا برضاها]
2۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کنواری لڑکی تو شرم کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی رضا مندی یہی ہے کہ وہ خاموش ہو جائے۔“ [حواله ايضاً]
3۔ خنساء بنت خذام انصاریہؓ کہتی ہیں کہ میرے باپ نے (اپنی مرضی سے) میرا نکاح کر دیا جبکہ میں ثیبہ (شوہر دیدہ) تھی اور اس نکاح کو پسند نہیں کرتی تھی۔ آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے میرے باپ کے کئے ہوئے نکاح کو فسخ کر ڈالا۔ [حواله ايضاً]
4۔ قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ جعفر بن ابی طالب کے خاندان کی ایک عورت کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ اس کا ولی کہیں جبراً اس کا نکاح نہ پڑھا دے اور وہ اس نکاح سے ناخوش تھی۔ آخر اس نے کسی شخص کو دو بوڑھے انصاریوں عبد الرحمن بن جاریہ اور مجمع بن جاریہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ تو کاہے کو ڈرتی ہے۔ خنساء بنت خذام کا نکاح اس کے باپ نے جبراً کر دیا تھا اور وہ اس نکاح کو پسند نہیں کرتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکاح فسخ کر دیا تھا۔ [بخاري۔ كتاب الحيل۔ باب فى النكاح]
5۔ ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا۔ (ترمذی، ابواب النکاح، باب ماجاء إلانکاح الا بولی) ترمذی کے علاوہ اسے ابو داؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے بھی روایت کیا ہے۔ 6۔ حضرت عائشہ ام المومنینؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ پھر اگر خاوند نے اس سے صحبت کر لی تو اس کے عوض اسے پورا حق مہر ادا کرنا ہو گا۔ پھر اگر ان میں جھگڑا پیدا ہو جائے تو جس عورت کا کوئی ولی نہ ہو، بادشاہ اس کا ولی ہے۔ [ترمذي حواله ايضاً] اس حدیث کو ترمذی کے علاوہ احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے۔
منکرین جواز کے دلائل کا جواب:۔
ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک کنواری لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے باپ نے میرا نکاح جبراً کر دیا ہے۔ میں راضی نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا۔ [ابو داؤد بحواله مشكوٰة۔ كتاب النكاح۔ باب الولي فى النكاح و استيذان المرأة تيسري فصل]
8۔ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرے۔ اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے اور جو عورت اپنا نکاح خود کرتی ہے وہ زانیہ ہے۔ [ابن ماجه بحواله مشكوٰة حواله ايضاً]
9۔ ابو سعید اور ابن عباسؓ دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ہاں بچہ پیدا ہو وہ اس کا اچھا سا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے۔ پھر جب بالغ ہو تو اس کا نکاح کر دے۔ اگر اس کا نکاح بلوغت کے وقت نہ کیا اور وہ کسی گناہ کا مرتکب ہوا تو اس کا گناہ اس کے باپ پر ہو گا۔ [بيهقي شعب الايمان بحواله مشكوٰة۔ حواله ايضاً] واضح رہے کہ مندرجہ بالا سب احادیث سے یہ بات واضح ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ البتہ ولی کی رضا پر عورت کی رضا مقدم ہے۔
رشتہ میں لات مارنا:۔
اور اس آیت کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو شخص اپنی عورت کو طلاق دے چکا ہو اور وہ مطلقہ عورت عدت گزار کر کسی دوسرے آدمی سے نکاح کرنا چاہتی ہو تو سابقہ شوہر کو کوئی ایسی کمینہ حرکت نہ کرنی چاہیے جو اس کے ہونے والے نکاح میں رکاوٹ پیدا کر دے جس سے عورت پر تنگی پیدا کرنا مقصود ہو۔
بلوغت سے پہلے نکاح پر حکومت کی پابندی:۔
