تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {الصِّيَامُ:} یہ مصدر ہے، یہ { ”صَوْمٌ“ } کی جمع نہیں، بلکہ { ”صَوْمٌ“ } بھی مصدر ہے، اصل میں یہ کسی بھی کام سے رک جانے کو کہتے ہیں، کھانا پینا ہو یا کلام ہو یا چلنا پھرنا، اسی لیے گھوڑا چلنے سے یا چارا کھانے سے رکا ہوا ہو تو اسے { ”فَرَسٌ صَائِمٌ“ } کہتے ہیں، رکی ہوئی ہوا کو بھی { ”صَوْمٌ“ } کہتے ہیں۔ (راغب) شریعت میں روزہ کی نیت سے صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور جماع سے رکے رہنے کا نام صوم ہے۔
➌ {لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ:} یہ روزے کی حکمت بیان فرمائی ہے کہ اسلامی روزے کا مقصد نفس کو عذاب دینا نہیں بلکہ دل میں تقویٰ یعنی بچنے کی عادت پیدا کرنا ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے صبح سے شام تک ان حلال چیزوں سے بچے گا تو وہ ان چیزوں سے جو ہمیشہ کے لیے حرام ہیں، ان سے روزہ کی حالت میں بدرجۂ اولیٰ بچے گا۔ اس طرح روزہ گناہوں سے بچنے کا اور بچنے کی عادت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ] ”روزہ (گناہوں اور آگ سے) ڈھال ہے۔“ [بخاری، الصیام، باب فضل الصوم: ۱۸۹۴] اور فرمایا: ”جو شخص جھوٹی بات اور اس پر عمل نہ چھوڑے اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔“ [بخاری، الصیام، باب من لم یدع قول الزور: ۱۹۰۳، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ] روزہ رکھ کر نماز نہ پڑھنے والے، جھوٹ بولنے والے، دھوکا دینے والے، سارا دن ٹی وی پر کان اور آنکھ کے زنا میں مصروف رہنے والے، غرض کسی بھی نافرمانی کا ارتکاب کرنے والے سوچ لیں کہ انھیں روزہ رکھنے سے کیا ملا؟
➍ پہلے لوگوں سے مراد یہود و نصاریٰ اور پہلی امتیں ہیں۔ روزے کی یہ فرضیت ۲ہجری میں نازل ہوئی اور روزے نے موجودہ شکل بتدریج اختیار کی۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ قریش (عاشورا) د س محرم کا روزہ رکھتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم بھی رکھتے تھے، جب مدینہ میں آئے تو اس دن کا روزہ رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم دیا، پھر جب رمضان(کے روزوں کا حکم) نازل ہوا تو رمضان (کے روزے) فرض ہو گئے اور عاشورا ترک ہو گیا، پھر جو چاہتا اسے رکھتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔ [بخاری، التفسیر، باب «یأیہا الذین آمنوا کتب …» : ۴۵۰۴]
➎ {وَ عَلَى الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ:} صحیح سند کے ساتھ اس کی دو تفسیریں آئی ہیں۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری: «وَ عَلَى الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ» تو جو چاہتا کہ روزہ نہ رکھے اور فدیہ دے دے تو ایسا کر لیتا، یہاں تک کہ وہ آیت اتری جو اس کے بعد ہے، تو اس آیت نے اسے منسوخ کر دیا۔ [بخاری، کتاب التفسیر، باب: «فمن شہد منکم الشہر» : ۴۵۰۷] ابن عمر رضی اللہ عنھما نے بھی یہی فرمایا۔ [بخاری، الصوم، باب: «و علی الذین یطیقونہ …» : ۱۹۴۹] یعنی چونکہ شروع میں لوگوں کو روزے کی عادت نہ تھی، اس لیے انھیں یہ رعایت دی گئی کہ جو چاہے روزہ رکھ لے جو چاہے نہ رکھے اور فدیہ دے دے، بعد میں دوسری آیت سے یہ رعایت منسوخ ہو گئی۔ اکثر علماء نے یہی تفسیر کی ہے۔
دوسری تفسیر صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے آئی ہے، انھوں نے { ”يُطِيْقُوْنَهٗ“ } کی جگہ { ”يُطَوَّقُوْنَهُ“ } پڑھا، جس کا معنی ہے: { ”يَتَجَشَّمُوْنَهٗ“ } یعنی اس سے تکلیف اٹھاتے ہیں۔ (ابن عاشور رحمہ اللہ نے {”التحرير والتنوير“} میں فرمایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے { ”يُطَوَّقُوْنَهٗ“ } کو بطور قراء ت نہیں بلکہ { ”يُطِيْقُوْنَهٗ“ } کی تفسیر کے طور پر پڑھا ہے) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، یہ منسوخ نہیں بلکہ اس سے مراد وہ بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت ہیں جو روزہ نہیں رکھ سکتے، وہ ہر دن (یعنی ہر روزے) کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ [بخاری، التفسیر، باب: «أیامًا معدودات …» : ۴۵۰۵] بخاری ہی میں مذکور ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے بوڑھے ہونے کے بعد ایک یا دو سال ہر دن ایک مسکین کو گوشت کے ساتھ روٹی کھلا دی اور روزہ نہ رکھا۔ [بخاری التفسیر، باب: {أیاما معدودات …}، قبل ح: ۴۵۰۵]
