ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 142

سَیَقُوۡلُ السُّفَہَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىہُمۡ عَنۡ قِبۡلَتِہِمُ الَّتِیۡ کَانُوۡا عَلَیۡہَا ؕ قُلۡ لِّلّٰہِ الۡمَشۡرِقُ وَ الۡمَغۡرِبُ ؕ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۴۲﴾
عنقریب لوگوں میں سے بے وقوف کہیں گے کس چیز نے انھیں ان کے اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ تھے؟ کہہ دے اللہ ہی کے لیے مشرق و مغرب ہے، وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے ۔ En
احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے
En
عنقریب نادان لوگ کہیں گے کہ جس قبلہ پر یہ تھے اس سے انہیں کس چیز نے ہٹایا؟ آپ کہہ دیجیئے کہ مشرق ومغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے وه جسے چاہے سیدھی راه کی ہدایت کردے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 142) ➊ براء بن عازب رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے، پھر آپ کو بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا۔ [بخاری، أخبار الأحاد،باب ما جاء فی إجازۃ …: ۷۲۵۲]
➋ اس پر یہود، منافقین اور مشرکین سبھی نے اعتراضات شروع کر دیے کہ اگر وہ پہلا قبلہ درست تھا تو اسے بدلنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر یہ درست ہے تو اتنی دیر بیت المقدس قبلہ کیوں رہا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ لوگ بے وقوفی کی وجہ سے ایسی باتیں کہہ رہے ہیں، مشرق یا مغرب کی اپنی کچھ حیثیت نہیں کہ ان کی طرف منہ کرنا باعث ثواب ہو، بلکہ اصل چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرماں برداری ہے، کیونکہ مشرق و مغرب دونوں کا مالک وہی ہے۔ وہ جب چاہے، جدھر چاہے منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دے سکتا ہے۔ تمھارا کام حکم ماننا ہے، کیونکہ صراط مستقیم وہی ہے جس کا وہ حکم دے، مگر اس پر چلنے کی توفیق وہ جسے چاہے دیتا ہے، جو توفیق سے محروم ہیں وہ بے وقوفی سے بے کار باتیں بناتے رہتے ہیں، اس آیت: «لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ …» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۷۷] میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

142۔ 1 جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ میں تشریف لے گئے 16/17 مہینے تک بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے حالانکہ آپ کی خواہش تھی کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جائے جو قبلہ ابراہیمی ہے اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا بھی فرماتے اور بار بار آسمان کی طرف نظر بھی اٹھاتے۔ بلآخر اللہ تعالیٰ نے تحویل کعبہ کا حکم دے دیا جس پر یہودیوں اور منافقین نے شور مچایا حالانکہ نماز اللہ کی ایک عبادت ہے اور عبادت میں عابد کو جس طرح حکم ہوتا ہے اسی طرح کرنے کا پابند ہوتا ہے اس لئے جس طرف اللہ نے رخ پھیر دیا اسی طرف پھرجانا ضروری تھا علاوہ ازیں جس اللہ کی عبادت کرنی ہے مشرق اور مغرب ساری سمتیں اسی کی ہیں اس لئے سمتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہر سمت میں اللہ کی عبادت ہوسکتی ہے بشرطیکہ اس سمت کو اختیار کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہو۔ تحویل کعبہ کا یہ حکم نماز عصر کے وقت آیا اور عصر کی نماز خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے پڑھی گئی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

142۔ جلد ہی نادان لوگ ضرور کہیں گے کہ مسلمانوں کو ان کے پہلے قبلہ سے کس [174] چیز نے پھیر دیا۔ آپ ان سے کہیے کہ ”مشرق و مغرب تو اللہ ہی کے لیے ہیں، وہ جسے چاہتا ہے، [175] سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔“
[174] قبلہ اول خانہ کعبہ ہی تھا:۔
تحویل قبلہ کے ضمن میں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تمام امت مسلمہ کے لیے قبلہ اول خانہ کعبہ ہی تھا۔ حضرت آدمؑ نے اسے تعمیر کیا تو بھی یہی قبلہ تھا اور جب حضرت ابراہیمؑ نے اسے تعمیر کیا تو اس وقت بھی یہی قبلہ تھا۔ مگر جب سلیمانؑ نے ہیکل سلیمانی تعمیر کیا۔ تو اس وقت تابوت سکینہ صخرہ پر پڑا رہتا تھا اور بنی اسرائیل اس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ انہوں نے مستقل طور پر اسے ہی اپنا قبلہ بنا لیا اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر کوئی گرفت نہ ہوئی تھی۔ لہٰذا یہ قبلہ شرعاً بھی درست سمجھا گیا۔ مگر یہ صرف بنی اسرائیل ہی کا قبلہ تھا۔ مکہ کے مشرکین کا نہ تھا۔ وہ کعبہ کی ہی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداءً بیت المقدس کو قبلہ کیوں بنایا تھا؟ چونکہ مشرکین مکہ کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کو بہتر سمجھتے تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے بجائے بیت المقدس کی طرف رخ کرنا مناسب سمجھا تاکہ مشرکین مکہ کے قبلہ سے امتیاز ہو سکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی طرف منسوب کیا جیسا کہ آیت ﴿وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِيْ كُنْتَ عَلَيْهَآ [143: 2] سے واضح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف رخ کرنے یا قبلہ بنانے کا حکم قرآن یا حدیث میں صراحتاً کہیں مذکور نہیں۔ ممکن ہے کہ وحی خفی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا حکم دیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بصیرت سے ہی بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا طرز عمل اختیار کیا ہو وہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اقرار (سکوت) ہو تو بھی وحی تقریری کا حکم رکھتا ہے۔ بہرحال بیت المقدس کی طرف مسلمانوں کے رخ کر کے نماز ادا کرنے کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا ہی حکم قرار دیا ہے۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ کسی قوم کے قبلہ کو تسلیم کر لینا فی الحقیقت اس قوم کی قیادت و امامت کو تسلیم کر لینے کے مترادف ہوتا ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ابتدائی دور میں بیت المقدس کو قبلہ بنایا تو اس کی ایک وجہ تو بوجہ شرک مشرکین مکہ کی مخالفت تھی، دوسرے اس میں مسلمانوں کا امتحان بھی مقصود تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آیت ﴿لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ اور وہ امتحان اس طرح تھا کہ ہر قوم کو اپنے شعائر سے انتہائی عقیدت ہوتی ہے اور مکہ میں اسلام لانے والے چونکہ مشرکین مکہ میں سے ہی ہوتے تھے۔ اس لیے فی الواقعہ ان کا اس بات میں بھی امتحان تھا کہ وہ اسلام لانے کے بعد کتنی فراخدلی سے اپنے آبائی قبلہ (کعبہ) کو چھوڑ کر بیت المقدس کو اپنا قبلہ بناتے ہیں۔
مدینہ میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کو قبلہ بنانے کی آرزو کیوں پیدا ہوئی؟ ہجرت کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو اب صورت حال بالکل مختلف تھی۔ مسلمانوں کی ایک آزاد چھوٹی سی ریاست وجود میں آ چکی تھی اور اب بیت المقدس کو قبلہ بنائے رکھنا ذہنی طور پر یہود کی امامت کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ لہٰذا اب آپ یہ چاہتے تھے کہ حقیقی قبلہ اول یعنی خانہ کعبہ ہی مستقل طور پر مسلمانوں کا قبلہ قرار پائے اور اس توقع میں کئی بار آسمان کی طرف رخ پھیرتے کہ شاید کسی وقت جبرئیل ایسا حکم لے کر نازل ہو۔ چنانچہ براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے یہ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبہ کی طرف ہو۔ چنانچہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کعبہ کی طرف رخ کر کے پڑھی اور لوگوں نے بھی پڑھی۔ پھر ان میں سے ایک شخص جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا۔ دوسری مسجد والوں پر گزرا جبکہ وہ نماز ادا کر رہے تھے۔ اس نے کہا ”اللہ گواہ ہے میں نے ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ (کعبہ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے“ تو اسی حالت میں کعبہ کی طرف گھوم گئے (بخاری، کتاب التفسیر زیر آیت مذکورہ) یہی مسجد بعد میں مسجد قبلتین کے نام سے مشہور ہوئی۔
تحویل قبلہ کے لوگوں پر اثرات اور اعتراض:۔
تحویل قبلہ کا در اصل مطلب یہ تھا کہ اب بیت المقدس کی مرکزیت ختم ہو چکی اور آئندہ ہمیشہ کے لیے خانہ کعبہ کو امت مسلمہ کا مرکز قرار دے دیا گیا۔ اب اس تحویل قبلہ کا یہود پر منفی اثر ہونا ایک لازمی امر تھا۔ چنانچہ یہی براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ جن نادانوں (تنگ نظر لوگوں) نے یہ اعتراض کیا تھا کہ مسلمانوں کو ان کے پہلے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا ہے۔ یہ یہودی لوگ تھے۔ [بخاري، كتاب الصلٰوة، باب التوجه نحو القبلة] چنانچہ یہود نے اس واقعہ کو بھی ایک بنیاد بنا کر ضعیف الاعتقاد اور کم فہم مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا شروع کر دیئے۔
[175] یہود کے اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے نہایت خوبصورت انداز میں پیش کر دیا۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہیے کہ مشرق بھی اللہ کے لیے ہے اور مغرب بھی۔ اس نے بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا حکم دیا تو ہم نے اس کو تسلیم کر لیا اور اب کعبہ کو قبلہ بنایا تو بھی ہم نے تسلیم کر لیا اور اللہ کا حکم تسلیم کر لینا ہی سیدھی راہ ہے اور یہ راہ وہ جسے چاہے دکھا دے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
بیوقوفوں سے مراد یہاں مشرکین عرب اور علماء یہود اور منافقین وغیرہ ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں براء رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی لیکن خود آپ کی چاہت یہ تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ شریف ہو۔ چنانچہ اب حکم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز اس کی طرف ادا کی۔ آپ کے ساتھ کے نمازیوں میں سے ایک شخص کسی اور مسجد میں پہنچا، وہاں جماعت رکوع میں تھی اس نے ان سے کہا اللہ کی قسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نماز پڑھ کر ابھی آ رہا ہوں۔ جب ان لوگوں نے سنا تو اسی حالت میں وہ کعبہ کی طرف گھوم گئے، اب بعض لوگوں نے یہ کہا کہ جو لوگ اگلے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے شہید ہو چکے ہیں ان کی نمازوں کا کیا حال ہے۔ تب یہ فرمان نازل ہوا کہ «وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [البقرہ: 143]‏‏‏‏» یعنی اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہ کرے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ"جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر آسمان کی طرف نظریں اٹھاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ آیت «. قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ» [البقرة: ١٤٤]‏‏‏‏ یعنی اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہ کرے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو آپ اکثر آسمان کی طرف نظریں اٹھاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ آیت جس پر فرمان «وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [البقرہ: 143]‏‏‏‏ نازل ہوا اور ان کی نمازوں کی طرف سے اطمینان ہوا۔
اب بعض بیوقوف اہل کتاب نے قبلہ کے بدلے جانے پر اعتراض کیا، جس پر یہ آیتیں «سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُل لِّلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [البقرہ: 142]‏‏‏‏ نازل ہوئیں۔‏‏‏‏ شروع ہجرت کے وقت مدینہ شریف میں آپ کو بیت المقدس کی طرف نمازیں ادا کرنے کا حکم ہوا تھا۔ یہود اس سے خوش تھے لیکن آپ کی چاہت اور دعا قبلہ ابراہیمی کی تھی۔ آخر جب یہ حکم نازل ہوا تو یہودیوں نے جھٹ سے اعتراض جڑ دیا۔ «لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ» [البقرة: 177]‏‏‏‏ جس کا جواب ملا کہ مشرق و مغرب اللہ ہی کے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:138/3:حسن]‏‏‏‏ اس مضمون کی اور بھی بہت سی روایتیں ہیں خلاصہ یہ ہے کہ مکہ شریف میں آپ دونوں رکن کے درمیان نماز پڑھتے تھے تو آپ کے سامنے کعبہ ہوتا تھا اور بیت المقدس کے صخرہ کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ ہوتا تھا، لیکن مدینہ جا کر یہ معاملہ مشکل ہو گیا۔ دونوں جمع نہیں ہو سکتے تھے تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف نماز ادا کرنے کا حکم قرآن میں نازل ہوا تھا یا دوسری وحی کے ذریعہ یہ حکم ملا تھا۔
بعض بزرگ تو کہتے ہیں یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہادی امر تھا اور مدینہ آنے کے بعد کئی ماہ تک اسی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں پڑھتے رہے گو چاہت اور تھی۔ یہاں تک کہ پروردگار نے بیت العتیق کی طرف منہ پھیرنے کو فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف منہ کر کے پہلے نماز عصر پڑھی اور پھر لوگوں کو اپنے خطبہ میں اس امر سے آگاہ کیا۔
بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ ظہر کی نماز تھی۔ سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اور میرے ساتھی نے اول اول کعبہ کی طرف نماز پڑھی ہے اور ظہر کی نماز تھی بعض مفسرین وغیرہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قبلہ بدلنے کی آیت نازل ہوئی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی سلمہ میں ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے، دو رکعت ادا کر چکے تھے پھر باقی کی دو رکعتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کی طرف پڑھیں، اسی وجہ سے اس مسجد کا نام ہی مسجد ذو قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد ہے۔
حضرت نویلہ بنت مسلم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم ظہر کی نماز میں تھے جب ہمیں یہ خبر ملی اور ہم نماز میں ہی گھوم گئے۔ مرد عورتوں کی جگہ آ گئے اور عورتیں مردوں کی جگہ جا پہنچیں۔ ہاں اہل قباء کو دوسرے دن صبح کی نماز کے وقت یہ خبر پہنچی بخاری و مسلم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اچانک کسی آنے والے نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات کو حکم قرآنی نازل ہوا اور کعبہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم ہو گیا۔ چنانچہ ہم لوگ بھی شام کی طرف سے منہ ہٹا کر کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ [صحیح بخاری:403]‏‏‏‏ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ناسخ کے حکم کا لزوم اسی وقت ہوتا ہے۔ جب اس کا علم ہو جائے گو وہ پہلے ہی پہنچ چکا ہو۔ اس لیے کہ ان حضرات کو عصر مغرب اور عشاء کو لوٹانے کا حکم نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب باطل پرست کمزور عقیدے والے باتیں بنانے لگے کہ اس کی کیا وجہ ہے کبھی اسے قبلہ کہتا ہے کبھی اسے قبلہ قرار دیتا ہے۔ انہیں جواب ملا کہ حکم اور تصرف اور امر اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جدھر منہ کرو۔ اسی طرف اس کا منہ ہے بھلائی اسی میں نہیں آ گئی بلکہ اصلیت تو ایمان کی مضبوطی ہے جو ہر حکم کے ماننے پر مجبور کر دیتی ہے اور اس میں گویا مومنوں کو ادب سکھایا گیا ہے کہ ان کا کام صرف حکم کی بجا آوری ہے جدھر انہیں متوجہ ہونے کا حکم دیا جائے یہ متوجہ ہو جاتے ہیں اطاعت کے معنی اس کے حکم کی تعمیل کے ہیں اگر وہ ایک دن میں سو مرتبہ ہر طرف گھمائے تو ہم بخوشی گھوم جائیں گے ہم اس کے غلام ہیں ہم اس کے ماتحت ہیں اس کے فرمانبردار ہیں اور اس کے خادم ہیں جدھر وہ حکم دے گا پھیر لیں گے۔ امت محمدیہ پر یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اکرام ہے کہ انہیں خلیل الرحمن علیہ السلام کے قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا جو اسی اللہ لا شریک کے نام پر بنایا گیا ہے اور تمام تر فضیلتیں جسے حاصل ہیں۔
مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث ہے کہ یہودیوں کو ہم سے اس بات پر بہت حسد ہے کہ اللہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی توفیق دی اور یہ اس سے بھٹک گئے اور اس پر کہ ہمارا قبلہ یہ ہے اور وہ اس سے گمراہ ہو گئے اور بڑا حسد ان کو ہماری آمین کہنے پر بھی ہے جو ہم امام کے پیچھے کہتے ہیں۔ [مسند احمد:130/1-136:حسن لغیرہ]‏‏‏‏