یہاں ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے جو موجودہ دور میں خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے آیا ولی اپنے لڑکے یا لڑکی یا کسی دوسرے قریبی رشتہ دار کا بچپن میں نکاح کرنے کا مجاز ہے یا نہیں؟ اور اسی مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آیا بلوغت سے پہلے یا بچپن کا نکاح درست ہے یا باطل؟ اور یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر امت مسلمہ کے تمام فرقوں کا اتفاق ہے کہ بچپن کا نکاح درست ہوتا ہے اور ولی ایسا نکاح کرنے کا مجاز ہے۔ لیکن دور حاضر کے کچھ مجددین نے ایسے نکاح کو غلط اور باطل قرار دیا اور اسی طبقہ سے متاثر ہو کر حکومت پاکستان نے عائلی قوانین آرڈی نینس 1961 میں اس متن کا اندراج کیا کہ نکاح کے وقت لڑکے کی عمر کم از کم اٹھارہ سال اور لڑکی کی عمر کم از کم سولہ سال ہونی چاہیے۔ یہ شق چونکہ امت مسلمہ کے ایک متفق علیہ مسئلہ کے خلاف ہے لہذا ہم اس پر ذرا تفصیل سے گفتگو کریں گے۔ پہلے ہم اس متفق علیہ مسئلہ کے جواز پر دلائل پیش کرتے ہیں۔
بچپن کی شادی کے جواز پر دلائل:۔
1۔ قرآن میں مختلف قسم کی عورتوں کی عدت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَالّٰئٓي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَايِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ ۙ وَّالّٰئٓي لَمْ يَحِضْنَ ۭ وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۭ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا [65: 4]
”اور تمہاری مطلقہ عورتیں جو حیض سے نا امید ہو چکی ہوں، اگر تمہیں ان کی عدت کے بارے میں شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنہیں ابھی حیض شروع ہی نہیں ہوا اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل تک ہے۔“ اس آیت میں بوڑھی، جوان اور بچی سب طرح کی عورتوں کا ذکر ہے۔ بوڑھی اور بچی جنہیں حیض نہیں آتا ان کی عدت تین ماہ ہے اور جوان عورت کی عدت اگر اسے حمل ہے تو وضع حمل تک ہے (اور اگر حمل نہ ہو تو چار ماہ دس دن ہے جیسا کہ سورۃ بقرہ میں گزر چکا ہے) اور تو ظاہر ہے کہ عدت کا سوال یا تو خاوند کے طلاق دینے کے یا مر جانے کے بعد ہی پیدا ہو سکتا ہے۔ تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بلوغت سے پہلے بھی لڑکی کا نکاح جائز ہے اور اس کا ولی اس بات کا مجاز ہے۔ 2۔ ارشاد باری ہے: آیت
﴿ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنّ [2: 237]
اور اگر تم اپنی ایسی بیوی کو طلاق دے دو جن سے تم نے صحبت نہ کی ہو اور حق مہر مقرر رقم کا نصف دینا ہو گا۔ ذرا سوچئے نوجوان جوڑے کی شادی ہو۔ رخصتی بھی ساتھ ہی ہو چکی ہو تو کیا ایسی صورت ممکن ہے کہ شب زفاف میں صحبت نہ کریں؟ اور صحبت سے پہلے ہی میاں صاحب اپنی بیگم کو طلاق دے دیں؟ ہمارے خیال میں اس کی یہی صورت ممکن ہے جس کا عرب میں عام رواج تھا کہ بچپن میں نکاح ہو جاتا تھا۔ اور رخصتی کو بلوغت تک موخر کر دیا جاتا تھا۔ دریں اثناء بعض خاندانی رقابتوں کی بنا پر یا مرد کی اپنی ناپسندیدگی کی وجہ سے ایسی صورت پیش آ جاتی تھی۔ تو اس کا اللہ تعالیٰ نے حل بتلا دیا کہ ایسی صورت میں مقررہ رقم کا نصف ادا کر دو۔ یہ نہیں فرمایا کہ بچپن میں نکاح کیا ہی نہ کرو۔ حالانکہ دور نبوی میں بچپن میں نکاح کا رواج عام تھا۔ 3۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ سے نکاح اس وقت کیا جبکہ حضرت عائشہؓ کی عمر صرف 7 سال تھی۔ جیسا کہ مسلم کی درج ذیل حدیث سے واضح ہے: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح اس وقت کیا جبکہ وہ سات سال کی تھیں اور جب حضرت کے گھر رخصتی ہوئی اس وقت نو برس کی تھیں اور ان کے کھیلنے کے کھلونے ان کے ساتھ تھے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اس وقت ان کی عمر اٹھارہ برس کی تھی۔ 4۔ چوتھی دلیل اس پر تعامل امت اور امت مسلمہ کے تمام مذاہب کا اس مسئلہ کے جواز پر اتفاق ہے۔ اور اس میں اختلاف نہ ہونا بھی اس کے جواز پر ایک قوی دلیل ہے۔ اور جن حضرات نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے ان کے دلائل یہ ہیں:
منکرین جواز کے دلائل:۔
نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک عہد وفاداری ہوتا ہے جسے قرآن نے﴿ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا کہا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ عہد اسی صورت میں نبھایا جا سکتا ہے جب کہ مرد اور عورت دونوں اس عہد کو سمجھتے ہوں۔ لہٰذا ان دونوں کا عاقل اور بالغ ہونا ضروری ہے۔ 2۔ قرآن نے یتیموں کے اموال کی حفاظت کے بارے میں فرمایا کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کے اموال ان کو واپس کر دو۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح کی عمر اس وقت ہوتی ہے جب بچہ سمجھدار ہو جائے اور اپنے مال کی حفاظت کر سکے۔ 3۔ قرآن میں ہے آیت ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ یعنی عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ اور عورت کھیتی تو اس وقت ہی ہو سکتی ہے جب وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل ہو جائے۔ اسی طرح جب تک لڑکا بھی اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ ہو اس کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ یہ ہیں وہ دلائل جو نکاح نابالغان کے منکرین کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔ اور ہم اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر نکاح کا مقصد صرف جنسی خواہشات کی تکمیل اور حصول اولاد ہو تو نکاح کے لیے بلوغت کی عمر ہی درست ہے۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا نکاح کا صرف یہی ایک مقصد ہے یا کچھ اور بھی ہو سکتے ہیں۔ ہمارے خیال میں نکاح کا ارفع و اعلیٰ مقصد جس کے لیے اسلام نے نکاح کا حکم دیا ہے وہ فحاشی، بے حیائی اور زنا سے اجتناب، مرد و عورت دونوں کی عفیف اور پاکیزہ زندگی اور اس طرح ایک پاک صاف اور ستھرے معاشرہ کا قیام ہے اور اس کی دلیل درج ذیل آیت ہے:
﴿وَاَنْكِحُوا الْاَيَاميٰ مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَايِٕكُمْ [24: 32]
”اور اپنی قوم کی بیواؤں کے نکاح کر دیا کرو۔ اور اپنے غلاموں اور کنیزوں کے بھی جو نکاح کے قابل ہوں۔“ اس آیت میں (ایامیٰ) کا لفظ غور طلب ہے۔ ایامی ایم کی جمع ہے۔ بمعنی رنڈوا مرد بھی اور رنڈی (بیوہ) عورت بھی۔ دونوں کے لیے یہ یکساں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی بے شوہر عورت یا بے زن مرد اور اٰم یئیم أیماً کے معنی مرد کا رنڈوا یا عورت کا رانڈ (بیوہ) ہو جانا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ رنڈا خواہ مرد ہو یا بیوہ عورت ہو عمومی صورت یہی ہوتی ہے کہ ان کے ہاں اولاد ہوتی ہے۔ پھر جب ان کے پاس اولاد پہلے ہی موجود ہو، جوانی سے ڈھل چکے ہوں۔ مزید اولاد کی خواہش بھی نہ ہو تو پھر ایسے مجرد قسم کی عورتوں یا مردوں کو نکاح کرنے کا حکم کیوں دیا جا رہا ہے؟ کیا اس کا یہی مقصد باقی نہیں رہ جاتا کہ معاشرہ سے فحاشی کا کلی طور پر استحاصل ہو جائے؟ نکاح کا ایک اور اہم مقصد رشتہ اخوت و مؤدت کو مزید پائیدار اور مستحکم بنانا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 51 سال کی عمر میں حضرت عائشہؓ سے نکاح کیا تو اس کا مقصد محض حضرت ابو بکر صدیقؓ سے رشتہ مودت کو مزید مستحکم بنانا تھا۔ اس وقت آپ صاحب اولاد تھے اگرچہ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ فوت ہو چکی تھیں تاہم ان کی جگہ حضرت سودہؓ موجود تھیں۔ جنسی خواہشات بھی اتنی عمر میں ماند پڑ جاتی ہیں۔ پھر تین سال نکاح کے بعد رخصتی نہیں ہوئی۔ تو کیا اس نکاح کا مقصد صرف وہی کچھ تھا جو یہ حضرات سمجھتے ہیں؟ اور بعض دفعہ نکاح کے ذریعہ کئی قسم کے دینی و سیاسی معاشی اور معاشرتی فوائد حاصل ہوتے ہیں جو حصول اولاد سے بھی زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ آپ ذرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نظر ڈالیے کہ آپ نے کتنے نکاح کیے؟ کس عمر میں کئے؟ کس عمر کی عورتوں سے کئے اور کون کون سے مقاصد کے تحت کئے تھے؟ اور ان سب نکاحوں سے کتنی اولاد ہوئی؟ تو یہ حقیقت از خود منکشف ہو جائے گی کہ نکاح کا مقصد محض جنسی خواہشات کی تکمیل یا حصول اولاد ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بلند تر مقاصد بھی ہو سکتے ہیں۔ رہی حصول اولاد کی بات تو یہ اصل مقصد نہیں بلکہ ایک اہم مقصد کا ثمرہ ہے جو کبھی حاصل ہو جاتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ انسان کے اپنے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک بالغ جوڑے کی شادی کر دی جائے اور تا زیست ان کے ہاں اولاد نہ ہو۔ ایسی صورت میں بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ نکاح بے مقصد رہا۔ اگرچہ ایسے واقعات کی تعداد 5 فیصد سے زیادہ نہیں تاہم ان سے انکار بھی ممکن نہیں۔ پھر جب نکاح کے مقاصد میں ہی تنوع پیدا ہو گیا تو ضروری ہے کہ نکاح کی عمر، بلوغت میں بھی استثناء موجود ہو۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اگرچہ نکاح کی عمر بلوغت ہے تاہم یہ ہر عمر میں جائز ہے۔ اس لحاظ سے اگر ایک طرف نابالغ بچی کا نکاح نابالغ لڑکے، جوان اور بوڑھے سے جائز ہو سکتا ہے تو دوسری طرف ایک لڑکے کا یا نوجوان کا اپنے سے بہت بڑی عمر کی عورت، مطلقہ بلکہ دو تین بار کی مطلقہ سے بھی جائز ہے۔ اب رہا عقد کا معاملہ جس کے لیے فریقین کا عاقل بالغ ہونا ضروری ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا عقد صرف نکاح کا ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی قسم کے باہمی لین دین میں بھی ہوتا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی فریق عاقل یا بالغ نہ ہو تو اس کے سب معاملات ٹھپ ہو جائیں گے؟ یا اللہ تعالیٰ نے اس کا کوئی حل بتلایا ہے؟ چنانچہ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 282 میں جہاں لین دین کے معاہدات کی تحریر کا حکم دیا گیا وہاں ایسی صورت حال کا حل بھی بتلا دیا جو یہ ہے کہ:
معاہدات میں نادان کے حقوق کی حفاظت بذریعہ ولی:۔
﴿ فَاِنْ كَانَ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيْهًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهٗ بالْعَدْلِ [2: 282]
”پھر اگر قرض لینے والا بے عقل ہو یا کمزور ہو یا مضمون دستاویز لکھوانے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کروا دے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین صورتوں میں ولی کو معاہدہ کے فریق کا مختار بنا دیا ہے (1) نادان ہو (2) کمزور ہو اور (3) املا کروانے کی اہلیت نہ رکھتا ہو اور یہ تینوں باتیں نابالغ میں پائی جاتی ہیں۔ چہ جائیکہ صرف ایک بات پر بھی ولی کو حق اختیار مل جاتا ہے اب اگر لین دین کے معاہدہ میں نادان یا نابالغ کا ولی مختار بن سکتا ہے تو نکاح کے معاہدہ میں کیوں نہیں بن سکتا؟ واضح رہے کہ ولی کو یہ حق اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ ایسے معاہدات کی تکمیل میں ذمہ دارانہ حیثیت رکھتا ہے۔
بچپن کی شادی کی مخالفت کی اصل وجہ:۔
ہمارے جو دوست نکاح کی عمر بلوغت پر زور دیتے اور اس سے پہلے کم سنی کے نکاح کو نا جائز قرار دیتے ہیں ان کا مقصد معاشرہ کی فحاشی سے پاکیزگی نہیں ہے بلکہ وہ در اصل تہذیب مغرب سے متاثر ہو کر ایسا پرچار کرتے ہیں۔ انگلستان کے مشہور معیشت دان ”ہتھس“ نے ملک کی خوشحالی کے لیے آبادی کی روک تھام کو لازمی قرار دیا تھا۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی یہ بھی تھی کہ مردوں اور عورتوں کی شادیاں دیر سے کی جائیں تاکہ بچے کم پیدا ہوں۔ اسی نظریہ سے متاثر ہو کر ہمارے پڑھے لکھے گھرانوں میں پچیس پچیس تیس تیس سال تک شادی نہیں ہوتی۔ حالانکہ اس سے معاشرہ میں کافی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لوگ بلوغت کی عمر کے بعد بھی دس بارہ سال شادی نہ ہونے پر اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ یہ تاخیر ان کے نظریہ ”چھوٹا کنبہ خوشحال گھرانہ“ کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے اور اسی لیے یہ بچپن کی شادی کی مخالفت بھی کرتے ہیں اور سہارا بھی قرآن کا لیتے ہیں۔ ورنہ اگر یہ لوگ قرآن مجید سے مخلص ہوتے تو جو لوگ بلوغت کے بعد بھی تا دیر شادی نہیں کرتے ان کے خلاف بھی آواز اٹھاتے کیونکہ قرآن ایک صاف ستھرے معاشرے کے قیام کا حکم دیتا ہے ”چھوٹا کنبہ خوشحال گھرانہ“ کا پرچار نہیں کرتا۔ [مزيد تفصيل كے ليے ميري تصنيف ملاحظه كيجئے، آئينه پرويزيت حصه سوم]
