تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یعنی شیاطین ایک طرف تو معاشرے میں اخلاقی خرابیوں { ”اَلسُّوْءُ وَالْفَحْشَاءُ“ } کو فروغ دیتے ہیں اور دوسری طرف دین میں بدعات پیدا کرکے لوگوں کے عقائد و اعمال خراب کرتے ہیں۔ بغیر علم کے اللہ کے ذمے کوئی بات لگانے میں ہر وہ بات شامل ہے جو کتاب و سنت سے ثابت نہ ہو۔ مزید دیکھیے اعراف (۲۸، ۳۳)۔ پچھلی آیات کے لحاظ سے یہاں {”اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ“} سے مراد اللہ کے لیے شریک بنانا، شیطان کے کہنے پر اللہ کے حلال کردہ کو حرام قرار دینا، مثلاً بحیرہ و سائبہ وغیرہ اور اس کے حرام کو حلال سمجھنا، مثلاً مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز دینا، غرض اپنے پاس سے دین کی کوئی بھی بات بنا کر اللہ کے ذمے لگا دینا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، جیسے اور جگہ فرمایا کہ «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [35-فاطر: 6] شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن سمجھو اس کی اور اس کے دوستوں کی تو یہ عین چاہت ہے کہ لوگوں کو عذاب میں جھونکیں۔ [35-فاطر:6] اور جگہ فرمایا آیت «اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا» [18۔ الکہف: 50] کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو اپنا دوست سمجھتے ہو؟ حالانکہ حقیقتاً وہ تمہارا دشمن ہے ظالموں کے لیے برا بدلہ ہے۔ آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ» [البقرہ: 168] سے مراد اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:221/1] جس میں شیطان کا بہکاوا شامل ہوتا ہے شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ اپنے لڑکے کو ذبح کرے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ کے پاس جب یہ واقعہ پہنچا تو آپ رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ وہ شخص ایک مینڈھا ذبح کر دے ورنہ نذر شیطان کے نقش قدم سے ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دن بکرے کا پایا نمک لگا کر کھا رہے تھے ایک شخص جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ ہٹ کر دور جا بیٹھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کھاؤ اس نے کہا میں نہیں کھاؤنگا آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا روزے سے ہو؟ کہا نہیں میں تو اسے اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ شیطان کی راہ چلنا ہے اپنی قسم کا کفارہ دو اور کھا لو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنما يأمركم بالسوء}؛ أي: الشر الذي يسوء صاحبه، فيدخل في ذلك جميع المعاصي فيكون قوله، {والفحشاء}؛ من باب عطف الخاص على العام لأن الفحشاء من المعاصي ما تناهى قبحه كالزنا وشرب الخمر والقتل والقذف والبخل ونحو ذلك مما يستفحشه من له عقل {وأن تقولوا على الله مالا تعلمون}؛ فيدخل في ذلك القول على الله بلا علم في شرعه وقدره، فمن وصف الله بغير ما وصف به نفسه، أو وصفه به رسوله، أو نفى عنه ما أثبته لنفسه، أو أثبت له ما نفاه عن نفسه؛ فقد قال على الله بلا علم، ومن زعم أن لله ندًّا وأوثاناً تقرب مَنْ عَبَدَها من الله فقد قال على الله تعالى بلا علم، ومن قال: إن الله أحل كذا، أو حرم كذا، أو أمر بكذا، أو نهى عن كذا بغير بصيرة، فقد قال على الله بلا علم، ومن قال: إنَّ الله خلق هذا الصنف من المخلوقات للعلة الفلانية بلا برهان له بذلك؛ فقد قال على الله بلا علم.
ومن أعظم القول على الله بلا علم أن يتأول المتأول كلامه أو كلام رسوله على معاني اصطلح عليها طائفة من طوائف الضلال ثم يقول إن الله أرادها، فالقول على الله بلا علم من أكبر المحرمات وأشملها وأكبر طرق الشيطان التي يدعو إليها، فهذه طرق الشيطان التي يدعو إليها هو وجنوده، ويبذلون مكرهم وخداعهم على إغواء الخلق بما يقدرون عليه، وأما الله تعالى فإنه يأمر بالعدل والإحسان وإيتاء ذي القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي.
فلينظر العبد نفسه مع أي الداعيَيْنِ [هو] ومن أي الحِزْبَيْنِ؟ أتتبع داعي الله الذي يريد لك الخير والسعادة الدنيوية والأخروية الذي كل الفلاح بطاعته وكل الفوز في خدمته وجميع الأرباح في معاملة المنعم بالنعم الظاهرة والباطنة، الذي لا يأمر إلا بالخير ولا ينهى إلا عن الشرِّ، أم تتبع داعي الشيطان الذي هو عدو الإنسان الذي يريد لك الشرَّ ويسعى بجهده على إهلاكك في الدنيا والآخرة؟ الذي كل الشرِّ في طاعته وكل الخسران في ولايته، الذي لا يأمر إلا بشرٍّ ولا ينهى إلا عن خير.