ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنۡ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسۡتَغۡفِرُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۹۹﴾
پھر اس جگہ سے واپس آئو جہاں سے سب لوگ واپس آئیں اور اللہ سے بخشش مانگو، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے
En
پھر تم اس جگہ سے لوٹو جس جگہ سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے طلب بخشش کرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 199) عرفات کا میدان حرم کی حدود سے باہر ہے، دوران حج میں تمام لوگ وہاں جاتے، مگر قریش مزدلفہ سے آگے نہ جاتے کہ ہم حرم کے رہنے والے ہیں، اس آیت میں حکم ہوا کہ سب لوگوں کے ساتھ عرفات جانا اور ان کے ساتھ وہاں سے واپس لوٹنا ضروری ہے۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
199۔ 1 مذکورہ بالا ترتیب کے مطابق عرفات جانا اور وہاں پر وقوف کر کے واپس آنا ضروری ہے لیکن عرفات چونکہ حرم سے باہر ہے اس لئے قریش مکہ عرفات تک نہیں جاتے تھے بلکہ مزدلفہ سے ہی لوٹ آتے تھے چناچہ حکم دیا جا رہا ہے جہاں سے سب لوگ لوٹ کر آتے ہیں وہیں سے لوٹ کر آؤ یعنی عرفات سے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
199۔ پھر وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے [271] ہیں اور اللہ سے بخشش مانگتے رہو۔ اللہ تعالیٰ یقیناً بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
[271] حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ: قریش اور ان کے طریقہ پر چلنے والے لوگ (عرفات کے بجائے) مزدلفہ میں وقوف کیا کرتے تھے، ان لوگوں کو حمس کہتے تھے۔ جب کہ باقی عرب عرفات کا وقوف کرتے۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو یہ حکم دیا کہ عرفات میں جائیں وہاں ٹھہریں اور وہیں سے لوٹ کر (مزدلفہ) آئیں۔ ﴿ ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ﴾
سے یہی مراد ہے۔ [بخاري، كتاب التفسير۔ باب ثم افيضوا۔۔۔] حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ (جو تمتع کی نیت سے عمرہ کے بعد احرام کھول دے) جب تک حج کا احرام نہ باندھے بیت اللہ کا نفل طواف کرتا رہے۔ پھر جب حج کا احرام باندھے اور عرفات جانے کو سوار ہو تو (حج کے بعد) جو قربانی ہو وہ کرے خواہ اونٹ ہو یا گائے یا بکری ہو، اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو حج کے دنوں میں عرفہ کے دن سے پہلے تین روزے رکھے اور اگر تیسرا روزہ عرفہ کے دن آ جائے تب بھی کوئی حرج نہیں۔ مکہ سے عرفات جائے، وہاں سے عصر کی نماز سے رات کی تاریکی ہونے تک ٹھہرے۔ پھر عرفات سے اس وقت لوٹے جب دوسرے لوگ لوٹیں اور سب لوگوں کے ساتھ رات مزدلفہ میں گزارے اللہ کا ذکر، تکبیر اور تہلیل صبح ہونے تک بہت کرتا رہے، پھر صبح کو لوگوں کے ساتھ مزدلفہ سے منیٰ لوٹے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے
﴿ ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ ﴾
اور کنکریاں مارتے وقت اسی طرح ذکر، تکبیر اور تہلیل کرتا رہے۔ [بخاري۔ حواله ايضاً]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قریش سے خطاب اور معمول نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٭٭
«”ثُمَّ“» یہاں پر خبر کا خبر پر عطف ڈالنے کے لیے ہے تاکہ ترتیب ہو جائے، گویا کہ عرفات میں ٹھہرنے والے کو حکم ملا کہ وہ یہاں سے مزدلفہ جائے تاکہ مشعر الحرام کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر کر سکے، اور یہ بھی فرما دیا کہ وہ تمام لوگوں کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے، جیسے کہ عام لوگ یہاں ٹھہرتے تھے البتہ قریشیوں نے فخر و تکبر اور نشان امتیاز کے طور پر یہ ٹھہرا لیا تھا کہ وہ حد حرم سے باہر نہیں جاتے تھے، اور حرم کی آخری حد پر ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اللہ والے ہیں اسی کے شہر کے رئیس ہیں اور اس کے گھر کے مجاور ہیں،
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ قریش اور ان کے ہم خیال لوگ مزدلفہ میں ہی رک جایا کرتے تھے اور اپنا نام حمس رکھتے تھے باقی کل عرب عرفات میں جا کر ٹھہرتے تھے اور وہیں سے لوٹتے تھے اسی لیے اسلام نے حکم دیا کہ جہاں سے عام لوگ لوٹتے ہیں تم وہی سے لوٹا کرو، [صحیح بخاری:4520] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، عطاء، قتادہ، سدی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ یہی فرماتے ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:186/4] امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی تفسیر کو پسند کرتے ہیں اور اسی پر اجماع بتاتے ہیں، مسند احمد میں ہے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا اونٹ عرفات میں گم ہو گیا میں اسے ڈھونڈنے کے لیے نکلا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں ٹھہرے ہوئے دیکھا کہنے لگا یہ کیا بات ہے کہ یہ حمس ہیں اور پھر یہاں حرم کے باہر آ کر ٹھہرے ہیں، [صحیح بخاری:1664] ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ افاضہ سے مراد یہاں مزدلفہ سے رمی جمار کے لیے منیٰ کو جاتا ہے، [صحیح بخاری:4521] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ،
اور الناس سے مراد ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں، بعض کہتے ہیں مراد امام ہے، ابن جریر فرماتے ہیں اگر اس کے خلاف اجماع کی حجت نہ ہوتی تو یہی قول رائج رہتا۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ قریش اور ان کے ہم خیال لوگ مزدلفہ میں ہی رک جایا کرتے تھے اور اپنا نام حمس رکھتے تھے باقی کل عرب عرفات میں جا کر ٹھہرتے تھے اور وہیں سے لوٹتے تھے اسی لیے اسلام نے حکم دیا کہ جہاں سے عام لوگ لوٹتے ہیں تم وہی سے لوٹا کرو، [صحیح بخاری:4520] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، عطاء، قتادہ، سدی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ یہی فرماتے ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:186/4] امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی تفسیر کو پسند کرتے ہیں اور اسی پر اجماع بتاتے ہیں، مسند احمد میں ہے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا اونٹ عرفات میں گم ہو گیا میں اسے ڈھونڈنے کے لیے نکلا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں ٹھہرے ہوئے دیکھا کہنے لگا یہ کیا بات ہے کہ یہ حمس ہیں اور پھر یہاں حرم کے باہر آ کر ٹھہرے ہیں، [صحیح بخاری:1664] ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ افاضہ سے مراد یہاں مزدلفہ سے رمی جمار کے لیے منیٰ کو جاتا ہے، [صحیح بخاری:4521] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ،
اور الناس سے مراد ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں، بعض کہتے ہیں مراد امام ہے، ابن جریر فرماتے ہیں اگر اس کے خلاف اجماع کی حجت نہ ہوتی تو یہی قول رائج رہتا۔
پھر استغفار کا ارشاد ہوتا ہے جو عموماً عبادات کے بعد فرمایا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز سے فارغ ہو کر تین مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:591] آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر تینتیس تینتیس مرتبہ پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:843] یہ بھی مروی ہے کہ عرفہ کے دن شام کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے استغفار کیا، [سنن ابن ماجه:3013، قال الشيخ الألباني:ضعیف] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ تمام استغفاروں کا سردار یہ استغفار ہے دعا «اَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّیْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَأَبُوْءُ لَکَ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لیْ فَإِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ.» [صحیح بخاری:6306] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اسے رات کے وقت پڑھ لے اگر اسی رات مر جائے گا تو قطعا جنتی ہو گا اور جو شخص اسے دن کے وقت پڑھے گا اور اسی دن مرے گا تو وہ بھی جنتی ہے۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی دعا سکھائے کہ میں نماز میں اسے پڑھا کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پڑھو دعا «اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ]» ۔ [صحیح بخاری:834] استغفار کے بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی دعا سکھائے کہ میں نماز میں اسے پڑھا کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پڑھو دعا «اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ]» ۔ [صحیح بخاری:834] استغفار کے بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