ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 42

اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا یَسۡمَعُ وَ لَا یُبۡصِرُ وَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡکَ شَیۡئًا ﴿۴۲﴾
جب اس نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! تو اس چیز کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہے اور نہ دیکھتی ہے اور نہ تیرے کسی کام آتی ہے؟ En
جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں
En
جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا جان! آپ ان کی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں؟ نہ آپ کو کچھ بھی فائده پہنچا سکیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42) ➊ { يٰۤاَبَتِ } کے معنی کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۴)۔
➋ { اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ …:} اس سے معلوم ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام کا والد بت پرست تھا۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام(۷۴) ابراہیم علیہ السلام نے اسے نہایت ادب، نرمی، حسن اخلاق اور بہترین دلائل کے ساتھ بت پرستی ترک کرنے کی نصیحت کی کہ کہیں وہ بڑے پن اور ضد میں آکر حق سے انکار نہ کر دے۔ چنانچہ سب سے پہلے انھوں نے اس سے ان بتوں کو پوجنے کی وجہ پوچھی کہ جن کی کسی عقل مند کے نزدیک کوئی وقعت ہی نہیں، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، کجا یہ کہ ان کی عبادت کی جائے، جو تعظیم، محبت اور عاجزی کا انتہائی مرتبہ ہے۔ کیونکہ عبادت تو اس کی ہونی چاہیے جو ہر طرح سے دوسروں سے غنی ہو، کسی کا محتاج نہ ہو، سب نعمتوں کا مالک ہو، سب کو پیدا کرنے والا، رزق دینے والا ہو، زندگی، موت، ثواب اور عذاب کا مالک ہو۔ ابراہیم علیہ السلام نے اسے توجہ دلائی کہ صاحب عقل کو لازم ہے کہ جو بھی کرے کسی صحیح مقصد کے لیے کرے۔ کوئی بھی چیز یا شخص جو زندہ ہو، صاحب عقل ہو، سنتا دیکھتا ہو، کوئی فائدہ یا نقصان بھی پہنچا سکتا ہو مگر عدم سے وجود میں آیا ہو اور اس کا اختیار کسی اور کا عطا کردہ ہو تو عقل سلیم اس کی عبادت میں عار محسوس کرے گی، خواہ وہ کتنی اونچی مخلوق مثلاً انسان ہو یا فرشتہ، کیونکہ وہ خود اپنی ضروریات کے لیے اس ہستی کا محتاج ہے جو نہ اپنے وجود میں کسی کی محتاج ہے اور نہ اپنی بقا میں۔ پھر پتھر، لکڑی یا دھات کے بنے ہوئے بت یا مٹی اور اینٹوں سے بنی ہوئی قبریں کہ جن میں زندہ لوگوں والی کوئی خوبی ہے ہی نہیں، جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں، نہ کسی کے کام آ سکیں، ان کی عبادت کیوں؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا: ”ابا جان! آپ ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں [39]، نہ دیکھتی ہیں اور نہ تمہارے کسی کام آ سکتی ہیں۔
[39] سیدنا ابراہیم کا اپنے باپ کو بت پرستی کی قباحتیں سمجھانا:۔
مروجہ شرک کی دو بڑی اقسام ہیں ایک بت پرستی دوسرے پیر پرستی۔ پیر خواہ زندہ ہو یا فوت شدہ۔ زندہ پیر کم از کم دیکھ تو سکتا ہے اور سن بھی سکتا ہے اور مادی وسائل کے ذریعہ مدد بھی کر سکتا ہے۔ مگر سیدنا ابراہیمؑ کی قوم تو بت پرست تھی۔ جو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ نہ حرکت کر سکتے ہیں بلکہ وہ اپنے وجود تک کے لئے انسانوں کے محتاج ہیں۔ پھر وہ دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیا خاک کر سکتے ہیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔
فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔
جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [36-يس:60]‏‏‏‏، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:117]‏‏‏‏، ’ یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں ‘۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔‏‏‏‏
ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔‏‏‏‏
جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [16-النحل:63]‏‏‏‏ یعنی ’ یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ یٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ وَلَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْـًٔؔا یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وذكر الله مراجعته إيَّاه فقال: {إذْ قال لأبيه}: مهجِّناً له عبادة الأوثان: {يا أبتِ لم تعبدُ ما لا يسمعُ ولا يبصِرُ ولا يغني عنك شيئاً}؛ أي: لم تعبد أصناماً ناقصةً في ذاتها وفي أفعالها؛ فلا تسمع، ولا تبصر، ولا تملِكُ لعابدها نفعاً ولا ضرًّا، بل لا تملِكُ لأنفسها شيئاً من النفع، ولا تقدِرُ على شيءٍ من الدفع؟! فهذا برهانٌ جليٌّ دالٌّ على أنَّ عبادة الناقص في ذاته وأفعاله مستقبحٌ عقلاً وشرعاً، ودلَّ تنبيهه وإشارتُه أنَّ الذي يجبُ ويحسُنُ عبادةُ مَنْ له الكمالُ، الذي لا يَنال العبادُ نعمةً إلاَّ منه، ولا يدفعُ عنهم نقمةً إلاَّ هو، وهو الله تعالى.