وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنۡ یَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسۡتَخۡرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَ مَا فَعَلۡتُہٗ عَنۡ اَمۡرِیۡ ؕ ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿ؕ٪۸۲﴾
اور رہ گئی دیوار تو وہ شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لیے ایک خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا تو تیرے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں، تیرے رب کی طرف سے رحمت کے لیے اور میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر تو صبر نہیں کرسکا۔
En
اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے
En
دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے، ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں، میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا، یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 82) ➊ { وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا:} اللہ تعالیٰ اپنے صالح بندوں کی وفات کے بعد بھی ان کی مومن اولاد کی خاص نگہداشت فرماتا ہے اور قیامت کو بھی انھیں خاص رعایت دے گا۔ دیکھیے سورۂ طور (۲۱)۔
➋ ان تینوں واقعات کی اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے خضر علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ادب کو خاص طور پر ملحوظ رکھا ہے۔ کشتی کو عیب دار کرنے کی نسبت اپنی طرف کی ہے، لڑکے کے قتل کے ارادہ کی نسبت اپنی طرف اور اس کے صالح باپ کو بہتر اولاد عطا کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے اور یتیم لڑکوں کے بالغ ہو کر اپنا خزانہ سنبھالنے کے ارادہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے۔
➌ {وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ:} یہ خضر علیہ السلام کے نبی ہونے کی واضح دلیل ہے، کیونکہ کسی ولی کو اللہ کی طرف سے الہام کی بنا پر کسی بد سے بد کو بھی قتل کرنے کی اجازت نہیں، کیونکہ اس کے الہام میں شیطان دخیل ہو سکتا ہے۔ {” لَمْ تَسْطِعْ “} اصل میں {” لَمْ تَسْتَطِعْ“} تھا، تخفیف کے لیے تاء کو حذف کر دیا۔ خضر علیہ السلام کے کلام کی ابتدا میں {” لَمْ تَسْتَطِعْ“} ہے، کیونکہ وہاں بات شروع ہو رہی ہے، اختصار کی ضرورت نہیں، بات ختم ہونے پر قصہ مختصر کیا جاتا ہے، اس لیے یہاں {” لَمْ تَسْطِعْ “} فرمایا۔ ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی بوجھ تھا تو ثقیل لفظ بولا اور وضاحت کے بعد بوجھ اتر جانے پر خفیف لفظ بولا ہے۔
➋ ان تینوں واقعات کی اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے خضر علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ادب کو خاص طور پر ملحوظ رکھا ہے۔ کشتی کو عیب دار کرنے کی نسبت اپنی طرف کی ہے، لڑکے کے قتل کے ارادہ کی نسبت اپنی طرف اور اس کے صالح باپ کو بہتر اولاد عطا کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے اور یتیم لڑکوں کے بالغ ہو کر اپنا خزانہ سنبھالنے کے ارادہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے۔
