ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 164

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾
بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیا اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیے اور ہوائوں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیا ہوا ہے، ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔ En
بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
En
آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لئے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمان سے پانی اتار کر، مرده زمین کو زنده کردینا، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت164) ➊ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کے الٰہ واحد(ایک معبود) ہونے کا بیان تھا، اس آیت میں اس کے ایک ہونے کے دلائل کا بیان ہے۔ قرآن نے ان آٹھ چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے ایک ہونے کے ثبوت میں کئی جگہ الگ الگ ذکر فرمایا ہے، مگر یہاں ان سب کو جمع کر دیا ہے۔ کائنات کی ان چیزوں کو خاص طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے متعلق خود مشرکین بھی مانتے تھے کہ ان کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ (کبیر)
➋ مفسر قرآن امین شنقیطی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہاں آسمان و زمین کی پیدائش میں توحید کی نشانی ہونے کی تفصیل بیان نہیں ہوئی، دوسرے مقامات پر تفصیل موجود ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ ق (۶ تا ۸) سورۂ ملک (۳ تا ۵، ۱۵) اور سورۂ لقمان (۱۱، ۱۲) اسی طرح دن رات کے بدلنے میں توحید کی نشانی ہونے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۷۱ تا ۷۳) اور اعراف (۵۴) آسمان و زمین کے درمیان بادل کے مسخر ہونے کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۵۷) اور سورۂ نور (۴۳)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

164۔ 1 یہ آیت اس لحاظ سے بڑی جامع ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے نظم و تدبیر کے متعلق سات اہم امور کا اس میں یکجا تذکرہ ہے، جو کسی آیت میں نہیں 1۔ آسمان اور زمین کی پیدائش، جن کی وسعت و عظمت محتاج بیان نہیں۔ 2۔ رات اور دن کا یکے بعد دیگرے آنا، دن کو روشنی اور رات کو اندھیرا کردینا تاکہ کاروبار معاش بھی ہو سکے اور آرام بھی۔ پھر رات کا لمبا اور دن کا چھوٹا ہونا اور پھر اس کے برعکس دن کا لمبا اور رات کا چھوٹا ہونا۔ 3۔ سمندر میں کشتیوں اور جہازوں کا چلنا، جن کے ذریعے سے تجارتی سفر بھی ہوتے ہیں اور ٹنوں کے حساب سے سامان رزق و آسائش ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے۔ 4۔ بارش جو زمین کی شادابی و روئیدگی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ 5۔ ہر قسم کے جانوروں کی پیدائش، جو نقل و حمل، کھیتی باڑی اور جنگ میں بھی کام آتے ہیں اور انسانی خوراک کی بھی ایک بڑی مقدار ان سے پوری ہوتی ہے۔ 6۔ ہر قسم کی ہوائیں ٹھنڈی بھی گرم بھی، بارآور بھی اور غیر بارآور بھی، مشرقی مغربی بھی اور شمالی جنوبی بھی۔ انسانی زندگی اور ان کی ضروریات کے مطابق۔ 7۔ بادل جنہیں اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے، برساتا ہے۔ یہ سارے امور کیا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلالت نہیں کرتے، یقینا کرتے ہیں۔ کیا اس تخلیق میں اور اس نظم و تدبیر میں اس کا کوئی شریک ہے؟ نہیں۔ یقینا نہیں۔ تو پھر اس کو چھوڑ کر دوسروں کو معبود اور حاجت روا سمجھنا کہاں کی عقلمندی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

