ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 169

اِنَّمَا یَاۡمُرُکُمۡ بِالسُّوۡٓءِ وَ الۡفَحۡشَآءِ وَ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾
وہ تو تمھیں برائی اور بے حیائی ہی کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ تم اللہ پر وہ بات کہو جو تم نہیں جانتے۔ En
وہ تو تم کو برائی اور بےحیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں
En
وه تمہیں صرف برائی اور بےحیائی کا اور اللہ تعالیٰ پر ان باتوں کے کہنے کا حکم دیتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 169) ➊ { اَلسُّوْءُ } سے مراد کوئی بھی برائی ہے اور { اَلْفَحْشَاءُ } وہ برائی ہے جو حد سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے، مثلاً حد سے بڑھا ہوا بخل(بقرہ: ۲۶۸)، زنا (نور: ۱۹، ۲۱)، چوری، شراب اور قتل وغیرہ۔
➋ یعنی شیاطین ایک طرف تو معاشرے میں اخلاقی خرابیوں { اَلسُّوْءُ وَالْفَحْشَاءُ } کو فروغ دیتے ہیں اور دوسری طرف دین میں بدعات پیدا کرکے لوگوں کے عقائد و اعمال خراب کرتے ہیں۔ بغیر علم کے اللہ کے ذمے کوئی بات لگانے میں ہر وہ بات شامل ہے جو کتاب و سنت سے ثابت نہ ہو۔ مزید دیکھیے اعراف (۲۸، ۳۳)۔ پچھلی آیات کے لحاظ سے یہاں {اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ} سے مراد اللہ کے لیے شریک بنانا، شیطان کے کہنے پر اللہ کے حلال کردہ کو حرام قرار دینا، مثلاً بحیرہ و سائبہ وغیرہ اور اس کے حرام کو حلال سمجھنا، مثلاً مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز دینا، غرض اپنے پاس سے دین کی کوئی بھی بات بنا کر اللہ کے ذمے لگا دینا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

169۔ وہ تو تمہیں برائی اور بے حیائی [210] کا ہی حکم دے گا۔ نیز اس بات کا کہ تم اللہ کے ذمے [211] ایسی باتیں لگا دو جن کا تمہیں خود علم نہیں
[210] چونکہ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ تمہیں کوئی بری بات یا بے شرمی یا بے حیائی کی بات ہی سمجھائے گا۔ وہ بھی اس طرح کہ تمہاری نظروں میں وہ بھلی معلوم ہو۔ [211] یعنی خود ساختہ رسموں اور پابندیوں کے متعلق یہ سمجھنا یا تاثر دینا کہ یہ اللہ کے احکام ہیں جبکہ ان کے من جانب اللہ ہونے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو، اللہ کے ذمہ جھوٹ لگانے کے مترادف ہے جو بہت بڑا گناہ ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