➌ {وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ:} یہ خضر علیہ السلام کے نبی ہونے کی واضح دلیل ہے، کیونکہ کسی ولی کو اللہ کی طرف سے الہام کی بنا پر کسی بد سے بد کو بھی قتل کرنے کی اجازت نہیں، کیونکہ اس کے الہام میں شیطان دخیل ہو سکتا ہے۔ {” لَمْ تَسْطِعْ “} اصل میں {” لَمْ تَسْتَطِعْ“} تھا، تخفیف کے لیے تاء کو حذف کر دیا۔ خضر علیہ السلام کے کلام کی ابتدا میں {” لَمْ تَسْتَطِعْ“} ہے، کیونکہ وہاں بات شروع ہو رہی ہے، اختصار کی ضرورت نہیں، بات ختم ہونے پر قصہ مختصر کیا جاتا ہے، اس لیے یہاں {” لَمْ تَسْطِعْ “} فرمایا۔ ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی بوجھ تھا تو ثقیل لفظ بولا اور وضاحت کے بعد بوجھ اتر جانے پر خفیف لفظ بولا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
82۔ 1 حضرت خضر کی نبوت کے قائلین کی یہ دوسری دلیل ہے جس سے وہ نبوت خضر کا اثبات کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی غیر نبی کے پاس اس قسم کی وحی نہیں آتی کہ وہ اتنے اتنے اہم کام کسی اشارہ غیبی پر کر دے، نہ کسی غیر نبی کا ایسا اشارہ غیبی قابل عمل ہی ہے۔ نبوت خضر کی طرح حیات خضر بھی ایک حلقے میں مختلف ہے اور حیات خضر کے قائل بہت سے لوگوں کی ملاقاتیں حضرت خضر سے ثابت کرتے ہیں اور پھر ان سے ان کے اب تک زندہ ہونے پر دلیل پیش کرتے ہیں لیکن جس طرح حضرت خضر کی زندگی پر کوئی آیت شرعی نہیں ہے، اسی طریقے سے لوگوں کے مکاشفات یا حالت بیداری یا نیند میں حضرت خضر سے ملنے کے دعوے بھی قابل تسلیم نہیں۔ جب ان کا حلیہ ہی معقول ذرائع سے بیان نہیں کیا گیا ہے تو ان کی شناخت کس طرح ممکن ہے؟ اور کیوں کر یقین کیا جاسکتا ہے، کہ جن بزرگوں نے ملنے کے دعوے کئے ہیں، واقعی ان کی ملاقات خضر، موسیٰ ؑ سے ہی ہوئی ہے، خضر کے نام سے انھیں کسی نے دھوکہ اور فریب نے مبتلا نہیں کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ اور دیوار کی بات یہ ہے کہ وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس شہر میں رہتے تھے۔ اس دیوار کے نیچے ان کے لئے خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ ایک صالح آدمی تھا۔ لہذا آپ کے پروردگار نے چاہا کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کو پہنچ کر اپنا [70] خزانہ نکال لیں۔ یہ جو کچھ میں نے کیا، سب آپ کے پروردگار کی رحمت تھی۔ میں نے اپنے اختیار [71] سے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ ہے ان باتوں کی حقیقت جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔
[70] یعنی اگر دیوار کسی وقت گر پڑتی تو خزانہ ظاہر ہو جاتا بدنیت لوگ اس پر قبضہ کر لیتے یا اٹھا لے جاتے اور ان یتیموں کے ہاتھ کچھ بھی نہ لگتا۔ اب یہ بڑے ہو کر خود اپنے باپ کی دفن شدہ دولت نکال کر اپنے استعمال میں لا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مصلحتیں اللہ ہی جانتا ہے:۔
مندرجہ بالا تینوں واقعات سے در اصل مشیئت الٰہی کے کاموں میں پوشیدہ حکمتوں پر روشنی پڑتی ہے پہلا کام یہ تھا کہ کشتی والوں نے سیدنا موسیٰؑ و سیدنا خضر دونوں کو پردیسی سمجھ کر ان سے کرایہ نہیں لیا اور کشتی میں سوار کر لیا۔ جس کے صلہ میں سیدنا خضر نے ایسا کام کیا جو بظاہر غلط معلوم ہوتا تھا لیکن حقیقت میں سیدنا خضر نے ان سے بہت بڑی خیر خواہی کی اور ان کے احسان کا اس طرح بدلہ چکایا کہ انھیں بہت بڑے نقصان سے بچا لیا اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کسی نقصان پر بے صبر نہ ہونا چاہیے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نقصان میں بھی اللہ نے اس کے لیے کون سے اور کتنے بڑے فائدے کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ دوسرا واقعہ صدمہ کے لحاظ سے پہلے واقعہ سے شدید تر ہے لیکن اس میں جو اللہ کی مصلحت پوشیدہ تھی وہ بھی منفعت کے لحاظ سے پہلے واقعہ کی نسبت بہت زیادہ تھی اور دونوں واقعات سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ مصائب پر ایک مسلمان کو صبر کرنا چاہیے اور اللہ کی مشیئت پر راضی رہنا چاہیے اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ جتنی مصیبت پر صبر کیا تھا اسی کے مطابق اللہ اس کا اجر اور نعم البدل عطا فرماتا ہے۔ تیسرے واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نیک آدمی کی رفاقت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اس کا اچھا بدلہ اس کی اولاد کو دیا کرتا ہے۔ مرنے والا چونکہ نیک انسان تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ اس کا مدفون خزانہ یا ورثہ دوسرے لوگ نہ اڑا لے جائیں، بلکہ اس کی اولاد کے ہی حصہ میں آئے۔
[71] خضر کون تھے؟
یہ سوال مختلف فیہ رہا ہے کہ سیدنا خضر کون اور کیا تھے؟ بعض علماء انھیں نبی تسلیم کرتے ہیں بعض ولی اور بعض ولی بھی نہیں سمجھتے بلکہ ایک فرشتہ سمجھتے ہیں جن کا شمار مدبرات امر میں ہوتا ہے اب ہمیں یہ جائزہ لینا ہے کہ ان میں کون سی بات درست ہو سکتی ہے۔ ہمارے خیال میں سیدنا خضر نبی نہیں تھے اور اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ بخاری کی طویل روایت کے مطابق سیدنا خضر، سیدنا موسیٰؑ سے خود فرما رہے ہیں کہ ”موسیٰ! دیکھو! اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم میں سے ایک علم مجھے سکھایا ہے جسے آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا لہٰذا تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے اور یہ تو ظاہر ہے کہ سیدنا موسیٰؑ کو نبوت اور شریعت کا علم سکھایا گیا تھا جسے سیدنا خضر نہیں جانتے تھے لہٰذا وہ نبی نہ ہوئے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآنی آیات کی رو سے یہ ثابت شدہ امرہے کہ انبیاء کا علم ابتدا سے ایک ہی رہا ہے اور چونکہ سیدنا خضر کا علم اس علم سے متصادم تھا لہٰذا وہ نبی نہیں تھے۔ اب اگر انھیں ولی تسلیم کر لیا جائے تو یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں (بقول صوفیاء) کشف و الہام سے غیب کے حالات سے مطلع کر دیا ہو لیکن ولی کو یہ کب اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علم غیب سے اطلاع کی بنا پر کسی دوسرے کی مملوکہ چیز کو تباہ کر دے یا کسی انسان کو قتل بھی کر ڈالے۔ ولی بھی آخر انسان ہے جو احکام شریعت کا مکلف ہے اور اصول شریعت میں یہ گنجائش کہیں نہیں پائی جاتی کہ کسی انسان کے لیے محض اس بنا پر احکام شرعیہ میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی جائز ہو کہ اسے بذریعہ الہام اس کی خلاف ورزی کا حکم ملا ہے یا بذریعہ علم غیب اس خلاف ورزی کی مصلحت بتائی گئی ہے۔ صوفیاء کے نزدیک بھی کسی ایسے الہام پر عمل کرنا خود صاحب الہام تک کے لیے بھی جائز نہیں ہے جو نص شرعی کے خلاف ہو۔ لہٰذا سیدنا خضر نہ نبی تھے نہ ولی بلکہ وہ انسان کی جنس سے بھی نہ تھے ایک ظالم اور فاسق انسان ہی ایسے کام کر سکتا ہے مگر وہ تو اللہ کی ایک برگزیدہ شخصیت تھے۔ اب لامحالہ ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ان فرشتوں میں سے تھے جو تدبیر امور کائنات پر مامور ہیں اور اس پر کئی دلائل ہیں پہلی دلیل تو ان کا اپنا یہ قول کہ: «ما فعلته عن امري» کہ یہ کام میں نے اپنی مرضی یا اختیار سے نہیں کیے بلکہ اللہ کے حکم سے کیے ہیں۔ گویا وہ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ خود مختار نہیں اور یہ وہی بات ہے جسے اللہ نے فرشتوں کی صفات کے سلسلہ میں فرمایا کہ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ وہ کچھ کرتے ہیں جو انھیں حکم دیا جاتا ہے“ [66: 6] اور وہ نافرمانی کر بھی نہیں سکتے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ ایسے فرشتے جب انسانی شکل میں آکر انسانوں سے ہمکلام ہوتے ہیں تو بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔ سیدنا جبرئیل انسانی شکل میں سیدہ مریم کے سامنے آئے تو کہا: ﴿لاهِبِ لَكِ غُلاَمًا زِكِيًّا﴾ [9: 19] (تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ سیرت لڑکا عطا کروں) اور یہ تو ظاہر ہے کہ لڑکا عطا کرنا تو صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کسی مخلوق کا کام نہیں اور فرشتے اللہ کی مخلوق ہیں اور یہ جملہ جو سیدنا جبرئیل نے کہا اسی لحاظ سے کہا کہ آپ اللہ کی طرف سے تدبیر امور کائنات میں سے ایک امر پر مامور تھے۔ بالکل اسی طرح سیدنا خضر بھی جب ان واقعات کی تاویل بتاتے ہیں تو کبھی کسی کام کو براہ راست اپنی طرف منسوب کرتے ہیں کسی کو اللہ کی طرف اور کسی کو دونوں کی طرف۔ پہلے واقعہ کے متعلق فرمایا: ﴿فَاَرْدَتُّ اَنْ اَعِيْبهَا﴾ یعنی میں نے ارادہ کیا کہ اس کشتی کو عیب دار بنا دوں حالانکہ آخر میں کہا کہ میں نے اپنے ارادہ و اختیار اور مرضی سے کچھ نہیں کیا اور دوسرے واقعہ کے متعلق فرمایا: ﴿فَاَرْدْنَا اَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبّهُمَا﴾ یعنی ہم نے ارادہ کیا کہ ان والدین کا پروردگار انھیں اس لڑکے کا نعم البدل عطا فرمائے۔ یہاں ارادہ کی نسبت میں سیدنا خضر اور اللہ تعالیٰ دونوں مشترک ہیں اور تیسرے واقعہ کی نسبت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہوئے فرمایا کہ: ﴿فَاَرَادَ رَبُّكَ﴾ یعنی آپ کے پروردگار نے چاہا۔ یہ بحث الگ ہے کہ پہلے واقعہ کی نسبت سیدنا خضر نے صرف اپنی طرف، دوسرے میں دونوں کی طرف اور تیسرے میں صرف اللہ کی طرف کیوں کی؟ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ خدائی صفات کو اپنی طرف منسوب کرنا صرف ان فرشتوں کا کام ہو سکتا ہے جو تدابیر امور کائنات پر مامور ہیں کسی نبی یا ولی کے لیے ایسی نسبت کرنا قطعاً جائز نہیں ہے۔ مندرجہ بالا توجیہ میں چند اشکالات بھی پیش آتے ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے سیدنا خضر کے لیے ﴿عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا﴾ کے الفاظ استعمال کیے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ عبد کا لفظ فرشتوں کے متعلق بھی ایسے ہی استعمال ہوتا ہے جیسے انسانوں کے متعلق، جیسے فرمایا: ﴿وَجَعَلُوا الْمَلٰئِكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبَاد الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا﴾ [43: 19] دوسرا اشکال یہ ہے کہ حدیث بالا میں سیدنا خضر کے لیے رجل کا لفظ آیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ فرشتے جب بھی انسانی شکل میں آئے تو ہمیشہ مردوں ہی کی شکل میں آتے ہیں۔ اور تیسرا اشکال یہ ہے کہ کشتی والوں نے سیدنا خضر کو پہچان کر بغیر کرایہ ہی کشتی پر سوار کر لیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کشتی کے مالکوں نے پہلے سیدنا خضر کو کہیں دیکھا تھا اور وہ ان کی نظروں میں قابل احترام بھی تھے اس بات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں مذکور ہے کہ سیدنا خضر کا نام خضر اس لیے پڑ گیا تھا کہ وہ جہاں بیٹھتے وہاں سبزہ اگ آتا تھا۔ شاید ان کشتی والوں نے کوئی ایسا منظر دیکھ لیا ہو۔ بہرحال یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ سیدنا خضر اس علاقے کے باشندے نہ تھے ورنہ صرف اس کشتی کے مالک تو درکنار سب لوگ ہی ایسی عجوبہ روزگار شخصیت کو پہچاننے کی بجائے ٹھیک طرح جانتے ہوتے۔ ﴿والله اعلم بالصواب﴾
سیدنا خضر اور متصوفین:۔
اس واقعہ سے صدیوں بعد سیدنا خضر کے متعلق عجیب عجیب قسم کے عقائد رائج ہو گئے۔ ہمارے صوفیاء نے ان کو ولی قرار دے کر سیدنا موسیٰ کا استاد اور ان سے افضل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ کوششیں اس وقت شروع ہوئیں جب ان میں یہ عقیدہ رائج ہوا کہ ”ولایت نبوت سے افضل ہے“ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ لوگ سیدنا خضر کو ایک زندہ جاوید ہستی تسلیم کر کے ان سے ہر وقت رہبری کے خواہاں رہتے ہیں جب تک انھیں سیدنا خضر سے ملاقات اور رہبری حاصل نہ ہو ان کی ولایت مکمل ہی نہیں ہوتی پھر سیدنا خضر کی فرضی شخصیت کے متعلق طرح طرح کے افسانے تراشے گئے جو اتنے عام ہوئے کہ ہمارے شعر و ادب میں بھی داخل ہو گئے مثلاً ایک شاعر کہتا ہے۔
تہیدستان قسمت راچہ سود از رہبر کامل
کہ خضر از آب حیوان تشنہ می آرد سکندر را
یہ شعر تو سیدنا خضر کے فیض سے متعلق تھا اب دوسرا شعر ان کی رہبری، رہنمائی اور ہدایت سے متعلق ملاحظہ فرمائیے۔ اقبال کہتا ہے:
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
تہیدستان قسمت راچہ سود از رہبر کامل
کہ خضر از آب حیوان تشنہ می آرد سکندر را
یہ شعر تو سیدنا خضر کے فیض سے متعلق تھا اب دوسرا شعر ان کی رہبری، رہنمائی اور ہدایت سے متعلق ملاحظہ فرمائیے۔ اقبال کہتا ہے:
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
سیدنا خضر کے متعلق عجیب و غریب عقائد:۔
البتہ علمائے حق نے اس قسم کی اوہام پرستی کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی ہے چنانچہ دائرہ المعارف الاسلامیہ مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں زیر عنوان طریقت جلد 12 صفحہ 460 پر درج ہے۔ کہ ”راسخ القیدہ فقہا نے اہل تصوف کے استاد الہامی (سیدنا خضر) کے خلاف بھی آواز بلند کی ہے جس کی بنا پر سلسلہ تصوف کو ایک ایسی مقدس ہستی (سیدنا خضر) کے مظاہر سے فیضان حاصل ہوتا ہے جو پراسرار اور غیر فانی ہے یعنی الخضر جن کی ہادی طریقت کی حیثیت سے سب فرقے توقیر و تعظیم کرتے ہیں کیونکہ وہ سیدنا موسیٰؑ کے رہنما اور صوفی کی روح کو حقیقت علیا سے آشنا کرانے کے اہل ہیں یہ عقیدہ غالباً تصوف کی کسی مستند کتاب میں نہیں پایا جاتا“ پھر اسی دائرۃ المعارف میں خواجہ خضر کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ ”ہندوستان میں انھیں (سیدنا خضر کو) کنوؤں اور چشموں کی روح کا روپ سمجھا جاتا ہے۔ دریائے سندھ کے آر پار انھیں دریا کا اوتار سمجھا جاتا ہے سیدنا خضر کی خانقاہ سندھ کے ایک جزیرے میں بھکر کے پاس ہے جہاں ہر مذہب کے عقیدت مند زیارت کو جاتے ہیں۔“ [ايضاً جلد 5ص 22]