164۔ جو لوگ کچھ سوچتے سمجھتے ہیں ان کے لیے آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، رات اور دن کے ایک دوسرے کے بعد آنے میں، ان کشتیوں میں جو لوگوں کو نفع دینے والی چیزیں لیے سمندروں میں چلتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے آسمان سے بارش نازل کرنے میں، جس سے وہ مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، اور اس میں ہر طرح کی جاندار مخلوق کو پھیلا دیتا ہے، نیز ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو زمین و آسمان کے درمیان تابع فرمان ہیں [202] بیشمار نشانیاں ہیں
[202] توحید باری پر آٹھ دلائل:۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے غور و فکر کرنے والوں کے لیے آٹھ ایسے امور کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر اور اس کی لامحدود قدرت و تصرف پر واضح دلائل ہیں۔ مثلاً اتنے عظیم الشان آسمان کو بغیر ستونوں کے پیدا کرنا اور زمین کو اس طرح بنانا کہ اس پر بسنے والی تمام مخلوق کی ضروریات کی کفیل ہے۔ دن رات کا یکے بعد دیگرے آنا جانا اور ان کے اوقات کا گھٹنا بڑھنا، جہازوں کا بڑے بڑے مہیب اور متلاطم سمندروں میں رواں ہونا آسمان سے بارش برسانا جس سے مردہ زمین زندہ ہو جاتی ہے۔ ہر جاندار میں توالد و تناسل کا سلسلہ قائم کرنا انہیں تمام روئے زمین پر پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ میں تبدیلی پیدا کرنا اور بلندیوں پر بادلوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا۔ یہ سب کام ایسے ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی بھی ہستی سرانجام نہیں دے سکتی۔ پھر اور کون سے کام ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو دوسرے دیوی دیوتاؤں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے؟ پھر مندرجہ بالا امور بیان کرنے کے بعد ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس کائنات میں ان کے علاوہ اور بھی ایسی بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ٹھوس دلائل ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اس اللہ کی فرماں روائی اور اس کی توحید کی دلیل ایک تو یہ آسمان ہے جس کی بلندی لطافت کشادگی جس کے ٹھہرے ہوئے اور چلنے پھرنے والے روشن ستارے تم دیکھ رہے ہو، پھر زمین کی پیدائش جو کثیف چیز ہے جو تمہارے قدموں تلے بچھی ہوئی ہے، جس میں بلند بلند چوٹیوں کے سر بہ فلک پہاڑ ہیں جس میں موجیں مارنے والے بے پایاں سمندر ہیں جس میں انواع واقسام کے خوش رنگ بیل بوٹے ہیں جس میں طرح طرح کی پیداوار ہوتی ہے جس میں تم رہتے سہتے ہو اور اپنی مرضی کے مطابق آرام دہ مکانات بنا کر بستے ہو اور جس سے سینکڑوں طرح کا نفع اٹھاتے ہو، پھر رات دن کا آنا جانا رات گئی دن آ گیا، دن گیا رات آ گئی۔ نہ وہ اس پر سبقت کرے نہ یہ اس پر۔ ہر ایک اپنے صحیح انداز سے آئے اور جائے کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں، کبھی دن کا کچھ حصہ رات میں جائے کبھی رات کا کچھ حصہ دن میں آ جائے، پھر کشتیوں کو دیکھو جو خود تمہیں اور تمہارے مال و اسباب اور تجارتی چیزوں کو لے کر سمندر میں ادھر سے ادھر جاتی آتی رہتی ہیں، جن کے ذریعہ اس ملک والے اس ملک والوں سے اور اس ملک والے اس ملک والوں سے رابطہٰ اور لین دین کر سکتے ہیں، یہاں کی چیزیں وہاں اور وہاں کی یہاں پہنچ سکتی ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ کا اپنی رحمت کاملہ سے بارش برسانا اور اس سے مردہ زمین کو زندہ کر دینا، اس سے اناج اور کھیتیاں پیدا کرنا، چاروں طرف ریل پیل کر دینا، زمین میں مختلف قسم کے چھوٹے بڑے کار آمد جانوروں کو پیدا کرنا ان سب کی حفاظت کرنا، انہیں روزیاں پہنچانا ان کے لیے سونے بیٹھنے چرنے چگنے کی جگہ تیار کرنا، ہواؤں کو پورب پچھم چلانا، کبھی ٹھنڈی کبھی گرم کبھی کم کبھی زیادہ، بادلوں کو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کرنا، انہیں ایک طرف سے دوسری کی طرف لے جانا، ضرورت کی جگہ برسانا وغیرہ یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن سے عقلمند اپنے اللہ کے وجود کو اور اس کی وحدانیت کو پالیتے ہیں، جیسے اور جگہ فرمایا کہ آسمان و زمین کی پیدائش اور رات دن کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں، جو اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی پیدائش میں غور فکر سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب تو نے انہیں بے کار نہیں بنایا تیری ذات پاک ہے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ [3-آل عمران:190-191]‏‏‏‏
