وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ ﴿۱۸۶﴾
اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
En
اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں
En
جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعﺚ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت186) ➊ اس آیت سے پہلے اور بعد میں ماہِ رمضان کا ذکر ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ماہ رمضان، خصوصاً روزے کی حالت دعا کی قبولیت کا خاص سبب ہے اور پھر افطار کا وقت قبولیتِ دعا کا وقت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”روزے دار کے لیے افطار کے وقت ایک قبول کی جانے والی دعا ہے جو رد نہیں ہوتی۔“ [ابن ماجہ، الصیام، باب فی الصائم لا ترد دعوتہ: ۱۷۵۳]
➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے {”عِبَادِيْ“} کہہ کر اپنے بندوں پر اپنی خاص رحمت ظاہر کی ہے اور پھر اپنے قریب ہونے کا ذکر کر کے دعا کرنے کی ترغیب دی ہے، فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے جس میں نہ کوئی گناہ ہو اور نہ قطع رحمی، مگر اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے ایک عطا فرما دیتا ہے، یا تو اس کی دعا جلد قبول کر لیتا ہے، یا آخرت میں اس کا ذخیرہ کر لیتا ہے، یا اس سے اتنی برائی ٹال دیتا ہے۔“ صحابہ نے کہا: ”پھر تو ہم بہت دعا کریں گے۔“ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے پاس اس سے کہیں زیادہ ہے۔“ [مسند أحمد: ۳؍۱۸، ح: ۱1۱۳۹۔ صحیح]
➌ {فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ:} دعا کی قبولیت کے سلسلے میں دو حکم دیے، ایک تو یہ کہ ان پر بھی لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں۔ اگر کوئی شخص اللہ کے احکام پر عمل نہیں کرتا تو خواہ وہ دعویٰ کرتا رہے مگر (توبہ کے بغیر) اس کے دل میں اللہ کی رحمت کی امید کا چراغ روشن نہیں ہوتا۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۱۸) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو طویل سفر کرتا ہے، بکھرے ہوئے بالوں والا ہے، غبار سے بھرا ہوا ہے، وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے (اور کہتا ہے) ”یا رب! یا رب!“ حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور وہ حرام غذا کے ساتھ پلا بڑھا ہے تو اس کی دعا کیسے قبول کی جائے؟ [مسلم، الزکوٰۃ، باب قبول الصدقۃ …: ۱۰۱۵] دوسرا حکم یہ کہ مجھ پر ایمان لائیں اور یقین رکھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک کہ کوئی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے، بشرطیکہ جلدی بھی نہ کرے۔“ پوچھا گیا: ”یا رسول اللہ! وہ جلدی کیا ہے؟“ فرمایا: ”یہ کہ کوئی کہے کہ میں نے دعا کی اور میں نے (دوبارہ) دعا کی تو میں نے نہیں دیکھا کہ وہ میری دعا قبول کرتا ہو، سو اس وقت وہ تھک ہار کر رہ جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے۔“ [مسلم، الذکر والدعاء، باب بیان أنہ یستجاب …:2735/92]
➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے {”عِبَادِيْ“} کہہ کر اپنے بندوں پر اپنی خاص رحمت ظاہر کی ہے اور پھر اپنے قریب ہونے کا ذکر کر کے دعا کرنے کی ترغیب دی ہے، فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے جس میں نہ کوئی گناہ ہو اور نہ قطع رحمی، مگر اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے ایک عطا فرما دیتا ہے، یا تو اس کی دعا جلد قبول کر لیتا ہے، یا آخرت میں اس کا ذخیرہ کر لیتا ہے، یا اس سے اتنی برائی ٹال دیتا ہے۔“ صحابہ نے کہا: ”پھر تو ہم بہت دعا کریں گے۔“ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے پاس اس سے کہیں زیادہ ہے۔“ [مسند أحمد: ۳؍۱۸، ح: ۱1۱۳۹۔ صحیح]
