ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 217

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الشَّہۡرِ الۡحَرَامِ قِتَالٍ فِیۡہِ ؕ قُلۡ قِتَالٌ فِیۡہِ کَبِیۡرٌ ؕ وَ صَدٌّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ کُفۡرٌۢ بِہٖ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ٭ وَ اِخۡرَاجُ اَہۡلِہٖ مِنۡہُ اَکۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ الۡفِتۡنَۃُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ ؕ وَ لَا یَزَالُوۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ حَتّٰی یَرُدُّوۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ؕ وَ مَنۡ یَّرۡتَدِدۡ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتۡ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۱۷﴾
وہ تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستے سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے (روکنا) اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ بڑا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ بڑا ہے۔ اور وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے، یہاں تک کہ تمھیں تمھارے دین سے پھیر دیں، اگر کر سکیں، اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے، پھر اس حال میں مرے کہ وہ کافر ہو تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور یہی لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہےاور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) ۔ اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے۔ اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے
En
لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ ان میں لڑائی کرنا بڑا گناه ہے، لیکن اللہ کی راه سے روکنا، اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا، اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناه ہے یہ فتنہ قتل سے بھی بڑا گناه ہے، یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہوسکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کردیں اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں، ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 217) ➊ { قِتَالٍ فِيْهِ } یہ { الشَّهْرِ الْحَرَامِ } سے بدل اشتمال ہے۔ {قِتَالٌ} مبتدا اور{كَبِيْرٌ} خبر ہے۔ {صَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ} مبتدا ہے، {كُفْرٌۢ بِهٖ} اور {اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ} کا اس پر عطف ہے اور ان سب کی خبر {اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ} ہے اور {الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} کا عطف {سَبِيْلِ اللّٰهِ} پر ہے اور {كُفْرٌۢ بِهٖ} میں {بِهٖ} کی ضمیر {سَبِيْلِ اللّٰهِ} میں مذکور لفظ {اللّٰهِ} کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور {الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} کو پہلے لانے کے بجائے {كُفْرٌۢ بِهٖ} کو پہلے لانے میں یہ حکمت ہے کہ سبیل اللہ (اسلام) سے روکنے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر مسجد حرام سے روکنے سے بڑا جرم ہے، اس لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔
➋ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب یہ چار مہینے حرمت والے ہیں، عہد جاہلیت ہی سے ان میں لوٹ مار اور خون ریزی حرام سمجھی جاتی تھی۔ واقعہ یوں ہے کہ ۲ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں فوج کا ایک دستہ جہاد کے لیے روانہ کیا۔ انھوں نے کافروں کے ایک قافلے پر حملہ کیا، جس سے ان کا ایک آدمی مارا گیا اور بعض کو مال سمیت گرفتار کرکے مدینہ لے آئے۔ یہ واقعہ رجب ۲ھ میں پیش آیا۔ کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ تم نے رجب میں جنگ کرکے اس حرمت کو توڑا ہے، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ماہ حرام میں جنگ کرنا اگرچہ واقعی بہت بڑا ہے، مگر تم تو اس سے بھی بڑے گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہو (جو یہ ہیں، اللہ کے راستے یعنی اسلام سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد حرام سے روکنا، مسجد حرام یعنی حرم مکہ میں رہنے والے صحابہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے نکالنا، اس کے علاوہ فتنہ یعنی کفر و شرک پر مسلمانوں کو مجبور کرنے کے لیے عذاب میں مبتلا کرنا قتل سے بھی بڑا جرم ہے)۔ لہٰذا اگر مسلمانوں نے تلورا اٹھالی ہے تو قابل مؤاخذہ نہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)