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے ہم اس سے گھوڑے اور ہتھیار وغیرہ خریدیں اور تیرا ساتھ دیں اور ایمان بھی لائیں آپ نے فرمایا پختہ وعدے کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں پختہ وعدہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا تمہاری دعا تو قبول ہے لیکن اگر یہ لوگ پھر بھی ایمان نہ لائے تو ان پر اللہ کا وہ عذاب آئے گا جو آج سے پہلے کسی پر نہ آیا ہو، آپ کانپ اٹھے اور عرض کرنے لگے نہیں اللہ تو انہیں یونہی رہنے دے میں انہیں تیری طرف بلاتا رہوں گا کیا عجب آج نہیں کل اور کل نہیں تو پرسوں ان میں سے کوئی نہ کوئی تیری طرف جھک جائے اس پر یہ آیت اتری کہ اگر انہیں قدرت کی نشانیاں دیکھنی ہیں تو کیا یہ نشانیاں کچھ کم ہیں؟
ایک اور شان نزول بھی مروی ہے کہ جب آیت «وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ» [البقرہ: 163]‏‏‏‏ اتری تو مشرکین کہنے لگے ایک اللہ تمام جہاں کا بندوبست کیسے کرے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ اللہ اتنی بڑی قدرت والا ہے، بعض روایتوں میں ہے اللہ کا ایک ہونا سن کر انہوں نے دلیل طلب کی جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور قدرت کے نشان ہائے ان پر ظاہر کئے گئے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان عظیم مخلوقات میں باری تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت، اس کی عظیم قدرت، رحمت اور اس کی تمام صفات کے دلائل ہیں۔ لیکن یہ تمام دلائل صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو ان امور میں اپنی عقل استعمال کرتے ہیں جن کے لیے عقل پیدا کی گئی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو جتنی عقل سے نوازا ہے وہ اتنا ہی آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی عقل اور تفکر و تدبر سے ان آیات کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ پس ﴿ فِیْ خَلْ٘قِ السَّمٰؔوٰؔتِ آسمانوں کے پیدا کرنے میں۔ یعنی آسمانوں کی بلندی، ان کی وسعت، ان کے محکم اور مضبوط ہونے میں، نیز ان آسمانوں میں سورج، چاند اور ستاروں کی تخلیق اور بندوں کے مصالح کے لیے ان کی منظم گردش میں۔ ﴿ وَالْاَرْضِ اور زمین میں یعنی مخلوق کے لیے فرش کے طور پر زمین کو پیدا کیا تاکہ وہ اس پر ٹھہر سکیں اور زمین اور جو کچھ اس کے اوپر ہے اس سے استفادہ کریں، نیز اس سے عبرت حاصل کریں کہ تخلیق اور تدبیر کائنات میں اللہ تعالیٰ ایک اور متفرد ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا بیان ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو تخلیق کیا اور اس کی حکمت کا، جس کی بنا پر اس نے زمین کو محکم، حسین اور موزوں بنایا اور اس کی رحمت اور علم کا، جن کی بنا پر اس نے زمین کے اندر مخلوقات کے فائدے کی اشیاء اور ان کی حاجات و ضروریات ودیعت کیں اور اس میں اس کے کمال اور اس کے واحد لائق عبادت ہونے پر سب سے زیادہ مؤثر دلیل ہے، کیونکہ کائنات کی پیدائش اور اس کی تدبیر اور تمام بندوں کے معاملات کا انتظام کرنے میں وہ متفرد ہے (اس لیے عبادت کا تمام تر مستحق بھی صرف وہی ہے نہ کہ کوئی اور، جن کا کوئی حصہ پیدائش میں ہے نہ تدبیر میں اور نہ بندوں کے معاملات کے انتظام میں۔)