➌ {فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ:} دعا کی قبولیت کے سلسلے میں دو حکم دیے، ایک تو یہ کہ ان پر بھی لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں۔ اگر کوئی شخص اللہ کے احکام پر عمل نہیں کرتا تو خواہ وہ دعویٰ کرتا رہے مگر (توبہ کے بغیر) اس کے دل میں اللہ کی رحمت کی امید کا چراغ روشن نہیں ہوتا۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۱۸) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو طویل سفر کرتا ہے، بکھرے ہوئے بالوں والا ہے، غبار سے بھرا ہوا ہے، وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے (اور کہتا ہے) ”یا رب! یا رب!“ حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور وہ حرام غذا کے ساتھ پلا بڑھا ہے تو اس کی دعا کیسے قبول کی جائے؟ [مسلم، الزکوٰۃ، باب قبول الصدقۃ …: ۱۰۱۵] دوسرا حکم یہ کہ مجھ پر ایمان لائیں اور یقین رکھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک کہ کوئی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے، بشرطیکہ جلدی بھی نہ کرے۔“ پوچھا گیا: ”یا رسول اللہ! وہ جلدی کیا ہے؟“ فرمایا: ”یہ کہ کوئی کہے کہ میں نے دعا کی اور میں نے (دوبارہ) دعا کی تو میں نے نہیں دیکھا کہ وہ میری دعا قبول کرتا ہو، سو اس وقت وہ تھک ہار کر رہ جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے۔“ [مسلم، الذکر والدعاء، باب بیان أنہ یستجاب …:2735/92]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
186۔ 1 رمضان المبارک کے احکام و مسائل کے درمیان دعا کا مسئلہ بیان کر کے یہ واضح کردیا کہ رمضان المبارک میں دعا کی بڑی فضیلت ہے جس کا خوب اہتمام کرنا چاہیے خصوصا افطاری کے وقت کو قبولیت دعا کا خاص وقت بتلایا گیا ہے۔ تاہم قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے ان آداب شرائط کو ملحوظ رکھا جائے جو قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ اسی طرح احادیث میں حرام خوراک سے بچنے اور خشوع و خضوع کا اہتمام کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
186۔ اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں کہہ دیجئے کہ میں (ان کے) قریب ہی ہوں، جب کوئی دعا کرنے والا [238۔ 1] مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں لہذا انہیں چاہیے کہ میرے احکام بجا لائیں اور مجھ پر ایمان لائیں اس طرح توقع ہے کہ وہ ہدایت پا جائیں گے
[238۔ 1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض لوگوں نے پوچھا تھا کہ ہمارا پروردگار اگر دور ہے تو ہم اسے بلند آواز سے پکارا کریں اور اگر قریب ہے تو آہستہ آواز سے پکارا کریں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بتلا دیا کہ میں تمہارے بالکل قریب ہوں۔ حتیٰ کہ تمہاری رگ جان سے بھی قریب ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صرف ان کے سوال کے جواب پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اور بھی کئی باتیں ارشاد فرما دیں جو انسانی ہدایت کے لیے ضروری تھیں اور جن سے شرکیہ عقائد کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ جب کوئی شخص مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار یا دعا کو صرف سنتا ہی نہیں بلکہ شرف قبولیت بھی بخشتا ہوں اس سے ان لوگوں کے باطل خیال کا رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ اللہ ہم گنہگاروں کی دعا کب سنتا اور قبول کرتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم کسی بزرگ اور اللہ کے پیارے کی معرفت اللہ سے اپنی حاجات طلب کریں۔ اس جواب میں عمومیت سے یہ وضاحت ہو گئی کہ جیسے اللہ اپنے پیاروں کی سنتا ہے ویسے ہی اپنے گنہگاروں کی بھی سنتا اور اسے شرف قبولیت بخشتا ہے۔ دوسری وضاحت یہ فرمائی کہ بندے میرا حکم بجا لائیں۔ مجھی سے مانگیں، دوسروں سے نہ مانگیں۔ کیونکہ پکار یا دعا بھی اصل عبادت ہے اور تیسری یہ کہ میرے متعلق اس بات کا یقین بھی رکھیں کہ میں ان کی دعا ضرور قبول کروں گا اور یہی ہوشمندی، سمجھداری اور ان کے فائدے کی بات ہے۔ دعا کی قبولیت کی شرائط و آداب:۔
