ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 79

کَلَّا ؕ سَنَکۡتُبُ مَا یَقُوۡلُ وَ نَمُدُّ لَہٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا ﴿ۙ۷۹﴾
ہرگز نہیں! ہم ضرور لکھیں گے جو کچھ یہ کہتا ہے اور اس کے لیے عذاب میں سے بڑھائیں گے، بہت بڑھانا۔ En
ہرگز نہیں۔ یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھتے جاتے اور اس کے لئے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں
En
ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے، اور اس کے لئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 79) ➊ { كَلَّا } یہ لفظ انکار اور ڈانٹ کے لیے آتا ہے، یعنی یہ دونوں باتیں ہر گز نہیں ہیں، تو پھر ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ اس نے اپنے پاس سے ایک جھوٹی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دی ہے۔ یہاں سورۂ مریم میں اس تیسری بات کا ذکر نہیں، کیونکہ اس سے پہلے سورۂ بقرہ میں یہود کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے یہ بات گزر چکی ہے اور قرآن کی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں، فرمایا: «{ وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ [البقرۃ: ۸۰] اور انھوں نے کہا ہمیں آگ ہر گز نہیں چھوئے گی مگر گنے ہوئے چند دن۔کہہ دے کیا تم نے اللہ کے پاس کوئی عہد لے رکھا ہے؟ تو اللہ کبھی اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا، یا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ (شنقیطی)
➋ { وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا:} یعنی ہم اسے کئی گنا زیادہ عذاب دیں گے، ایک عذاب کفر کا، ایک استہزا اور مذاق اڑانے کا، ایک اللہ کی راہ سے روکنے کا، ایک دوسروں کو کفر کی راہ پر لگانے کا، ایک فساد پھیلانے کا۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۸۸)، اعراف (۳۸) اور عنکبوت (۱۳) اسی طرح دنیا میں بھی مال و اولاد اور ہر قسم کی زیب و زینت کے ذریعے سے اسے عذاب دیں گے، پھر موت اور آخرت میں مزید عذاب دیں گے، فرمایا: «{ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا [التوبۃ: ۸۵] اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان (اموال و اولاد) کے ذریعے سے دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ ایسا ہرگز نہیں ہو گا جو کچھ یہ کہہ رہا ہے ہم [72] اسے لکھ لیں گے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریں گے۔
[72] یعنی اس کے نامہ اعمال میں اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ضرور درج کر لیا جائے گا اور اس کے گناہوں کی سزا پر اس کی اس جسارت کے گناہ کا مزید اضافہ کیا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ ہرگز نہیں، وہ جو کہتا ہے ہم لکھ رکھیں گے یعنی اصل معاملہ یوں نہیں جس طرح وہ دعویٰ کرتا ہے کیونکہ اس کا قائل امور غیبیہ کی اطلاع نہیں رکھتا، اس لیے کہ وہ کافر ہے۔ اس کے پاس نبوت کا علم ہے نہ اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے کیونکہ وہ کافر ہے اور ایمان سے محروم ہے۔ بلکہ اس کے اس جھوٹ کے برعکس وہ جہنم کا مستحق ہے۔ اس کا یہ قول لکھ لیا گیا ہے اور اللہ کے ہاں محفوظ ہے، اسے اس کی سزا ملے گی اور اس کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا اور ہم اس کے لیے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔ یعنی جس طرح یہ اپنی گمراہی میں بڑھتا گیا اسی طرح ہم اس کو دیے جانے والے مختلف اقسام کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال تعالى: {كلاَّ}؛ أي: ليس الأمر كما زعم؛ فليس للقائل اطِّلاعٌ على الغيب، لأنَّه كافرٌ ليس عنده من علم الرسائل شيءٌ، ولا اتَّخذ عند الرحمن عهداً؛ لكفرِهِ وعدم إيمانه ولكنَّه يستحقُّ ضدَّ ما تقوَّلَه، وإنَّ قوله مكتوبٌ محفوظٌ ليُجازى عليه ويعاقب، ولهذا قال: {سنكتُبُ ما يقولُ ونَمُدُّ له من العذاب مَدًّا}؛ أي: نزيده من أنواع العقوبات كما ازداد من الغي والضَّلال.