ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوۡنَ مَا عَلَیۡہَا صَعِیۡدًا جُرُزًا ؕ﴿۸﴾
اور بلاشبہ ہم جو کچھ اس پر ہے، اسے ضرور ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔ En
اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کرکے) بنجر میدان کردیں گے
En
اس پر جو کچھ ہے ہم اسے ایک ہموار صاف میدان کر ڈالنے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8){وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَيْهَا …: صَعِيْدًا } مٹی، کیونکہ وہ سمندر سے اوپر اٹھی ہوئی ہے۔ { صَعِدَ يَصْعَدُ } چڑھنا۔{ جُرُزًا } چٹیل زمین، جس میں کوئی سبزہ نہ ہو۔ {جَرَزَتِ الْأَرْضُ} قحط یا ٹڈی دل کی وجہ سے زمین پر کوئی اگی ہوئی چیز نہ رہ گئی۔ سورۂ سجدہ میں فرمایا: «اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ اَفَلَا يُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ [السجدۃ: ۲۷] اور کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم پانی کو چٹیل زمین کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں، پھر اس کے ذریعے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ خود بھی، تو کیا وہ نہیں دیکھتے؟ ان دونوں آیتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ کفار جن چیزوں پر اترا رہے ہیں وہ سب چند دن کے لیے زمین کی زینت ہیں، پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ نہ اس پر کوئی مکان رہے گا نہ باغ، نہ سبزہ، نہ جانور، نہ آدمی، یعنی یہ ساری چہل پہل ختم ہو جائے گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

8۔ 1 صعیدا۔ صاف میدان۔ جرز۔ بالکل ہموار۔ جس میں کوئی درخت وغیرہ نہ ہو، یعنی ایک وقت آئے گا کہ یہ دنیا اپنی تمام تر رونقوں سمیت فنا ہوجائے گی اور روئے زمین ایک چٹیل اور ہموار میدان کی طرح ہوجائے گی، اس کے بعد ہم نیک و بد کو ان کے عملوں کے مطابق جزا دیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ یہ جو کچھ زمین پر ہے ہم اسے ایک چٹیل میدان [7] بنا دینے والے ہیں۔
[7] ﴿كل من عليها فان:.﴾
یہ لوگ اس وقت آسودہ حال ہیں اور دنیا کی لذتوں اور دلچسپیوں میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ ان کی یہ حالت بدستور قائم رہے اور اسلام کے غلبہ میں انھیں اپنی اس آسودہ حالی کی زندگی اور عز و جاہ کی موت نظر آتی ہے حالانکہ دنیا کی انہی دلچسپیوں کو ہم نے ایسے لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے ہم تو یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عیش و عشرت کی ان فراوانیوں میں پھنس کر کوئی اللہ کی طرف بھی رجوع کرتا ہے یا نہیں اور یہ دنیا اور اس کی بہار تو محض ایک وقتی، عارضی اور فانی چیز ہے اور ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب اس زمین پر نہ لہلہاتے کھیت ہوں گے، نہ مہکتے ہوئے باغ، نہ مال و مویشی، بس یہ ایک چٹیل میدان ہو گی کسی کی ملکیت میں کوئی بھی چیز نہ ہو گی۔ یہ مال و اولاد، یہ غلام اور مویشی، یہ عز و جاہ کے سب وسائل ناپید ہو جائیں گے اس وقت اگر کوئی چیز کارآمد ہو گی تو انسان کے اچھے اعمال ہوں گے جو اس کے ساتھ جائیں گے لہٰذا انسان کو اپنی توجہ فانی چیزوں کی بجائے باقی رہنے والی چیزوں پر صرف کرنی چاہیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام چیزوں کو مضمحل ہونے والی، فانی اور زائل ہو جانے والی بنایا ہے۔ عنقریب یہ زمین بے آب و گیاہ اور بنجر ہو جائے گی، اس کی تمام لذتیں ناپید ہو جائیں گی، اس کے دریا خشک ہو جائیں گے، اس کے تمام آثار مٹ جائیں گے اور اس کی نعمتیں زائل ہو جائیں گی۔ یہ ہے اس دنیا کی حقیقت، اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو ہمارے سامنے اس طرح بیان کر دیا ہے گویا کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا سے دھوکہ کھانے سے بچنے کے لیے کہا ہے اور ہمیں اس گھر کے حصول کی ترغیب دی ہے جس کی نعمتیں دائمی اور جہاں کے رہنے والے بہت خوش بخت ہیں۔ یہ سب کچھ ہم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جن لوگوں کا باطن گناہوں کے میل کچیل سے آلودہ ہے اور وہ دنیا کی ظاہری شکل کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ دنیا کی زیب و زینت سے فریب کھا جاتے ہیں تب وہ دنیا میں بہائم کی طرح رہتے ہیں، مویشیوں کی طرح اس دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اپنے رب کے حق میں غور کرتے ہیں نہ اس کی معرفت کے حصول کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ ان کے ارادے صرف شہوات کے حصول پر مرتکز ہوتے ہیں خواہ وہ کسی بھی طریقے سے اور کسی بھی حالت میں حاصل ہوں۔ جب ان لوگوں کی موت کا وقت آتا ہے تو انھیں اپنی ذات کے ویران ہونے اور لذتوں کے چھوٹ جانے پر بہت قلق ہوتا ہے۔ اس قلق کا سبب یہ نہیں کہ وہ کوتاہی اور گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اور جو اس دنیا کے باطن پر نظر ڈالتا ہے اور اسے دنیا اور خود اپنے مقاصد کا علم ہوتا ہے وہ اس دنیا سے صرف اتنا سا استفادہ کرتا ہے جس سے وہ اپنے مقاصد کے حصول میں مدد لے سکے جن کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے اور اپنی عمر میں فرصت کو غنیمت جانتا ہے وہ دنیا کو راہ گزر سمجھتا ہے، آرام کی منزل نہیں۔ وہ اسے انتہائی دشوار اور تکلیف دہ سفر سمجھتا ہے، عیش و آرام کا گھر نہیں۔ پس وہ اپنے رب کی معرفت کے حصول اس کے احکام کے نفاذ اور اپنے اعمال کو مقام احسان پر پہنچانے کے لیے پوری جدوجہد کرتا ہے۔ یہ شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین منازل میں قیام کرے گا وہ ہر قسم کے اکرام و تکریم، نعمتوں اور مسرتوں کا مستحق ہو گا۔ جب فریب خوردہ لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے تھے تو اس شخص کی نظر دنیا کے باطن پر تھی، جب لوگ حصول دنیا کے لیے کام کرتے تھے تو یہ اپنی آخرت کے لیے کام کرتا تھا۔ دونوں فریقوں میں بہت بڑا فرق اور دونوں گروہوں کے درمیان بہت بڑا تفاوت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع ذلك سيجعلُ الله جميع هذه المذكورات فانيةً مضمحلَّةً وزائلةً منقضيةً، وستعود الأرض {صعيداً جُرزاً}: قد ذهبت لذَّاتها وانقطعتْ أنهارُها واندرستْ آثارُها وزال نعيمُها.