﴿ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّهَارِ اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں۔ یعنی رات اور دن کا دائمی طور پر ایک دوسرے کے تعاقب میں رہنا۔ جب ان میں سے ایک گزر جاتا ہے تو دوسرا اس کے پیچھے پیچھے آتا ہے۔ گرمی، سردی اور معتدل موسم میں، دنوں کا لمبا اور چھوٹا اور متوسط ہونا اور ان کی وجہ سے موسموں میں تغیر و تبدل کا ہونا۔ جن کے ذریعے سے تمام بنی آدم، حیوانات اور روئے زمین کی تمام نباتات کا انتظام ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے انتظام، تدبیر اور تسخیر کے تحت ہو رہا ہے جسے دیکھ کر عقلیں حیرت زدہ رہ جاتی ہیں اور بڑے بڑے عقل مند لوگ اس کے ادراک سے عاجز ہیں۔ یہ چیز اس کائنات کی تدبیر کرنے والے کی قدرت، علم و حکمت رحمت واسعہ، لطف و کرم، اس کی اس تدبیر و تصرف، جس میں وہ اکیلا ہے، اس کی عظمت، اقتدار اور غلبہ پر دلالت کرتی ہے اور یہ اس بات کی موجب ہے کہ اس کو اِلٰہ مانا جائے اور اس کی عبادت کی جائے، صرف اسی سے محبت کی جائے، اسی کی تعظیم کی جائے، اسی سے ڈرا جائے، اسی سے امید رکھی جائے اور اس کے محبوب اور پسندیدہ اعمال میں جدوجہد کی جائے۔
﴿ وَالْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں چلتی ہیں اس آیت کریمہ میں (فُلْک) سے مراد جہاز اور کشتیاں وغیرہ ہیں جن کی صنعت اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں الہام کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے داخلی اور خارجی آلات تخلیق کیے اور ان کے استعمال پر انھیں قدرت عطا کی۔ پھر اس نے اس بحر بے کراں اور ہواؤں کو ان کے لیے مسخر کر دیا جو سمندروں میں اموال تجارت سمیت کشتیوں کو لیے پھرتی ہیں جن میں لوگوں کے لیے منفعت اور ان کی معاش کے انتظامات اور مصلحتیں ہیں۔
وہ کون ہے جس نے ان کشتیوں کی صنعت انھیں الہام کی اور ان کے استعمال پر انھیں قدرت عطا کی اور ان کے لیے وہ آلات پیدا کیے جن سے وہ کام لیتے ہیں؟ وہ کون ہے جس نے کشتیوں کے لیے بے پایاں سمندر کو مسخر کیا جس کے اندر یہ کشتیاں اللہ کے حکم اور اس کی تسخیر سے چلتی ہیں؟ اور وہ کون ہے جس نے ہواؤں کو مسخر کیا؟ وہ کون ہستی ہے جس نے بری اور بحری سفر کی سواریوں کے لیے آگ اور وہ معدنیات پیدا کیں جن کی مدد سے وہ سواریاں (فضاؤں اور سمندروں میں) چلتی اور ان کے مال و اسباب بھی اٹھائے پھرتی ہیں؟
کیا یہ تمام امور اتفاقاً حاصل ہو گئے یا یہ کمزور، عاجز مخلوق انھیں وجود میں لائی ہے۔ جو اپنی ماں کے پیٹ سے جب باہر آئی تو اسے علم تھا نہ قدرت؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے قدرت عطا کی،پھر اسے ہر اس چیز کی تعلیم دی جس کی تعلیم دینا وہ چاہتا تھا۔ یا ان تمام چیزوں کو مسخر کرنے والا ایک اللہ ہی ہے جو حکمت اور علم والا ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں۔ بلکہ تمام اشیاء اس کی ربوبیت کے سامنے سرنگوں، اس کی عظمت کے سامنے عاجز اور اس کے جبروت کے سامنے سرافگندہ ہیں۔ اور نحیف و نزار بندے کی انتہا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان اسباب میں سے ایک سبب بنایا ہے جن کے ذریعے سے یہ بڑے بڑے کام سرانجام پاتے ہیں، پس یہ چیز اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور اس کی عنایت پر دلالت کرتی ہے۔ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ تمام تر محبت، خوف، امید، ہر قسم کی اطاعت، تذلل، انکساری اور تعظیم صرف اسی کی ذات کے لیے ہو۔
