تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فی الواقع یہ ان جیسے بزرگ سے تو تعجب خیز چیز ہی ہے۔ اس میں جو ہے کہ یہ رومی تھا، یہ بھی ٹھیک نہیں۔ اسکندر ثانی البتہ رومی تھا وہ فیلبس مقدونی کا لڑکا ہے جس سے روم کی تاریخ شروع ہوتی ہے اور سکندر اول تو بقول ازرقی وغیرہ ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں تھا۔ اس نے آپ کے ساتھ بیت اللہ شریف کی بنا کے بعد طواف بیت اللہ کیا ہے۔ آپ پر ایمان لایا تھا، آپ کا تابعدار بنا تھا، انہی کے وزیر خضر علیہ السلام تھے۔ اور سکندر ثانی کا وزیر ارسطا طالیس مشہور فلسفی تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اسی نے مملکت روم کی تاریخ لکھی یہ میسح علیہ السلام سے تقریباً تین سو سال پہلے تھا۔ اور سکندر اول جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے یہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں تھا جیسے کہ ازرقی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ بنایا تو اس نے آپ علیہ السلام کے ساتھ طواف کیا تھا اور اللہ کے نام بہت سی قربانیاں کی تھیں۔ ہم نے اللہ کے فضل سے ان کے بہت سے واقعات اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں ذکر کر دیے ہیں۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ مشرق سے مغرب تک سیاحت کر آئے تھے اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا گیا ہے۔ ہم نے اسے بڑی سلطنت دے رکھی تھی۔ ساتھ ہی قوت لشکر، آلات حرب سب کچھ ہی دے رکھا تھا۔ مشرق سے مغرب تک اس کی سلطنت تھی، عرب و عجم سب اس کے ماتحت تھے۔ ہرچیز کا اسے علم دے رکھا تھا۔ زمین کے ادنٰی و اعلیٰ نشانات بتلا دیے تھے۔ تمام زبانیں جانتے تھے۔ جس قوم سے لڑائی ہوتی، اس کی زبان بول لیتے تھے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہما سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا، کیا تم کہتے ہو کہ ذوالقرنین نے اپنے گھوڑے ثریا سے باندھے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ یہ فرماتے ہیں تو سنیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، ہم نے اسے ہرچیز کا سامان دیا تھا۔ حقیقت میں اس بات میں حق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہے اس لیے بھی کہ حضرت کعب رحمہ اللہ کو جو کچھ کہیں لکھا ملتا تھا، روایت کر دیا کرتے تھے گو وہ جھوٹ ہی ہو۔ اسی لیے آپ نے فرمایا ہے کہ کعب کا کذب تو بار ہا سامنے آ چکا ہے یعنی خود تو جھوٹ نہیں گھڑتے تھے لیکن جو روایت ملتی گو بے سند ہو، بیان کرنے سے نہ چوکتے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی روایات جھوٹ، خرافات، تحریف، تبدیلی سے محفوظ نہ تھیں۔ بات یہ ہے کہ ہمیں ان اسرائیلی روایات کی طرف التفات کرنے کی بھی کیا ضرورت؟ جب کہ ہمارے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور صحیح احادیث موجود ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ مشرق و مغرب تک کیسے پہنچ گئے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا سبحان اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا تھا اور تمام اسباب انہیں مہیا کر دیے تھے اور پوری قوت وطاقت دے دی تھی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّا مَكَّنَّا له في الأرض}؛ أي: مَلَّكَهُ الله تعالى ومكَّنه من النفوذ في أقطار الأرض وانقيادهم له. {وآتَيْناه من كلِّ شيءٍ سبباً. فأتبع سبباً}؛ أي: أعطاه الله من الأسباب الموصلة له لما وَصَلَ إليه ما به يستعين على قهر البلدان وسهولة الوصول إلى أقاصي العمران، وعَمِلَ بتلك الأسباب التي أعطاه الله إياها؛ أي: استعملها على وجهها؛ فليس كلُّ من عنده شيءٌ من الأسباب يسلُكُه، ولا كلُّ أحدٍ يكون قادراً على السبب؛ فإذا اجتمع القدرةُ على السبب الحقيقيِّ والعملُ به؛ حصل المقصودُ، وإن عُدِما أو أحدُهما؛ لم يحصُل، وهذه الأسبابُ التي أعطاه الله إيَّاها لم يُخْبِرْنا الله ولا رسولُهُ بها، ولم تتناقَلْها الأخبارُ على وجهٍ يفيدُ العلم؛ فلهذا لا يَسَعُنا غير السكوت عنها وعدم الالتفات لما يَذْكُرُهُ النقلة للإسرائيلياتِ ونحوها، ولكنَّنا نعلم بالجملة أنَّها أسبابٌ قويَّة كثيرةٌ داخليةٌ وخارجيةٌ، بها صار له جندٌ عظيمٌ ذو عَددٍ وعُددٍ ونظام، وبه تمكَّن من قهر الأعداء ومن تسهيل الوصول إلى مشارق الأرض ومغاربها وأنحائها.