تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[140] یعنی مزاج کے لحاظ سے پہلے زمانہ کے گمراہوں اور ان گمراہوں میں کچھ فرق نہیں۔ ایسے جاہل لوگ ایک ہی قسم کے اعتراضات اور مطالبات پیش کرتے رہتے ہیں۔
[141] اور جن لوگوں نے ایمان لانا ہو ان کے لیے تو ہماری نشانیوں کی کوئی کمی نہیں۔ ایک ایک آیت پر ان کا ایمان پختہ سے پختہ تر ہوتا جاتا ہے اور جو لوگ کفر پر اڑے رہنا چاہتے ہیں انہیں البتہ کوئی نشانی نظر نہیں آتی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرمایا ہم نے یقین والوں کے لیے اپنی آیتیں اسی طرح بیان کر دیں ہیں جن سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق عیاں ہے کسی اور چیز کی وضاحت باقی نہیں رہی یہی نشانیاں ایمان لانے کے لیے کافی ہیں ہاں جن کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہو انہیں کسی آیت سے کوئی فائدہ نہ ہو گا جیسے فرمایا آیت «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس: 96، 97] جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے گو ان کے پاس تمام آیتیں آ جائیں جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قال الجهلة من أهل الكتاب وغيرهم هلا يكلمنا الله كما كلم الرسل، {أو تأتينا آية}؛ يعنون آيات الاقتراح التي يقترحونها بعقولهم الفاسدة وآرائهم الكاسدة التي تجرؤوا بها على الخالق واستكبروا على رسله كقولهم: {لن نؤمن لك حتى نرى الله جهرة}؛ {يسألك أهل الكتاب أن تنزل عليهم كتاباً من السماء فقد سألوا موسى أكبر من ذلك ... }؛ الآية. {وقالوا مالِ هذا الرسول يأكل الطعام ويمشي في الأسواق لولا أنزل إليه ملك فيكون معه نذيراً أو يلقى إليه كنز أو تكون له جنة يأكل منها ... }؛ الآيات، وقوله: {وقالوا لن نؤمن لك حتى تفجر لنا من الأرض ينبوعاً ... }؛ الآيات.
فهذا دأبهم مع رسلهم يطلبون آيات التعنت لا آيات الاسترشاد، ولم يكن قصدهم تبيين الحق فإن الرسل قد جاؤوا من الآيات بما يؤمن على مثله البشر، ولهذا قال تعالى: {قد بينا الآيات لقوم يوقنون}؛ فكل موقن فقد عرف من آيات الله الباهرة وبراهينه الظاهرة ما حصل له به اليقين، واندفع عنه كل شك وريب.