﴿ وَمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّؔآءٍ اور اس میں جو اللہ نے آسمان سے پانی اتارا اس سے مراد وہ بارش ہے جو بادل سے برستی ہے ﴿ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا پس اس کے ذریعے سے اس نے زمین کو مردہ ہو جانے کے بعد، زندہ کر دیا پس زمین نے مختلف قسم کی خوراک اور نباتات ظاہر کیں۔ جو مخلوق کی ضروریات زندگی میں شمار ہوتی ہیں، جن کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ کیا یہ اس ذات کی قدرت و اختیار کی دلیل نہیں جس نے یہ پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے زمین سے مختلف چیزیں پیدا کیں؟ کیا یہ اپنے بندوں پر اس کی رحمت اور اس کا لطف و کرم اور اپنے بندوں کے مصالح کا انتظام نہیں؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ بندے ہر لحاظ سے اس کے سخت محتاج ہیں؟ کیا یہ چیز واجب نہیں کرتی کہ ان کا معبود اور ان کا الہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہو؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟
﴿ وَبَثَّ فِیْهَا اور پھیلائے اس میں یعنی زمین کے اندر ﴿ مِنْ كُ٘لِّ دَآ بَّةٍ ہر قسم کے جانور یعنی زمین کے چاروں طرف مختلف اقسام کے جانور پھیلائے، جو اس کی قدرت، عظمت، وحدانیت اور اس کے غلبے کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو انسانوں کے لیے مسخر کر دیا جن سے وہ ہر پہلو سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پس وہ ان میں سے بعض جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں اور بعض جانوروں کا دودھ پیتے ہیں۔ بعض جانوروں پر سواری کرتے ہیں، بعض جانور ان کے دیگر مصالح اور چوکیداری کے کام آتے ہیں۔ بعض جانوروں سے عبرت پکڑی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے ہیں۔ وہی ان کے رزق کا انتظام کرتا ہے اور وہی ان کی خوراک کا کفیل ہے۔ ﴿ وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا (ھود: 11؍6) زمین کے اندر پھرنے والا کوئی جانور نہیں مگر یہ کہ اللہ کے ذمے اس کا رزق ہے وہ اس کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور جہاں اسے سونپا جاتا ہے۔
﴿ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اور ہواؤں کے پھیرنے میں یعنی ٹھنڈی، گرم، شمالاً جنوباً اور شرقاً غرباً اور ان کے درمیان ہواؤں کا چلنا، کبھی تو یہ ہوائیں بادل اٹھاتی ہیں، کبھی یہ بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں، کبھی یہ بادلوں کو باردار کرتی ہیں، کبھی یہ بادل برساتی ہیں، کبھی یہ بادلوں کو پھاڑکر انھیں تتر بتر کرتی ہیں، کبھی اس کے ضرر کو زائل کرتی ہیں، کبھی یہ ہوائیں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں اور کبھی ان ہواؤں کو عذاب کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔
کون ہے وہ جو ان ہواؤں کو اس طرح پھیرتا ہے؟ کون ہے جس نے ان ہواؤں میں بندوں کے لیے مختلف منافع ودیعت کیے ہیں جن سے وہ بے نیاز نہیں ہو سکتے؟ اور ان ہواؤں کو مسخر کر دیا جن میں تمام جاندار اشیاء زندہ رہ سکیں اور بدنوں، درختوں، غلہ جات اور نباتات کی اصلاح ہو؟ یہ سب کچھ کرنے والا صرف وہ اللہ ہے جو غالب، حکیم اور نہایت مہربان ہے، اپنے بندوں پر لطف و کرم کرنے والا ہے، جو اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے سامنے تذلل اور عاجزی کا اظہار کیا جائے، اسی سے محبت، اسی کی عبادت اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے۔
آسمان اور زمین کے درمیان بادل اپنے ہلکے اور لطیف ہونے کے باوجود بہت زیادہ پانی کو اٹھائے پھرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے اس بادل کو لے جاتا ہے پھر وہ اس پانی کے ذریعے سے زمین اور بندوں کو زندگی عطا کرتا اور ٹیلوں اور ہموار زمین کو سیراب کرتا ہے اور مخلوق پر اسی وقت بارش برساتا ہے جس وقت اس کو ضرورت ہوتی ہے۔ جب بارش کی کثرت انھیں نقصان پہنچانے لگتی ہے تو وہ اسے روک لیتا ہے۔ وہ بندوں پر لطف و کرم کے طور پر بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت اور شفقت سے بارش کو ان سے روک لیتا ہے۔ اس کا غلبہ کتنا بڑا، اس کی بھلائی کتنی عظیم اور اس کا احسان کتنا لطیف ہے!!۔ کیا یہ بندوں کے حق میں برائی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کے احسان کے ماتحت زندگی بسر کرتے ہیں، پھر وہ ان تمام چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کی معصیت پر مدد لیتے ہیں؟ کیا یہ اللہ تعالیٰ کے حلم و صبر، عفو و درگزر اور اس کے عظیم لطف و کرم کی دلیل نہیں؟ پس اول و آخر اور ظاہرو باطن اللہ تعالیٰ ہی ہر قسم کی تعریف کا مستحق ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ عقل مند شخص جب بھی ان مخلوقات میں غور و فکر اور انوکھی چیزوں میں سوچ بچار کرے گا، اور اللہ کی کاریگری میں اور اس میں جو اس نے احسان اور حکمت کے لطائف رکھے ہیں، ان میں جتنا زیادہ غوروفکر کرے گا۔ تو اسے معلوم ہو گا کہ یہ کائنات اس نے حق کے لیے اور حق کے ساتھ تخلیق کی ہے، نیز یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی ذات، وحدانیت اور یوم آخرت کے نشانات اور دلائل ہیں، جس کے بارے میں اس نے اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے اور یہ کائنات اللہ تعالیٰ کے سامنے مسخر ہے، وہ اپنے تدبیر اور تصرف کرنے والے کے سامنے کوئی تدبیر اور نافرمانی نہیں کر سکتی۔ پس تجھے بھی معلوم ہو جائے گا کہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی اسی کے محتاج اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور وہ بالذات تمام کائنات سے بے نیاز اور مستغنی ہے پس اس کے سوا کوئی الہ نہیں اور اس کے سوا کوئی رب نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أخبر تعالى أن في هذه المخلوقات العظيمة آيات؛ أي: أدلة على وحدانية الباري وإلهيته وعظيم سلطانه ورحمته وسائر صفاته، ولكنها {لقوم يعقلون}؛ أي: لمن لهم عقول يعملونها فيما خلقت له، فعلى حسب ما منَّ الله على عبده من العقل ينتفع بالآيات ويعرفها بعقله وفكره وتدبره، ففي {خلق السموات}؛ في ارتفاعها واتساعها وإحكامها وإتقانها وما جعل الله فيها من الشمس والقمر والنجوم وتنظيمها لمصالح العباد وفي خلق {الأرض}؛ مهاداً للخلق يمكنهم القرار عليها والانتفاع بما عليها والاعتبار، ما يدل ذلك على انفراد الله تعالى بالخلق والتدبير وبيان قدرته العظيمة التي بها خلقها، وحكمته التي بها أتقنها وأحسنها ونظمها، وعلمه ورحمته التي بها أودع ما أودع من منافع الخلق ومصالحهم وضروراتهم وحاجاتهم، وفي ذلك أبلغ الدليل على كماله واستحقاقه أن يفرد بالعبادة لانفراده بالخلق والتدبير والقيام بشؤون عباده.

وفي {اختلاف الليل والنهار}؛ وهو تعاقبهما على الدوام إذا ذهب أحدهما خلفه الآخر، وفي اختلافهما في الحر والبرد والتوسط، وفي الطول والقصر والتوسط، وما ينشأ عن ذلك من الفصول التي بها انتظام مصالح بني آدم وحيواناتهم، وجميع ما على وجه الأرض من أشجار ونوابت، كل ذلك بانتظام وتدبير وتسخير تنبهر له العقول، وتعجز عن إدراكه من الرجال الفحول ما يدل ذلك على قدرة مصرفها وعلمه وحكمته ورحمته الواسعة ولطفه الشامل وتصريفه وتدبيره الذي تفرد به وعظمته وعظمة ملكه وسلطانه ممّا يوجب أن يؤله ويعبد ويفرد بالمحبة والتعظيم والخوف والرجاء وبذل الجهد في محابه ومراضيه.

وفي {الفلك التي تجري في البحر} وهي السفن والمراكب ونحوها مما ألهم الله عباده صنعتها وخلق لهم من الآلات الداخلية والخارجية ما أقدرهم عليها ثم سخر لها هذا البحر العظيم والرياح التي تحملها بما فيها من الركاب والأموال والبضائع التي هي من منافع الناس وبما تقوم مصالحهم وتنتظم معايشهم، فمن الذي ألهمهم صنعتها وأقدرهم عليها وخلق لهم من الآلات ما به يعملونها، أم من الذي سخر لها البحر تجري فيه بإذنه وتسخيره والرياح، أم من الذي خلق للمراكب البرية والبحرية النار والمعادن المعينة على حملها وحمل ما فيها من الأموال، فهل هذه الأمور حصلت اتفاقاً أم استقل بعملها هذا المخلوق الضعيف العاجز الذي خرج من بطن أمه لا علم له ولا قدرة، ثم خلق له ربه القدرة وعلمه ما يشاء تعليمه، أم المسخر لذلك رب واحد حكيم عليم لا يعجزه شيء ولا يمتنع عليه شيء. بل الأشياء قد دانت لربوبيته، واستكانت لعظمته، وخضعت لجبروته.

