ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 83

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنۡ ذِی الۡقَرۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ سَاَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ مِّنۡہُ ذِکۡرًا ﴿ؕ۸۳﴾
اور وہ تجھ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں تو کہہ میں تمھیں اس کا کچھ ذکر ضرور پڑھ کر سناؤں گا۔ En
اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں
En
آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ یہ لوگ دریافت کر رہے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میں ان کا تھوڑا سا حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 83) ➊ { وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ:} واؤ کے ساتھ ذوالقرنین کے قصے کا موسیٰ علیہ السلام کے قصے پر عطف ہے۔ بقاعی رحمہ اللہ نے فرمایا، موسیٰ علیہ السلام کے خضر علیہ السلام کے ساتھ قصہ میں علم کے حصول کے لیے سفروں کا ذکر تھا اور ذوالقرنین کے قصہ میں جہاد فی سبیل اللہ کے لیے سفروں کا ذکر ہے۔ چونکہ علم عمل کی بنیاد ہے اس لیے اس کا ذکر پہلے فرمایا۔ ایک مناسبت یہ ہے کہ دو باغوں والے شخص اور ابلیس کے تکبر اور ان کے انجام کے بعد موسیٰ علیہ السلام جیسے اولو العزم پیغمبر کا اتنے مرتبے کے باوجود اور ذوالقرنین جیسے عظیم بادشاہ کا مشرق و مغرب کی سلطنت کے باوجود ہر قسم کے کبر و غرور سے پاک ہونے کا اور حد درجہ کی تواضع اختیار کرنے کا ذکر فرمایا، تاکہ ان کے نقش قدم پر چلا جائے۔
➋ ذوالقرنین کون تھا، کس ملک کا تھا، قرآن و حدیث میں اس کا ذکر نہیں۔ البتہ اتنا واضح ہے کہ عرب کے لوگ اس سے واقف تھے۔ ان کے شعروں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے، اس لیے انھوں نے اس کے متعلق سوال کیا، مگر ان سے گزشتہ فاتح فرماں رواؤں میں سے کسی ایک کی تعیین نہیں ہوتی، اس لیے مفسرین میں اس کے متعلق بہت ہی اختلاف ہے۔ آلوسی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابوریحان البیرونی نے اپنی کتاب { اَلْآثَارُ الْبَاقِيَةُ عَنِ الْقُرُوْنِ الْخَالِيَةِ } میں ذکر کیا ہے کہ ذوالقرنین (یمن کا) ابوکرب حمیری ہے، جس کی اولاد ہونے پر، مشرق و مغرب کا بادشاہ ہونے پر اور مسلم ہونے پر تبع یمنی نے اپنے اشعار میں فخر کا اظہار کیا ہے، جو روح المعانی میں منقول ہیں۔ البیرونی نے اس قول کے حقیقت کے سب سے زیادہ قریب ہونے کا ایک قرینہ یہ لکھا ہے کہ یمن کے بادشاہوں کے لقب لفظ ذو سے شروع ہوتے تھے، جیسے ذو نواس اور ذویزن وغیرہ۔ بعض نے یونانی فاتح سکندر مقدونی کو اس کا مصداق ٹھہرایا ہے، جیسے علامہ قاسمی رحمہ اللہ وغیرہ، جب کہ بہت سے مفسرین مثلاً ابن قیم، طنطاوی اور آلوسی وغیرہ نے شدت سے اس کی تردید کی ہے، کیونکہ یہ سکندر ارسطو کا شاگرد اور بت پرست تھا، جب کہ قرآن میں مذکور ذوالقرنین مومن، موحد اور متقی تھا۔ برصغیر کے ایک مفسر نے ذو القرنین کے متعلق قرآن میں مذکور صفات ایرانی بادشاہ خورس پر چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے بعد آنے والے ایک صاحب نے تاریخ اور بائبل سے خورس ہی کو سب سے زیادہ ذوالقرنین کا مصداق ٹھہرانے کا حق دار قرار دیا ہے۔
