ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 168

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ وَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۶۸﴾
اے لوگو! ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں حلال، پاکیزہ کھائو اور شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو، بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ En
لوگو جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ۔ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
En
لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزه چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راه پر نہ چلو، وه تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت168) سورۂ بقرہ میں {يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ} کے ساتھ خطاب دوسری مرتبہ کیا گیا ہے۔ اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو انداد (شریک) بنانے کا برا انجام ذکر کیا گیا ہے۔ مشرکین ان انداد کی تعظیم و تکریم میں اتنی زیادتی کرتے کہ عبادت اور دعا میں بھی ان کو پکارتے اور ان کے نام پر بہت سے مویشی مثلاً بحیرہ، سائبہ، وصیلہ وغیرہ حرام قرار دے دیتے، ان پر نہ سواری کرتے اور نہ ان کا گوشت کھاتے اور ان کو اللہ کے قریب ہونے کا ذریعہ سمجھتے (دیکھیے انعام: ۱۳۸، ۱۳۹) اور دوسری طرف انھوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرایا تھا، مثلاً مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز۔ چنانچہ اس آیت میں اس طرح کے حرام ٹھہرا لینے سے منع فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا، یعنی اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو اور اس کی حلال کردہ طیب چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، کیونکہ اسلام تب معتبر ہو گا جب کوئی شخص مسلمانوں کی حلال اشیاء کو حرام نہیں ٹھہرائے گا، جیسا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس نے وہ نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اس قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے۔ [بخاری، الصلٰوۃ، باب فضل استقبال القبلۃ: ۳۹۱] چنانچہ یہاں بھی فرمایا کہ شیطان کے پیچھے لگ کر ان کو حرام نہ ٹھہراؤ۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی ہر نافرمانی اور دین میں شامل کی ہوئی ہر وہ بات جو اللہ اور اس کے رسول نے نہیں بتائی، یعنی ہر بدعت شیطان کے قدموں کی پیروی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

168۔ 1 یعنی شیطان کے پیچھے لگ کر اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام مت کرو۔ جس طرح مشرکین نے کیا اپنے بتوں کے نام وقف کردہ جانوروں کو وہ حرام کرلیتے تھے، جس کی تفصیل سورة الا نعام میں آئے گی۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو حنیف پیدا کیا پس شیطان نے ان کو دین سے گمراہ کردیا اور جو چیزیں میں نے ان کے لئے حلال کی تھیں وہ اس نے ان پر حرام کردیں۔ (صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا باب الصفات التی یعرف بھافی الدنیا اھل الجنۃ واھل النار

