اور اللہ ان لوگوں کو جنھوں نے ہدایت پائی، ہدایت میں زیادہ کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب کے اعتبار سے بہتر اور انجام کے لحاظ سے کہیں اچھی ہیں۔
En
اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں
اور ہدایت یافتہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت میں بڑھاتا ہے، اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ﺛواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں
En
(آیت 76) ➊ {وَيَزِيْدُاللّٰهُالَّذِيْنَاهْتَدَوْاهُدًى:} یعنی جس طرح گمراہوں کو ڈھیل دیتا ہے اور وہ بدی کے راستے میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اسی طرح ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی مزید نیک کام کرنے کی توفیق دیتا جاتا ہے، جس سے وہ اس کی خوشنودی کے راستوں پر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ پھر ایمان کے بعد اخلاص کی دولت سے نوازنا بھی {”زَادَهُمْهُدًي“} (انھیں ہدایت کی مزید توفیق دینا) میں داخل ہے۔ (کبیر) ➋ {وَالْبٰقِيٰتُالصّٰلِحٰتُ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ کہف کی آیت (۴۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
76۔ 1 اس میں ایک دوسرے اصول کا ذکر ہے جس طرح قرآن سے، جن کے دلوں میں کفر اور شرک و ضلالت کا روگ ہے۔ ان کی بدبختی و ضلالت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے، اسی طرح اہل ایمان کے دل ایمان و ہدایت میں اور پختہ ہوجاتے ہیں۔ 76۔ 2 اس میں فقرا مسلمین کو تسلی ہے کہ کفار و مشرکین جن مال و اسباب پر فخر کرتے ہیں، وہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے اور تم جو نیک اعمال کرتے ہو، یہ ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں۔ جن کا اجر وثواب تمہیں اپنے رب کے ہاں ملے گا۔ اور ان کا بہترین صلہ اور نفع تمہاری طرف لوٹے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
76۔ اور جو لوگ راہ راست پر چلتے ہیں اللہ انھیں مزید ہدایت [68] عطا کرتے ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں ہی آپ کے پروردگار کے نزدیک ثواب [69] اور انجام کے لحاظ سے بہتر ہیں۔
[68] ہر واقعہ مومن کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے:۔
کافروں کی تو خوشحالی سے آزمائش ہوتی ہے اور ہر نعمت اور خوشحالی کے موقعہ پر ان کی گمراہی میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس مومنوں کے لئے ہر آزمائش مزید ہدایت کا سبب بن جاتی ہے۔ کوئی بھلائی اور نعمت ملے تو اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں اور دکھ پہنچے تو صبر و استقلال کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ غرض ہر حال میں وہ صابر و شاکر رہتے ہیں اور ہر نیا واقعہ وہ جیسا بھی ہو، ان کی مزید ہدایت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ [69] اس کی تشریح کے لئے سورۃ کہف کی آیت نمبر 46 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
گمراہوں کی گمراہی میں ترقی ٭٭
جس طرح گمراہوں کی گمراہی بڑھتی رہتی ہے، اسی طرح ہدایت والوں کی ہدایت بڑھتی رہتی ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَإِذَامَاأُنزِلَتْسُورَةٌفَمِنْهُممَّنيَقُولُأَيُّكُمْزَادَتْهُهَـٰذِهِإِيمَانًافَأَمَّاالَّذِينَآمَنُوافَزَادَتْهُمْإِيمَانًاوَهُمْيَسْتَبْشِرُونَ» الخ ۱؎[9-التوبة:124] ’ جہاں کوئی سورت اترتی ہے تو بعض لوگ کہنے لگتے ہیں، تم میں سے کس کو اس نے ایمان میں زیادہ کر دیا؟ ‘ الخ۔ باقیات صالحات کی پوری تفسیر ان ہی لفظوں کی تشریح میں سورۃ الکہف میں گزر چکی ہے۔ یہاں فرماتا ہے کہ ’ یہی پائیدار نیکیاں جزا اور ثواب کے لحاظ سے اور انجام اور بدلے کے لحاظ سے نیکوں کے لیے بہتر ہیں ‘۔ عبدالرزاق میں ہے کہ { ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خشک درخت تلے بیٹھے ہوئے تھے اس کی شاخ پکڑ کر ہلائی تو سوکھے پتے جھڑنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دیکھو اسی طرح انسان کے گناہ «لَآاِلٰهَاِلَّا اﷲُوَاﷲُاَکْبَرُسُبْحَانَ اﷲِوَالْحَمْدُِ ﷲِ» کہنے سے جھڑتے ہیں۔ اے ابودرداء ان کا ورد رکھ اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے کہ تو انہیں نہ کہہ سکے، یہی باقیات صالحات ہیں، یہی جنت کے خزانے ہیں }۔ اس کو سن کر ابودرداء کا یہ حال تھا کہ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ واللہ میں تو ان کلمات کو پڑھتا ہی رہوں گا، کبھی ان سے زبان نہ روکوں گا گو لوگ مجھے مجنون کہنے لگیں }۔ ۱؎[سنن ابن ماجہ:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث دوسری سند سے ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