تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[232] سفر کی حالت میں روزہ رکھ لینا بھی جائز ہے اور چھوڑنا بھی، اور وہ اس بات کا اندازہ روزہ دار کی جسمانی قوت اور سفر کی مشقت کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔ تاہم اگر سفر میں روزہ چھوڑنا ہی بہتر ہے۔ بلکہ اگر روزہ رکھ لیا ہو اور پھر تکلیف کی شدت محسوس ہو تو روزہ کھول دینا چاہیے اور بعد میں اس کی قضا دے دینا چاہیے۔ چنانچہ غزوہ مکہ میں جو ماہ رمضان میں درپیش تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ نے روزہ رکھا ہوا تھا اور نڈھال سے ہو رہے تھے۔ مگر روزہ چھوڑنے پر آمادہ نہ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے وقت سب لوگوں کو دکھا کر پانی کا پیالہ پیا اور روزہ کھول دیا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ صحابہؓ بھی روزہ کھول دیں۔ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی روزہ کھول دیا۔ [بخاري، كتاب الصوم باب الصوم فى السفر والافطار]
نیز جابر بن عبد اللہ انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر (غزوہ فتح مکہ) میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ ہجوم دیکھا اور معلوم ہوا کہ ایک شخص (قیس عامری) پر لوگ سایہ کئے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا قصہ ہے؟ لوگوں نے کہا یہ روزہ دار ہے۔ آپ نے فرمایا ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں۔“ [بخاري: كتاب الصوم، باب قول النبى لمن ظلل عليه واشتد الحر۔۔۔]
[233] اس آیت کی تفسیر میں دو مختلف اقوال ہیں۔ پہلا یہ کہ ﴿يُطِيْقُوْنَهُ﴾ کا معنی ہی یہ ہے کہ ”جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔“ (لغت ذوی الاضداد) تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ جو لوگ لاعلاج مرض میں مبتلا ہوں یا مرض سے شفا کا امکان نظر نہ آرہا ہو یا اتنے بوڑھے ہو چکے ہوں کہ بعد میں قوت بحال ہونے کا امکان نہ ہو تو ایسے لوگ روزہ رکھنے کی بجائے فدیہ دے سکتے ہیں اور یہ صورت اب بھی بحال ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ ابتداء میں مسلمانوں کو یہ رعایت دی گئی تھی کہ چاہیں تو روزہ رکھ لیں اور چاہیں تو فدیہ دے دیں۔ جبکہ بعض لوگ اس طرح کے ضبط نفس پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے، لیکن بعد میں یہ رعایت
﴿ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْه﴾
سے ختم کر دی گئی اور حدیث سے اسی دوسرے قول کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت سلمہ بن اکوع بیان فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو جس کا جی چاہتا روزہ نہ رکھتا، اور فدیہ دے دیتا، تا آنکہ اس کے بعد
﴿ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾
نازل ہوئی اور اس نے اسے منسوخ کر دیا۔ [بخاري، كتاب التفسير زير آيت مذكوره]
[234] اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ صدقہ کی معین مقدار سے صدقہ زیادہ دے دے، دوسرا یہ کہ روزہ بھی رکھے اور فدیہ بھی دے دے۔
[235] یعنی اگر تمہیں روزہ کے ثواب کا علم ہو تو روزہ رکھنا ہی بہتر سمجھو گے اور روزہ کے ثواب کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار میری خاطر اپنا کھانا پینا اور شہوت رانی چھوڑتا ہے۔“ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ روزہ (گناہوں سے بچنے کے لئے) ڈھال ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں۔ ایک روزہ کھولتے وقت اور دوسری جب وہ اپنے پروردگار سے ملے گا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ (عمدہ) ہے۔ [بخاري كتاب التوحيد باب قول الله يريدون ان يبدلوا كلام الله]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر روزوں کی مقدار بیان ہو رہی ہے کہ یہ چند دن ہی ہیں تاکہ کسی پر بھاری نہ پڑے اور ادائیگی سے قاصر نہ رہ جائے بلکہ ذوق وشوق سے اس الٰہی فریضہ کو بجا لائے، پہلے تو ہر ماہ میں تین روزوں کا حکم تھا پھر رمضان کے روزوں کا حکم ہوا اور اگلا حکم منسوخ ہوا اس کا مفصل بیان آ رہا ہے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگلے لوگوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ تم میں سے جو شخص ماہ رمضان میں بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اس حالت میں روزے چھوڑ دے مشقت نہ اٹھائے اور اس کے بعد اور دنوں میں جبکہ یہ عذر ہٹ جائیں قضاء کر لیں، ہاں ابتداء اسلام میں جو شخص تندرست ہو اور مسافر بھی نہ ہو اسے بھی اختیار تھا خواہ روزہ رکھے خواہ نہ رکھے مگر فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دے اگر ایک سے زیادہ کو کھلائے تو افضل تھا گو روزہ رکھنا فدیہ دینے سے زیادہ بہتر تھا، سیدنا ابن مسعود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد طاؤس مقاتل رحمہ اللہ علیہم وغیرہ یہی فرماتے ہیں۔
مسند احمد میں ہے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نماز کی اور روزے کی تین حالتیں بدلی گئیں۔ [پہلی تبدیلی] پہلے تو سولہ سترہ مہینہ تک مدینہ میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف نماز ادا کی پھر «قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» [البقرہ: 144] والی آیت آئی اور مکہ شریف کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرا۔