روزی دینے والا کون؟ ٭٭
اوپر چونکہ توحید کا بیان ہوا تھا اس لیے یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ تمام مخلوق کا روزی رساں بھی وہی ہے، فرماتا ہے کہ میرا یہ احسان بھی نہ بھولو کہ میں نے تم پر پاکیزہ چیزیں حلال کیں جو تمہیں لذیذ اور مرغوب ہیں جو نہ جسم کو ضرر پہنچائیں نہ صحت کو نہ عقل و ہوش کو ضرر دیں، میں تمہیں روکتا ہوں کہ شیطان کی راہ پر نہ چلو جس طرح اور لوگوں نے اس کی چال چل کر بعض حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کر لیں، صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پروردگار عالم فرماتا ہے میں نے جو مال اپنے بندوں کو دیا ہے اسے ان کے لیے حلال کر دیا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا مگر شیطان نے اس دین حنیف سے انہیں ہٹا دیا اور میری حلال کردہ چیزوں کو ان پر حرام کر دیا۔ [صحیح مسلم:2865]‏‏‏‏
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جس وقت اس آیت کی تلاوت ہوئی تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میری دعاؤں کو قبول فرمایا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ پاک چیزیں اور حلال لقمہ کھاتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری دعائیں قبول فرماتا رہے گا قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے حرام کا لقمہ جو انسان اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے اس کی نحوست کی وجہ سے چالیس دن تک اس کی عبادت قبول نہیں ہوتی جو گوشت پوست حرام سے پلا وہ جہنمی ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1812، ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، جیسے اور جگہ فرمایا کہ «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [35-فاطر: 6]‏‏‏‏ شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن سمجھو اس کی اور اس کے دوستوں کی تو یہ عین چاہت ہے کہ لوگوں کو عذاب میں جھونکیں۔ [35-فاطر:6]‏‏‏‏ اور جگہ فرمایا آیت «اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا» [18۔ الکہف: 50]‏‏‏‏ کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو اپنا دوست سمجھتے ہو؟ حالانکہ حقیقتاً وہ تمہارا دشمن ہے ظالموں کے لیے برا بدلہ ہے۔ آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ» [البقرہ: 168]‏‏‏‏ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:221/1]‏‏‏‏ جس میں شیطان کا بہکاوا شامل ہوتا ہے شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ اپنے لڑکے کو ذبح کرے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ کے پاس جب یہ واقعہ پہنچا تو آپ رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ وہ شخص ایک مینڈھا ذبح کر دے ورنہ نذر شیطان کے نقش قدم سے ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دن بکرے کا پایا نمک لگا کر کھا رہے تھے ایک شخص جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ ہٹ کر دور جا بیٹھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کھاؤ اس نے کہا میں نہیں کھاؤنگا آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا روزے سے ہو؟ کہا نہیں میں تو اسے اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ شیطان کی راہ چلنا ہے اپنی قسم کا کفارہ دو اور کھا لو۔
ابورافع رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو وہ کہنے لگی کہ میں ایک دن یہودیہ ہوں ایک دن نصرانیہ ہوں اور میرے تمام غلام آزاد ہیں اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے، اب میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس مسئلہ پوچھنے آیا اس صورت میں کیا کیا جائے؟ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا شیطان کے قدموں کی پیروی ہے، پھر میں زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور اس وقت مدینہ بھر میں ان سے زیادہ فقیہہ عورت کوئی نہ تھی میں نے ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھا یہاں بھی یہی جواب ملا، عاصم اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی یہی فتویٰ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ جو قسم غصہ کی حالت کھائی جائے اور جو نذر ایسی حالت میں مانی جائے وہ شیطانی قدم کی تابعداری ہے اس کا کفارہ قسم کے کفارے کے برابر دیدے۔ پھر فرمایا کہ شیطان تمہیں برے کاموں اور اس سے بھی بڑھ کر زناکاری اور اس سے بھی بڑھ کر اللہ سے ان باتوں کو جوڑ لینے کو کہتا ہے جن کا تمہیں علم نہ ہو ان باتوں کو اللہ سے متعلق کرتا ہے جن کا اسے علم بھی نہیں ہوتا، لہٰذا ہر کافر اور بدعتی ان میں داخل ہے جو برائی کا حکم کرے اور بدی کی طرف رغبت دلائے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّمَا یَاْمُرُؔكُمْ بِالسُّؔوْٓءِ وہ تمھیں شر کا حکم دیتا ہے یعنی ایسے شر کا جو اپنے مرتکب کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔ پس تمام معاصی اس میں آ جاتے ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَالْفَحْشَآءِ خاص کا عطف عام پر، کے باب میں سے ہو گا کیونکہ فواحش بھی معاصی میں شمار ہوتے ہیں جن کی قباحت انتہا کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے، مثلاً زنا، شراب نوشی، قتل ناحق، تہمت اور بخل وغیرہ یہ سب ان کاموں میں سے ہیں جن کو ہر عقل مند برا سمجھتا ہے۔ ﴿ وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ اور یہ کہ تم اللہ پر ایسی باتیں کہو جن کا تمھیں علم نہیں اس میں اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی تقدیر کے بارے میں کسی علم کے بغیر بات کہنا بھی شامل ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو کسی ایسی صفت سے موصوف کرتا ہے جسے خود اس نے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں کیا یااللہ تعالیٰ کی کسی ایسی صفت کی نفی کرتا ہے جس کو خود اس نے اپنے لیے ثابت کیا ہے یا کسی ایسی صفت کو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرتا ہے جس کی خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے نفی کی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم کے بات کرتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر ہے یا بت ہیں جن کی عبادت کر کے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جا سکتا ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کرتا ہے اور جو کوئی دلیل کے بغیر یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں چیز حلال کی ہے یا فلاں چیز حرام کی ہے یا فلاں کام کا حکم دیا ہے یا فلاں کام سے روکا ہے، تو وہ بھی بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف بات منسوب کرتا ہے اور جو کوئی بغیر کسی دلیل اور برہان کے یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی فلاں صنف فلاں علت کی وجہ سے تخلیق فرمائی ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کرتا ہے اور بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی ہوئی باتوں میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تاویل کرنے والا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی ان معانی کے مطابق تاویل کرے جو کسی باطل فرقے کی اصطلاحات میں سے ہو اور پھر یہ کہے کہ یہی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔
پس بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا سب سے بڑا حرام ہے جس میں تمام گناہ شامل ہیں اور یہ شیطان کا سب سے بڑا راستہ ہے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔ یہی شیطان اور اس کے لشکروں کے راستے ہیں، جہاں وہ اپنے مکرو فریب کے جال پھیلائے رکھتے ہیں اور جتنا بس چلتا ہے مخلوق کو پھانستے رہتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ تو عدل و احسان اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے اور فواحش، منکرات اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔
پس بندہ اپنے بارے میں غور کرے کہ وہ ان دو داعیوں میں سے کس داعی اور دو گروہوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے؟ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کی پیروی کر رہا ہے جو تیرے لیے بھلائی، دنیاوی اور اخروی سعادت چاہتا ہے، وہ جس کی اطاعت تمام تر فلاح، جس کی خدمت ہر لحاظ سے کامیابی ہے اور ہر قسم کا نفع اس منعم حقیقی کے ساتھ ظاہری اور باطنی نعمتوں پر معاملہ کرنے میں ہے جو صرف بھلائی کا حکم دیتا ہے اور صرف اسی چیز سے روکتا ہے جو شر ہے۔ یا تو شیطان کے داعی کی پیروی کر رہا ہے جو انسان کا دشمن ہے جو تیرے لیے برائی چاہتا ہے اور جو تجھے دنیا و آخرت میں ہلاک کرنے کے لیے بھرپور کوشش اور جدوجہد میں مصروف ہے، وہ جو تمام تر شر، اس کی اطاعت میں اور ہر قسم کا خسارہ اس کی سرپرستی میں ہے، وہ صرف شر کا حکم دیتا ہے اور صرف اس چیز سے روکتا ہے جو خیر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنما يأمركم بالسوء}؛ أي: الشر الذي يسوء صاحبه، فيدخل في ذلك جميع المعاصي فيكون قوله، {والفحشاء}؛ من باب عطف الخاص على العام لأن الفحشاء من المعاصي ما تناهى قبحه كالزنا وشرب الخمر والقتل والقذف والبخل ونحو ذلك مما يستفحشه من له عقل {وأن تقولوا على الله مالا تعلمون}؛ فيدخل في ذلك القول على الله بلا علم في شرعه وقدره، فمن وصف الله بغير ما وصف به نفسه، أو وصفه به رسوله، أو نفى عنه ما أثبته لنفسه، أو أثبت له ما نفاه عن نفسه؛ فقد قال على الله بلا علم، ومن زعم أن لله ندًّا وأوثاناً تقرب مَنْ عَبَدَها من الله فقد قال على الله تعالى بلا علم، ومن قال: إن الله أحل كذا، أو حرم كذا، أو أمر بكذا، أو نهى عن كذا بغير بصيرة، فقد قال على الله بلا علم، ومن قال: إنَّ الله خلق هذا الصنف من المخلوقات للعلة الفلانية بلا برهان له بذلك؛ فقد قال على الله بلا علم.

