ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 16

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالۡہُدٰی ۪ فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۶﴾
یہی لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی، تو نہ ان کی تجارت نے نفع دیا اور نہ وہ ہدایت پانے والے بنے۔ En
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے۔
En
یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خرید لیا، پس نہ تو ان کی تجارت نے ان کو فائده پہنچایا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے۔ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 15 میں تا آیت 17 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

1 تجارت سے مراد ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کرنا ہے۔ جو سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ منافقین نے نفاق کا جامہ پہن کر ہی گھاٹے والی تجارت کی۔ لیکن یہ گھاٹا آخرت کا گھاٹا ہے ضروری نہیں کہ دنیا ہی میں اس گھاٹے کا انہیں علم ہوجائے۔ بلکہ دنیا میں تو اس نفاق کے ذریعے سے انہیں جو فوری فائدے حاصل ہوتے تھے، اس پر وہ بڑے خوش ہوتے اور اس کی بنیاد پر اپنے آپ کو بہت دانا اور مسلمانوں کو عقل فہم سے عاری سمجھتے تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو خرید لیا۔ ان کی اس تجارت نے انہیں کچھ نفع نہ دیا اور نہ ہی وہ ہدایت پانے والے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ایمان فروش لوگ ٭٭
سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بعض دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مروی ہے کہ انہوں نے ہدایت چھوڑ دی اور گمراہی لے لی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انہوں نے ایمان کے بدلے کفر قبول کیا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایمان لائے پھر کافر ہو گئے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہدایت پر گمراہی کو پسند کرتے ہیں۔
جیسے اور جگہ قوم ثمود کے بارے میں ہے «وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى» [32-السجدة:17]‏‏‏‏ یعنی ’ باوجود اس کے کہ ہم نے قوم ثمود کو ہدایت سے روشناس کر دیا مگر پھر بھی انہوں نے اس رہنمائی کی جگہ اندھے پن کو پسند کیا ‘۔ مطلب یہ ہوا کہ منافقین ہدایت سے ہٹ کر گمراہی پر آ گئے اور ہدایت کے بدلے گمراہی لے لی گویا ہدایت کو بیچ کر گمراہی خرید لی۔ اب ایمان لا کر پھر کافر ہوئے ہوں خواہ سرے سے ایمان ہی نصیب نہ ہوا ہو اور ان منافقین میں دونوں قسم کے لوگ تھے۔
چنانچہ قرآن میں ہے آیت «‏‏‏‏ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ» ۱؎ [63-المنافقون:3]‏‏‏‏ ’ یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ ایمان لا کر پھر کافر ہو گئے پس ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ‘ اور ایسے بھی منافق تھے جنہیں ایمان نصیب ہی نہ ہوا پس نہ تو انہیں اس سودے میں فائدہ ہوا، نہ راہ ملی، بلکہ ہدایت کے چمنستان سے نکل کر گمراہی کے خارزار میں، جماعت کے مضبوط قلعہ سے نکل کر تنہائیوں کی تنگ جیل میں، امن کے وسیع میدان سے نکل کر خوف کی اندھیری کوٹھری میں اور سنت کے پاکیزہ گلشن سے نکل کر بدعت کے سنسان جنگل میں آ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:316/1]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی وہ گمراہی میں اس طرح راغب ہوئے جیسے خریدار کسی ایسے سامان تجارت کو خریدنے کی طرف مائل ہو جسے خریدنے کی اسے سخت چاہت ہو، چنانچہ وہ اس رغبت کی وجہ سے اس میں اپنا قیمتی مال خرچ کرتا ہے اور یہ بہترین مثال ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے گمراہی کو، جو کہ برائی کی انتہا ہے، سامان تجارت سے تشبیہ دی ہے اور ہدایت کو جو کہ بھلائی کی انتہا ہے، اس سامان تجارت کی قیمت سے تشبیہ دی۔ پس انھوں نے ہدایت کو، اس میں بے رغبتی کی وجہ سے اور گمراہی میں رغبت اور چاہت کی وجہ سے، گمراہی کے بدلے میں خرچ کر دیا۔۔۔ پس یہ تھی ان کی تجارت، کتنی بری تجارت تھی اور یہ تھا ان کا سامان بیع اور کتنا برا سامان بیع تھا۔
جب کوئی شخص ایک درہم کے مقابلے میں ایک دینار خرچ کرتا ہے تو خائب و خاسر کہلاتا ہے، تب اس شخص کے خسارے کا کیا حال ہوگا جو جواہر خرچ کر کے اس کے بدلے میں ایک درہم حاصل کرتا ہے اور پھر اس شخص کا خسارہ کتنا بڑا ہوگا جو ہدایت کے بدلے گمراہی خریدتا ہے، خوش بختی کو چھوڑ کر بدبختی اختیار کرتا ہے اور بلند مقاصد کو ترک کر کے گھٹیا امور کی طرف راغب ہوتا ہے۔ اس کی تجارت نے اسے کوئی نفع نہ دیا بلکہ وہ سب سے بڑے خسارے میں مبتلا ہوگیا۔ ﴿ قُ٘لْ اِنَّ الْخٰؔسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَاَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ (الزمر: 39؍15) (اے نبی) فرما دیجیے کہ بے شک خسارہ اٹھانے والے وہ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے روز خسارے میں ڈالا۔ آگاہ رہو کہ یہی صریح خسارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ اور نہ ہوئے وہ راہ پانے والے ان کی گمراہی کو متحقق کرنے کے لیے ہے، نیز یہ کہ ہدایت سے ان کو کوئی حصہ نہیں ملا۔ پس یہ ان منافقین کے بدترین اوصاف ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے احوال کو واضح کرنے کے لیے ایک تمثیل بیان کی، فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أولئك؛ أي: المنافقون الموصوفون بتلك الصفات {الذين اشتروا الضلالة بالهدى}؛ أي: رغبوا في الضلالة رغبة المشتري في السلعة ، التي ـ من رغبته فيها ـ يبذل فيها الأموال النفيسة، وهذا من أحسن الأمثلة، فإنه جعل الضلالة التي هي غاية الشر كالسلعة، وجعل الهدى الذي هو غاية الصلاح بمنزلة الثمن، فبذلوا الهدى رغبة عنه في الضلالة رغبة فيها، فهذه تجارتهم؛ فبئس التجارة، وهذه صفقتهم؛ فبئست الصفقة.

وإذا كان من يبذل ديناراً في مقابلة درهم خاسراً فكيف من بذل جوهرة وأخذ عنها درهماً، فكيف من بذل الهدى في مقابلة الضلالة، واختار الشقاء على السعادة، ورغب في سافل الأمور وترك عاليها ، فما ربحت تجارته بل خسر فيها أعظم خسارة، أولئك الذين خسروا أنفسهم وأهليهم يوم القيامة ألا ذلك هو الخسران المبين. وقوله: {وما كانوا مهتدين}؛ تحقيق لضلالهم وأنهم لم يحصل لهم من الهداية شيء، فهذه أوصافهم القبيحة، ثم ذكر مثلهم [الكاشف لها غاية الكشف]، فقال: