ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 78

اَطَّلَعَ الۡغَیۡبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۙ۷۸﴾
کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے؟ یا اس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے رکھا ہے؟ En
کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے؟
En
کیا وه غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعده لے چکا ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 78){ اَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ …:} یعنی یہ بات تو کہ وہ جنت میں جائے گا اور خوب مال و دولت پائے گا وہی کرسکتا ہے جس نے غیب پر اطلاع پائی ہو، یا اس بے حد رحم والی ذات پاک سے کوئی عہد لے رکھا ہو جس نے اپنی بے حد رحمت کی بنا پر اپنے فرماں بردار بندوں سے انعام کا عہد کر رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ علم غیب جب پوری مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں تو اسے کیسے حاصل ہو گیا؟ رہا قیامت کے دن نعمتوں کا عہد، تو وہ رحمت کے حق داروں ہی سے ہے، جو ایمان دار ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۸) اس کافر سے وہ عہد کب اور کیسے ہوا؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

78۔ کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد لے رکھا [71] ہے؟
[71] یعنی کیا اسے غیب کے حالات پر، جو دوسری زندگی میں پیش آنے والے ہیں۔ یہ اطلاع ہو گئی ہے کہ واقعی اسے اس دوسرے عالم میں بھی ایسے ہی مال و دولت ملے گا۔ جیسا اس دنیا میں اس کے پاس موجود ہے یا اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ لے رکھا ہے کہ وہ اسے دوسرے عالم میں ضرور مال و دولت عطا کرے گا اور وہاں وہ اپنے قرض خواہ کا حساب بے باق کر سکے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عیار مقروض اور حضرت خباب ٭٭
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے نہ نکل جائے۔ میں نے کہا، میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کر سکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا، بس تو پھر یہی رہی، جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی، وہیں تیرا قرض بھی ادا کر دوں گا، تو آ جانا۔ اس پر یہ آیت اتری }۔ [صحیح بخاری:2091]‏‏‏‏
دوسری روایت میں ہے کہ { میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی، اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول و قرار لے لیا؟ ‘ }
اور روایت میں ہے کہ { اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے تھے، اس لیے مجھے جو جواب دیا، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر یہ آیتیں آتریں }۔
اور روایت میں ہے کہ { کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا، ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، پھل پھول وغیرہ ہوں گے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں «وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا» [19-مريم:80]‏‏‏‏ تک اتریں }۔
«وَلَدًا» کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول و قرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو؟ ‘
چنانچہ آیت «أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا» ۱؎ [19-مریم:78]‏‏‏‏ میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے، اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے۔ دار آخرت میں تو اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہے، جو ہر وقت بڑھتا رہے گا۔ اسے مال و اولاد وہاں بھی ملنا تو کجا، اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَنَرِثُهُ مَا عِنْدَهُ» ہے۔ ’ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ ان کی توبیخ و تکذیب کے طور پر فرماتا ہے: ﴿ اَ٘طَّ٘لَ٘عَ الْغَیْبَ کیا وہ غیب پر مطلع ہو گیا ہے؟ یعنی کیا اس کے علم نے غیب کا احاطہ کر رکھا ہے حتیٰ کہ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کیا کچھ ہو گا جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قیامت کے روز اسے مال و اولاد سے نوازا جائے گا ﴿ اَمِ اتَّؔخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا یا اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کرے گا جن کا اس نے دعویٰ کیا ہے… یعنی کچھ بھی ایسے نہیں ہو گا۔ تب معلوم ہوا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے اور ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے خود بھی علم نہیں۔ اس تقسیم اور تردید کی غرض و غایت، الزامی جواب اور مخالف پر حجت قائم کرنا ہے۔ کیونکہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں بھلائی حاصل ہو گی اسے مندرجہ ذیل امور میں سے ایک ضرور حاصل ہے۔
(۱) یا تو اس کا یہ قول، امور مستقبل کے بارے میں علم غیب سے صادر ہوا مگر ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ وحدہ کو ہے۔ مستقبل میں پیش آنے والے امور غیب کو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے رسولوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ مطلع کر دے۔
(۲) یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں، اپنے ایمان باللہ اور اتباع رسل کے ذریعے سے عہد لے رکھا ہے، جن کے پیروکاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آخرت میں نجات یافتہ اور کامیاب لوگ ہوں گے۔
جب ان دونوں امور کی نفی ہو گئی تو معلوم ہوا کہ دعویٰ باطل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال الله توبيخاً له وتكذيباً: {أطَّلَعَ الغيبَ}؛ أي: أحاط علمُه بالغيب حتى عَلِمَ ما يكون، وأنَّ من جملة ما يكونُ أنَّه يُؤتى يوم القيامة مالاً وولداً. {أم اتَّخَذَ عند الرحمن عهداً}: أنَّه نائلٌ ما قاله؛ أي: لم يكنْ شيءٌ من ذلك، فعُلِمَ أنَّه متقوِّلٌ قائل ما لا علم له به. وهذا التقسيم والترديدُ في غاية ما يكون من الإلْزام وإقامة الحجَّة؛ فإنَّ الذي يزعم أنه حاصلٌ له خيرٌ عند الّله في الآخرة لا يخلو: إما أنْ يكونَ قولُهُ صادراً عن علم بالغيوب المستقبلة، وقد عُلِمَ أنَّ هذا لله وحده؛ فلا أحد يعلم شيئاً من المستقبلات الغيبيَّة إلاَّ ما أطلعه الله عليه من رسله.

وإمَّا أن يكون متَّخِذاً عهداً عند الله بالإيمان به واتِّباع رسله الذين عَهِدَ الّله لأهلِهِ، وأوزَعَ أنَّهم أهل الآخرة، والناجون الفائزون؛ فإذا انتفى هذان الأمران؛ عُلِمَ بذلك بطلان الدعوى.