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

168۔ لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ [208] چیزیں ہیں، وہی کھاؤ اور شیطان کے پیچھے [209] نہ لگ جاؤ۔ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے
[208] حلال سے مراد ایک تو وہ سب چیزیں ہیں جنہیں شریعت نے حرام قرار نہیں دیا۔ دوسرے وہ جنہیں انسان اپنے عمل سے حرام نہ بنا لے۔ جیسے چوری کی مرغی یا سود اور نا جائز طریقوں سے کمایا ہوا مال اور پاکیزہ سے مراد وہ صاف ستھری چیزیں ہیں جو گندی سڑی، باسی اور متعفن نہ ہو گئی ہوں۔ حرام چیزوں سے بچنے کی احادیث میں بہت تاکید آئی ہے۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
کسب حلال اور اس کی اہمیت:۔
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاک مال قبول کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا اس نے رسولوں کو حکم دیا: چنانچہ فرمایا ﴿يٰايُّهَا الرُّسُلُ..﴾ (اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو اور فرمایا اے ایمان والو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کر کے آیا ہو، اس کے بال پریشان اور خاک آلود ہوں وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! جبکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور جس غذا سے اس کا جسم بنا ہے وہ بھی حرام ہے تو پھر اس کی دعا کیسے قبول ہو گی؟ [ترمذي، ابواب التفسير مسلم، كتاب الزكوٰة باب قبول الصدقة من كسب الطيب]
حرام خور کی دعا قبول نہیں ہوتی:۔
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ گوشت جو مال حرام سے پروان چڑھا ہے وہ جنت میں داخل نہ ہو گا اور جو بھی گوشت حرام سے پروان چڑھا اس کے لیے جہنم ہی لائق تر ہے۔“ [احمد، دارمي، بحواله مشكوٰة، كتاب البيوع باب الكسب و طلب الحلال فصل ثاني]
3۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حرام مال کمائے اور پھر اس سے صدقہ کرے تو وہ صدقہ قبول نہیں ہوتا اور اگر اس سے خرچ کرے تو اس میں برکت نہیں ہوتی۔ [احمد، بحواله مشكوٰاة، كتاب البيوع باب الكسب و طلب الحلال، فصل ثاني]
حرام مال سے صدقہ قبول نہیں ہوتا:۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ کمائی سے ہی صدقہ قبول کرتا ہے۔ [مسلم، كتاب الزكوٰة، باب بيان ان اسم الصدقه يقع على كل نوع من المعروف]
حرام اور مشکوک چیزیں چھوڑنے کا حکم:۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں کہتے سنا ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اب جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچا رہا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو مشتبہ چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو کسی کی رکھ کے گرد اپنے جانوروں کو چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ رکھ میں جا گھسیں۔ سن لو ہر بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے۔ سن لو! اللہ کی رکھ اس کی زمین میں حرام کردہ چیزیں ہیں۔ [بخاري، كتاب الايمان، باب فضل من استبراء لدينه مسلم، كتاب المساقاة باب اخذ الحلال و ترك الشبهات]
6۔ عطیہ سعدیؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک اندیشہ والی چیزوں سے بچنے کی خاطر ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں کوئی اندیشہ نہیں۔“ [ترمذي، ابن ماجه، بحواله مشكوٰة، كتاب البيوع، باب الكسب و طلب الحلال]
7۔ حضرت حسن بن علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات یاد رکھی ہے کہ ”جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ اور وہ اختیار کر جو شک میں نہیں ڈالتی۔“ [احمد بحواله مشكوٰة، كتاب البيوع، باب الكسب و طلب الحلال]
8۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلال ہے یا حرام۔“ [بخاري، كتاب البيوع، باب مالم يبال من حيث كسب المال]
[209] حرام مال کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا اور شیطان کی پیروی ہے: یہاں شیطان کے پیچھے چلنے سے مراد یہ ہے جو چیزیں اللہ نے حرام نہیں کیں انہیں حرام نہ سمجھ لو، جیسے مشرکین عرب بتوں کے نام سانڈ چھوڑ دیتے تھے۔ پھر ان جانوروں کا گوشت کھانا یا ان سے کسی طرح کا بھی نفع اٹھانا حرام سمجھتے تھے یا کسی مخصوص کھانے پر اپنی طرف سے پابندیاں عائد کر کے اسے حرام قرار دے لیتے تھے۔ یہی صورت کسی حرام چیز کو حلال قرار دینے کی ہے۔ جیسے یہود نے سود کو حلال قرار دے لیا تھا۔ امیوں کا مال کھانا جائز سمجھتے تھے اور یہ شرک ہے۔ کیونکہ حلال و حرام قرار دینے کے جملہ اختیارات اللہ کو ہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے قریب میری امت میں سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو شراب کا کوئی دوسرا نام رکھ کر اس کو حلال بنا لیں گے۔ [بخاري، كتاب الاشربه، باب فيمن يستحل الخمر ويسميه بغيراسمه] اور ابو مالک کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میری امت میں سے کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجے گاجے وغیرہ کے دوسرے نام رکھ کر انہیں حلال بنا لیں گے۔ [حواله ايضاً] اور ایسی سب باتیں اللہ کی صفات میں شرک کے مترادف ہیں۔ کیونکہ حلت و حرمت کے جملہ اختیارات اللہ ہی کو ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

