(آیت 43) ➊ {يٰۤاَبَتِاِنِّيْقَدْجَآءَنِيْمِنَالْعِلْمِ …: ”مِنَالْعِلْمِ“} میں {”مِنْ“} تبعیض کے لیے ہے، یعنی کچھ علم۔ دوسری بات میں بھی ان کی نرمی، دانائی اور حسن ادب دیکھیے۔ ”ابا جی“ کے لقب کے ساتھ مخاطب کیا، یہ نہیں کہا کہ آپ حد درجہ کے جاہل ہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے صدیقیت اور نبوت کا عظیم مرتبہ عطا کیا ہے، بلکہ یہ کہا کہ میرے پاس کچھ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا اور وہ ہے سیدھے راستے کا علم، اس لیے اس میں میرے پیچھے چلنے میں عار محسوس نہ کریں۔ بے شک آپ باپ ہیں مگر یوں سمجھیں کہ میں اور آپ ایک سفر پر ہیں، مجھے راستے کا علم ہے اور آپ کو نہیں، تو آپ کو باپ ہونے کے باوجود میرے پیچھے چلنا ہو گا، تاکہ میں آپ کو صحیح منزل تک پہنچا دوں اور آپ غلط راستے پر چل کر بھٹکتے نہ پھریں۔ (زمحشری) ➋ {اَهْدِكَصِرَاطًاسَوِيًّا: ”سَوِيًّا“”سَوِيَيَسْوٰي“} (ع) سے {”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے، سیدھا برابر راستہ جس میں نہ زیادتی ہے کہ اس کی عبادت ہو جو اس کا حق دار نہیں اور نہ کمی کہ حق دار کی عبادت بھی نہ کی جائے۔ (قاسمی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
43۔ 1 جس سے مجھے اللہ کی معرفت اور اس کا یقین حاصل ہوا، بعث بعد الموت اور غیر اللہ کے پجاریوں کے لئے دائمی عذاب کا علم ہوا۔ 43۔ 2 جو آپ کی سعادت کو ابدی اور نجات سے ہمکنار کر دے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
43۔ ابا جان! میرے پاس ایسا علم [40] ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا۔ لہذا میرے پیچھے چلئے میں آپ کو سیدھی راہ بتاؤں گا۔
[40] یعنی علم وحی الٰہی، جس میں انسان کی دنیوی زندگی کے لئے مکمل ہدایات موجود ہوتی ہیں اور آخرت میں محاسبے کا تفصیلی ذکر ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ یٰۤاَبَتِاِنِّیْقَدْجَآءَنِیْمِنَالْعِلْمِمَالَمْیَ٘اْتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعْنِیْۤاَهْدِكَصِرَاطًاسَوِیًّا﴾”آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ“ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں۔ آپ علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ ”ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں “ یا ”آپ کے پاس کوئی علم نہیں “ آپ علیہ السلام نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ”میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يا أبت إني قد جاءني من العلم ما لم يأتك}؛ أي: يا أبت لا تَحْقِرْني وتقول: إنِّي ابنُك، وإنَّ عندك ما ليس عندي، بل قد أعطاني الله من العلم ما لم يُعْطِكَ، والمقصودُ من هذا قوله: {فاتَّبِعْني أهْدِكَ صراطاً سويًّا}؛ أي: مستقيماً معتدلاً، وهو عبادة الله وحدَه لا شريك له، وطاعتُهُ في جميع الأحوال.
وفي هذا من لطف الخطاب ولينه ما لا يخفى، فإنَّه لم يقلْ: يا أبتِ أنا عالمٌ وأنت جاهلٌ، أو: ليس عندكَ من العلم شيءٌ، وإنَّما أتى بصيغة [تقتضي] أنَّ عندي وعندك علماً،، وأنَّ الذي وصل إليَّ لم يصِلْ إليكَ ولم يأتِكَ؛ فينبغي لك أن تَتَّبِعَ الحجة وتنقاد لها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