➌ حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی حرمت اکثر فقہاء کے نزدیک سورۂ توبہ کی آیت: «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۵] کے ساتھ منسوخ ہو چکی ہے (الجصاص) مگر سورۂ توبہ ہی کی آیت: «اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۳۶] اس آیت میں ہے: «مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ» ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ پھر فرمایا: «فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً» [التوبۃ: ۳۶] سو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور کافروں سے ہر حال میں لڑو، جیسے وہ ہر حال میں تم سے لڑتے ہیں۔ اور «اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ» [البقرۃ: ۱۹۴] حرمت والا مہینا حرمت والے مہینے کے بدلے ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حرمت والے مہینوں میں لڑنے کی اجازت کا سبب یہ ہے کہ کفار چونکہ ان مہینوں میں بھی مسلمانوں سے لڑنے کے لیے آمادہ رہتے ہیں، اس لیے مسلمانوں پر بھی ان مہینوں میں نہ لڑنے کی کوئی پابندی نہیں۔ اگر فی الواقع کفار ان مہینوں کی حرمت کی پاس داری کریں تو مسلمانوں کو بھی کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے آخری حج کے خطبہ میں بھی ان مہینوں کی حرمت کا ذکر فرمایا۔ عطاء اور بہت سے اہل علم کا یہ قول ہے اور یہی درست معلوم ہوتا ہے۔
➍ { وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے آیت: «وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ» [البقرۃ: ۱۹۱]
➎ {اِنِ اسْتَطَاعُوْا:} یہ اس بات کی بشارت ہے کہ کفار بے شمار لڑائیوں کے باوجود کبھی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے کہ تمام مسلمانوں کو دین سے مرتد کر دیں۔ اسلام کو سربلند رکھنے والے کچھ لوگ ہمیشہ ان کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ دیکھیے سورۂ فتح کی آخری آیات اور سورۂ صف کی آیت (۸،۹)۔
➏ { حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ:} اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص(نعوذ باللہ) مرتد ہو جائے اور اسی حالت میں مر جائے تو اس کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں، لیکن اگر پھر سچے دل سے تائب ہو کر اسلام قبول کرے تو مرتد ہونے سے پہلے کے اعمال ضائع نہیں جاتے بلکہ ان کا بھی ثواب مل جاتا ہے۔ (فتح البیان)
اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے اور توبہ نہ کرے تو اس کی سزا قتل ہے، جو «حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا» دنیا میں ان کے اعمال ضائع ہونے کا نتیجہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہُ فَاقْتُلُوْہُ] [بخاری، الجہاد، والسیر، باب لا یعذب بعذاب اللہ: ۳۰۱۷] جو اپنا دین (اسلام) بدل لے اسے قتل کر دو۔ اسلام کی وجہ سے دنیا میں حاصل جان و مال اور عزت کی حرمت، مرنے کے بعد جنازہ اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن، مسلمان بیوی کی زوجیت، وراثت غرض مسلمانوں والے تمام حقوق ارتداد کی وجہ سے ختم ہو جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