وغاية العبد الضعيف أن جعله الله جزءاً من أجزاء الأسباب التي بها وجدت هذه الأمور العظام، فهذا يدل على رحمة الله وعنايته بخلقه، وذلك يوجب أن تكون المحبة كلها له والخوف والرجاء وجميع الطاعة والذل والتعظيم {وما أنزل الله من السماء من ماء}؛ وهو المطر النازل من السحاب {فأحيا به الأرض بعد موتها}؛ فأظهرت من أنواع الأقوات وأصناف النبات ما هو من ضرورات الخلائق التي لا يعيشون بدونها، أليس ذلك دليلاً على قدرة من أنزله وأخرج به ما أخرج ورحمته ولطفه بعباده وقيامه بمصالحهم وشدة افتقارهم وضرورتهم إليه من كل وجه؟ أَما يوجب ذلك أن يكون هو معبودهم وإلههم؟ أليس ذلك دليلاً على إحياء الموتى ومجازاتهم بأعمالهم؟

{وبث فيها}؛ أي في الأرض {من كلِّ دابة}؛ أي: نشر في أقطار الأرض من الدواب المتنوعة ما هو دليل على قدرته وعظمته ووحدانيته وسلطانه العظيم، وسخرها للناس ينتفعون بها بجميع وجوه الانتفاع: فمنها ما يأكلون من لحمه ويشربون من دره، ومنها ما يركبون، ومنها ما هو ساعٍ في مصالحهم وحراستهم، ومنها ما يعتبر به، ومنها أنه بث فيها من كل دابة فإنه سبحانه هو القائم بأرزاقهم المتكفل بأقواتهم، فما من دابة في الأرض إلا على الله رزقها ويعلم مستقرها ومستودعها.

وفي {تصريف الرياح}؛ باردة وحارة وجنوباً وشمالاً وشرقاً ودبوراً وبين ذلك، وتارة تثير السحاب، وتارة تؤلف بينه، وتارة تلقحه، وتارة تدره، وتارة تمزقه، وتزيل ضرره، وتارة تكون رحمة، وتارة ترسل بالعذاب، فمن الذي صرفها هذا التصريف وأودع فيها من منافع العباد ما لا يستغنون عنه، وسخرها ليعيش فيها جميع الحيوانات وتصلح الأبدان والأشجار والحبوب والنوابت إلا العزيز الحكيم الرحيم اللطيف بعباده المستحق لكل ذلٍّ وخضوع ومحبةٍ وإنابة وعبادة، وفي تسخير السحاب بين السماء والأرض على خفته ولطافته يحمل الماء الكثير فيسوقه الله إلى حيث شاء فيحيي به البلاد والعباد ويروي التلول والوهاد وينزله على الخلق وقت حاجتهم إليه، فإذا كان يضرهم كثرته أمسكه عنهم فينزله رحمة ولطفاً ويصرفه عناية وعطفاً، فما أعظم سلطانه وأغزر إحسانه وألطف امتنانه، أليس من القبيح بالعباد أن يتمتعوا برزقه ويعيشوا ببره وهم يستعينون بذلك على مساخطه ومعاصيه، أليس ذلك دليلاً على حلمه وصبره وعفوه وصفحه وعظيم لطفه، فله الحمد أولاً وآخراً وباطناً وظاهراً.

والحاصل أنه كلما تدبر العاقل في هذه المخلوقات، وتغلغل فكره في بدائع المبتدعات، وازداد تأمله للصنعة وما أودع فيها من لطائف البر والحكمة علم بذلك أنها خلقت للحق وبالحق، وأنها صحائف آيات وكتب دلالات على ما أخبر به الله عن نفسه ووحدانيته وما أخبرت به الرسل من اليوم الآخر، وأنها مسخرات ليس لها تدبير ولا استعصاء على مدبرها ومصرفها، فتعرف أن العالم العلوي والسفلي كلهم إليه مفتقرون وإليه صامدون، وأنه الغني بالذات عن جميع المخلوقات فلا إله إلا الله، ولا رب سواه.