ومن أعظم القول على الله بلا علم أن يتأول المتأول كلامه أو كلام رسوله على معاني اصطلح عليها طائفة من طوائف الضلال ثم يقول إن الله أرادها، فالقول على الله بلا علم من أكبر المحرمات وأشملها وأكبر طرق الشيطان التي يدعو إليها، فهذه طرق الشيطان التي يدعو إليها هو وجنوده، ويبذلون مكرهم وخداعهم على إغواء الخلق بما يقدرون عليه، وأما الله تعالى فإنه يأمر بالعدل والإحسان وإيتاء ذي القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي.

فلينظر العبد نفسه مع أي الداعيَيْنِ [هو] ومن أي الحِزْبَيْنِ؟ أتتبع داعي الله الذي يريد لك الخير والسعادة الدنيوية والأخروية الذي كل الفلاح بطاعته وكل الفوز في خدمته وجميع الأرباح في معاملة المنعم بالنعم الظاهرة والباطنة، الذي لا يأمر إلا بالخير ولا ينهى إلا عن الشرِّ، أم تتبع داعي الشيطان الذي هو عدو الإنسان الذي يريد لك الشرَّ ويسعى بجهده على إهلاكك في الدنيا والآخرة؟ الذي كل الشرِّ في طاعته وكل الخسران في ولايته، الذي لا يأمر إلا بشرٍّ ولا ينهى إلا عن خير.