هذه حقيقة الدُّنيا، قد جلاَّها الله لنا كأنَّها رأي عين، وحذَّرنا من الاغترار بها، ورغَّبنا في دارٍ يدوم نعيمها ويسعدُ مقيمها، كلُّ ذلك رحمةً بنا، فاغترَّ بزُخْرُفِ الدُّنيا وزينتها مَنْ نَظَرَ إلى ظاهر الدُّنيا دون باطنها، فصحبوا الدُّنيا صحبة البهائم، وتمتَّعوا بها تمتُّع السوائم، لا ينظُرون في حقِّ ربِّهم، ولا يهتمُّون لمعرفته، بل همُّهم تناول الشهوات من أيِّ وجهٍ حصلت وعلى أيِّ حالةٍ اتَّفقت؛ فهؤلاء إذا حضر أحدَهم الموتُ، قلق لخراب ذاتِهِ وفوات لذَّاتِهِ، لا لما قدَّمت يداه من التفريط والسيئات.

وأمَّا من نَظَرَ إلى باطن الدُّنيا وعلم المقصود منها ومنه؛ فإنَّه تناول منها ما يستعين به على ما خُلِقَ له، وانتهز الفرصة في عمره الشريف، فجعل الدُّنيا منزل عبورٍ لا محلَّ حبور، وشُقَّة سفرٍ لا منزل إقامةٍ، فبذل جهدَهُ في معرفة ربِّه وتنفيذ أوامره وإحسان العمل؛ فهذا بأحسن المنازل عند الله، وهو حقيقٌ منه بكلِّ كرامة ونعيم وسرورٍ وتكريم، فنظر إلى باطن الدُّنيا حين نظر المغترُّ إلى ظاهرها، وعمل لآخرتِهِ حين عملَ البطَّال لدُنياه، فشتَّان ما بين الفريقين! وما أبعد الفرقَ بين الطائفتين!