اشرف الحواشی میں ہے کہ بعض کے نزدیک اس سے مراد ایک اور بادشاہ ہے جو ابراہیم علیہ السلام کا ہم عصر تھا اور ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہی سے اللہ تعالیٰ نے اسے خارق عادت اسباب و وسائل عطا فرمائے۔ اس کے وزیر خضر تھے، اس لیے خضر کے قصے کے ساتھ اس کا قصہ بیان کیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اور ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس کو ترجیح دی ہے۔ ابن کثیر نے اس کا نام بھی اسکندر بیان کیا ہے۔ یہ ہیں بڑے بڑے اہل علم یا متجد دین کے اقوال جن کا ماخذ جاہلی اشعار ہیں، جن کی کوئی سند نہیں، یا زمانۂ قبل مسیح کی تاریخ، جس کے مؤرخین کا حال قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہے نہ ان کی ثقاہت، یا آثار قدیمہ ہیں جن کی معدوم زبانیں یورپی کفار نے اندازے سے پڑھیں، جو کسی طرح بھی اعتماد کے قابل نہیں، یا بائبل جس میں مذکور باتوں کو (جو نہ قرآن و حدیث کے مطابق ہوں نہ مخالف) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق نہ سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ پھر ایسی باتوں پر یقین کیسے ہو سکتا ہے!؟ لطف یہ ہے کہ جو بھی نیا مفسر نئی سے نئی بات نکال کر قدیم تاریخ، آثار قدیمہ، جاہلی اشعار، بائبل کے اقوال کا ڈھیر لگا دیتا ہے وہ اتنا ہی بڑا صاحب کمال گنا جاتا ہے، حالانکہ ان میں سے کسی سے بھی یقین کی دولت حاصل نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کسی قصے کو تاریخ کے طور پر بیان نہیں کرتا، بلکہ اس کے ان حصوں کو اجاگر کرتا ہے جن سے عبرت اور سبق حاصل ہو۔ قرآن کے مطابق ذوالقرنین اللہ کا نیک بندہ تھا جس نے جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے مشرق سے مغرب تک اللہ کے دین کو غالب کیا اور اپنے محروسہ (ماتحت) ممالک میں امن قائم کیا اور انھیں دشمنوں سے محفوظ رکھنے کی نہایت عمدہ تدبیر کی۔ اگر ہم کسی قابل یقین ذریعے سے اس کی تعیین نہ کر سکیں یا اس کے مفصل حالات معلوم نہ کر سکیں تو قرآن کے منشا و مقصد میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ آخر کتنے ہی نبی ہیں جن کے نام قرآن و حدیث میں نہیں۔ دیکھیے سورۂ مومن (۷۸) تو کیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر امت میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا گزرا ہے، ہم ان ناقابل اعتماد ذرائع سے ہند، چین، روس، یورپ اور افریقہ میں آنے والے نبیوں کے نام متعین کرنے کی بے کار کوششوں میں وقت ضائع کریں گے، تاکہ لوگ کہیں واہ! کیا بات نکالی ہے۔
➌ ذوالقرنین کے اس لقب کی مختلف وجہیں بیان کی گئی ہیں، کیونکہ قرن کے کئی معانی ہیں، سینگ، کنارا، بالوں کی مینڈھی۔ دو سینگوں والا سے مراد مرد شجاع ہے، کیونکہ عرب شجاع آدمی کو کبش کہتے ہیں، کیونکہ مینڈھا اپنے سینگوں سے ٹکر مارتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے تاج پر دو سینگ بنے ہوئے تھے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ وہ زمین کے مشرق و مغرب کے دونوں کناروں تک پہنچا۔ چوتھی یہ کہ اس کے سر کے بالوں کی دو مینڈھیاں بنی ہوئی تھیں۔ یہ چاروں باتیں بیک وقت بھی وجہ تسمیہ ہو سکتی ہیں۔
➍ {قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَيْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًا: ذِكْرًا } تنوین کی وجہ سے ترجمہ کچھ ذکر کیا گیا ہے، یعنی اس کی پوری تاریخ نہیں بلکہ کچھ ذکر بیان کروں گا جس سے تم نصیحت اور سبق حاصل کر سکو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