➏ {يُطِيْقُوْنَهٗ:} اس کا معنی ”جو اس (روزے) کی طاقت رکھتے ہوں “ بھی ہو سکتا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنھما نے جو معنی کیا ہے کہ ”طاقت نہ رکھتے ہوں “ وہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں باب افعال ازالۂ ماخذ کے لیے ہو گا، جیسے کہا جاتا ہے: { ”شَكَا اِلَيَّ فَأَشْكَيْتُهُ“ } اس نے میرے پاس شکایت کی تو میں نے اس کی شکایت دور کر دی۔ دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت روزے کی طاقت رکھنے والے کے حق میں منسوخ ہے اور طاقت نہ رکھنے والے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے حق میں منسوخ نہیں اور جس بیمار کے تندرست ہونے کی امید نہ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
➐ {فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا:} یعنی ایک سے زیادہ مسکینوں کو کھلا دے۔ [طبری عن ابن عباس رضی اللہ عنھما بسند صحیح] ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ ہر دن کی جگہ نصف صاع فدیہ دے دے۔ [ابن ابی حاتم بسند حسن، التفسیر الصحیح] ایک روزے کی جگہ ایک کلو اناج فدیہ دے دے یا ایک مسکین کو بلا کر کھانا کھلا دے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر روزوں کی مقدار بیان ہو رہی ہے کہ یہ چند دن ہی ہیں تاکہ کسی پر بھاری نہ پڑے اور ادائیگی سے قاصر نہ رہ جائے بلکہ ذوق وشوق سے اس الٰہی فریضہ کو بجا لائے، پہلے تو ہر ماہ میں تین روزوں کا حکم تھا پھر رمضان کے روزوں کا حکم ہوا اور اگلا حکم منسوخ ہوا اس کا مفصل بیان آ رہا ہے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگلے لوگوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ تم میں سے جو شخص ماہ رمضان میں بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اس حالت میں روزے چھوڑ دے مشقت نہ اٹھائے اور اس کے بعد اور دنوں میں جبکہ یہ عذر ہٹ جائیں قضاء کر لیں، ہاں ابتداء اسلام میں جو شخص تندرست ہو اور مسافر بھی نہ ہو اسے بھی اختیار تھا خواہ روزہ رکھے خواہ نہ رکھے مگر فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دے اگر ایک سے زیادہ کو کھلائے تو افضل تھا گو روزہ رکھنا فدیہ دینے سے زیادہ بہتر تھا، سیدنا ابن مسعود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد طاؤس مقاتل رحمہ اللہ علیہم وغیرہ یہی فرماتے ہیں۔
مسند احمد میں ہے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نماز کی اور روزے کی تین حالتیں بدلی گئیں۔ [پہلی تبدیلی] پہلے تو سولہ سترہ مہینہ تک مدینہ میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف نماز ادا کی پھر «قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» [البقرہ: 144] والی آیت آئی اور مکہ شریف کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرا۔
[تیسری تبدیلی] یہ ہوئی کہ پہلے یہ دستور تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے ہیں کوئی آیا کچھ رکعتیں ہو چکی ہیں تو وہ کسی سے دریافت کرتا کہ کتنی رکعتیں ہو چکی ہیں وہ جواب دیتا کہ اتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں وہ اتنی رکعتیں ادا کرتا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جاتا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ آئے اور کہنے لگے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حال میں پاؤں گا اسی میں مل جاؤں گا اور جو نماز چھوٹ گئی ہے اسے حضور کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کروں گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی رہی ہوئی رکعتیں ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا معاذ رضی اللہ عنہ نے تمہارے لیے یہ اچھا طریقہ نکالا ہے تم بھی اب یونہی کیا کرو، یہ تین تبدیلیاں تو نماز کی ہوئیں،
