(آیت 32) ➊ {وَبَرًّۢابِوَالِدَتِيْ …:} دیکھیے اسی سورت کی آیت (۱۴) وہاں {”عَصِيًّا“} فرمایا اور یہاں {”شَقِيًّا۔“} معلوم ہوا کہ والدین سے بدسلوکی کرنے والا شقی اور بدنصیب ہے، خصوصاً ایسی والدہ سے جو باپ اور ماں دونوں کی جگہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رَغِمَأَنْفُثُمَّرَغِمَأَنْفُثُمَّرَغِمَأَنْفُقِيْلَمَنْيَارَسُوْلَاللّٰهِ! قَالَمَنْأَدْرَكَأَبَوَيْهِعِنْدَالْكِبَرِأَحَدَهُمَاأَوْكِلَيْهِمَافَلَمْيَدْخُلِالْجَنَّةَ][مسلم، البر والصلۃ، باب رغم من أدرک أبویہ أو أحدھما…: ۲۵۵۱، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ]”اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو!“ پوچھا گیا: ”یا رسول اللہ! کون؟“ فرمایا: ”جس نے اپنے والدین میں سے ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا پھر جنت میں داخل نہ ہوا۔“ جنت میں داخلے سے محروم ہو جانے سے بڑھ کر کیا بدبختی ہو گی؟ ➋ عیسیٰ علیہ السلام نے صرف والدہ کا نام لیا، تاکہ لوگوں کو ان کے باپ کے بغیر پیدا ہونے کا یقین ہو جائے اور والدہ کا ہر تہمت سے پاک ہونا ثابت ہو جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
32۔ 1 صرف والدہ کے ساتھ حسن سلوک کے ذکر سے بھی واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت بغیر باپ کے ایک اعجازی شان کی حامل ہے، ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ لسلام بھی، حضرت یحیٰی ؑ کی طرح (ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا) کہتے، یہ نہ کہتے کہ میں ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں۔ 32۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ماں باپ کا خدمت گزار اور اطاعت شعار نہیں ہوتا، اس کی فطرت میں سرکشی اور قسمت میں بدبختی لکھی ہے، حضرت عیسیٰ ؑ نے ساری گفتگو ماضی کے صیغوں میں کی ہے حالاں کہ ان تمام باتوں کا تعلق مستقبل سے تھا، کیونکہ ابھی تو وہ شیر خوار بچے ہی تھے۔ یہ اس لئے کہ یہ اللہ کی تقدیر کے اٹل فیصلے تھے کہ گو ابھی یہ معرض ظہور میں نہیں آئے تھے لیکن ان کا وقوع اس طرح یقینی تھا جس طرح کے گزرے ہوئے واقعات شک وشبہ سے بالا ہوتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
32۔ اور یہ بھی کہ میں اپنی والدہ سے بہتر سلوک کرتا رہوں۔ نیز اللہ نے مجھے جابر اور بد بخت نہیں بنایا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