217۔ 1 رجب، ذیقعد، ذوالحجہ اور محرم۔ یہ چار مہینے زمانہ جاہلیت میں بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھے جن میں قتال اور جدال ناپسندیدہ تھا اسلام نے بھی ان کی حرمت کو برقرار رکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مسلمان فوجی دستے کے ہاتھوں رجب کے مہینے میں ایک کافر قتل ہوگیا اور بعض کافر قیدی بنا لئے گئے۔ مسلمانوں کے علم میں یہ نہیں تھا کہ رجب شروع ہوگیا ہے کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ دیکھو یہ حرمت والے مہینے کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھتے جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور کہا گیا کہ یقینا حرمت والے مہینے میں قتال بڑا گناہ ہے لیکن حرمت کی دہائی دینے والوں کو اپنا عمل نظر نہیں آتا یہ خود اس سے بھی بڑے جرائم کے مرتکب ہیں یہ اللہ کے راستے سے اور مسجد حرام سے لوگوں کو روکتے ہیں اور وہاں سے مسلمانوں کو نکلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں کفر و شرک خود قتل سے بھی بڑا گناہ ہے اس لئے اگر مسلمانوں سے ایک آدھ قتل حرمت والے مہینے میں ہوگیا تو کیا ہوا؟ اس پر واویلہ کرنے کے بجائے ان کو اپنا سیاہ نامہ بھی تو دیکھ لینا چاہیئے۔ 217۔ 2 جب یہ لوگ اپنی شرارتوں، سازشوں اور تمہیں مرتد کی کوشش سے باز آنے والے نہیں تو پھر تم ان سے مقاتلہ کرنے میں شہر حرام کی وجہ سے کیوں رکے رہو۔ 217۔ 3 جو دین اسلام سے پھرجائے یعنی مرتد ہوجائے (اگر وہ توبہ نہ کرے) تو اس کی دنیاوی سزا قتل ہے جیسا کہ حدیث میں ہے اور اس آیت میں اسکی اخروی سزا بیان کی جا رہی ہے جس سے معلوم ہوا کہ ایمان کی حالت میں کئے گئے اعمال صالحہ بھی کفر کی وجہ سے کالعدم ہوجائیں گے اور جس طرح ایمان قبول کرنے سے انسان کے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اسی طرح کفر سے تمام نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں۔ تاہم قرآن کے الفاظ سے واضح ہے کہ حبط اعمال اسی وقت ہوگا جب خاتمہ کفر پر ہوگا اگر موت سے پہلے تائب ہوجائے گا تو ایسا نہیں ہوگا یعنی مرتد کی توبہ قبول ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

217۔ لوگ آپ سے حرمت والے مہینہ میں لڑائی کرنے سے متعلق پوچھتے ہیں۔ آپ ان سے کہیے کہ حرمت والے مہینہ میں جنگ کرنا (فی الواقعہ) بہت بڑا گناہ ہے۔ مگر اللہ کی راہ [286] سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے باشندوں کو وہاں سے نکال دینا اس سے بھی بڑے گناہ ہیں اور فتنہ انگیزی قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ (اور یہ سب کام تم کرتے ہو) اور یہ لوگ تو ہمیشہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے۔ حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین [287] سے برگشتہ کر دیں۔ اور تم میں سے اگر کوئی اپنے دین سے برگشتہ ہو جائے پھر اس حالت میں مرے کہ وہ کافر ہی ہو تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں [288] ضائع ہو گئے۔ اور یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے
[286] حرام مہینوں میں لڑائی:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ آدمیوں پر مشتمل ایک دستہ جمادی الثانی 2ھ کے آخر میں نخلہ کی طرف بھیجا (جو مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے) تاکہ کفار مکہ کی نقل و حرکت کے متعلق معلومات حاصل کرے۔ کیونکہ ان کی طرف سے مدینہ پر چڑھائی کا ہر آن خطرہ موجود تھا اس دستہ کو کفار کا ایک تجارتی قافلہ ملا۔ جس پر انہوں نے حملہ کر دیا اور ایک آدمی کو قتل کر دیا اور باقی لوگوں کو گرفتار کر کے مال سمیت مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے جس کا آپ کو افسوس ہوا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ لڑنے کے لیے نہیں بھیجا تھا اور جس دن یہ لڑائی کا واقعہ ہوا اس دن مسلمانوں کے خیال کے مطابق تو 30 جمادی الثانی تھا مگر حقیقتاً وہ دن یکم رجب 2ھ تھا۔ اب کفار مکہ اور یہود اور دوسرے اسلام دشمن لوگوں نے ایک طوفان کھڑا کر دیا کہ دیکھو کہ یہ لوگ جو بڑے اللہ والے بنتے ہیں۔ ماہ حرام میں بھی خونریزی سے نہیں چوکتے۔ اسی پروپیگنڈہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ماہ حرام میں لڑنا فی الواقع بڑا گناہ ہے، مگر جو کام تم کر رہے ہو اور کرتے رہے ہو وہ تو اس گناہ سے بھی شدید جرائم ہیں۔ تم اسلام کی راہ میں روڑے اٹکاتے اور مسلمانوں کو ایذائیں دیتے ہو۔ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو۔ مسلمانوں کے مسجد میں داخلہ پر پابندیاں لگا رکھی ہیں اور تم نے مسلمانوں پر عرصہ حیات اس قدر تنگ کر دیا کہ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں سے نکل جانے پر مجبور ہو گئے۔ یہ سب جرائم ماہ حرام میں لڑائی کرنے سے بڑے جرائم ہیں۔ علاوہ ازیں جو فتنہ انگیزی کی مہم تم نے چلا رکھی ہے وہ تو قتل سے کئی گنا بڑا جرم ہے (یاد رہے کہ فتنہ سے یہاں مراد ایسی ہر قسم کی مزاحمت ہے جو ان لوگوں نے اسلام کی راہ روکنے کے لیے اختیار کر رکھی تھی) تمہیں اپنی آنکھ کا تو شہتیر بھی نظر نہیں آتا، اور مسلمانوں سے اگر غلط فہمی کی بنا پر یہ لڑائی ہو گئی تو تم نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔
[287] یعنی ان معاندین اسلام کے نزدیک تمہارا اصل جرم یہ نہیں کہ تم نے ماہ حرام میں لڑائی کی ہے بلکہ یہ ہے کہ تم مسلمان کیوں ہوئے اور اب تک کیوں اس پر قائم ہو اور اس وقت تک مجرم ہی رہو گے جب تک یہ دین چھوڑ نہ دو اور حقیقتاً وہ یہی کچھ چاہتے ہیں، یہ تمہارے بد ترین دشمن ہیں۔ لہذا ان سے ہشیار رہو۔
[288] یعنی جس طرح اسلام لانے سے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اسلام سے پھر جانے سے پہلے سے کی ہوئی تمام نیکیاں بھی برباد ہو جاتی ہیں۔ الا یہ کہ پھر توبہ کر کے مسلمان ہو جائے اور جب نیکیاں برباد ہو گئیں تو باقی صرف گناہ ہی گناہ ہوں گے، جس کا خمیازہ انہیں دائمی عذاب جہنم کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حضرمی کا قتل ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو بھیجا اور اس کا امیر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا جب وہ جانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کے صدمہ سے رو دئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا اور ان کے بدلے سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو سردار لشکر مقرر کیا اور انہیں ایک خط لکھ کر دیا اور فرمایا کہ جب تک بطن نخلہ نہ پہنچو اس خط کو نہ پڑھنا اور وہاں پہنچ کر جب اس مضمون کو دیکھو تو ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس مختصر سی جماعت کو لے کر چلے جب اس مقام پر پہنچے تو فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا اور کہا میں فرمانبرداری کے لیے تیار ہوں پھر اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور واقعہ بیان کیا دو شخص تو لوٹ گئے لیکن اور سب ساتھ چلنے کے لیے آمادہ ہو گئے آگے چل کر ابن الحضرمی کافر کو انہوں نے پایا چونکہ یہ علم نہ تھا کہ جمادی الاخری کا یہ آخری دن ہے یا رجب کا پہلا دن ہے انہوں نے اس لشکر پر حملہ کر دیا ابن الحضرمی مارا گیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ جماعت وہاں سے واپس ہوئی۔
اب مشرکین نے مسلمانوں پر اعتراض کرنا شروع کیا کہ دیکھو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی اور قتل بھی کیا اس بارے میں یہ آیت اتری [تفسیر ابن جریر الطبری:4087:صحیح]‏‏‏‏
ایک اور روایت میں ہے کہ اس جماعت میں سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عتبہ بن غزوان سلمی، سیدنا سہیل بن بیضاء، سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا واقد بن عبداللہ یربوعی رضی اللہ عنہم تھے۔ بطن نخلہ پہنچ کر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے صاف فرما دیا تھا کہ جو شخص شہادت کا آرزو مند ہو وہی آگے بڑے یہاں سے واپس جانے والے رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ رضی اللہ عنہما تھے ان کے ساتھ نہ جانے کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ان کا اونٹ گم ہو گیا تھا جس کے ڈھونڈنے میں وہ رہ گئے۔
