تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دوسری روایت میں ہے کہ { میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی، اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول و قرار لے لیا؟ ‘ }
اور روایت میں ہے کہ { اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے تھے، اس لیے مجھے جو جواب دیا، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر یہ آیتیں آتریں }۔
اور روایت میں ہے کہ { کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا، ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، پھل پھول وغیرہ ہوں گے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں «وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا» [19-مريم:80] تک اتریں }۔
«وَلَدًا» کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
چنانچہ آیت «أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا» ۱؎ [19-مریم:78] میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے، اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے۔ دار آخرت میں تو اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہے، جو ہر وقت بڑھتا رہے گا۔ اسے مال و اولاد وہاں بھی ملنا تو کجا، اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَنَرِثُهُ مَا عِنْدَهُ» ہے۔ ’ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله توبيخاً له وتكذيباً: {أطَّلَعَ الغيبَ}؛ أي: أحاط علمُه بالغيب حتى عَلِمَ ما يكون، وأنَّ من جملة ما يكونُ أنَّه يُؤتى يوم القيامة مالاً وولداً. {أم اتَّخَذَ عند الرحمن عهداً}: أنَّه نائلٌ ما قاله؛ أي: لم يكنْ شيءٌ من ذلك، فعُلِمَ أنَّه متقوِّلٌ قائل ما لا علم له به. وهذا التقسيم والترديدُ في غاية ما يكون من الإلْزام وإقامة الحجَّة؛ فإنَّ الذي يزعم أنه حاصلٌ له خيرٌ عند الّله في الآخرة لا يخلو: إما أنْ يكونَ قولُهُ صادراً عن علم بالغيوب المستقبلة، وقد عُلِمَ أنَّ هذا لله وحده؛ فلا أحد يعلم شيئاً من المستقبلات الغيبيَّة إلاَّ ما أطلعه الله عليه من رسله.
وإمَّا أن يكون متَّخِذاً عهداً عند الله بالإيمان به واتِّباع رسله الذين عَهِدَ الّله لأهلِهِ، وأوزَعَ أنَّهم أهل الآخرة، والناجون الفائزون؛ فإذا انتفى هذان الأمران؛ عُلِمَ بذلك بطلان الدعوى.