(آیت 8){وَاِنَّالَجٰعِلُوْنَمَاعَلَيْهَا …: ”صَعِيْدًا“ } مٹی، کیونکہ وہ سمندر سے اوپر اٹھی ہوئی ہے۔ {”صَعِدَيَصْعَدُ“} چڑھنا۔{ ”جُرُزًا“ } چٹیل زمین، جس میں کوئی سبزہ نہ ہو۔ {”جَرَزَتِالْأَرْضُ“} قحط یا ٹڈی دل کی وجہ سے زمین پر کوئی اگی ہوئی چیز نہ رہ گئی۔ سورۂ سجدہ میں فرمایا: «اَوَلَمْيَرَوْااَنَّانَسُوْقُالْمَآءَاِلَىالْاَرْضِالْجُرُزِفَنُخْرِجُبِهٖزَرْعًاتَاْكُلُمِنْهُاَنْعَامُهُمْوَاَنْفُسُهُمْاَفَلَايُبْصِرُوْنَ» [السجدۃ: ۲۷]”اور کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم پانی کو چٹیل زمین کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں، پھر اس کے ذریعے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ خود بھی، تو کیا وہ نہیں دیکھتے؟“ ان دونوں آیتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ کفار جن چیزوں پر اترا رہے ہیں وہ سب چند دن کے لیے زمین کی زینت ہیں، پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ نہ اس پر کوئی مکان رہے گا نہ باغ، نہ سبزہ، نہ جانور، نہ آدمی، یعنی یہ ساری چہل پہل ختم ہو جائے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 صعیدا۔ صاف میدان۔ جرز۔ بالکل ہموار۔ جس میں کوئی درخت وغیرہ نہ ہو، یعنی ایک وقت آئے گا کہ یہ دنیا اپنی تمام تر رونقوں سمیت فنا ہوجائے گی اور روئے زمین ایک چٹیل اور ہموار میدان کی طرح ہوجائے گی، اس کے بعد ہم نیک و بد کو ان کے عملوں کے مطابق جزا دیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ یہ جو کچھ زمین پر ہے ہم اسے ایک چٹیل میدان [7] بنا دینے والے ہیں۔
[7] ﴿كل من عليها فان:.﴾
یہ لوگ اس وقت آسودہ حال ہیں اور دنیا کی لذتوں اور دلچسپیوں میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ ان کی یہ حالت بدستور قائم رہے اور اسلام کے غلبہ میں انھیں اپنی اس آسودہ حالی کی زندگی اور عز و جاہ کی موت نظر آتی ہے حالانکہ دنیا کی انہی دلچسپیوں کو ہم نے ایسے لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے ہم تو یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عیش و عشرت کی ان فراوانیوں میں پھنس کر کوئی اللہ کی طرف بھی رجوع کرتا ہے یا نہیں اور یہ دنیا اور اس کی بہار تو محض ایک وقتی، عارضی اور فانی چیز ہے اور ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب اس زمین پر نہ لہلہاتے کھیت ہوں گے، نہ مہکتے ہوئے باغ، نہ مال و مویشی، بس یہ ایک چٹیل میدان ہو گی کسی کی ملکیت میں کوئی بھی چیز نہ ہو گی۔ یہ مال و اولاد، یہ غلام اور مویشی، یہ عز و جاہ کے سب وسائل ناپید ہو جائیں گے اس وقت اگر کوئی چیز کارآمد ہو گی تو انسان کے اچھے اعمال ہوں گے جو اس کے ساتھ جائیں گے لہٰذا انسان کو اپنی توجہ فانی چیزوں کی بجائے باقی رہنے والی چیزوں پر صرف کرنی چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