واضح رہے کہ دعا کی قبولیت کے کچھ آداب ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حرام خور کی دعا قبول نہیں ہوتی اور اس بات کی صراحت احادیث صحیحہ میں موجود ہے۔ دوسری یہ کہ وہ دعا ممکنات سے ہو۔ مثلاً اگر ایک غریب آدمی جسے امور سیاست کی خبر تک نہ ہو یہ دعا کرنے لگے کہ یا اللہ مجھے اس ملک کا بادشاہ بنا دے تو ظاہر ہے کہ ایسی دعا قبول نہ ہو گی۔ نہ ہی کوئی ایسی دعا کرنی چاہیے جس کا تعلق قطع رحم یا کسی گناہ کے کام سے ہو۔ تیسری یہ دعا کی قبولیت کا بھی اللہ کے ہاں ایک مقرر وقت ہوتا ہے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں انسان کو نہ جلد بازی کرنی چاہیے اور نہ مایوس ہونا چاہیے کیونکہ بعض دفعہ دعا کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس سے کوئی نازل ہونے والی مصیبت دور کر دی جاتی ہے اور چوتھی یہ کہ جو دعا کی جائے پورے خلوص نیت سے اور تہ دل سے کی جائے۔ بے توجہی سے اور عادتاً دعا کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور پانچویں یہ کہ دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد اپنی حاجت کے لیے دعا کی جائے اور چھٹے یہ کہ اگر اسے اپنی دعا قبول ہوتی نظر نہ آ رہی ہو تو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ صرف اللہ سے دعا کرنے اور کرتے رہنے کا حکم ہے۔ اس کی قبولیت بسا اوقات اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمتوں کے تابع ہوتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کی دعا کی قبولیت سے کسی دوسرے شخص یا زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو اللہ کی حکمت کا تقاضا یہی ہو گا کہ اسے قبول نہ کرے تاہم ایسی دعا کا یہ فائدہ ضرور ہو گا کہ اس کے نامہ اعمال میں دعا مانگنے کی نیکی لکھی جائے گی اور اس کا اجر اسے آخرت میں مل جائے گا یا اس پر آنے والی کوئی بیماری یا مصیبت اٹھا لی جاتی ہے۔
پھر بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں جن میں دعا جلد قبول ہوتی ہے۔ مثلاً لیلۃ القدر میں یا سجدہ کے وقت یا جمعہ کے دن اور ان کی تفصیل کتب احادیث میں موجود ہے۔ پھر کچھ حالات بھی ایسے ہوتے ہیں جن میں دعا فوراً قبول ہوتی ہے۔ مثلاً مضطر اور مصیبت کے مارے کی دعا، یا مظلوم کی ظالم کے حق میں بددعا یا والدین کی اپنی اولاد کے حق میں بددعا۔ اس لیے کہ عادتاً والدین اپنی اولاد کے ہمیشہ خیر خواہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اولاد کے حق میں بددعا اسی وقت کر سکتے ہیں جبکہ اولاد کی طرف سے انہیں کوئی انتہائی دکھ پہنچا ہو۔
رہی اللہ کو بلند آواز یا آہستہ آواز سے پکارنے کی بات تو اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اللہ قریب ہے۔ لہٰذا اسے آہستہ آواز سے پکارنا چاہیے۔ تاہم اس میں بھی انسان کی نیت ارادہ کا بہت دخل ہے اور حسن نیت سے ہی عمل میں خوبی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ مکی دور میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نکلے تو دیکھا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ آہستہ اور پر سوز آواز سے نماز میں قرآن پاک پڑھ رہے ہیں۔ آپ آگے گئے تو دیکھا کہ حضرت عمرؓ بلند اور گرجدار آواز سے پڑھ رہے ہیں۔ صبح آپ نے پہلے حضرت ابو بکر صدیقؓ سے دریافت فرمایا کہ تم اتنی آہستہ آواز سے قرآن پاک کیوں پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس لیے کہ میرا رب میرے نزدیک ہے۔ پھر آپ نے عمرؓ سے بلند آواز سے قرآن پڑھنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میں سونے والوں کو جگاتا ہوں اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ آپ نے دونوں کے جواب سن کر دونوں کی ہی تحسین فرمائی۔
اور بعض دفعہ حالات کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ اللہ کا نام بلند آواز سے پکارا جائے جیسے حج و عمرہ کے درمیان تلبیہ پکارنا یا تکبیرات عیدین یا جہاد کے سفر میں اللہ اکبر کہنا یا دوران جنگ یا کفار کے مقابلہ اور ان کا جی جلانے کے لیے بلند آواز سے نعرہ لگانا ایسے تمام مواقع پر اللہ کو بلند آواز سے ہی پکارنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔
پھر بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں جن میں دعا جلد قبول ہوتی ہے۔ مثلاً لیلۃ القدر میں یا سجدہ کے وقت یا جمعہ کے دن اور ان کی تفصیل کتب احادیث میں موجود ہے۔ پھر کچھ حالات بھی ایسے ہوتے ہیں جن میں دعا فوراً قبول ہوتی ہے۔ مثلاً مضطر اور مصیبت کے مارے کی دعا، یا مظلوم کی ظالم کے حق میں بددعا یا والدین کی اپنی اولاد کے حق میں بددعا۔ اس لیے کہ عادتاً والدین اپنی اولاد کے ہمیشہ خیر خواہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اولاد کے حق میں بددعا اسی وقت کر سکتے ہیں جبکہ اولاد کی طرف سے انہیں کوئی انتہائی دکھ پہنچا ہو۔