اس طرح سیدنا خضر کے نام سے شرک کا ایک دروازہ کھل گیا اور اب تو سیدنا خضر کی نماز بھی پڑھی جانے لگی ہے جس کی برکت سے سیدنا خضر سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے۔ [تفصيل كے ليے ديكهئے تلقين مرشد كامل از صادق فرغاني ص 240]
اور بعض لوگ خواجہ خضر خواج کی نیاز دریا میں پھینکتے ہیں تاکہ کشتی یا جہاز بخیر و عافیت کنارے پر لگ جائے گویا ایسے مشرکوں کے لیے خواجہ خضر ایک مستقل اوتار یا معبود بن گیا ہے۔
اس طرح سیدنا خضر کے نام سے شرک کا ایک دروازہ کھل گیا اور اب تو سیدنا خضر کی نماز بھی پڑھی جانے لگی ہے جس کی برکت سے سیدنا خضر سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے۔ [تفصيل كے ليے ديكهئے تلقين مرشد كامل از صادق فرغاني ص 240]
اور بعض لوگ خواجہ خضر خواج کی نیاز دریا میں پھینکتے ہیں تاکہ کشتی یا جہاز بخیر و عافیت کنارے پر لگ جائے گویا ایسے مشرکوں کے لیے خواجہ خضر ایک مستقل اوتار یا معبود بن گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کی حفاظت کا ایک انداز ٭٭
اس آیت سے ثابت ہوا کہ بڑے شہر پر بھی قریہ کا اطلاق ہو سکتا ہے کیونکہ پہلے «فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ» [الکھف: 77] فرمایا تھا اور یہاں «فِي الْمَدِينَةِ» فرمایا۔ اسی طرح مکہ شریف کو بھی قریہ کہا گیا ہے۔ فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ» [47-محمد: 13] الخ۔ اور آیت میں مکہ اور طائف دونوں شہروں کو قریہ فرمایا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہے «وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ» [43- الزخرف: 31]۔ آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ اس دیوار کو درست کر دینے میں مصلحت الٰہی یہ تھی کہ یہ اس شہر کے دو یتیموں کی تھی اس کے نیچے انکا مال دفن تھا۔ ٹھیک تفسیر تو یہی ہے گو یہ بھی مروی ہے کہ وہ علمی خزانہ تھا۔ بلکہ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ جس خزانے کا ذکر کتاب اللہ میں ہے، یہ خالص سونے کی تختیاں تھیں جن پر لکھا ہوا تھا کہ تعجب ہے اس شخص پر جو تقدیر کا قائل ہوتے ہوئے اپنی جان کو محنت و مشقت میں ڈال رہا ہے اور رنج و غم برداشت کر رہا ہے۔ تعجب ہے کہ جو جہنم کے عذابوں کا ماننے والا ہے، پھر بھی ہنسی کھیل میں مشغول ہے۔ تعجب ہے کہ موت کا یقین رکھتے ہوئے غفلت میں پڑا ہوا ہے۔ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» ۔ یہ عبارت ان تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔[مسند بزار:2229:ضعیف] لیکن اس میں ایک راوی بشر بن منذر ہیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ مصیصہ کے قاضی تھے ان کی حدیث میں وہم ہے۔
سلف سے بھی اس بارے میں بعض آثار مروی ہیں۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ سونے کی تختی تھی جس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد قریب قریب مندرجہ بالا نصحیتں اور آخر میں کلمہ طیبہ تھا۔ عمر مولیٰ غفرہ سے بھی تقریباً یہی مروی ہے۔ امام جعفر بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں ڈھائی سطریں تھیں پوری تین نہ تھیں، الخ۔ مذکور ہے کہ یہ دونوں یتیم بوجہ اپنے ساتویں دادا کی نیکیوں کے محفوظ رکھے گئے تھے۔ جن بزرگوں نے یہ تفسیر کی ہے، وہ بھی پہلی تفسیر کے خلاف نہیں کیونکہ اس میں بھی ہے کہ یہ علمی باتیں سونے کی تختی پر لکھی ہوئی تھیں اور ظاہر ہے کہ سونے کی تختی خود مال ہے اور بہت بڑی رقم کی چیز ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
والدین کے سبب اولاد پر رحم ٭٭
اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی نیکیوں کی وجہ سے اس کے بال بچے بھی دنیا اور آخرت میں اللہ کی مہربانی حاصل کر لیتے ہیں۔ جیسے قرآن و حدیث میں صراحتا مذکور ہے دیکھئیے آیت میں ان کی کوئی صلاحیت بیان نہیں ہوئی ہاں ان کے والد کی نیک بختی اور نیک عملی بیان ہوئی ہے۔ اور پہلے گزر چکا ہے یہ باپ جس کی نیکی کی وجہ سے ان کی حفاظت ہوئی یہ ان بچوں کا ساتواں دادا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ آیت میں ہے تیرے رب نے چاہا، یہ اسناد اللہ کی طرف اس لیے کی گئی ہے کہ جوانی تک پہنچانے پر بجز اس کے اور کوئی قادر نہیں۔ دیکھئیے بچے کی بارے میں اور کشتی کے بارے میں ارادے کی نسبت اپنی طرف کی گئی ہے «فَأَرَدْنَا» اور «فَأَرَدتُّ» کے لفظ ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتے ہیں کہ دراصل یہ تینوں باتیں جنہیں تم نے خطرناک سمجھا سراسر رحمت تھیں۔ کشتی والوں کو گو قدرے نقصان ہوا لیکن اس سے پوری کشتی بچ گئی۔ بچے کے مرنے کی وجہ سے گو ماں باپ کو رنج ہوا لیکن ہمیشہ کے رنج اور عذاب الٰہی سے بچ گئے اور پھر نیک بدلہ ہاتھوں ہاتھ مل گیا۔ اور یہاں اس نیک شخص کی اولاد کا بھلا ہوا۔ یہ کام میں نے اپنی خوشی سے نہیں کئے بلکہ احکام الٰہی بجا لایا۔ اس سے بعض لوگوں نے خضر علیہ السلام کی نبوت پر استدلال کیا ہے اور پوری بحث پہلے گزر چکی ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں یہ رسول تھے۔ ایک قول ہے کہ یہ فرشتے تھے لیکن اکثر بزرگوں کا فرمان ہے کہ یہ ایک ولی اللہ تھے۔
امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ نے معارف میں لکھا ہے کہ ان کا نام بلیابن ملکان بن خالغ بن عاجر بن شانح بن ارفحشد بن سام بن نوح علیہ السلام تھا۔ ان کی کنیت ابو العباس ہے، لقب خضر ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے تہذیب الاسماء میں لکھا ہے کہ یہ شہزادے تھے۔ یہ اور ابن صلاح تو قائل ہیں کہ وہ اب تک زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے۔ گو بعض احادیث میں بھی یہ ذکر آیا ہے لیکن ان میں سے ایک بھی صحیح نہیں۔ سب سے زیادہ مشہور حدیث اس بارے میں وہ ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعزیت کے لیے آپ تشریف لائے تھے [تفسیر قرطبی،4189:ضعیف و باطل]۔ لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ اکثر محدثین وغیرہ اس کے برخلاف ہیں اور وہ حیات خضر کے قائل نہیں۔ ان کی ایک دلیل آیت قرآنی «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ» [21- الأنبياء: 34] ہے یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دی۔ اور دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غزوہ بدر میں یہ فرمانا ہے کہ الٰہی اگر میری یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین میں تیری عبادت پھر نہ کی جائے گی۔ [صحیح مسلم:1763]
ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر خضر رحمۃ اللہ علیہ زندہ ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتے اور اسلام قبول کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں ملتے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام زندہ [زمین پر] ہوتے تو انہیں بھی بجز میری تابعداری کے چارہ نہ تھا۔[حاشیة العقیدہ الطحاویة، ارواء الغلیل:1589،منکر] آپ اپنی وفات سے کچھ دن پہلے فرماتے ہیں کہ آج جو زمین پر ہیں، ان میں سے ایک بھی آج سے لے کر سو سال تک باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح بخاری:116] ان کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔
صحیح البخاری میں ہے کہ خضر کو خضر اس لیے کہا گیا کہ وہ سفید رنگ سوکھی گھاس پر بیٹھ گئے تھے یہاں تک کہ اس کے نیچے سے سبزہ اگ آیا۔ [صحیح بخاری:3402] اور ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ آپ خشک زمین پر بیٹھ گئے تھے اور پھر وہ لہلہانے لگی۔
ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر خضر رحمۃ اللہ علیہ زندہ ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتے اور اسلام قبول کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں ملتے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام زندہ [زمین پر] ہوتے تو انہیں بھی بجز میری تابعداری کے چارہ نہ تھا۔[حاشیة العقیدہ الطحاویة، ارواء الغلیل:1589،منکر] آپ اپنی وفات سے کچھ دن پہلے فرماتے ہیں کہ آج جو زمین پر ہیں، ان میں سے ایک بھی آج سے لے کر سو سال تک باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح بخاری:116] ان کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔
صحیح البخاری میں ہے کہ خضر کو خضر اس لیے کہا گیا کہ وہ سفید رنگ سوکھی گھاس پر بیٹھ گئے تھے یہاں تک کہ اس کے نیچے سے سبزہ اگ آیا۔ [صحیح بخاری:3402] اور ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ آپ خشک زمین پر بیٹھ گئے تھے اور پھر وہ لہلہانے لگی۔
الغرض خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے جب یہ گتھی سلجھا دی اور ان کاموں کی اصل حکمت بیان کر دی تو فرمایا کہ یہ تھے وہ راز جن کے آشکارا کرنے کے لیے آپ جلدی کر رہے تھے۔ چونکہ پہلے شوق و مشقت زیادہ تھی، اس لیے لفظ «لَمْ تَسْطِع» کہا اور اب بیان کر دینے کے بعد وہ بات نہ رہی اس لیے لفظ «لَمْ تَسْطِع» کہا۔ یہی صفت آیت «فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ يَّظْهَرُوْهُ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا» [18- الكهف: 97] میں ہے یعنی یاجوج ماجوج نہ اس دیوار پر چڑھ سکے اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکے۔ پس چڑھنے میں تکلیف بہ نسبت سوراخ کرنے کے کم ہے اس لیے ثقیل کا مقابلہ ثقیل سے اور خفیف کا مقابلہ خفیف سے کیا گیا اور لفظی اور معنوی مناسبت قائم کر دی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کا ذکر ابتداء قصہ میں تو تھا لیکن پھر نہیں، اس لیے کہ مقصود صرف موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ بیان کرنا تھا۔ حدیثوں میں ہے کہ آپ کے یہ ساتھی یو شع بن نون علیہ السلام تھے۔ یہی موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے والی بنائے گئے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے آب حیات پی لیا تھا اس لیے انہیں کشتی میں بٹھا کر بیچ سمندر کے چھوڑ دیا، وہ کشتی یونہی ہمیشہ تک موجوں کے تلاطم میں رہے گی۔ یہ بالکل ضعیف ہے کیونکہ اس واقعہ کے راویوں میں ایک میں تو حسن ہے جو متروک ہے، دوسرا اس کا باپ ہے جو غیر معروف ہے۔ یہ واقعہ سندا ٹھیک نہیں۔