مشرکین میں حکم بن کیسان، عثمان بن عبداللہ وغیرہ تھے۔ سیدنا واقد رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں عمرو قتل ہوا اور یہ جماعت مال غنیمت لے کر لوٹی۔ یہ پہلی غنیمت تھی جو مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملی اور یہ جانباز جماعت دو قیدیوں کو اور مال غنیمت لے کر واپس آئی مشرکین مکہ نے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنا چاہا [یہاں اصل عربی میں کچھ عبارت چھوٹ گئی ہے]‏‏‏‏ اور انہوں نے اعتراضاً کہا کہ دیکھو صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار ہیں لیکن حرمت والے مہینوں کی کوئی حرمت نہیں کرتے اور ماہ رجب میں جدال وقتال کرتے ہیں، مسلمان کہتے تھے کہ ہم نے رجب میں قتل نہیں کیا بلکہ جمادی الاخری میں لڑائی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ رجب کی پہلی رات اور جمادی الاخری کی آخری شب تھی رجب شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میان میں ہو گئی تھیں،
مشرکین کے اس اعتراض کا جواب اس آیت میں دیا جا رہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ حرام ہے لیکن اے مشرکوں تمہاری بداعمالیاں تو برائی میں اس سے بھی بڑھ کر ہیں، تم اللہ کا انکار کرتے ہو تم میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو میری مسجد سے روکتے ہو تم نے انہیں وہاں سے نکال دیا پس اپنی ان سیاہ کاریوں پر نظر ڈالو کہ یہ کس قدر بدترین کام ہیں، انہی حرمت والے مہینوں میں ہی مشرکین نے مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے روکا تھا اور وہ مجبوراً واپس ہوئے تھے اگلے سال اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں میں ہی مکہ کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ فتح کروایا۔ انہیں ان آیتوں میں لاجواب کیا گیا عمرو بن الحضرمی جو قتل کیا گیا یہ طائف سے مکہ کو آ رہا تھا، گو رجب کا چاند چڑھ چکا تھا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کو معلوم نہ تھا وہ اس رات کو جمادی الاخری کی آخری رات جانتے تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ساتھ آٹھ آدمی تھے سات تو وہی جن کے نام اوپر بیان ہوئے آٹھویں سیدنا رباب اسدی رضی اللہ عنہ تھے انہیں بدر اولیٰ سے واپسی کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا یہ سب مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہم تھے ان میں ایک بھی انصاری نہ تھا دو دن چل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نامہ مبارک کو پڑھا جس میں تحریر تھا کہ میرے اس حکم نامہ کو پڑھ کر مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں جاؤ وہاں ٹھہرو اور قریش کے قافلہ کا انتظار کرو اور ان کی خبریں معلوم کر کے مجھے پہنچاؤ یہ بزرگ یہاں سے چلے تو سب ہی چلے تھے دو صحابی جو اونٹ کو ڈھونڈنے کے لیے رہ گئے تھے وہ بھی یہاں سے ساتھ ہی تھے لیکن فرغ کے اوپر معدن پر پہنچ کر نجران میں انہیں اونٹوں کی تلاش میں رک جانا پڑا، قریشیوں کے اس قافلہ میں زیتون وغیرہ تجارتی مال تھا مشرکین میں علاوہ ان لوگوں کے جن کے نام اوپر بیان ہوئے ہیں نوفل بن عبداللہ وغیرہ بھی تھے مسلمان اول تو انہیں دیکھ کر گھبرائے لیکن پھر مشورہ کر کے مسلمانوں نے حملہ یہ سوچ کر کیا کہ اگر انہیں چھوڑ دیا تو اس رات کے بعد حرمت کا مہینہ آ جائے گا تو ہم پھر کچھ بھی نہ کر سکیں گے انہوں نے شجاعت و مردانگی کے ساتھ حملہ کیا۔
سیدنا واقد بن عبداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حضرمی کو ایسا تاک کر تیر لگایا کہ اس کا تو فیصلہ ہی ہو گیا عثمان اور حکم کو قید کر لیا اور مال وغیرہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے راستہ میں ہی سردار لشکر نے کہہ دیا تھا کہ اس مال میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے چنانچہ یہ حصہ تو الگ کر کے رکھ دیا گیا اور باقی مال صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیا اور اب تک یہ حکم نازل نہیں ہوا تھا کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنا چاہیئے، جب یہ لشکر سرکار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچا تو آپ نے واقعہ سن کر ناراضگی ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کو کب کہا تھا نہ تو قافلہ کا کچھ مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا نہ قیدیوں کو قبضہ میں کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول وفعل سے یہ مسلمان سخت نا دم ہوئے اور اپنی گنہگاری کا انہیں یقین ہو گیا پھر اور مسلمانوں نے بھی انہیں کچھ کہنا سننا شروع کیا۔