رہی اللہ کو بلند آواز یا آہستہ آواز سے پکارنے کی بات تو اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اللہ قریب ہے۔ لہٰذا اسے آہستہ آواز سے پکارنا چاہیے۔ تاہم اس میں بھی انسان کی نیت ارادہ کا بہت دخل ہے اور حسن نیت سے ہی عمل میں خوبی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ مکی دور میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نکلے تو دیکھا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ آہستہ اور پر سوز آواز سے نماز میں قرآن پاک پڑھ رہے ہیں۔ آپ آگے گئے تو دیکھا کہ حضرت عمرؓ بلند اور گرجدار آواز سے پڑھ رہے ہیں۔ صبح آپ نے پہلے حضرت ابو بکر صدیقؓ سے دریافت فرمایا کہ تم اتنی آہستہ آواز سے قرآن پاک کیوں پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس لیے کہ میرا رب میرے نزدیک ہے۔ پھر آپ نے عمرؓ سے بلند آواز سے قرآن پڑھنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میں سونے والوں کو جگاتا ہوں اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ آپ نے دونوں کے جواب سن کر دونوں کی ہی تحسین فرمائی۔
اور بعض دفعہ حالات کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ اللہ کا نام بلند آواز سے پکارا جائے جیسے حج و عمرہ کے درمیان تلبیہ پکارنا یا تکبیرات عیدین یا جہاد کے سفر میں اللہ اکبر کہنا یا دوران جنگ یا کفار کے مقابلہ اور ان کا جی جلانے کے لیے بلند آواز سے نعرہ لگانا ایسے تمام مواقع پر اللہ کو بلند آواز سے ہی پکارنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دعا اور اللہ مجیب الدعوات ٭٭
ایک اعرابی نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارا رب قریب ہے؟ اگر قریب ہو تو ہم اس سے سرگوشیاں کر لیں یا دور ہے؟ اگر دور ہو تو ہم اونچی اونچی آوازوں سے اسے پکاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری. [تفسیر ابن جریر الطبری:480/3] ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال پر کہ ہمارا رب کہاں ہے؟ یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:481/3] عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آیت «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ» [40۔ غافر: 60] نازل ہوئی یعنی مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کرتا رہوں گا تو لوگوں نے پوچھا کہ دعا کس وقت کرنی چاہیئے؟ اس پر یہ آیت اتری [تفسیر ابن جریر الطبری:2915]۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے ہر بلندی پر چڑھتے وقت اور ہر وادی میں اترتے وقت بلند آوازوں سے تکبیر کہتے جا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ کر فرمانے لگے لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو تم کسی کم سننے والے یا دور والے کو نہیں پکار رہے بلکہ جسے تم پکارتے ہو وہ تم سے تمہاری سواریوں کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ! سن لو! جنت کا خزانہ «لاحول ولاقوۃ الا باللہ» ہے [صحیح بخاری:6384]
سیدنا انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ میرے ساتھ جیسا عقیدہ رکھتا ہے میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتا ہوں جب بھی وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے میں اس کے قریب ہی ہوتا ہوں [صحیح مسلم:2686] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جب مجھے یاد کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں ہلتے ہیں میں اس کے قریب ہوتا ہوں اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه:379، قال الشيخ الألباني:صحیح] اس مضمون کی آیت کلام پاک میں بھی ہے فرمان ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ» [16۔ النحل: 128] جو تقویٰ و احسان و خلوص والے لوگ ہوں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے، موسیٰ اور ہارون علیہما السلام سے فرمایا جاتا ہے آیت «اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى» [20۔ طہٰ: 46] میں تم دونوں کے ساتھ ہوں اور دیکھ رہا ہوں، مقصود یہ ہے کہ باری تعالیٰ دعا کرنے والوں کی دعا کو ضائع نہیں کرتا نہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس دعا سے غافل رہے یا نہ سنے اس نے دعا کرنے کی دعوت دی ہے اور اس کے ضائع نہ ہونے کا وعدہ کیا ہے۔