[تیسری تبدیلی] یہ ہوئی کہ پہلے یہ دستور تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے ہیں کوئی آیا کچھ رکعتیں ہو چکی ہیں تو وہ کسی سے دریافت کرتا کہ کتنی رکعتیں ہو چکی ہیں وہ جواب دیتا کہ اتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں وہ اتنی رکعتیں ادا کرتا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جاتا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ آئے اور کہنے لگے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حال میں پاؤں گا اسی میں مل جاؤں گا اور جو نماز چھوٹ گئی ہے اسے حضور کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کروں گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی رہی ہوئی رکعتیں ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا معاذ رضی اللہ عنہ نے تمہارے لیے یہ اچھا طریقہ نکالا ہے تم بھی اب یونہی کیا کرو، یہ تین تبدیلیاں تو نماز کی ہوئیں،
روزوں کی تبدیلیاں سنیئے [اول] جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو ہر مہینہ میں تین روزے رکھتے تھے اور عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ» [2۔ البقرہ: 183] نازل فرما کر رمضان کے روزے فرض کئے۔ [دوسرا] ابتدائی یہ حکم تھا کہ جو چاہے روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے اور فدیہ دیدے پھر یہ آیت «فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ» [2۔ البقرہ: 185] تم میں سے جو شخص رمضان کے مہینے میں قیام کی حالت میں ہو وہ روزہ رکھا کرے پس جو شخص مقیم ہو مسافر نہ ہو تندرست ہو بیمار نہ ہو اس پر روزہ رکھنا ضروری ہو گیا ہاں بیمار اور مسافر کے لیے رخصت ملی اور ایسا بوڑھا انتہائی جو روزے کی طاقت ہی نہ رکھتا ہو اسے بھی رخصت دی گئی۔
بخاری مسلم میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پہلے عاشورہ کا روزہ رکھا جاتا جب رمضان کی فرضیت نازل ہوئی تو اب ضروری نہ رہا جو چاہتا رکھ لیتا جو نہ چاہتا نہ رکھتا، [صحیح بخاری:2002] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے۔ آیت «وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ» [2۔ البقرہ: 184] کا مطلب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہی کہ ابتداء اسلام میں جو چاہتا روزہ رکھتا جو چاہتا نہ رکھتا اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے بھی صحیح بخاری میں ایک روایت آئی ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے وقت جو شخص چاہتا افطار کرتا اور فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت اتری اور یہ منسوخ ہوئی، [صحیح بخاری:4507] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسے منسوخ کہتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4506] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ منسوخ نہیں مراد اس سے بوڑھا مرد اور بڑھیا عورت ہے۔ جسے روزے کی طاقت نہ ہو، [صحیح بخاری:4506] ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ، کہتے ہیں عطار رحمہ اللہ کے پاس رمضان میں گیا دیکھا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اس آیت نے پہلی آیت کا حکم منسوخ کر دیا، اب یہ حکم صرف بہت زیادہ بے طاقت بوڑھے بڑے کے لیے ہے،
حاصل کلام یہ ہے کہ جو شخص مقیم ہو اور تندرست ہو اس کے لیے یہ حکم نہیں بلکہ اسے روزہ ہی رکھنا ہو گا ہاں ایسے بوڑھے، بڑے معمر اور کمزور آدمی جنہیں روزے کی طاقت ہی نہ ہو روزہ نہ رکھیں اور نہ ان پر قضاء ضروری ہے لیکن اگر وہ مالدار ہوں تو آیا انہیں کفارہ بھی دینا پڑے گا یا نہیں ہمیں اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول تو یہ ہے کہ چونکہ اس میں روزے کی طاقت نہیں لہٰذا یہ بھی مثل بچے کے ہے نہ اس پر کفارہ ہے نہ اس پر قضاء کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا،۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما ذكر أنه فرض عليهم الصيام أخبر أنه أيام معدودات أي قليلة في غاية السهولة ثم سهل تسهيلاً آخر فقال: {فمن كان منكم مريضاً أو على سفر فعدة من أيام أخر}؛ وذلك للمشقة في الغالب رخص الله لهما في الفطر، ولما كان لا بد من حصول مصلحة الصيام لكل مؤمن أمرهما أن يقضياه في أيام أخر إذا زال المرض وانقضى السفر وحصلت الراحة، وفي قوله: {فعدة من أيام}؛ فيه دليل على أنه يقضي عدد أيام رمضان كاملاً كان أو ناقصاً وعلى أنه يجوز أن يقضي أياماً قصيرة باردة عن أيام طويلة حارة كالعكس، وقوله: {وعلى الذين يطيقونه}؛ أي: يطيقون الصيام {فدية}؛ عن كل يوم يفطرونه {طعام مسكين}؛ وهذا في ابتداء فرض الصيام لما كانوا غير معتادين للصيام وكان فرضه حتماً فيه مشقة عليهم دَرَّجَهم الربُّ الحكيم بأسهل طريق، وخَيَّرَ المطيق للصوم بين أن يصوم وهو أفضل أو يطعم ولهذا قال: {وأن تصوموا خير لكم}؛ ثم بعد ذلك جعل الصيام حتماً على المطيق، وغير المطيق يفطر ويقضيه في أيام أُخَر، وقيل: وعلى الذين يطيقون؛ أي يتكلفونه، ويشق عليهم مشقة غير محتملة كالشيخ الكبير، فدية عن كل يوم مسكين، وهذا هو الصحيح.