(آیت 79) ➊ {”كَلَّا“} یہ لفظ انکار اور ڈانٹ کے لیے آتا ہے، یعنی یہ دونوں باتیں ہر گز نہیں ہیں، تو پھر ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ اس نے اپنے پاس سے ایک جھوٹی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دی ہے۔ یہاں سورۂ مریم میں اس تیسری بات کا ذکر نہیں، کیونکہ اس سے پہلے سورۂ بقرہ میں یہود کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے یہ بات گزر چکی ہے اور قرآن کی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں، فرمایا: «{ وَقَالُوْالَنْتَمَسَّنَاالنَّارُاِلَّاۤاَيَّامًامَّعْدُوْدَةًقُلْاَتَّخَذْتُمْعِنْدَاللّٰهِعَهْدًافَلَنْيُّخْلِفَاللّٰهُعَهْدَهٗۤاَمْتَقُوْلُوْنَعَلَىاللّٰهِمَالَاتَعْلَمُوْنَ }»[البقرۃ: ۸۰]”اور انھوں نے کہا ہمیں آگ ہر گز نہیں چھوئے گی مگر گنے ہوئے چند دن۔کہہ دے کیا تم نے اللہ کے پاس کوئی عہد لے رکھا ہے؟ تو اللہ کبھی اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا، یا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔“ (شنقیطی) ➋ { وَنَمُدُّلَهٗمِنَالْعَذَابِمَدًّا:} یعنی ہم اسے کئی گنا زیادہ عذاب دیں گے، ایک عذاب کفر کا، ایک استہزا اور مذاق اڑانے کا، ایک اللہ کی راہ سے روکنے کا، ایک دوسروں کو کفر کی راہ پر لگانے کا، ایک فساد پھیلانے کا۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۸۸)، اعراف (۳۸) اور عنکبوت (۱۳) اسی طرح دنیا میں بھی مال و اولاد اور ہر قسم کی زیب و زینت کے ذریعے سے اسے عذاب دیں گے، پھر موت اور آخرت میں مزید عذاب دیں گے، فرمایا: «{ اِنَّمَايُرِيْدُاللّٰهُاَنْيُّعَذِّبَهُمْبِهَافِيالدُّنْيَا }»[التوبۃ: ۸۵]”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان (اموال و اولاد) کے ذریعے سے دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
79۔ ایسا ہرگز نہیں ہو گا جو کچھ یہ کہہ رہا ہے ہم [72] اسے لکھ لیں گے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریں گے۔
[72] یعنی اس کے نامہ اعمال میں اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ضرور درج کر لیا جائے گا اور اس کے گناہوں کی سزا پر اس کی اس جسارت کے گناہ کا مزید اضافہ کیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