روزی دینے والا کون؟ ٭٭
اوپر چونکہ توحید کا بیان ہوا تھا اس لیے یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ تمام مخلوق کا روزی رساں بھی وہی ہے، فرماتا ہے کہ میرا یہ احسان بھی نہ بھولو کہ میں نے تم پر پاکیزہ چیزیں حلال کیں جو تمہیں لذیذ اور مرغوب ہیں جو نہ جسم کو ضرر پہنچائیں نہ صحت کو نہ عقل و ہوش کو ضرر دیں، میں تمہیں روکتا ہوں کہ شیطان کی راہ پر نہ چلو جس طرح اور لوگوں نے اس کی چال چل کر بعض حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کر لیں، صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پروردگار عالم فرماتا ہے میں نے جو مال اپنے بندوں کو دیا ہے اسے ان کے لیے حلال کر دیا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا مگر شیطان نے اس دین حنیف سے انہیں ہٹا دیا اور میری حلال کردہ چیزوں کو ان پر حرام کر دیا۔ [صحیح مسلم:2865]‏‏‏‏
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جس وقت اس آیت کی تلاوت ہوئی تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میری دعاؤں کو قبول فرمایا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ پاک چیزیں اور حلال لقمہ کھاتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری دعائیں قبول فرماتا رہے گا قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے حرام کا لقمہ جو انسان اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے اس کی نحوست کی وجہ سے چالیس دن تک اس کی عبادت قبول نہیں ہوتی جو گوشت پوست حرام سے پلا وہ جہنمی ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1812، ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، جیسے اور جگہ فرمایا کہ «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [35-فاطر: 6]‏‏‏‏ شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن سمجھو اس کی اور اس کے دوستوں کی تو یہ عین چاہت ہے کہ لوگوں کو عذاب میں جھونکیں۔ [35-فاطر:6]‏‏‏‏ اور جگہ فرمایا آیت «اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا» [18۔ الکہف: 50]‏‏‏‏ کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو اپنا دوست سمجھتے ہو؟ حالانکہ حقیقتاً وہ تمہارا دشمن ہے ظالموں کے لیے برا بدلہ ہے۔ آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ» [البقرہ: 168]‏‏‏‏ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:221/1]‏‏‏‏ جس میں شیطان کا بہکاوا شامل ہوتا ہے شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ اپنے لڑکے کو ذبح کرے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ کے پاس جب یہ واقعہ پہنچا تو آپ رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ وہ شخص ایک مینڈھا ذبح کر دے ورنہ نذر شیطان کے نقش قدم سے ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دن بکرے کا پایا نمک لگا کر کھا رہے تھے ایک شخص جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ ہٹ کر دور جا بیٹھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کھاؤ اس نے کہا میں نہیں کھاؤنگا آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا روزے سے ہو؟ کہا نہیں میں تو اسے اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ شیطان کی راہ چلنا ہے اپنی قسم کا کفارہ دو اور کھا لو۔
ابورافع رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو وہ کہنے لگی کہ میں ایک دن یہودیہ ہوں ایک دن نصرانیہ ہوں اور میرے تمام غلام آزاد ہیں اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے، اب میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس مسئلہ پوچھنے آیا اس صورت میں کیا کیا جائے؟ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا شیطان کے قدموں کی پیروی ہے، پھر میں زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور اس وقت مدینہ بھر میں ان سے زیادہ فقیہہ عورت کوئی نہ تھی میں نے ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھا یہاں بھی یہی جواب ملا، عاصم اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی یہی فتویٰ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ جو قسم غصہ کی حالت کھائی جائے اور جو نذر ایسی حالت میں مانی جائے وہ شیطانی قدم کی تابعداری ہے اس کا کفارہ قسم کے کفارے کے برابر دیدے۔ پھر فرمایا کہ شیطان تمہیں برے کاموں اور اس سے بھی بڑھ کر زناکاری اور اس سے بھی بڑھ کر اللہ سے ان باتوں کو جوڑ لینے کو کہتا ہے جن کا تمہیں علم نہ ہو ان باتوں کو اللہ سے متعلق کرتا ہے جن کا اسے علم بھی نہیں ہوتا، لہٰذا ہر کافر اور بدعتی ان میں داخل ہے جو برائی کا حکم کرے اور بدی کی طرف رغبت دلائے۔