ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 37

فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ مَّشۡہَدِ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۳۷﴾
پھر ان گروہوں نے اپنے درمیان اختلاف کیا تو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ایک بہت بڑے دن کی حاضری کی وجہ سے بڑی ہلاکت ہے۔ En
پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ سو جو لوگ کافر ہوئے ہیں ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے
En
پھر یہ فرقے آپس میں اختلاف کرنے لگے، پس کافروں کے لئے ویل ہے ایک بڑے (سخت) دن کی حاضری سے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 37) ➊ { فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ:} عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق حق بات تفصیل سے بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ پھر بنی اسرائیل سے باہر کے کسی گروہ نے نہیں بلکہ خود ان کے اپنے گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ { مِنْۢ بَيْنِهِمْ } میں اسی طرف اشارہ ہے۔ یہود نے انھیں ولد الزنا اور جادوگر قرار دیا اور نصاریٰ کئی گروہوں میں بٹ گئے، کسی نے کہا اللہ مسیح ہی تو ہے۔ (مائدہ: ۷۲) کسی نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ (توبہ: ۳۰) کسی نے کہا مسیح تین (معبودوں) میں سے تیسرا ہے وغیرہ۔ مائدہ (۷۳) یہود نے ان کی شان گھٹانے کی کوشش کی تو نصاریٰ نے انھیں ان کی حد سے بڑھا دیا۔ ہاں اہل حق نے یہی کہا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہود ان کی شان گھٹانے اور ان پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے کافر ہو گئے اور نصاریٰ ان کی شان میں غلو کی وجہ سے کافر ہو گئے، البتہ اہل حق ایمان پر قائم رہے۔
➋ { فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: فَوَيْلٌ } پر تنوین (تہویل) یعنی اس کی ہولناکی کے اظہار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ بڑی ہلاکت کیا ہے۔ { مَشْهَدِ } یہاں راجح قول میں مصدر میمی ہے، یعنی اس عظیم دن میں حاضری کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے بہت بڑی ہلاکت ہے جنھوں نے کفر کیا، اگر اس دن کی حاضری نہ ہوتی تو یہ لوگ اس ہلاکت سے بچ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ان لوگوں کے لیے کہنے کے بجائے صراحت سے فرمایا: ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا بہت بڑی ہلاکت ہے۔ معلوم ہوا کہ اس ویل کا باعث کفر ہے۔ یوم عظیم پچاس ہزار سال کا دن (معارج: ۴) اور اللہ کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے کا دن ہے۔ [اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

37۔ 1 یہاں الاحزاب سے مراد کتاب کے فرقے اور خود عیسائیوں کے فرقے ہیں۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں باہم اختلاف کیا۔ یہود نے کہا کہ وہ جادوگر اور یوسف نجار کے بیٹے ہیں نصا ریٰ کے ایک فرقے نے کہا کہ وہ ابن اللہ ہیں۔ (کیتھولک) فرقے نے کہا وہ ثالث ثَلَاثلَۃِ (تین خداؤں میں سے تیسرے) ہیں اور تیسرے فرقے یعقوبیہ (آرتھوڈکس) نے کہا، وہ اللہ ہیں۔ پس یہودیوں نے تفریط اور تقصیر کی عیسائیوں نے افراط وغلو (الیسرا لتفاسیر، فتح القدیر) 37۔ 2 ان کافروں کے لئے جنہوں نے عیسیٰ ؑ کے بارے میں اس طرح اختلاف اور افراط کا ارتکاب کیا، قیامت والے دن جب وہاں حاضر ہوں گے، ہلاکت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ پھر مختلف گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس ایسے کافروں کے لئے ہلاکت ہے جو بڑے دن کی حاضری کا انکار کر [33] رہے ہیں۔
[33] سیدھی راہ یہ ہے کہ میرا اور تمہارا یعنی سب لوگوں کا خالق اور پروردگار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اب جو لوگ اس سیدھی راہ میں رخنے ڈالتے، اللہ کے لئے بیٹے، پوتے، بیٹیاں یا دوسرے شریک تجویز کرتے، پھر ان پر بحثیں کر کے جدا جدا فرقے بنا رہے ہیں انھیں قیامت کے دن کی ہولناک تباہیوں سے خبردار کیجئے اور اس ہلاکت سے ڈرائیے جو اس دن انھیں یقیناً پیش آنے والی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