ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 38

اَسۡمِعۡ بِہِمۡ وَ اَبۡصِرۡ ۙ یَوۡمَ یَاۡتُوۡنَنَا لٰکِنِ الظّٰلِمُوۡنَ الۡیَوۡمَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۸﴾
کس قدر سننے والے ہوں گے وہ اور کس قدر دیکھنے والے، جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے، لیکن یہ ظالم آج کھلی گمراہی میں ہیں۔ En
وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے۔ کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں
En
کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38) {اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ …:} یہ دونوں فعل تعجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ تعجب سے فرماتے ہیں کہ جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے تو وہ کس قدر سننے والے اور کس قدر دیکھنے والے ہوں گے۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے تعجب کرنے کو نہیں مانتے، کیونکہ تعجب تو انسان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ انسان جیسا تو نہیں کہ تعجب کرے۔ اس لیے وہ اس کی تاویل کرتے ہیں کہ ان کی حالت ایسی ہو گی کہ اس پر تعجب کیا جائے، اگرچہ ان کی حالت واقعی ایسی ہو گی مگر جب انسان کے سننے، دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کو بھی سننے دیکھنے والا مانتے ہیں تو اس کے تعجب کرنے میں کیا تعجب ہے۔ ہاں انسان کا سننا، دیکھنا اور تعجب اس کی ہستی کے مطابق ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا اس کی شان کے مطابق، جیسا کہ فرمایا: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ [الشورٰی: ۱۱] اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تعجب کرنے کے منکر اس کے سمیع و بصیر ہونے اور دوسری صفات کے بھی منکر ہیں، مگر انکار ایسی تاویل کے پردے میں کرتے ہیں جو درحقیقت آیات و احادیث کی تحریف ہے۔یعنی آج تو حق سے اندھے اور بہرے ہو رہے ہیں مگر آخرت میں ان کے کان اور آنکھیں خوب کھلی ہوں گی اور کہیں گے: «{ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا [السجدۃ: ۱۲] اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا مگر اس وقت کا دیکھنا اور سننا کسی کام نہ آئے گا۔ { الظّٰلِمُوْنَ } پر الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ یہ ظالم کیا گیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

38۔ 1 یہ تعجب کے صیغے ہیں یعنی دنیا میں تو یہ حق کے دیکھنے اور سننے سے اندھے اور بہرے رہے لیکن آخرت میں یہ کیا خوب دیکھنے اور سننے والے ہونگے؟ لیکن وہاں یہ دیکھنا سننا کس کام کا؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے اس روز وہ خوب سن رہے اور دیکھ رہے ہوں گے۔ لیکن یہ ظالم آج کھلی گمراہی [34] میں پڑے ہیں۔
[34] یعنی آج اس دنیا میں انھیں دیکھنے اور سننے کا فائدہ ہے مگر نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن خوب دیکھ اور سن رہے ہوں گے مگر اس دن دیکھنے اور سننے کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ اس دن وہ ایسی ایسی باتیں سنیں گے جن سے ان کے جگر پھٹ جائیں گے اور ایسے منظر دیکھیں گے جن سے ان کے چہروں پر سیاہی اور مردنی چھا جائے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت ٭٭
ارشاد ہے کہ گو آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں روئی ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہو جائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:12]‏‏‏‏ الخ، ’ کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا ‘ الخ۔
پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت وافسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا۔ اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں، نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں، نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔
مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئیے جب کہ تمام کام فیصل کر دیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی نہیں رکھتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑیئے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا، پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے۔ دوزخیوں سے بھی یہی سوال ہو گا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہو گا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لیے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لیے بھی اب ہمیشہ کے لیے موت نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [19-مريم:39]‏‏‏‏، تلاوت فرمائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4830]‏‏‏‏
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہو گا وہ دن ہی حسرت و افسوس کا ہے۔ جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہا جاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت وافسوس کرنے لگیں گے، ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے۔‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ موت کو ذبح کر کے جب ہمیشہ کے لیے کی آواز لگا دی جائے گی، اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مر جائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہو جائیں۔‏‏‏‏
پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہو گا اور کام کے خاتمے کا وقت بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
چنانچہ اور آیت میں ہے «اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:56]‏‏‏‏، پھر بتایا کہ خالق و مالک متصرف اللہ ہی ہے۔ سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے، ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں، تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے، اس کی ذات ظلم سے پاک ہے۔
خلیفہ اسلام امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں حمد و صلوۃ کے بعد لکھا، اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ اس سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے، لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں، ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف سب لوٹائے جائیں گے۔‏‏‏‏