ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 152

فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِیۡ وَ لَا تَکۡفُرُوۡنِ ﴿۱۵۲﴾٪
سو تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری مت کرو۔ En
سو تم مجھے یاد کرو۔ میں تمہیں یاد کیا کروں گا۔ اور میرے احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا
En
اس لئے تم میرا ذکر کرو، میں بھی تمہیں یاد کروں گا، میری شکر گزاری کرو اور ناشکری سے بچو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت152) ➊ {فَاذْكُرُوْنِيْۤ: } اس میں فاء کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنے رسول اور قرآن کے ذریعے سے نعمت پوری کرنے کا انعام تم پر کیا ہے، سو تم پر بھی لازم ہے کہ تم مجھے یاد کرو اور یاد رکھو۔ ذکر کا معنی زبان سے یاد کرنا بھی ہے اور دل اور عمل سے بھی۔ یہ نسیان (بھولنے) کی ضد ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ» [آل عمران: ۱۳۵] اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔ جب کوئی شخص اللہ کے کسی حکم پر عمل کرتا ہے، نیکی کا حکم دیتا ہے، برائی سے روکتا ہے تو وہ بھی اللہ کو یاد کرتا ہے، یاد کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ روزانہ لاکھ مرتبہ زبان سے ذکر کیا جائے اور اللہ کے احکام کو اور اس کی ڈالی ہوئی ذمہ داریوں کو بھلا ہی دیا جائے۔ کفار خواہ تمام بلاد اسلام پر قابض ہو جائیں ہمیں اپنی روزانہ کی ہزار رکعت پوری کرنے ہی سے فرصت نہ ہو۔ «اَذْكُرْكُمْ» میں تمھیں یاد کروں گایہ اللہ کو یاد کرنے کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر(میرا بندہ) مجھے اپنے نفس میں یاد کرے تو میں اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اسے یاد کرتا ہوں۔ [بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «و یحذرکم اللہ …» : ۷۴۰۵۔ مسلم، الذکر والدعاء والاستغفار، باب الحث علی ذکر اللہ تعالٰی: ۲۶۷۵]
➋ {وَ اشْكُرُوْا لِيْ:} شکر زبان سے بھی ہوتا ہے اور عمل سے بھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا» [سبا: ۱۳] اے داؤد کے گھر والو! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔ عمل نعمت کے مطابق نہ ہو تو شکر بھی نہیں۔
➌ {وَ لَا تَكْفُرُوْنِ: } اس میں ہر ناشکری اور کفر شامل ہے، وہ زبان سے ہو یا عمل سے۔ زبان سے تو الحمد للہ کہنا، لیکن بیٹوں کا نام پیراں دتہ رکھنا، غیر اللہ کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھنا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان جنگ سن کر بھی سود کھائے جانا، گھر میں بے حیائی کو فروغ دیتے جانا، رشوت لے کر اسے فضل ربی قرار دینا اور ڈاڑھی منڈوا کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی حسین صورت سے بے زاری کا اظہار شکر نہیں بلکہ کفر اور ناشکری کی بدترین صورتیں ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

152۔ 1 پس ان نعمتوں پر تم میرا ذکر کرو اور شکر کرو۔ کفران نعمت مت کرو۔ ذکر کا مطلب ہر وقت اللہ کو یاد کرنا ہے، یعنی اس کی تسبیح اور تکبیر بلند کرو اور شکر کا مطلب اللہ کی دی ہوئی قوتوں اور توانائیوں کو اس کی اطاعت میں صرف کرنا ہے۔ خداداد قوتوں کو اللہ کی نافرمانی میں صرف کرنا، یہ اللہ کی ناشکر گزاری (کفران نعمت) ہے شکر کرنے پر مزید احسانات کی نوید اور ناشکری پر عذاب شدید کی وعید ہے۔ جیسے (لَئِنْ شَکَرْ تُمْ لَاَزَیْدَنَّکُمْ ْ وَلَئِنَ کَفَرْ تُمْ اِنَّ عذَابِیْ لَشَدِیْد) 14:7