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ بلند کر کے دعا مانگتا ہے تو وہ «ارحم الراحمین» اس کے ہاتھوں کو خالی پھیرتے ہوئے شرماتا ہے۔ [سنن ابوداود:1488، قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ میرے ساتھ جیسا عقیدہ رکھتا ہے میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتا ہوں جب بھی وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے میں اس کے قریب ہی ہوتا ہوں [صحیح مسلم:2686] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جب مجھے یاد کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں ہلتے ہیں میں اس کے قریب ہوتا ہوں اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه:379، قال الشيخ الألباني:صحیح] اس مضمون کی آیت کلام پاک میں بھی ہے فرمان ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ» [16۔ النحل: 128] جو تقویٰ و احسان و خلوص والے لوگ ہوں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے، موسیٰ اور ہارون علیہما السلام سے فرمایا جاتا ہے آیت «اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى» [20۔ طہٰ: 46] میں تم دونوں کے ساتھ ہوں اور دیکھ رہا ہوں، مقصود یہ ہے کہ باری تعالیٰ دعا کرنے والوں کی دعا کو ضائع نہیں کرتا نہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس دعا سے غافل رہے یا نہ سنے اس نے دعا کرنے کی دعوت دی ہے اور اس کے ضائع نہ ہونے کا وعدہ کیا ہے۔
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ بلند کر کے دعا مانگتا ہے تو وہ «ارحم الراحمین» اس کے ہاتھوں کو خالی پھیرتے ہوئے شرماتا ہے۔ [سنن ابوداود:1488، قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں نہ گناہ ہو نہ رشتے ناتے ٹوٹتے ہوں تو اسے اللہ تین باتوں میں سے ایک ضرور عطا فرماتا ہے یا تو اس کی دعا اسی وقت قبول فرما کر اس کی منہ مانگی مراد پوری کرتا یا اسے ذخیرہ کر کے رکھ چھوڑتا ہے اور آخرت میں عطا فرماتا ہے یا اس کی وجہ سے کوئی آنے والی بلا اور مصیبت کو ٹال دیتا ہے، لوگوں نے یہ سن کر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو ہم بکثرت دعا مانگا کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کے ہاں کیا کمی ہے؟ [مسند احمد:18/3:حسن]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین کا جو مسلمان اللہ عزوجل سے دعا مانگے اسے اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے یا تو اسے اس کی منہ مانگی مراد ملتی ہے یا ویسی ہی برائی ٹلتی ہے جب تک کہ گناہ کی اور رشتہ داری کے کٹنے کی دعا نہ ہو [سنن ترمذي:3573، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک کوئی شخص دعا میں جلدی نہ کرے اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے جلدی کرنا یہ کہ کہنے لگے میں تو ہر چند دعا مانگی لیکن اللہ قبول نہیں کرتا [صحیح بخاری:6340] بخاری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اسے ثواب میں جنت عطا فرماتا ہے، صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ نامقبولیت کا خیال کر کے وہ نا امیدی کے ساتھ دعا مانگنا ترک کر دے یہ جلدی کرنا ہے۔ [صحیح مسلم:2735] ابو جعفر طبری کی تفسیر میں یہ قول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان کیا گیا ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دل مثل برتنوں کے ہیں بعض بعض سے زیادہ نگرانی کرنے والے ہوتے ہیں، اے لوگوں تم جب اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرو تو قبولیت کا یقین رکھا کرو، سنو غفلت والے دل کی دعا اللہ تعالیٰ ایک مرتبہ بھی قبول نہیں فرماتا۔ [مسند احمد:177/2:ضعیف]
