(آیت163) اوپر کی آیت میں حق چھپانے پر وعید فرمائی، اب اس آیت میں بیان فرمایا کہ سب سے پہلے جس چیز کا اظہار ضروری ہے وہ مسئلۂ توحید ہے۔(قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
163۔ 1 اس آیت میں پھر دعوت توحید دی گئی ہے۔ یہ دعوت توحید مشرکین مکہ کے لئے ناقابل فہم تھی، انہوں نے کہا (کیا اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا یہ تو بڑی عجیب بات ہے) اس لئے اگلی آیت میں اس توحید کے دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
163۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے، اس کے سوا [120] کوئی الٰہ نہیں۔ وہ نہایت مہربان بڑا رحم کرنے والا ہے
[201] کئی خدا سمجھنے کی وجہ، صرف ایک اللہ کی عبادت کیوں؟
یہ خطاب در اصل مشرکین مکہ سے ہے۔ جنہوں نے کئی الٰہ بنا رکھے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اتنے بڑے کار گاہ کائنات کا سارے کا سارا انتظام ایک اکیلا اللہ کیسے سنبھال سکتا ہے؟ ان کی عقل میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی تھی۔ لہٰذا انہوں نے مختلف امور کے لیے مختلف الٰہ تجویز کر رکھے تھے اور جتنی پرانی تہذیبیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ہندی، رومی، مصری، یونانی تہذیبیں، ان سب لوگوں نے دیوی دیوتاؤں کا ایسا ہی نظام تجویز کر رکھا تھا اور مسلمانوں میں بھی اکثر لوگوں میں گو زبانی نہیں مگر عملاً ایسے ہی اعتقادات و افعال رائج ہو چکے ہیں۔ یہ سب لوگ ہی اس آیت کے مخاطب ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت نصیب نہیں ہوتی اور قرآن میں یہ مضمون لاتعداد مقامات پر آیا ہے۔ کہیں اجمالاً کہیں تفصیل سے اور دلائل کے ساتھ۔ لہٰذا اس مضمون کی تفصیل کسی دوسرے مقام پر آجائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اکیلا حکمران ٭٭
یعنی حکمرانی میں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس جیسا کوئی ہے وہ واحد اور احد ہے وہ فرد اور صمد ہے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، وہ رحمٰن اور رحیم ہے، سورۃ فاتحہ کے شروع میں ان دونوں ناموں کی پوری تفسیر گزر چکی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے، ایک یہ آیت «وَإِلَٰهُكُمْإِلَٰهٌوَاحِدٌلَّاإِلَٰهَإِلَّاهُوَالرَّحْمَٰنُالرَّحِيمُ»[البقرہ: 163] دوسری آیت «الم اللَّـهُلَاإِلَـٰهَإِلَّاهُوَالْحَيُّالْقَيُّومُ»[3-آل عمران: 1، 2][سنن ابوداود:1496، قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کے بعد اس توحید کی دلیل بیان ہو رہی ہے اسے بھی توجہ سے سنئیے فرماتے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ خبر دیتا ہے اور وہ سب سے زیادہ سچا ہے، فرماتا ہے، وہ ﴿ اِلٰهٌوَّاحِدٌ﴾”ایک ہی اِلہٰ ہے۔“ یعنی وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور اپنے افعال میں اکیلا اور متفرد ہے۔ پس اس کی ذات میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اس کا کوئی ہم نام اور نہ ہمسر، نہ اس کی کوئی مثال اور نہ اس کی کوئی نظیر ہے۔ اس کے سوا کوئی کائنات کو پیدا کرنے والا ہے اور نہ اس کی تدبیر کرنے والا۔ جب حقیقت حال یہ ہے تو اس بات کا صرف وہی مستحق ہے کہ ہر قسم کی عبادت صرف اسی کے لیے ہو اور اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ ﴿ الرَّحْمٰنُالرَّحِیْمُ﴾ کیونکہ وہ رحمان و رحیم ہے یعنی وہ بے پایاں رحمت سے متصف ہے کسی اور کی رحمت اس سے مماثلت نہیں رکھتی۔ اس کی بے پایاں رحمت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کی رحمت ہر زندہ چیز کے لیے عام ہے۔ اس کی رحمت ہی کے باعث تمام کائنات وجود میں آئی۔ اس کی رحمت ہی کی وجہ سے تمام مخلوقات کو تمام کمالات حاصل ہوئے۔ اس کی رحمت ہی کی بنا پر ان سے ہر قسم کی ناراضی دور ہوئی۔ یہ اس کی رحمت ہی ہے کہ اس کے بندوں نے اس کی صفات اور اس کی نعمتوں کے ساتھ اسے پہچان لیا اور اس نے اپنے رسول بھیج کر اور اپنی کتابیں نازل کر کے دین و دنیا کے تمام مصالح جن کے وہ محتاج تھے، ان پر واضح کر دیے۔
جب یہ معلوم ہو گیا کہ بندوں کو جو بھی نعمت عطا ہوئی ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، نیز یہ کہ مخلوق میں سے کوئی شخص دوسرے کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ تو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ہر قسم کی عبادت کا صرف وہی مستحق ہے اور صرف وہی ہے جو محبت، خوف و رجا، تعظیم و توکل اور دیگر ہر قسم کی اطاعت کا مستحق ہے۔ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑھ کر برائی یہ ہے کہ اس کی عبادت سے منہ موڑ کر اس کے بندوں کی عبادت کی جائے۔ مٹی سے پیدا کی گئی مخلوق کو رب ارباب کا شریک ٹھہرایا جائے۔ یا تدبیر میں محتاج اور ہر لحاظ سے عاجز مخلوق کی اس خالق کائنات کے ساتھ عبادت کی جائے جو تدبیر کنندہ، قادر اور طاقت ور ہے، جو ہر چیز پر غالب ہے اور ہر چیز اس کی مطیع ہے۔
اس آیت کریمہ میں باری تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت کا اثبات ہے اور اس بات کا بھی کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی الوہیت کا مستحق نہیں اور اس توحید الوہیت پر اصل دلیل کا بیان ہے اور وہ اس کی رحمت کا اثبات ہے جس کے آثار میں سے تمام نعمتوں کا وجود اور تمام مصائب کا دور ہونا ہے۔ پس یہ اس کی وحدانیت کی ایک اجمالی دلیل ہے۔ اب اللہ تعالیٰ اس کے تفصیلی دلائل ذکر فرماتا ہے۔ فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى وهو أصدق القائلين أنه {إله واحد}؛ أي: متوحد منفرد في ذاته وأسمائه وصفاته وأفعاله فليس له شريك في ذاته ولا سمي له ولا كفو له ولا مثل ولا نظير ولا خالق ولا مدبر غيره، فإذا كان كذلك فهو المستحق لأن يؤله ويعبد بجميع أنواع العبادة ولا يشرك به أحد من خلقه لأنه {الرحمن الرحيم}؛ المتصف بالرحمة العظيمة التي لا يماثلها رحمة أحد فقد وسعت كل شيء وعمت كل حي، فبرحمته وجدت المخلوقات وبرحمته حصلت لها أنواع الكمالات، وبرحمته اندفع عنها كل نقمة، وبرحمته عرَّف عباده نفسه بصفاته وآلائه وبين لهم كل ما يحتاجون إليه من مصالح دينهم ودنياهم بإرسال الرسل وإنزال الكتب، فإذا علم أن ما بالعباد من نعمة فمن الله وأن أحداً من المخلوقين لا ينفع أحداً عُلِمَ أن الله هو المستحق لجميع أنواع العبادة وأن يفرد بالمحبة والخوف والرجاء والتعظيم والتوكل وغير ذلك من أنواع الطاعات وأن من أظلم الظلم وأقبح القبيح أن يعدل عن عبادته إلى عبادة العبيد وأن يشرك المخلوقين من تراب برب الأرباب أو يعبد المخلوق المدبر العاجز من جميع الوجوه مع الخالق المدبر القادر القوي الذي [قد] قهر كل شيء، ودان له كل شيء.
ففي هذه الآية إثبات وحدانية الباري وإلهيته وتقريرها بنفيها عن غيره من المخلوقين وبيان أصل الدليل على ذلك وهو إثبات رحمته التي من آثارها وجود جميع النعم واندفاع جميع النقم، فهذا دليل إجمالي على وحدانيته تعالى.
ثم ذكر الأدلة التفصيلية فقال:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