تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ منافقین کی تشبیہ اس شخص سے کس طرح دی گئی جس نے ایک آگ خوب بھڑکائی، پھر اس کی آگ بجھ گئی اور اللہ ان کا نور لے گیا؟ جواب یہ ہے کہ دو وجہ سے، پہلی یہ کہ یہ لوگ پہلے ایمان لائے تو نور ایمان سے ان کے لیے ہر چیز روشن ہو گئی، پھر نفاق میں مبتلا ہو گئے تو وہ نور بجھ گیا اور وہ کفر و نفاق اور شکوک و شبہات کے کئی اندھیروں میں بھٹکتے رہ گئے۔ اس معنی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے: «{ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ }» [المنافقون: ۳] ” یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔“
تشبیہ کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ایمان لانے کی وجہ سے دنیا میں انھیں مسلمانوں والی عزت حاصل ہوئی، مسلمانوں کے ساتھ ان کے رشتے ناتے رہے، وہ ایک دوسرے کے وارث بنتے رہے، مال غنیمت اور دوسرے بے شمار فوائد حاصل کرتے رہے، مگر جب فوت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ عزت چھین لی، جیسے اس آگ والے سے اس کی روشنی چھین لی اور انھیں بہت سے اندھیروں (یعنی قبر، یوم محشر اور جہنم کے عذاب) میں چھوڑ دیا۔ (طبری عن ابن عباس بسند حسن)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس مثال سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں نے ایمان قبول کر کے کفر کیا تھا۔ جیسے قرآن کریم میں کئی جگہ یہ صراحت موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں سدی رحمہ اللہ سے یہی نقل کیا ہے۔ پھر کہا ہے کہ یہ تشبیہ بہت ہی درست اور صحیح ہے، اس لیے کہ اولاً تو ان منافقوں کو نور ایمان حاصل ہوا پھر ان کے نفاق کی وجہ سے وہ چھن گیا اور یہ حیرت میں پڑ گئے اور دین گم ہو جانے کی حیرت سے بڑی حیرت اور کیا ہو گی؟
دیکھئیے دوسری جگہ قرآن کریم میں ہے «ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ» [63-المنافقون:3] الخ یعنی ’ یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے ایمان کے بعد کفر کیا، پھر ان کے دلوں پر مہر لگ گئی۔ اب وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مثال میں روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے یعنی کلمہ ایمان کے ظاہر کرنے کی وجہ سے دنیا میں کچھ نور ہو گیا، کفر کے چھپانے کی وجہ سے پھر آخرت کے اندھیروں نے گھیر لیا۔ ایک جماعت کی مثال شخص واحد سے اکثر دی جاتی ہے۔
اور اس آیت کو بھی دیکھئیے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ» [31-لقمان:28] یعنی ’ تم سب کا پیدا کرنا اور مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دینا ایسا ہی ہے جیسے ایک جان کو دوبارہ زندہ کرتا ‘۔
تیسری جگہ توراۃ سیکھ کر عملی عقیدہ اس کے مطابق نہ رکھنے والوں کی مثال میں کہا گیا ہے «كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا» [62-الجمعة:5] یعنی ’ گدھے کی مانند ہیں جو کتابیں لادے ہوئے ہو ‘۔ سب آیتوں میں جماعت کی مثال ایک ہی دی گئی ہے۔
اسی طرح مذکورہ بالا آیت میں منافقوں کی جماعت کی مثال ایک شخص سے دی گئی۔ بعض کہتے ہیں تقدیر کلام یوں ہے «مثل قصتھم كقصة الذين استو قدوا نارا» یعنی ان کے واقعہ کی مثال ان لوگوں کے واقعہ کی طرح ہے جو آگ روشن کریں۔