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

152۔ لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں [190] تمہیں یاد رکھوں گا اور [191] میرا شکر ادا کرتے رہو، کفران نعمت نہ کرو
[190] لہٰذا تمہیں لازم ہے کہ ہر دم مجھے یاد کرتے رہو، اور اگر تم مجھے یاد کرو گے تو میں تمہیں یاد کروں گا چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہوں اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ مجھے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ کسی مجمع میں مجھے یاد کرے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے نزدیک ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے نزدیک ہو تو میں ایک کلاوہ (دونوں بازو پھیلائے) اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہوں۔“ [بخاري، كتاب التوحيد، باب قول اللّٰه وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ۔۔۔ الخ]
[191] شکر کی فضیلت:۔
اللہ کا شکر ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ وہ نعمت بحال ہی نہیں رکھتے بلکہ مزید بھی عطا فرماتے ہیں اور ناشکری کی صورت میں وہ نعمت ہی نہیں چھنتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا بھی ملتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿لَيِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَيِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ [7: 14]
”اگر تم شکر کرو گے تو میں اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (سمجھ لو) کہ میرا عذاب سخت ہے۔“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ کی یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے! ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ اپنی بہت بڑی نعمت کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے ہم میں ہماری جنس کا ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمایا، جو اللہ تعالیٰ کی روشن اور نورانی کتب کی آیتیں ہمارے سامنے تلاوت فرماتا ہے اور رذیل عادتوں اور نفس کی شرارتوں اور جاہلیت کے کاموں سے ہمیں روکتا ہے اور ظلمت کفر سے نکال کر نور ایمان کی طرف رہبری کرتا ہے اور کتاب و حکمت یعنی قرآن و حدیث ہمیں سکھاتا ہے اور وہ راز ہم پر کھولتا ہے جو آج تک ہم پر نہیں کھلے تھے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے وہ لوگ جن پر صدیوں سے جہل چھایا ہوا تھا جنہیں صدیوں سے تاریکی نے گھیر رکھا تھا جن پر مدتوں سے بھلائی کا پر تو بھی نہیں پڑا تھا دنیا کی زبردست علامہ ہستیوں کے استاد بن گئے، وہ علم میں گہرے تکلف میں تھوڑے دلوں کے پاک اور زبان کے سچے بن گئے۔
دنیا کی حالت کا یہ انقلاب بجائے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کا ایک شاہد و عدل ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت «لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [3۔ آل عمران: 164]‏‏‏‏ یعنی ایسے اولوالعزم پیغمبر کی بعثت مومنوں پر اللہ کا ایک زبردست احسان ہے اس نعمت کو قدر نہ کرنے والوں کو قرآن کہتا ہے آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ» [14۔ ابراہیم: 28]‏‏‏‏ کیا تو انہیں نہیں دیکھتا جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کے بدلے کفر کیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا یہاں اللہ کی نعمت سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسی لیے اس آیت میں بھی اپنی نعمت کا ذکر فرما کر لوگوں کو اپنی یاد اور اپنے شکر کا حکم دیا کہ جس طرح میں نے احسان تم پر کیا تم بھی میرے ذکر اور میرے شکر سے غفلت نہ کرو۔
موسیٰ علیہ السلام اللہ رب العزت سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ تیرا شکر کس طرح کروں ارشاد ہوتا ہے مجھے یاد رکھو بھولو نہیں یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ اللہ کی یاد کرنے والے کو اللہ بھی یاد کرتا ہے اس کا شکر کرنے والے کو وہ زیادہ دیتا ہے اور ناشکرے کو عذاب کرتا ہے بزرگان سلف سے مروی ہے کہ اللہ سے پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے غفلت نہ برتی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا زانی، شرابی، چور اور قاتل نفس کو بھی یاد کرتا ہے؟ فرمایا ہاں برائی سے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یاد کرو یعنی میرے ضروری احکام بجا لاؤ میں تمہیں یاد کروں گا یعنی اپنی نعمتیں عطا فرماؤں گا، حضرت سعید بن جیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنی رحمتیں تم پر نازل کروں گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا یاد کرنا بہت بڑی چیز ہے ایک قدسی حدیث میں ہے جو تجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں۔ [صحیح بخاری:7405]‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ وہ جماعت فرشتوں کی ہے جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھاتا ہوں اور اگر تو اے بنی آدم میری طرف ایک ہاتھ بڑھائے گا میں تیری طرف دو ہاتھ بڑھاؤں گا اور اگر تو میری طرف چلتا ہوا آئے گا تو میں تیری طرف دوڑتا ہوا آؤں گا صحیح بخاری میں بھی یہ حدیث ہے۔ [عبدالرزاق:20575صحیح]‏‏‏‏ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اس سے بھی زیادہ قریب ہے پھر فرمایا میرا شکر کرو ناشکری نہ کرو اور جگہ ہے آیت «لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ» [14۔ ابراہیم: 7]‏‏‏‏ یعنی تیرے رب کی طرف سے عام آگہی ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں برکت دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھنا میرا عذاب سخت ہے، مسند احمد میں ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نہایت قیمتی حلہ پہنے ہوئے آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی پر انعام کرتا ہے تو اس کا اثر اس پر دیکھنا چاہتا ہے۔ [مسند احمد:438/4:صحیح]‏‏‏‏