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ الہٰ العالمین! عائشہ کے اس سوال کا کیا جواب ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے مراد اس سے وہ شخص ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہو اور سچی نیت اور نیک دلی کے ساتھ مجھے پکارے تو میں لبیک کہہ کر اس کی حاجت ضرور پوری کر دیتا ہوں [المیزان180/1:باطل و ضعیف جداً] یہ حدیث اسناد کی رو سے غریب ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا اے اللہ تو نے دعا کا حکم دیا ہے اور اجابت کا وعدہ فرمایا ہے میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے لاشریک اللہ میں حاضر ہوں حمد و نعمت اور ملک تیرے ہی لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں میری گواہی ہے کہ تو نرالا یکتا بیمثل اور ایک ہی ہے تو پاک ہے، بیوی بچوں سے دور ہے تیرا ہم پلہ کوئی نہیں تیری کفو کا کوئی نہیں تجھ جیسا کوئی نہیں میری گواہی کہ تیرا وعدہ سچا تیری ملاقات حق جنت و دوزخ قیامت اور دوبارہ جینا یہ سب برحق امر ہیں۔ [الدیلمی فی مسند الفردوس:1798:ضعیف جداً]
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ الہٰ العالمین! عائشہ کے اس سوال کا کیا جواب ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے مراد اس سے وہ شخص ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہو اور سچی نیت اور نیک دلی کے ساتھ مجھے پکارے تو میں لبیک کہہ کر اس کی حاجت ضرور پوری کر دیتا ہوں [المیزان180/1:باطل و ضعیف جداً] یہ حدیث اسناد کی رو سے غریب ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا اے اللہ تو نے دعا کا حکم دیا ہے اور اجابت کا وعدہ فرمایا ہے میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے لاشریک اللہ میں حاضر ہوں حمد و نعمت اور ملک تیرے ہی لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں میری گواہی ہے کہ تو نرالا یکتا بیمثل اور ایک ہی ہے تو پاک ہے، بیوی بچوں سے دور ہے تیرا ہم پلہ کوئی نہیں تیری کفو کا کوئی نہیں تجھ جیسا کوئی نہیں میری گواہی کہ تیرا وعدہ سچا تیری ملاقات حق جنت و دوزخ قیامت اور دوبارہ جینا یہ سب برحق امر ہیں۔ [الدیلمی فی مسند الفردوس:1798:ضعیف جداً]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے اے ابن آدم! ایک چیز تو تیری ہے ایک میری ہے اور ایک مجھ اور تجھ میں مشترک ہے خالص میرا حق تو یہ ہے کہ ایک میری ہی عبادت کرے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ گویا میرے لیے مخصوص یہ ہے کہ تیرے ہر ہر عمل کا پورا پورا بدلہ میں تجھے ضرور دوں گا کسی نیکی کو ضائع نہ کروں گا مشترک چیز یہ ہے کہ تو دعا کر اور میں قبول کروں تیرا کام دعا کرنا اور میرا کام قبول کرنا [بزار فی کشف الاستار:؛18/1:ضعیف] دعا کی اس آیت کو روزوں کے احکام کی آیتوں کے درمیان وارد کرنے کی حکمت یہ ہے کہ روزے ختم ہونے کے بعد لوگوں کو دعا کی ترغیب ہو بلکہ روزہ افطار کے وقت وہ بکثرت دعائیں کیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ روزے دار افطار کے وقت جو دعا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما افطار کے وقت اپنے گھر والوں کو اور بچوں کو سب کو بلا لیتے اور دعائیں کیا کرتے تھے۔ [طیالسی:2262:ضعیف] ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے اور اس میں صحابی کی یہ دعا منقول ہے دعا «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ان تغفرلی» یعنی اے اللہ میں تیری اس رحمت کو تجھے یاد دلا کر جس نے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے گناہ معاف فرما دے۔ [سنن ابن ماجه:1753، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور حدیث میں تین شخصوں کی دعا رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ، روازے دار اور مظلوم اسے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ بلند کرے گا مظلوم کی بد دعا کے لیے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا گو دیر سے کروں۔ [سنن ترمذي:3598، قال الشيخ الألباني:ضعیف]