بعض کہتے ہیں کہ آگ جلانے والا تو ایک ہے۔ لیکن مجموعی طور پر پوری جماعت اس سے محظوظ ہوتی ہے جو اس کے ساتھ ہے اور اس قسم کا اور «الذی» یہاں «الذین» کے معنی میں ہیں جیسے کہ شاعروں کے شعروں میں بھی میں بھي آتا هے ميں کہتا ہوں اس مثال میں بھی واحد کے صیغہ کے بعد ہی جمع کے صیغہ بھی ہیں۔ «بنورھم» اور «ترکھم» اور «لا یرجعون» ملاحظہ ہوں۔ اس طرح کلام میں اعلیٰ فصاحت اور بہترین خوبی بھی آ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی روشنی لے گیا اس سے مطلب یہ ہے کہ جو نور نفع دینے والا تھا وہ تو ان سے ہٹا لیا اور جس طرح آگ کے بجھ جانے کے بعد تپش اور دھواں اور اندھیرا رہ جاتا ہے اسی طرح ان کے پاس نقصان پہنچانے والی چیز یعنی شک و کفر و نفاق رہ گیا تو راہ راست کو نہ خود دیکھ سکیں نہ دوسرے کی بھلی بات سن سکیں نہ کسی سے بھلائی کا سوال کر سکیں۔ اب پھر لوٹ کر ہدایت پر آنا محال ہو گیا۔ اس کی تائید میں مفسرین کے اقوال سنئيے۔
حضرت عکرمہ، عبدالرحمٰن، حسن، سدی اور ربیع رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی منقول ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں منافقوں کی یہی حالت ہے کہ ایمان لاتے ہیں اور اس کی پاکیزہ روشنی سے ان کے دل جگمگا اٹھتے ہیں جیسے آگ کے جلانے سے آس پاس کی چیزیں روشن ہو جاتی ہیں لیکن پھر کفر اس روشنی کو کھو دیتا ہے جس طرح آگ کا بجھ جانا پھر اندھیرا کر دیتا ہے۔ مندرجہ بالا اقوال تو ہماری اس تفسیر کی تائید میں تھے کہ جن منافقوں کی یہ مثال بیان کی گئی ہے وہ ایمان لا چکے تھے پھر کفر کیا۔
قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ «لا الہ الا اللہ» کہنے سے منافق کو [دنیوی نفع مثلاً مسلمانوں میں لڑکے لڑکی کا لین دین، ورثہ کی تقسیم، جان و مال کی حفاظت وغیرہ] مل جاتا ہے لیکن چونکہ اس کے دل میں ایمان کی جڑ اور اس کے اعمال میں خلوص نہیں ہوتا اس لیے موت کے وقت وہ سب منافع سلب ہو جاتے ہیں جیسے آگ کی روشنی بجھ جائے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اندھیروں میں چھوڑ دینا سے مراد مرنے کے بعد عذاب پانا ہے۔ یہ لوگ حق کو دیکھ کر زبان سے اس کا اقرار کرتے ہیں اور ظلمت کفر سے نکل جاتے ہیں لیکن پھر اپنے کفر و نفاق کی وجہ سے ہدایت اور حق پر قائم رہنا ان سے چھن جاتا ہے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اندھیرے سے مراد ان کا نفاق ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں موت کے وقت منافقین کی بد اعمالیاں اندھیروں کی طرح ان پر چھا جاتی ہیں اور کسی بھلائی کی روشنی ان کے لیے باقی نہیں رہتی جس سے ان کی توحید کی تصدیق ہو۔ وہ بہرے ہیں، حق کے سننے اور راہ راست کو دیکھنے اور سمجھنے سے اندھے ہیں۔ ہدایت کی طرف لوٹ نہیں سکتے۔ نہ انہیں توبہ نصیب ہوتی ہے نہ نصیحت حاصل کر سکتے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: مثلهم المطابق لما كانوا عليه كمثل الذي استوقد ناراً أي: كان في ظلمة عظيمة، وحاجة إلى النار شديدة فاستوقدها من غيره، ولم تكن عنده معدة بل هي خارجة عنه، فلما أضاءت النار ما حوله، ونظر المحل الذي هو فيه وما فيه من المخاوف، وأمنها وانتفع بتلك النار، وقرت بها عينه، وظن أنه قادر عليها، فبينما هو كذلك، إذ ذهب الله بنوره؛ فزال عنه النور وذهب معه السرور، وبقي في الظلمة العظيمة والنار المحرقة؛ فذهب ما فيها من الإشراق وبقي ما فيها من الإحراق، فبقي في ظلمات متعددة: ظلمة الليل، وظلمة السحاب، وظلمة المطر، والظلمة الحاصلة بعد النور، فكيف يكون حال هذا الموصوف؟ فكذلك هؤلاء المنافقون استوقدوا نار الإيمان من المؤمنين ولم تكن صفة لهم، فاستضاؤوا بها مؤقتاً وانتفعوا؛ فحقنت بذلك دماؤهم، وسلمت أموالهم، وحصل لهم نوع من الأمن في الدنيا، فبينما هم كذلك إذ هجم عليهم الموت؛ فسلبهم الانتفاع بذلك النور، وحصل لهم كل هم وغم وعذاب، وحصل لهم ظلمة القبر، وظلمة الكفر، وظلمة النفاق، وظلمة المعاصي على اختلاف أنواعها، وبعد ذلك ظلمة النار وبئس القرار؛ فلهذا قال تعالى عنهم: