تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[143] یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام صرف اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دینا ہے۔ اب اگر لوگ ایمان نہیں لاتے اور دوزخ کے مستحق ٹھہرتے ہیں تو اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ الزام نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عبدالرزاق میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش کہ میں اپنے ماں باپ کا حال جان لیتا، کاش کہ میں اپنے ماں باپ کا حال جان لیتا، کاش کہ میں اپنے ماں باپ کا حال جان لیتا۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1877:ضعیف و مرسل] پھر آخری دم تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کا ذکر نہ فرمایا ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسے بروایت موسیٰ بن عبیدہ وارد کیا ہے لیکن اس راوی پر کلام ہے قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جہنمیوں کا حال اتنا بد اور برا ہے کہ تم کچھ نہ پوچھو، تذکرہ میں قرطبی رحمہ اللہ نے ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین زندہ کئے گئے اور ایمان لے آئے اور صحیح مسلم میں جو حدیث ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے سوال پر فرمایا ہے کہ میرا باپ اور تیرا باپ آگ میں ہیں۔ [صحیح مسلم:203] ان کا جواب بھی وہاں ہے لیکن یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماں باپ کے زندہ ہونے کی روایت کتب صحاح ستہ وغیرہ میں نہیں اور اس کی اسناد ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنا أرسلناك بالحق بشيراً ونذيراً}؛ فهذا مشتمل على الآيات التي جاء بها، وهي ترجع إلى ثلاثة أمور:
الأول في نفس إرساله، والثاني في سيرته وهديه ودِلِّه، والثالث في معرفة ما جاء به من القرآن والسنة. فالأول والثاني قد دخلا في قوله: {إنا أرسلناك}؛ والثالث [دخل] في قوله: {بالحق}.
وبيان الأمر الأول: وهو ـ نفس إرساله ـ أنه قد علم حالة أهل الأرض قبل بعثته - صلى الله عليه وسلم - وما كانوا عليه من عبادة الأوثان والنيران والصلبان وتبديلهم للأديان حتى كانوا في ظلمة من الكفر قد عمتهم وشملتهم، إلا بقايا من أهل الكتاب قد انقرضوا قبيل البعثة، وقد علم أن الله تعالى لم يخلق خلقه سدى ولم يتركهم هملاً، لأنه حكيم عليم قدير رحيم، فمن حكمته ورحمته بعباده أن أرسل إليهم هذا الرسول العظيم يأمرهم بعبادة الرحمن وحده لا شريك له، فبمجرد رسالته يعرف العاقل صدقه، وهو آية كبيرة على أنه رسول الله.
وأما الثاني فمن عرف النبي - صلى الله عليه وسلم - معرفة تامة، وعرف سيرته وهديه قبل البعثة ونشوءه على أكمل الخصال، ثم من بعد ذلك قد ازدادت مكارمه وأخلاقه العظيمة الباهرة للناظرين، فمن عرفها وسبر أحواله عرف أنها لا تكون إلا أخلاق الأنبياء الكاملين؛ لأنه تعالى جعل الأوصاف أكبر دليل على معرفة أصحابها وصدقهم وكذبهم.
وأما الثالث: فهو معرفة ما جاء به - صلى الله عليه وسلم - من الشرع العظيم والقرآن الكريم المشتمل على الإخبارات الصادقة والأوامر الحسنة والنهي عن كل قبيح، والمعجزات الباهرة، فجميع الآيات تدخل في هذه الثلاثة.
قوله: {بشيراً}؛ أي: لمن أطاعك بالسعادة الدنيوية والأخروية، {نذيراً}؛ لمن عصاك بالشقاوة والهلاك الدنيوي والأخروي، {ولا تسأل عن أصحاب الجحيم}؛ أي: لست مسؤولاً عنهم، إنما عليك البلاغ وعلينا الحساب.