تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ …:} اس آیت کی تفسیرجو اکثر مفسرین، مثلاً طبری، ابن کثیر، شنقیطی رحمۃ اللہ علیھم نے کی ہے، یہ ہے کہ {” اَمْ “} منقطعہ انکار کے لیے ہے۔ شنقیطی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرما رہے ہیں کہ کیا تم نے اصحابِ کہف کے قصے کو ہماری نشانیوں میں بڑی عجیب نشانی سمجھ لیا ہے۔ بے شک لوگ اسے بہت بڑی اور عجیب بات سمجھیں، مگر یہ ہماری قدرت اور عظیم نشانیوں کے سامنے کچھ عجیب نہیں، کیونکہ ہمارا آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنا، پھر زمین میں اس کی زینت کی ہر چیز پیدا کرنا، پھر قیامت کے دن اسے چٹیل میدان بنا دینا اصحابِ کہف کے معاملے سے بہت زیادہ عجیب ہے، جنھیں ہم نے تین سو نو (۳۰۹) سال سلائے رکھا، پھر دوبارہ اٹھا دیا۔ اس کی دلیل بہت سی آیات ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے ذکر سے پہلے زمین اور اس کی زینت پیدا کرنے، پھر اسے چٹیل میدان بنانے کا ذکر فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ قصہ ان چیزوں کے مقابلے میں کچھ عجیب نہیں جو اس سے کہیں بڑی ہیں۔ قرآن مجید میں بہت سی جگہ لوگوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ آسمان و زمین کو پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے بہت بڑی بات ہے، جیسا کہ فرمایا: «لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [المؤمن: ۵۷] ”یقینا آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے۔“ اور دیکھیے نازعات (۲۷ تا ۳۳) یاد رہے کہ ”اصحاب کہف“ اور ”اصحاب رقیم “ ایک ہی گروہ کے نام ہیں اور صحیح بخاری میں مذکور غار کے اندر پناہ لینے والے تین آدمیوں کا اس واقعہ سے تعلق بہت بعید ہے، جن میں سے ایک والدین سے حسن سلوک کرنے والا، ایک پاک دامن رہنے والا اور ایک اجرت پر مزدور رکھنے والا تھا۔ اور یہ بات یاد رکھیں کہ اصحابِ کہف کے قصے، ان کے ناموں اور یہ کہ وہ زمین کے کس حصے میں تھے؟ اس سب سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے علاوہ کوئی بات ثابت نہیں جو قرآن سے زائد ہو۔ مفسرین نے ان کے متعلق بہت سی اسرائیلی روایات بیان کی ہیں جن کے قابل اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے ان کی طرف توجہ نہیں کی۔“ (شنقیطی ملخصاً)
ایک اور تفسیر جو پہلی تفسیر کے علاوہ صاحب روح المعانی اور ابن عاشور رحمۃ اللہ علیھما وغیرہ نے ذکر فرمائی ہے، یہ ہے کہ {”حِسْبَانٌ“} گمان اور علم دونوں معنوں میں آتا ہے، ہاں {” اَمْ “} انکار کے لیے نہیں بلکہ تقریری ہے، یعنی یہ بتانے کے لیے ہے کہ یقینا یہ لوگ واقعی عجیب تھے۔ گویا یہ کہا گیا: {”اِعْلَمْ أَنَّهُمْ عَجَبٌ“} ”جان لے کہ یقینا وہ لوگ بڑے عجیب تھے۔“ جیسا کہ تم کہتے ہو: {” أَعَلِمْتَ أَنَّ فُلاَنًا فَعَلَ كَذَا “} ”کیا تمھیں معلوم ہے کہ فلاں نے اس طرح کیا۔“ یعنی یقینا اس نے اس طرح کیا ہے۔ ان مفسرین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے واقعے کا عجیب ہونا ذکر کرنے کے بعد تفصیل سے واقعہ بیان کر رہے ہیں، تاکہ مخاطب کو سننے کا شوق پیدا ہوجائے۔ یہ تفسیر بھی ہو سکتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ وہ کتاب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ پتھر کی ایک لوح تھی جس پر اصحاب کہف کا قصہ لکھ کر غار کے دروازے پر اسے لگا دیا گیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں قرآن میں ہے «كِتَابٌ مَّرْقُومٌ» [83-المطففين: 9] پس آیت کے ظاہری الفاظ تو اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی امام ابن جریر کا مختار قول ہے کہ «رَّقِيمِ» فعیل کے وزن پر مرقوم کے معنی میں ہے جیسے مقتول قتیل اور مجروح جریح۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ غار میں جا کر جو پڑ کر سوئے تو برسوں گزر گئے، پھر ہم نے انہیں بیدار کیا، ایک صاحب درہم لے کر بازار سے سودا خریدنے چلے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ انہیں وہاں کتنی مدت گزری، اسے دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے؟ اسے ہم بھی معلوم کریں۔ «أَمَدً» کے معنی عدد یعنی گنتی کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ غایت کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے جیسے کہ عرب کے شاعروں نے اپنے شعروں میں اسے غایت کے معنی میں باندھا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الاستفهام بمعنى النفي والنهي؛ أي: لا تظنَّ أنَّ قصَّة أصحاب الكهف وما جرى لهم غريبةٌ على آيات الله وبديعةٌ في حكمته، وأنَّه لا نظير لها ولا مجانس لها، بل لله تعالى من الآيات العجيبة الغريبة ما هو كثيرٌ من جنس آياتِهِ في أصحاب الكهف وأعظم منها، فلم يزل الله يُري عباده من الآيات في الآفاق وفي أنفسهم ما يتبيَّن به الحقُّ من الباطل والهدى من الضلال. وليس المراد بهذا النفي عن أن تكون قصَّة أصحاب الكهف من العجائب، بل هي من آيات الله العجيبة، وإنَّما المرادُ أن جنسها كثيرٌ جدًّا؛ فالوقوف معها وحدها في مقام العَجَبِ والاستغراب نقصٌ في العلم والعقل، بل وظيفةُ المؤمن التفكُّر بجميع آيات الله التي دعا الله العبادَ إلى التفكُّر فيها؛ فإنَّها مفتاحُ الإيمان وطريقُ العلم والإيقان. وإضافتهم إلى الكهف الذي هو الغارُ في الجبل، {والرقيم}؛ أي: الكتاب الذي قد رُقِمَتْ فيه أسماؤهم وقصَّتُهم لملازمتهم له دهراً طويلاً.