روزوں کی تبدیلیاں سنیئے [اول] جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو ہر مہینہ میں تین روزے رکھتے تھے اور عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ» [2۔ البقرہ: 183] نازل فرما کر رمضان کے روزے فرض کئے۔ [دوسرا] ابتدائی یہ حکم تھا کہ جو چاہے روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے اور فدیہ دیدے پھر یہ آیت «فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ» [2۔ البقرہ: 185] تم میں سے جو شخص رمضان کے مہینے میں قیام کی حالت میں ہو وہ روزہ رکھا کرے پس جو شخص مقیم ہو مسافر نہ ہو تندرست ہو بیمار نہ ہو اس پر روزہ رکھنا ضروری ہو گیا ہاں بیمار اور مسافر کے لیے رخصت ملی اور ایسا بوڑھا انتہائی جو روزے کی طاقت ہی نہ رکھتا ہو اسے بھی رخصت دی گئی۔
بخاری مسلم میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پہلے عاشورہ کا روزہ رکھا جاتا جب رمضان کی فرضیت نازل ہوئی تو اب ضروری نہ رہا جو چاہتا رکھ لیتا جو نہ چاہتا نہ رکھتا، [صحیح بخاری:2002] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے۔ آیت «وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ» [2۔ البقرہ: 184] کا مطلب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہی کہ ابتداء اسلام میں جو چاہتا روزہ رکھتا جو چاہتا نہ رکھتا اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے بھی صحیح بخاری میں ایک روایت آئی ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے وقت جو شخص چاہتا افطار کرتا اور فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت اتری اور یہ منسوخ ہوئی، [صحیح بخاری:4507] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسے منسوخ کہتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4506] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ منسوخ نہیں مراد اس سے بوڑھا مرد اور بڑھیا عورت ہے۔ جسے روزے کی طاقت نہ ہو، [صحیح بخاری:4506] ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ، کہتے ہیں عطار رحمہ اللہ کے پاس رمضان میں گیا دیکھا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اس آیت نے پہلی آیت کا حکم منسوخ کر دیا، اب یہ حکم صرف بہت زیادہ بے طاقت بوڑھے بڑے کے لیے ہے،
حاصل کلام یہ ہے کہ جو شخص مقیم ہو اور تندرست ہو اس کے لیے یہ حکم نہیں بلکہ اسے روزہ ہی رکھنا ہو گا ہاں ایسے بوڑھے، بڑے معمر اور کمزور آدمی جنہیں روزے کی طاقت ہی نہ ہو روزہ نہ رکھیں اور نہ ان پر قضاء ضروری ہے لیکن اگر وہ مالدار ہوں تو آیا انہیں کفارہ بھی دینا پڑے گا یا نہیں ہمیں اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول تو یہ ہے کہ چونکہ اس میں روزے کی طاقت نہیں لہٰذا یہ بھی مثل بچے کے ہے نہ اس پر کفارہ ہے نہ اس پر قضاء کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا،۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى بما منَّ الله به على عباده بأنه فرض عليهم الصيام كما فرضه على الأمم السابقة لأنه من الشرائع والأوامر التي هي مصلحة للخلق في كل زمان، وفيه تنشيط لهذه الأمة بأنه ينبغي لكم أن تنافسوا غيركم في تكميل الأعمال والمسارعة إلى صالح الخصال، وأنه ليس من الأمور الثقيلة التي اختصَّيتم بها.
ثم ذكر تعالى حكمته في مشروعية الصيام فقال: {لعلكم تتقون}؛ فإن الصيام من أكبر أسباب التقوى لأن فيه امتثال أمر الله واجتناب نهيه، فممِّا اشتمل عليه من التقوى أن الصائم يترك ما حرم الله عليه من الأكل والشرب والجماع ونحوها التي تميل إليها نفسه متقرباً بذلك إلى الله راجياً بتركها ثوابه، فهذا من التقوى، ومنها: أن الصائم يدرب نفسه على مراقبة الله تعالى فيترك ما تهوى نفسه مع قدرته عليه لعلمه باطلاع الله عليه، ومنها: أنَّ الصيام يضيق مجاري الشيطان فإنه يجري من ابن ادم مجرى الدم فبالصيام يضعف نفوذه وتقل منه المعاصي، ومنها: أن الصائم في الغالب تكثر طاعته والطاعات من خصال التقوى، ومنها: أن الغني إذا ذاق ألم الجوع أوجب له ذلك مواساة الفقراء المعدمين. وهذا من خصال التقوى.