[316] یعنی عورت کے نکاح ہو جانے میں جو معاشرتی پاکیزگی ہے۔ نکاح نہ ہونے میں نہیں اور جو معاشرتی پاکیزگی عورت کا نکاح اپنے سابقہ خاوند سے ہو جانے میں ہے وہ کسی دوسرے سے نکاح ہونے میں نہیں اور یہ ایسے امور ہیں جنہیں اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ تم نہیں جانتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ورثاء کے لئے طلاق کی مزید آئینی وضاحت ٭٭
اس آیت میں عورتوں کے ولی وارثوں کو ممانعت ہو رہی ہے کہ جب کسی عورت کو طلاق ہو جائے اور عدت بھی گزر جائے پھر میاں بیوی اپنی رضا مندی سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ انہیں نہ روکیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22/5]‏‏‏‏ اس آیت میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ عورت خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی اور نکاح بغیر ولی کے نہیں ہو سکتا چنانچہ ترمذی اور ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث وارد کی ہے کہ عورت عورت کا نکاح نہیں کر سکتی نہ عورت اپنا نکاح آپ کر سکتی ہے۔ وہ عورتیں زنا کار ہیں جو اپنا نکاح آپ کر لیں۔ [سنن ابن ماجه:1882، قال الشيخ الألباني:صحیح بدون الجملة]‏‏‏‏ دوسری حدیث میں ہے نکاح بغیر راہ یافتہ کے اور دو عادل گواہوں کے نہیں، [دار قطنی:225/3]‏‏‏‏ گو اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے لیکن اس کے بیان کی جگہ تفسیر نہیں۔ ہم اس کا بیان کتاب الاحکام میں کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ یہ آیت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ اور ان کی ہمشیرہ صاحبہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے بیان میں ہے کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری بہن کا منگیتر میرے پاس آتا تھا۔ میں نے نکاح کر دیا۔ اس نے کچھ دِنوں بعد طلاق دے دی۔ پھر عدت گزر جانے کے بعد نکاح کی درخواست کی، میں نے انکار کر دیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [صحیح بخاری:4529]‏‏‏‏ جسے سن کر سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے باوجود یہ کہ قسم کھا رکھی تھی کہ میں تیرے نکاح میں نہ دوں گا، نکاح پر آمادہ ہو گئے اور کہنے لگے میں نے اللہ کا فرمان سنا اور میں نے مان لیا اور اپنے بہنوئی کو بلا کر دوبارہ نکاح کر دیا۔ [سنن ابوداود:2087، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔ ان کا نام جمیل بنت یسار رضی اللہ عنہا تھا۔ ان کے خاوند کا نام ابوالبداح رضی اللہ عنہ تھا۔ بعض نے ان کا نام فاطمہ بن یسار رضی اللہ عنہا بتایا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کے چچا کی بیٹی کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ صحیح ہے۔
پھر یہ فرمایا یہ نصیحت و وعظ کیلئے ہے جنہیں شریعت پر ایمان ہو، اللہ کا ڈر ہو، قیامت کا خوف ہو، انہیں چاہیئے کہ اپنی ولایت میں جو عورتیں ہوں انہیں ایسی حالت میں نکاح سے نہ روکیں، شریعت کی اتباع کر کے ایسی عورتوں کو ان کے خاوندوں کے نکاح میں دے دینا اور اپنی حمیت و غیرت کو جو خلاف شرع ہو، شریعت کے ماتحت کر دینا ہی تمہارے لیے بہتری اور پاکیزگی کا باعث ہے۔ ان مصلحتوں کا علم جناب باری تعالیٰ کو ہی ہے، تمہیں معلوم نہیں کہ کس کام کے کرنے میں بھلائی ہے اور کس کے چھوڑنے میں۔ یہ علم حقیقت میں اللہ رب العزت ہی کو ہے۔