ادھر قریشیوں نے طعنہ دینا شروع کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم حرمت والے مہینوں میں بھی جدال و قتال سے باز نہیں رہتے دوسری جانب یہودیوں نے ایک بدفالی نکالی چونکہ عمرو قتل کیا گیا تھا انہوں نے کہا عمرت الحرب لڑائی پر رونق اور خوب زور و شور سے لمبی مدت تک ہو گی اس کے باپ کا نام حضرمی تھا اس سے انہوں نے فال لی کہ الحرب وقت لڑائی آ پہنچا، قاتل کا نام واقد رضی اللہ عنہ تھا جس سے انہوں نے کہا «وقدت الحرب لڑائی» کی آگ بھڑک اٹھی لیکن قدرت نے اسے برعکس کر دیا اور نتیجہ تمام تر مشرکین کے خلاف رہا اور ان کے اعتراض کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر بالفرض جنگ حرمت والے مہینہ میں ہوئی بھی ہو تو اس سے بھی بدترین تمہاری سیاہ کاریاں موجود ہیں تمہارا یہ فتنہ کہ تم دین اللہ سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی اپنی تمام تر امکانی کوششیں کر رہے ہو یہ اس قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور تم نہ تو اپنے ان کاموں سے رکتے ہو نہ توبہ کرتے ہو نہ اس پر نادم ہوتے ہو،
ان آیات کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس رنج و افسوس سے نجات پائی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ اور قیدیوں کو اپنے قبضہ میں لیا، قریشیوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بھیجا کہ ان دونوں قیدیوں کا فدیہ لے لیجئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے دونوں صحابی سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما جب آ جائیں تب آؤ مجھے ڈر ہے کہ تم انہیں ایذاء نہ پہنچاؤ چنانچہ جب وہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے لیا اور دونوں قیدیوں کو رہا کر دیا۔
سیدنا حکم بن کیسان رضی اللہ عنہ تو مسلمان ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہی رہ گئے آخر بیر معونہ کی لڑائی میں شہید ہوئے [رضی اللہ عنہ]‏‏‏‏ ہاں عثمان بن عبداللہ مکہ واپس گیا اور وہیں کفر میں ہی مرا، ان غازیوں کو یہ آیت سن کر بڑی خوشی حاصل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے حرمت والے مہینوں کی بےادبی کے سبب سے دوسرے صحابی کی چشمک کی بنا پر، کفار کے طعنہ کے باعث جو رنج و غم ان کے دلوں پر تھا سب دور ہو گیا لیکن اب یہ فکر پڑی کہ ہمیں اخروی اجر بھی ملے گا یا نہیں ہم غازیوں میں بھی شمار ہوں گے یا نہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوالات کئے گئے تو اس کے جواب میں یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [البقرہ: 218]‏‏‏‏، نازل ہوئی۔[سیرۃ ابن ھشام:183/2-186]‏‏‏‏ اور ان کی بڑی بڑی امیدیں بندھ گئیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
اسلام اور کفر کے مقابلہ میں کافروں میں سب سے پہلے یہی ابن الحضرمی مارا گیا، کفار کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ کیا حرمت والے مہینوں میں قتل کرنا جائز ہے اور اس پر یہ آیت «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» [البقرہ: 217]‏‏‏‏، نازل ہوئی یہی مال غنیمت تھا جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور سب سے پہلے پانچواں حصہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے ہی نکالا جو اسلام میں باقی رہا اور حکم الہٰ بھی اس طرح نازل ہوا اور یہی دو قیدی تھے جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھوں اسیر ہوئے، اس واقعہ کو ایک نظم میں بھی ادا کیا گیا ہے بعض تو کہتے ہیں کہ یہ اشعار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہیں لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اشعار «وكفر به والله راء وشاهد وإخراجكم من مسجد الله أهله» «لئلا يرى لله في البيت ساجد فإنا وإن عيرتمونا بقتله» «وأرجف بالإسلام باغ وحاسد سقينا من ابن الحضرمي رماحنا» «بنخلة لما أوقد الحرب واقد دما وابن عبد الله عثمان بيننا» «ينازعه غل من القد عاند» سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ہیں جو اس مختصر سے لشکر کے سردار تھے، اللہ ان سے خوش ہو۔ [آمین]‏‏‏‏