83۔ 1 یہ مشرکین کے اس تیسرے سوال کا جواب ہے جو یہودیوں کے کہنے پر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے، ذوالقرنین کے لفظی معنی دو سینگوں والے کے ہیں۔ یہ نام اس لئے پڑا کہ فی الواقع اس کے سر پر دو سینگ تھے یا اس لئے کہ اس نے مشرق ومغرب دنیا کے دونوں کناروں پر پہنچ کر سورج کی قرن یعنی شعاع کا مشاہدہ کیا، بعض کہتے ہیں کہ اس کے سر پر بالوں کی دو لٹیں تھیں، قرن بالوں کی لٹ کو بھی کہتے ہیں۔ یعنی دو لٹوں دو مینڈھیوں یا، دو زلفوں والا۔ قدیم مفسرین نے بالعموم اس کا مصداق سکندر رومی کو قرار دیا ہے جس کی فتوحات کا دائرہ مشرق ومغرب تک پھیلا ہوا تھا (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر ' ' ترجمان القرآن '۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ لوگ آپ سے ذو القرنین کے بارے پوچھتے ہیں۔ آپ انھیں کہئے کہ ابھی میں اس کا کچھ حال تمہیں سناؤں گا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کفار کے سوالات کے جوابات ٭٭
پہلے گزر چکا ہے کہ کفار مکہ نے اہل کتاب سے کہلوایا تھا کہ ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ جو ہم محمد [صلی اللہ علیہ وسلم]‏‏‏‏ سے دریافت کریں اور ان کے جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ بن پڑیں۔ تو انہوں نے سکھایا تھا کہ ایک تو ان سے اس شخص کا واقعہ پوچھو جس نے روئے زمین کی سیاحت کی تھی۔ دوسرا سوال ان سے ان نوجوانوں کی نسبت کرو جو بالکل لا پتہ ہو گئے ہیں اور تیسرا سوال ان سے روح کی بابت کرو۔ ان کے ان سوالوں کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22861]‏‏‏‏ یہ بھی روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالقرنین کا قصہ دریافت کرنے کو آئی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا کہ تم اس لیے آئے ہو۔ پھر آپ نے وہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں ہے کہ وہ ایک رومی نوجوان تھا اسی نے اسکندریہ بنایا۔ اسے ایک فرشتہ آسمان تک چڑھا لے گیا تھا اور دیوار تک لے گیا تھا اس نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے منہ کتوں جیسے تھے وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23275:ضعیف]‏‏‏‏ لیکن اس میں بہت طول ہے اور بے کار ہے اور ضعف ہے اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔ دراصل یہ بنی اسرائیل کی روایات ہیں۔ تعجب ہے کہ امام ابوزرعہ رازی جیسے علامہ زماں نے اسے اپنی کتاب دلائل نبوت میں مکمل وارد کیا ہے۔
فی الواقع یہ ان جیسے بزرگ سے تو تعجب خیز چیز ہی ہے۔ اس میں جو ہے کہ یہ رومی تھا، یہ بھی ٹھیک نہیں۔ اسکندر ثانی البتہ رومی تھا وہ فیلبس مقدونی کا لڑکا ہے جس سے روم کی تاریخ شروع ہوتی ہے اور سکندر اول تو بقول ازرقی وغیرہ ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں تھا۔ اس نے آپ کے ساتھ بیت اللہ شریف کی بنا کے بعد طواف بیت اللہ کیا ہے۔ آپ پر ایمان لایا تھا، آپ کا تابعدار بنا تھا، انہی کے وزیر خضر علیہ السلام تھے۔ اور سکندر ثانی کا وزیر ارسطا طالیس مشہور فلسفی تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اسی نے مملکت روم کی تاریخ لکھی یہ میسح علیہ السلام سے تقریباً تین سو سال پہلے تھا۔ اور سکندر اول جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے یہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں تھا جیسے کہ ازرقی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ بنایا تو اس نے آپ علیہ السلام کے ساتھ طواف کیا تھا اور اللہ کے نام بہت سی قربانیاں کی تھیں۔ ہم نے اللہ کے فضل سے ان کے بہت سے واقعات اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں ذکر کر دیے ہیں۔
وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ بادشاہ تھے چونکہ ان کے سر کے دونوں طرف تانبا رہتا تھا، اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا گیا۔ یہ وجہ بھی بتلائی گئی ہے کہ یہ روم اور فارس دونوں کا بادشاہ تھا۔ بعض کا قول ہے کہ فی الواقع اس کے سر کے دونوں طرف کچھ سینگ سے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کے نیک بندے تھے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا۔ یہ لوگ مخالف ہو گئے اور ان کے سر کے ایک جانب اس قدر مارا کہ یہ شہید ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا، قوم نے پھر سر کے دوسری طرف اسی قدر مارا جس سے یہ پھر مر گئے اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا جاتا ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ مشرق سے مغرب تک سیاحت کر آئے تھے اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا گیا ہے۔ ہم نے اسے بڑی سلطنت دے رکھی تھی۔ ساتھ ہی قوت لشکر، آلات حرب سب کچھ ہی دے رکھا تھا۔ مشرق سے مغرب تک اس کی سلطنت تھی، عرب و عجم سب اس کے ماتحت تھے۔ ہرچیز کا اسے علم دے رکھا تھا۔ زمین کے ادنٰی و اعلیٰ نشانات بتلا دیے تھے۔ تمام زبانیں جانتے تھے۔ جس قوم سے لڑائی ہوتی، اس کی زبان بول لیتے تھے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہما سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا، کیا تم کہتے ہو کہ ذوالقرنین نے اپنے گھوڑے ثریا سے باندھے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ یہ فرماتے ہیں تو سنیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، ہم نے اسے ہرچیز کا سامان دیا تھا۔ حقیقت میں اس بات میں حق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہے اس لیے بھی کہ حضرت کعب رحمہ اللہ کو جو کچھ کہیں لکھا ملتا تھا، روایت کر دیا کرتے تھے گو وہ جھوٹ ہی ہو۔ اسی لیے آپ نے فرمایا ہے کہ کعب کا کذب تو بار ہا سامنے آ چکا ہے یعنی خود تو جھوٹ نہیں گھڑتے تھے لیکن جو روایت ملتی گو بے سند ہو، بیان کرنے سے نہ چوکتے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی روایات جھوٹ، خرافات، تحریف، تبدیلی سے محفوظ نہ تھیں۔ بات یہ ہے کہ ہمیں ان اسرائیلی روایات کی طرف التفات کرنے کی بھی کیا ضرورت؟ جب کہ ہمارے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور صحیح احادیث موجود ہیں۔
افسوس! انہی بنی اسرائیلی روایات نے بہت سی برائی مسلمانوں میں ڈال دی اور بڑا فساد پھیل گیا۔ کعب رحمہ اللہ نے اس بنی اسرائیل کی روایت کے ثبوت میں قرآن کی اس آیت کا آخری حصہ جو پیش کیا ہے، یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں کیونکہ یہ تو بالکل ظاہر بات ہے کہ کسی انسان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اور ثریا پر پہنچنے کی طاقت نہیں دی۔ دیکھئیے بلقیس کے حق میں بھی قرآن نے یہی الفاظ کہے ہیں «وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ» [27- النمل: 23]‏‏‏‏ اسے ہرچیز دی گئی تھی۔ اس سے بھی مراد صرف اسی قدر ہے کہ بادشاہوں کے ہاں عموماً جو ہوتا ہے، وہ سب اس کے پاس بھی تھا۔ اسی طرح ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے تمام راستے اور ذرائع مہیا کر دیے تھے کہ وہ اپنی فتوحات کو وسعت دیتے جائیں اور زمین سرکشوں اور کافروں سے خالی کراتے جائیں اور اس کی توحید کے ساتھ موحدین کی بادشاہت دنیا پر پھیلائیں اور اللہ والوں کی حکومت جمائیں۔ ان کاموں میں جن اسباب کی ضرورت پڑتی ہے، وہ سب رب عزوجل نے ذوالقرنین کو دے رکھے تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ مشرق و مغرب تک کیسے پہنچ گئے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا سبحان اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا تھا اور تمام اسباب انہیں مہیا کر دیے تھے اور پوری قوت وطاقت دے دی تھی۔