تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایمان لائے پھر کافر ہو گئے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہدایت پر گمراہی کو پسند کرتے ہیں۔“
جیسے اور جگہ قوم ثمود کے بارے میں ہے «وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى» [32-السجدة:17] یعنی ’ باوجود اس کے کہ ہم نے قوم ثمود کو ہدایت سے روشناس کر دیا مگر پھر بھی انہوں نے اس رہنمائی کی جگہ اندھے پن کو پسند کیا ‘۔ مطلب یہ ہوا کہ منافقین ہدایت سے ہٹ کر گمراہی پر آ گئے اور ہدایت کے بدلے گمراہی لے لی گویا ہدایت کو بیچ کر گمراہی خرید لی۔ اب ایمان لا کر پھر کافر ہوئے ہوں خواہ سرے سے ایمان ہی نصیب نہ ہوا ہو اور ان منافقین میں دونوں قسم کے لوگ تھے۔
چنانچہ قرآن میں ہے آیت «ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ» ۱؎ [63-المنافقون:3] ’ یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ ایمان لا کر پھر کافر ہو گئے پس ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ‘ اور ایسے بھی منافق تھے جنہیں ایمان نصیب ہی نہ ہوا پس نہ تو انہیں اس سودے میں فائدہ ہوا، نہ راہ ملی، بلکہ ہدایت کے چمنستان سے نکل کر گمراہی کے خارزار میں، جماعت کے مضبوط قلعہ سے نکل کر تنہائیوں کی تنگ جیل میں، امن کے وسیع میدان سے نکل کر خوف کی اندھیری کوٹھری میں اور سنت کے پاکیزہ گلشن سے نکل کر بدعت کے سنسان جنگل میں آ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:316/1]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أولئك؛ أي: المنافقون الموصوفون بتلك الصفات {الذين اشتروا الضلالة بالهدى}؛ أي: رغبوا في الضلالة رغبة المشتري في السلعة ، التي ـ من رغبته فيها ـ يبذل فيها الأموال النفيسة، وهذا من أحسن الأمثلة، فإنه جعل الضلالة التي هي غاية الشر كالسلعة، وجعل الهدى الذي هو غاية الصلاح بمنزلة الثمن، فبذلوا الهدى رغبة عنه في الضلالة رغبة فيها، فهذه تجارتهم؛ فبئس التجارة، وهذه صفقتهم؛ فبئست الصفقة.
وإذا كان من يبذل ديناراً في مقابلة درهم خاسراً فكيف من بذل جوهرة وأخذ عنها درهماً، فكيف من بذل الهدى في مقابلة الضلالة، واختار الشقاء على السعادة، ورغب في سافل الأمور وترك عاليها ، فما ربحت تجارته بل خسر فيها أعظم خسارة، أولئك الذين خسروا أنفسهم وأهليهم يوم القيامة ألا ذلك هو الخسران المبين. وقوله: {وما كانوا مهتدين}؛ تحقيق لضلالهم وأنهم لم يحصل لهم من الهداية شيء، فهذه أوصافهم القبيحة، ثم ذكر مثلهم [الكاشف لها غاية الكشف]، فقال: